مشورہ مفت ہے محمدثقلین رضا

صاحبو!آج کل زمانہ ہی خراب ہے جس کو اچھا سا مشورہ دو ، وہ منہ کے مختلف نمونے بناکے سرجھٹکتے ہوئے کہہ دیتاہے ”یہ مشورہ اپناپاس ہی رکھو مجھے ایسے مشوروں کی ضرورت ہی نہیں ” فی زمانہ یاتوکوئی ”اچھا ”مشیر ملتاہی نہیں اگرمل بھی جائے تو انجام میاںنوازشریف جیساہی ہوتاہے؟ خیر یہ بھی جملہ معترضہ ہے بھئی اب آپ یہ بھی مت سمجھئے گاکہ شریف صاحب چل بسے بھئی تو ہم موجودہ انجام کی بات کررہے تھے۔ خیرچونکہ ہم سیاست سے متعلق لکھنے کے موڈ میںنہیں اسلئے خواہش تو یہی ہے کہ اس کالم کو ہر قسم کی سیاسی آلائشوںسے پاک رکھا جائے اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم اپنے ارادے میں کہاں تک کامیاب رہتے ہیں ہم کسی کو مشورہ دینے یا مشیروں سے متعلق کچھ عرض کررہے تھے ۔ وہ کہتے ہیں ناں جس کے مشیر اچھے وہ ترقی ضرور کرتا ہے لیکن ہم نے بڑے ہی مشاہدے کے بعد ایک بات محسوس کی ہے کہ اس زمانہ میں یہ کہاوت بھی کچھ غلط ہوگئی ہے ۔ مثال کے طورپر ہمارے ایک جاننے والے ہیں نہایت ہی سادہ دل ، ہنس مکھ، خوش شکل اور نجانے کیا کیا خوبیاں اللہ میاں نے ان کے اندر سمودی تھیں وہ صاحب جب کسی کو ملتے ہنستے مسکراتے ہی نظرآتے ، ہرشخص ان کے بے داغ چہرے کاراز پوچھتا تو وہ مسکراکرٹال جاتے اب ہوا یہ کہ کچھ ہی دن قبل انہیں دائیں گال پر ہلکی سی خارش محسوس ہوئی موصوف نے کھجلا دیا بس معمولی سی سرخی اورسوجن نظرآنے لگی ،ایک جاننے والے نے یہ دیکھا توفوراً بولا یار تمہارے منہ پر بھی دانے نکلنے لگے ہیں ایسا کرو تم ” جپسی ” کریم لگا ئو ۔ وہ صاحب پریشان کہ یہ کونسی کریم ہے جو دانے ختم کرکے چہرے کو شاداب بنادیتی ہے۔ خیر ان صاحب نے دنیا کے مختلف علاقہ جات اورلوگوں کے حوالے دے دے کر ان کو منالیا ۔ شام کو وہ صاحب شاپر میں جپسی کریم لئے گھرجاتے دکھائی دئیے ۔ کچھ ہی دنوں میں وہ معمولی سا نشان ایک باقاعدہ دانے کی شکل اختیار کرچکا ہے اور پھر یہ سلسلہ اتنا بڑھا کہ ان صاحب کے چہرے پر قسما قسم کے نقشے بنے نظر آئے پھر چند ہی دنوں میں وہ صاحب چہرے پردانوں کے ذریعے بننے والے نقشہ کوہ قاف سے نجات کیلئے مشورے طلب کررہے تھے ۔ وہی مشیرخاص پھر آن ٹپکا اورپھر کہنے لگا تمہارے چہرے کے مساموں میں جو غلیظ مادہ چھپا ہوا تھا اب باہر آگیا ایسا کرو اب فلاں فلاں کریم استعمال کرو، مگران صاحب میں کچھ عقل باقی تھی فوراً انہوںنے کانوں کوہاتھ لگاکر بھاگنے میں ہی عافیت سمجھی۔ اب وہ صاحب جب کبھی دانوں بھرے چہرے کے ساتھ ملتے ہیں تو مشورہ دیتے ہیں کہ ”کسی سے مشورہ نہ لو”
کسی صاحب کے معاشی حالات زبوںحالی کاشکار ہو گئے تو انہوں نے سوچا کہ چلو دنیا سے چھٹکارا ہی حاصل کر لیتے ہیں ” نہ ہوگا بانس نہ بجے گی بانسری” یہ سوچ کر انہوں نے ریلوے لائن کا رخ کیا،اتنے میں ایک واقف کار نظرآیا اس نے حال احوال پوچھنے کے بعد پوچھاکہاں کے ارادے ہیں ان صاحب نے حالات بتانے کے بعد کہاکہ اب بس دنیا سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے ریلوے لائن کی طرف جارہاہوں ، وہ صاحب فوراً سے پہلے بولے ”اتنی اذیت ناک موت کیوں مرنا چاہتے ہو ، تم بازار چلے جائو چوہے مار گولیوں کاپیکٹ لو اور فوراً گھر جا کر کھالو” خیر انہیں یہ طریقہ اچھا لگا پیکٹ ہاتھ میں دبائے وہ گھر کی طرف دوڑے ، گھر پہنچے اوردروازہ بند کر کے جونہی گولیاں پھانکنے ہی لگے تھے کہ خیال آیا کہ کہیں گولیاں کڑوی نہ ہو یہ سوچ کرانہوں نے الماری میں سے حلوہ اٹھایا اور پھر اس میں باقاعدہ اہتمام سے گولیاں ”فٹ” کیں ابھی کھانے کا ارادہ ہی تھاکہ ڈو ر بیل بج اٹھی ۔ وہ صاحب بھاگے دوڑے گئے دیکھا تو کچھ شرارتی بچے ہنستے مسکراتے دوڑے چلے جارہے تھے خیروہ دروازہ بند کرکے جونہی واپس آئے دیکھا تو وہ حلوہ چوہا کھارہا تھا ۔ وہ صاحب تھوڑے فاصلے پر یہ دلچسپ تماشا دیکھتے رہے ، پندرہ بیس منٹ میں چوہے میاں نے تمام حلوہ کھالیا اورپھر اچھلتاکودتا بل کی طرف بھاگ نکلا۔ وہ صاحب کافی دیر تک انتظار میں رہے کہ شاید چوہے کی موت کی خبرآجائے مگر کوئی ہلہ گلہ نظرنہ آیاابھی وہ اٹھنے ہی والے تھے کہ وہی چوہا دوبارہ اچھلتا کودتا پھر سامنے آگیا اب کی بار اس نے اگلی ٹانگیںاٹھائیں اور باقاعدہ چلانے لگا، وہ صاحب سمجھ گئے کہ چوہا بھوکا ہے۔ وہ مایوس ہوکر پھر باہر نکل آئے اورپھر سے ریلوے لائن کا رخ کیا راستے میں دوسرے صاحب مل گئے انہوں نے نہر میں چھلانگ لگانے کامشورہ دیا وہ صاحب جونہی پل پر پہنچے ابھی وہ چھلانگ لگانے ہی والے تھے کہ دور سے پولیس وین آتی دکھائی دی انہوں نے ارادہ ملتوی ہی کیاتھا کہ دوچار پلسئے گاڑی سے اترے اورزبردستی اٹھایا اورپھر تھانے لے گئے، پھر کیا ہوا ؟ ارے بھئی کچھ تو خود بھی عقل استعمال کرلیا کریں، ایسے مواقع پر کیاہوتا ہے ، وہی جوتم پریڈ، چھترول ، دو دن تک پولیس والوں کے سامنے وہ صاحب گواہی دیتے رہے کہ میں دہشتگرد نہیں ، میں پل پر کوئی بم فٹ نہیں کررہا تھامیں تو خود کشی کرنے آیاتھا” خیر تین چار دن کی ”کُٹائی ” کے بعد جب وہ گھر واپس آئے تو دماغ سے خودکشی کا خناس اتر چکا تھا ویسے بھی پلسیوں کی مار کے بعد پھردوسراخیال کیونکر دماغ میں ٹک سکتا تھا۔ ایسے ہی پچھلے دنوں ہم بیمار پڑے توایک صاحب خیرخیریت پوچھنے چلے آئے ، معالج سے متعلق پوچھتے پوچھتے انہوں نے کہا مجھے تو اپنڈکس کا درد لگتا ہے ، ہم نے کہا خداکے بندے یہ سینے کا درد کب سے اپنڈکس بننے لگا، وہ صاحب بولے ، خدابخشے میرے ماموں کو ، انہیں بھی پہلے سینے میں درد تھا ، جب بہت دوا علاج کے باوجود آرام نہ آیاتو پھر باقاعدہ چیک اپ کرایا جس سے پتہ چل گیاکہ انہیں اپنڈکس ہے بس انہیں ہسپتال لے گئے لیکن ……..ہا……..ہ …. آپریشن سے پہلے ہی وہ بہشتی اگلے جہان پہنچ گئے۔ پھر تھوڑی سی افسردگی کے بعد وہ صاحب گویا ہوا ایسا کرو تم اپنڈکس کا آپریشن کرالو ، ان کے ساتھ آئے ہوئے دوسرا ساتھی بولا ” ملک صاحب مجھے یہ سیدھا دل کامعاملہ لگتاہے ، اگر آپ نے چیک نہ کرایا تو آپ کو ہارٹ اٹیک ہوسکتاہے ” ہم دونوں حضرا ت کی باتوں پر لاحول ولا پڑھتے رہے ۔ خیر بعد میں باقاعدہ چیک اپ سے پتہ چلا کہ وہ گیس پرابلم ہے، ہم نے ملک صاحب کو بتایا تو انکی یاداشت واپس آگئی اوربولے دراصل میرے ماموں کو جب سینے میں درد ہوا تھاتو ہم نے اسکو فلاں ڈاکٹرکو دکھایاانہوں نے بھی گیس پرابلم قراردیکرادوایات دیں وہ ٹھیک ہوگئے پھرتھوڑے ہی دنوں میں ناف کے ساتھ درد محسوس ہوا تو پھر چیک کرانے پر اپنڈکس بتایاگیا تھا۔ ہم نے کہا” ملک صاحب !شکرہے ہم نے آپ کے مشورے پر عمل نہیں کیا تھا ورنہ تو آپ بھی ہمیں اگلے جہان ضرور پہنچادیتے ، اگر اگلے جہان نہ بھی پہنچتے تو آپ کے مشورے کی بدولت کم ازکم چیرپھاڑ کے مراحل سے ضرور گزرتے ۔
صاحبو! ہمیں یقین ہے کہ دن میں جانے کتنی مرتبہ آپ کا ایسے ”مشیروں ”سے پالا پڑتاہوگا ، رنگا رنگ مشورے اوروہ بھی مفت بھی آپ کو فراہم کئے جاتے ہونگے ، ہوسکتا ہے کہ آپ کسی مشورے پرعمل کا سوچ بھی لیں توٹھہرئیے پہلے اپنا دماغ استعمال کرکے اس کے فائدے نقصان بھی سوچ لیجئے کہیں ایسا نہ ہوکہ ”آپر یشن ہونے کے بعد آپ کو پتہ چلے کہ اپنڈکس تو تھا ہی نہیں”
٭٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں