،، پلیٹ فارم ،، عائشہ پروین انڈیا علیگڑھ

عایشہ پروین ۔ انڈیا علیگڑھ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ،، سخنور ،، میں منتخب افسانہ ادبی دوست کی نذر رائے سے نوازیئے گا افسانچہ نمبر 5 ،،،،،،،،،پلیٹ فارم ۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،۔ ( تخلیقِ نو ) ۔ ٹرین ایک جھٹکے سے رکی ۔یکدم میری بھی آنکھ کھل گئی ۔ کھڑکی سے جھانک کر دیکھا علیگڑھ سٹیشن آگیا تھا ۔ ۔ …مزید پڑھیں

،، تلخیاں ،، فاطمہ عبدالخالق

عنوان: تلخیاں تحریر فاطمہ عبدالخالق باجی آج پیسے دے دو کوڑا اٹھانے والا بچہ بولا کیا؟ میری چیخ سے مشابہ آواز نکلی ایک تو تم پورے ہفتے بعد کوڑا اٹھانے آئے ہو اوپر سے پیسے مانگ رہے, جاؤ نہیں ہے کوڑا اتنی چھٹیاں کر کے آ جاتے ہیں پیچھے ہماری جان عزاب میں پڑھی ہوتی …مزید پڑھیں

،، چوراہا ،، چوہدری محمد بشیر شاد

،،،، چوراھا ،،، تحریر ۔۔۔ چوہدری محمد بشیر شاد برگد کا بوڑھا پن اس کے گھنے ریشوں کوگلے کی مالا بنا کر دھرتی تک بچھا چکا تھا۔سرحدی گاﺅں کے اس درخت کو نمایاں حیثیت حاصل تھی کیونکہ یہ عین وسط میں تھا۔کسی کے ہاں مہمان کی آمد ہوتی ،اس برگد والے چوراہے کی نشانی بتا …مزید پڑھیں

،،ادھوری ،، بشیر شاد

افسانہ نمبر چالیس ´،، ادھوری ،، افسانہ نگار : چوہدری محمد بشیر شاد یونان طویل قد و قامت ، لچکدار چھریرا بدن ، آنکھیں ہرنی جیسی، صراحی دار گردن رسیلے ہونٹوں کی من موہنی تراش گلاب کی پتیوں جیسی ملائمیت، نوک مژگاں اٹھائے تو مقتل میں آنے والوں کا تانتا بندھ جائے ۔ اپنے گھر …مزید پڑھیں

ناولٹ ،، مسدود راہیں ،، بشیر شاد

ناولچہ ،، مسدود راہیں ،،، تحریر : چوہدری محمد بشیر شاد ایتھنز یونان گندم کی کٹائی کے ساتھ ہی سب کو فراغت مل جاتی ہے۔ ہر کوئی اپنی چارپائی بغل میں دبائے چوپال کی جانب نکل آتا ہے جہاں برگد کی قدوقامت آنے والوں کو سایہ مہیا کرتی ہے۔ گرمی کی شدت کو کم کرنے …مزید پڑھیں

ناولٹ ،، قید باقلم ،، بشیر شاد

افسانہ ،، قید با قلم ،، تحریر : چوہدری محمد بشیر شاد ایتھنز یونان میری آنکھونںپہ کالی پٹی باندھ کر نجانے کس طرف لے جایا جا رہا تھا ۔ وقت کا تعین بھی کیسے ہوتا ، آنکھوں پہ پٹی جو بندھی تھی ۔جیپ کی رفتار سے اندازہ ہو رہا تھا کہ سو کلو میٹر فی …مزید پڑھیں

خدا اور خدائی

بھائی کچھ خوفِ خدا کرو کیوں زبان چلائے جا رہے ہو ، اب بس کرو اور منہ بند کردو ورنہ اینٹوں سے مارے جائو گے ۔۔ آفاق میاں نے بابا بخشو کو جھنجھوڑا ، بابا بخشو ندامت کے سجدوں میں سرجھکائے آہستہ آہستہ بول رہا تھا جیسے شکوئوں شکایتوں کے سوزیافتہ کلمات میں ڈوبے انگارے …مزید پڑھیں