کہانی ،، ہائے رے ہم ،، غزالہ پرویز

نانی دادی سے سنی کہانیون کے سلسلہ ،، بزم اطفال ،، کے لئے ،، غزالہ پرویز ،، کی تحریر
ہاۓ رے ہم
لفظ “مرد” سنتے ہی ذہن میں طاقت، ہمت، جوش ، مضبوطی، جگر والے وغیرہ وغیرہ آنےلگتے ہیں ۔۔۔ اب اس میں کچھ تو اللہ تعالیٰ نے جسمانی اور جذباتی فرق رکھا اور کچھ ہمارا معاشرتی نظام نے مردوں کو آگے بڑھنے اور طاقتور ہونے کی اجازت دی اور عورتیں تو ٹھہریں ہی صنفِ نازک ۔۔۔
بچپن سے ہی یہ باور کرایا گیا کہ آپ محفوظ ہیں تو مرد کے ساتھ ، آپ کی کوئ خبرگیری کرسکتا ہے تو مرد، ہر مسئلے کا حل ہے تو بس مرد کے پاس اور بہتر فیصلہ کر سکتا ہے تو بس مرد ۔۔۔ چھوٹی تھی تو اکثر سوچتی میں “مرد” کیوں نہیں ۔۔۔
جوانی کی دہلز پہ قدم رکھا توپاتھ لگ گئیں “ملز اینڈ بُون “( Mills & Boon) اور مرد وہ سمجھ آیا جو ۔۔۔۔
“ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم … رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن ”
اب مومن کی جگہ “مرد” لگا لیں ۔۔۔
یعنی کہ ہر درد کی دوا “مرد” کے پاس ۔۔۔ محبت سے بھرپور، آپ کی حفاطت اور تحفظ کے لیے کمر باندھے، زندگی بھر ساتھ نبھانے کا علمبردار، کیسا بھی مسئلہ ہو چٹکیوں میں حل ۔۔۔
یعنی کہ مرد کی موجودگی ایک عورت کے لیۓ محبت ،عزت اور حفاطت ۔۔۔ سکون ہی سکون ، اطمنان ہی اطمنان ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر مرد نہیں صرف وہ ” نَر شخصیت ” جو مرد کی تعریف اور وضاحت پہ پورا اُترتا ہو ۔۔۔
اب میرا نوجوان ذہن اُلجھ گیا ۔۔۔ مجھے ایسا ہی محبت کا طوفان لیے طاقت کا سرچشمہ چاہیے ۔۔۔۔
مجھے بچپن میں امی کا سنایا قصہ یاد آگیا ۔۔۔
ایک چوہیا کو شوق ہوا کہ وہ چوہا سے شادی نہیں کرے گی ، بلکہ اس دنیا میں جو سب سے زیادہ طاقتور ہے اُس سے بیاہ رچاۓ گی ۔۔۔ کافی غور و خوض کے بعد اُسے اندازہ ہوا کہ “سورج” سب سے طاقتور ہے ، جس کے آتے ہی اندھیرا دور ہوجاتا ہے اور چہار اطراف زندگی رواں دواں ہوجاتی ہے ۔۔۔ چنانچہ اُسنے ہمت مجتمع کی اور سورج صاحب کے پاس شادی کا پیغام لے کر پہنچی ۔۔۔ سورج نے وجہ جاننے کے بعد چوہیا سے کہا
” میں کہاں طاقتور ہوں، ایک بادل کا ٹکڑا بھی آتا ہے تو میری ساری روشنی چھپ جاتی ہے اور میں چاہ کر بھی بادل کو راستے سے نہیں ہٹا سکتا ” ۔۔۔
اب چوہیا نے غور کیا تو اُسے احساس ہوا کہ واقعی ایسا ہی ہے ۔۔ لہذا اپنی خوش قسمتی جانی کی جلد ہی یہ بات اُس پہ عیاں ہوگئ ۔۔۔ وہ مدعا لیۓ “بادل” کے پاس جا دھمکی ۔۔۔ بادل نے پورا قصہ تحمل سے سنا اور کہا
“چوہیا رانی ، میں کہاں ایسا طاقتور ، مزے سے اڑتا جاؤں لیکن جہاں راستے میں پہاڑ کھڑا ہو بس سوال ہی نہیں کہ ایک قدم بھی پڑھا سکوں وہیں برس جاتا ہوں اور ختم ہوجاتا ہوں ” ۔۔۔
اب چوہیا شرمندہ بھی ہوئ اور پریشان بھی ۔۔ خیر ہمتِ نہیں ہاری اور شادی کا نیوتا لیۓ “پہاڑ” کے پاس جا پہنچی ۔۔ پہاڑ اُسکی کہانی سن کر ہنس پڑا
” چوہیا بی بی میں بظاہر بہت بڑا، بہت طاقتور اور مضبوط نظر آتا ہوں لیکن سچ پوچھو تو ایک چھوٹا سا چوہا میرے اندر سرنگ بنا لیتا ہے اور مین کچھ نہیں کر پاتا” ۔۔۔۔
سو چوہیا انجام کار چوہے سے بیاہی ۔۔۔۔۔۔
اور میں بھی ٹھہری ایک عام سی چوہیا، سو تلاش کو غیر ضروری گردانا ۔۔۔ اور سیدھے جا ملی اپنے باکمال چوہے سے اور بنا دیا اُسکو میاؤں ۔۔۔
غزالہ پرویز

اپنا تبصرہ بھیجیں