کہانی ،، مسٹر ابو ،، قرۃالعین خرم ہاشمی

نانی دادی سے سنی دلچسپ اور نصیحت آموز کہانیوں کا انمول سلسلہ ،، بزم اطفال ،، ، کی کہانی ادبی دوستوں کی نذر
Quratulain Khuram Hashmi
13 hrs
’’ مسٹر اُبو ‘‘
قرۃالعین خرم ہاشمی۔لاہور
ایک بہت خوبصورت ،سرسبز وادی تھی اور اسی وادی میں ایک بہت اُونچا ، آسمان کو چھوتا ہوا پہاڑ تھا۔اسی پہاڑ کی چھوٹی پہ تین کونوں والا بہت پُرانا گھر بناہوا تھا۔باہر سے وہ گھر مثلث کی طرح نظر آتا تھا جس کی چمنی سے ہلکا ہلکا دُھواں نکلتا رہتا تھا۔اس گھر تک آنے کے لیے ایک پہاڑی راستہ بھی موجود تھا جو کافی ٹیڑھا ہونے کے ساتھ ساتھ اُونچا ، نیچا بھی تھا اور اس گھر میں رہنے والے واحد مکین کا نام ، جس سے لوگ اُسے جانتے اور پکارتے تھے ۔مسٹر اُبو تھا۔ان کا اصل نام کیا تھا اور مختصر ہو کر کیسے اُبو پڑ گیا تھا اس کے بارے میں کوئی بھی ٹھیک سے نہیں جانتا تھااور نہ ہی کسی کو دلچسپی تھی اُن سب کے لئے وہ مسٹر اُبو ہی تھے۔مسٹر اُبو کی عمر لگ بھگ ستر سال کے قریب تھیاور ان کا مخصوص لباس آسمانی یا گرے رنگ کا پاؤں تک آتا گاؤن تھا۔سر پہ اسی رنگ کی تکونی ٹوپی اور آنکھوں پہ سُنہری فریم کی نازک سی عینک جس کی چین گلے میں لٹکی ہوئی تھی اور سینے تک آتی ان کی سفید ڈارھی بہت بھلی لگتی تھی۔مسڑاُبو بہت شفیق اور رحمدل انسان تھے ۔جن کا کا م ہر وقت لکھتے رہنا ہی تھا۔مسٹر اُبو اپنے گھر کے بڑے سے کمرے میں لکڑی کی کرسی پہ بیٹھے کچھ نہ کچھ لکھتے ہی رہتے تھے۔ان کے ارد گرد بہت سی بنی چھت کو چھوتی کتابوں کی الماریاں اور شیلف بنی ہوئی تھیں۔جن میں کتابیں بہت ترتیب سے لگی ہوئی تھی اور اس کے علاوہ مختلف شیلف میں ، مختلف رنگوں اور قسم کے کا غذ بھی ترتیب سے رکھے ہوئے تھے۔مسٹر اُبو کے پاس بہت خوبصورت سا سُنہری پر بھی تھا جس سے وہ لکھتے تھے۔ویسے تو ان کے پاس تحفے میں ملے ہوئے کئی قلم تھے مگر وہ ذاتی طور پہ اسی پر سے لکھنا پسند کرتے تھے ۔ مسٹر اُبو یہ کام کئی سالوں سے بنا تھکے ،بنا رُکے کر رہے تھے ۔ انہیں اپنے کام سے جنون کی حد تک محبت تھی ۔اگر کبھی تھک بھی جاتے تو کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر کچھ دیر کے لئے سو جاتے۔
مسٹر اُبو کے پاس دنیا جہاں سے بچے آتے تھے اور ان کو مخاطب کر کے اپنے پسند کے کاغذ پہ، اپنی ڈھیر ساری خواہشات یا خواب لکھواتے تھے۔جنہیں مسٹر اُبو بہت شوق اور دلچسپی سے لکھتے اور اپنے گھر کے باہر پُرانے سے لیٹر باکس میں ڈال دیتے تھے۔مسٹر اُبو کا یقین اور اعتقاد تھا کہ آسمان سے فرشتے اترتے ہیں اور بچوں کی سب خواہشات اور خوابوں کو اکٹھا کر کے لے جاتے ہیں۔مسٹر اُبو کے گھر تک پہنچتے پہنچتے ،بچے ہانپ کر رہ جاتے تھے۔کیوں کہ مسٹر ابو کا گھر بہت اونچائی پہ تھا۔اپنے گھر آنے والوں کو مسٹر ابو بہت خوش دلی سے خوش آمدید کہتے تھے۔مسٹر اُبو کو بارش سے بہت چڑ تھی اور وہ اپنے گھر آنے والوں کو پانی یا ایسی کوئی بھی چیز لانے سے منع کرتے تھے ۔کیونکہ ان کو ڈر تھا کہ کہیں پانی سے ان کی کتابیں یا کاغذ خراب نہ ہو جائیں۔
’’مسٹر اُبو ! کیسے ہیں آپ؟ ‘‘
گلابی رنگ کی خوبصورت سی فراک میں ملبوس ، ہاتھ میں پھولوں کی ٹوکری پکڑے ، بلاشبہ وہ بچی بہت خوبصورت تھی،جس کی سانس پھولی ہوئی تھی اور اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ مسٹر ابو اس نیلی آنکھوں والی بچی کو بہت اچھی طرح سے جانتے تھے جو اکثر و پیشتر ان کے پاس اپنی کوئی نہ کوئی خواہش ہا خواب لے کر آتی تھی ۔بہت نخریلی سی لڑکی تھی ۔اسے کوئی کاغذ اتنی جلدی پسند نہیں آتا تھا۔وہ کوفی دیر تک مسٹر اُبو کو ستاتی تھی ،پھر جا کر مطمئن ہوتی تھی۔
ِ’’مس کیتھرین ! آج آپ کافی دنوں کے بعد آئی ہیں ۔بتائیے کونسا کاغذ پسند کریں گی آپ! اپنی خواہش کے لیے۔‘‘
مسٹر اُبو نے مسکراتے ہوئے دس سال کی اس بچی کو دیکھا جو بہت نزاکت کے ساتھ اپنی فراک سنبھالے سامنے والی کرسی پہ بیٹھ گئی تھی ۔پھولوں کی ٹوکری اس نے میز پہ رکھ دی تھی ۔اپنی بڑی بڑی نیلی آنکھوں سے مسٹر اُبو کو دیکھتے ہوئے بولی؛
’’اوہومسٹر اُبو !کتنی بار کہا ہے کہ مجھے کیتھرین نہیں، کیٹ کہا کرے۔۔۔!‘‘
ِکیتھرین نے ناک چڑھاتے ہوئے کہا تو اپنی عینک کے پیچھے سے جھانکتے مسٹر اُبو مسکرا دئیے اور میز پہ رکھا کینڈیز سے بھرا شیشے کا جار اس کو پیش کرتے ہوئے بولے۔
’’اوکے مس کیٹ۔۔۔! کیا آپ اپنے لئے کاغذ خود پسند کریں گی یا میں کروں؟‘‘
’’مسٹر اُبو ! آپ کو اچھی طرح پتا ہے کہ مجھے گلابی رنگ پسند ہے اور میں ہر بار گلابی رنگ کے کاغذ پہ ہی اپنی خواہش لکھواتی ہوں ۔پتا نہیں آپ بھول کیوں جاتے ہیں؟‘‘
ننھی کیٹ نے منہ بناتے ہوئے کہا اور شیشے کے جار میں سے ، نفاست سے کینڈی نکال کر کھانے لگی۔
’’اوکے مس کیٹ ! جیسا آپ پسند کریں۔‘‘
مسٹر اُبو نے کہا اور اٹھ کر گلابی رنگ کے نفیس سے سادہ کاغذ نکال کر لے آئے۔اس دوران کیٹ انہیں دیکھتی رہی۔
’’جی بولیے مس کیٹ ! کیا لکھوں؟‘‘
مسٹر اُبو نے مسکراتے ہوئے اس سے پوچھا ۔کیٹ نے بہت انداز سے،اپنے سنہری بالوں میں ہاتھ پھیرا اور اپنی خواہشات لکھواتی گئی جسے سن کر مسٹر اُبو مسکرا دئیے اور سنہرے پرَ سے کاغذ پر منتقل کرنے لگے۔
’’مس کیٹ!آپ کی خواہشات کافی بڑی بڑی ہوتی ہیں۔‘‘
مسٹر اُبو نے جب کیٹ کی بتائی ساری خواہشات لکھ لیں تو مسکرا کر بولے۔کیتھرین عرف کیٹ کے والد بہت امیر اور امریکا کے مشہور بزنس مین تھے ۔اسی لئے اس کی خواہشات بھی ایسی ہی ہوتی تھیں۔ مہنگی مہنگی چیزوں کے نام اسے ازبر تھے جو شاید عام بچوں کو پتا بھی نہ ہوں۔اس کی خواہشات اور خواب کافی مہنگے اور اونچے ہوتے تھے۔
’’ِِِِاو کے مسٹر اُبو! میں چلتی ہوں۔ ‘‘
ننھی کیٹ نے کرسی سے اُٹھتے ہوئے نزاکت سے کہا اور اپنی پھولوں کی ٹوکری اٹھا کر باہر نکل گئی ۔اس کے بعد مختلف رنگ، نسل کے چھوٹی ، بڑی عمر کے بچے ان کے پاس آتے رہے اور اپنی پسند کے کاغذ پہ ، اپنی خواہشات لکھواتے گئے۔یہ بچے دنیا کے مختلف ممالک سے آتے تھے اور ان کی وجہ سے مسٹر اُبو کو بھی دنیا کے بہت سے ممالک کا پتا چل چکا تھا کیوں کہ یہ بچے اپنے ملک کی تہذیب ، ثقافت اور روایات کت آئینہ دار ہوتے تھے اور ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں اور خواہشوں سے مسٹر اُبو ، ان کے بارے میں بہت کچھ جان جاتے تھے۔
اس دن صبح سے آسمان پہ بادل چھا ئے ہو ئے تھے۔مسٹر اُبو کو خدشہ تھا کہ کہیں بارش نہ ہو جائے ۔وہ بارش کی آواز سے بھی بہت چڑتے تھے، دیکھنا تو دور کی بات تھی اور آج صبح سے کوئی بچہ بھی ان کے پاس نہیں آیا تھا ۔شاید خراب موسم کی وجہ سے ! مسٹر اُبو پھر بھی سفید اور سادہ کاغذوں پہ کچھ نہ کچھ لکھ رہے تھے کہ لکھنا ان کی عادت اور ہاتھوں کی مجبوری تھی۔
اس وقت ان کے دروازے پہ کھٹکا ہوا تو انھوں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا جہاں دو بہت کمزور اور مفلوک الحال بچے ڈرے ، سہمے کھڑے اندر جھانک رہے تھے۔ان کے ہاتھ میں پانی کی بوتل دیکھ کر مسٹر اُبو غصے سے بولے۔!
’’اس بوتل کو پھینک دو۔ بدتمیز بچوں ! کیا تمہیں نہیں پتا کہ یہاں اس طرح کی کوئی بھی چیز لینا سختی سے منع ہے۔‘‘
ودنوں بچے جو پہلے ہی بہت خوفزدہ اور ڈرے سہمے ہوئے تھے ،فورا انہوں نے بوتل پھینک دی اور مسٹر اُبو کی طرف دیکھنے لگے ۔جو اب بھی خفگی سے انھیں گھور رہے تھے۔
’’ اب آ بھی جاؤ اندر۔۔۔!‘‘
مسٹر اُبو نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا تو دونوں بچے ڈرتے ڈرتے آہستہ آہستہ چلتے اندر �آ گئے۔اُن کا حلیہ بہت خراب اور برا تھا اور وہ بہت کمزور اور زرد لگ رہے تھے۔مسٹر اُبو نے اتنے برے حال میں کبھی کوئی بچہ نہیں دیکھا تھا ۔مسٹر اُبو نے ان دونوں کا بغور جائزہ لیا ۔ایک بچہ پانچ سال کا تھا اور دوسرا تقریبا سات سال کے قریب تھا۔ان کی سانسیں بری طرح پھولی ہوئی تھیں اور چہرے پہ شدید مشقت کے اٹھانے کے تاثرات تھے۔
’’ہاں اب بتائیں !کونسا کاغذ پسند کریں گے آپ دونوں۔!‘‘
مسٹر اُبو نے سامنے لگے مختلف رنگوں کے کاغذوں کے ڈھیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا
’’ک۔ک کوئی سا بھی۔۔۔!‘‘سات سال کے بچے نے ہکلاتے ہوئے کہا ۔اس کے ہونٹ خشک ہو رہے تھے۔اس نے اپنے خشک ہونٹوں پہ زبان پھیری اور اپنے ساتھ کھڑے ڈرے سہمے سے بچے کا ہاتھ دبا کر تسلی دی ۔مسٹر اُبو نے غور سے ان کے ابتر حلیے کو دیکھا ۔انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ان عجیب و غریب بچوں کے لیے کون سا کاغذ منتخب کریں ۔آخر تنگ آ کر ایک سفید رنگ کا سادہ سا کاغذ نکال لیا۔اسی وقت بادل زور سے گرجے اور بارش کی آواز آنے لگی ۔مسٹر اُبو نے ناگواری سے ناک چڑھائی۔
’’ پھر وہی بارش۔۔۔!‘‘ مسٹر اُبو نے خود کلامی کی۔
’’ بارش ۔۔۔!سچ میں بارش ہو رہی ہے؟‘‘
پانچ سال کے بچے ڈرے ، سہمے بچے کے کمزور اور زرد پڑے چہرے پہ یکبار جیسے زندگی کی لہر ڈور گئی تھی اور اس نے اپنے ساتھ کھڑے دوسرے بچے کا ہاتھ پکڑ کر زور سے کھینچتے ہوئے خوشی سے پوچھا تھا ۔
سات سالہ بچے نے خوشی اور مسرت سے سر ہلا دیا تھا۔ مسٹر اُبو کی ناگواری مزید بڑھ گئی تھی اور انہیں بلاوجہ ہی یہ بچے برے لگنے لگے تھے ۔
’’ آپ جلدی سے ہماری خواہش لکھ دیں ۔‘‘ اسی سات سالہ بچے نے مسٹر اُبو کو متوجہ کرتے ہوئے کہا تو وہ تپ کر بولے
’’تم کچھ بولو گے تو میں لکھوں گا ناں۔۔! پہلے یہ بتاؤ کہ آئے کہاں سے ہو؟‘‘مسٹر اُبو نے ہاتھ میں پَر پکڑتے ہوئے سوال کیا تھا۔
’’ہم ۔۔۔۔۔ یہاں سے بہت دور آباد ملک پاکستان سے آئے ہیں ، مگر آپ جلدی کریں ۔ہم بہت مشکل سے یہاں تک پہنچے ہیں۔‘‘
اس بچے نے پیچھے دروازے کی طرف مڑُ کر دیکھتے ہوئے کہا جیسے وہاں کوئی اس کا منتظر ہو۔
’’یہ کونسا سا ملک ہے؟‘‘ مسٹر اُبو نے چونک کر ان سے پوچھا اور پھر اپنی میز پر رکھے بڑے سے گلوب میں ملک پاکستان دیکھنے لگے۔یہ گلوب شیشے کا بنا ہوا تھا جس میں کسی بھی ملک کے نام پہ انگلی رکھیں تو ایک سکرین روشن ہوجاتی تھی اور اس مین اس ملک کی فلم یا سلائیڈ چلنے لگتی تھی۔جس میں اہم اہم معلومات ہوتی تھیں ۔مسٹر اُبو نے کچھ دیر غور سے ملک پاکستان کے متعلق چلتی سلائیڈ دیکھیں اور پھر بولے۔
’’اچھا! تو تم لوگ اس ترقی پذیر ملک سے تعلق رکھتے ہو۔خیر بتاؤ!یہاں کیوں اور کس لیئے آئے ہو؟‘‘
مسٹر اُبو نے دوبارہ بچوں کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے پوچھا تھا۔
’’ہم بہت مشکل میں ہیں اور اسی وجہ سے ہم سب بچوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم پوری دینا میں سب کے پاس جا ئیں گے اور سوئے ہوئے لوگوں کا جگائیں گے ، اپنی حالت زار بتائیں گے ۔آپ جلدی سے ہماری خواہش لکھ لیں، ہمارے پاس وقت بہت کم ہے۔‘‘
اسی سات سالہ بچے نے بے چینی سے اپنے ساتھ کھڑے بچے کو دیکھتے ہوئے کہا۔مسٹر اُبو نے اس بات پہ چونک کر اسے دہکھا تھا۔
’’ہاں بتاؤ!کیا خواہش ہے تمہاری؟‘‘
’’ہمیں ڈھیر سارا پانی چائیے!جیسی بارش آپ کے یہاں ہو رہی ہے ، ایسی بارش چائیے!‘‘
بچے نے جلدی سے اپنی خواہش بتاتے ہوئے کہا ۔تو مسٹر اُبو نے تعجب سے کہا۔
’’یہ کیسی عجیب وغریب خواہش ہے۔‘‘
’’آپ جلدی سے لکھ دیں۔ہم نے اللہ سے بہت دعائیں بھی مانگیں ہیں اور دعا کے ساتھ ساتھ عملی قدم بھی اٹھا رہے ہیں تاکہ ہم سوئے ہوئے لوگوں کو جگا سکیں ، جنہوں نے ہماری طرف سے آنکھیں بند کر لی ہوئی ہیں۔‘‘
بچے نے جلدی سے کہا تو مسٹر اُبو حیران نظروں سے انہیں دیکھتے رہ گئے۔اسی وقت ساتھ کھڑا ہوا پانچ سال کا بچہ نیچے گر گیا تو مسٹر اُبو تیزی سے اٹھ کر اس کی طرف بڑھے۔
’’کیا ہوا ؟‘‘ مسٹر اُبو نے اس بچے کو ہلاتے ہوئے سات سال کے دوسرے بچے سے پوچھا جو خود بھی گھبرا گیا تھا اور تھک ہار کرزمین پہ بیٹھ گیا۔
’’میں آپ سے کہہ بھی رہا تھا کہ جلدی کریں مگر آپ بھی دوسرے لوگوں کی طرح سوچ بچار میں وقت لگا دیتے ہیں۔‘‘
اس بچے نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا تو مسٹر اُبو چونک کر اس کی بگڑی حالت دیکھنے لگے۔
’’تمہیں کیا ہوا ہے؟کیا تم دونوں کسی بیماری کا شکار ہو!‘‘ مسٹر اُبو نے پریشان لہجے میں پوچھا تو اس بچے کے ہونٹوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ آ کر ٹھہر گئی۔
’’ میں اور میری کے بہت سے بچے ، تھر کے ریگستان میں غذائی قلت اور پیاس سے مر رہے ! اس سال بارشیں نہیں ہوئیں اور اسی لیے پانی کا ذخیرہ نہ ہونے کی وجہ سے چرند پرند سمیت ہر چیز ختم ہورہی ہے۔میرے ساتھ اور بھی بچے آئے ہیں مگر وہ کمزوری کی وجہ سے اوپر تک نہیں آ سکے اور نیچے وادی میں ہم دونوں کا انتطار کر رہے ہیں ۔ہم پانی کی خالی بوتل آپ کے پاس لائے تھے کہ آپ سے تھوڑا سا پانی لے کر ہم سب پی لیں گے مگر آپ نے بو تل اندر لانے ہی نہیں دی اور اب یہ پیاس سے بے ہوش ہو گیا یا پھر۔۔۔۔!‘‘
اس بچے نے نم ہوتی آنکھوں کے ساتھ ، بہت آہستہ آہستہ بولتے ہوئے کہا جیسے اس میں زیادہ بولنے کی سکت نہ ہو۔مسٹر اُبو نے گھبرا کر بے ہوش بچے کو ہلایا اور پھر بھاگ کر باہر آگئے اور دروازے کے پاس پڑی بوتل کو اٹھایا ۔ان کے گھر میں پانی بالکل ختم تھا ، اس لئے کے وہ پانی بہت کم پیتے اور استعمال کرتے تھے ۔مسٹر اُبو نے بارش کے پانی سے بوتل بھری اور واپس بھاگتے ہوئے ان دونوں بچوں کے پاس آئے جو نیم بے ہوش تھے ۔مسٹر ابونے دونوں کے منہ سے باری باری بوتل لگا ئی ۔دونوں نے بمشکل گھونٹ گھونٹ پانی پیا تھا۔اس دوران بارش رُک چکی تھی ۔مسٹر اُبو کچھ سوچتے ہوئے ، پانی کی بوتل لیے پہاڑ سے نیچے اترنے لگے جہاں ان دونوں کے بچوں کے ساتھی ان کے واپس آنے کے منتظر تھے۔مسٹر اُبو جب نیچے پہنچے تو ٹھٹک کر رُک گئے ۔نیچے چھ ، سات بچے موجود ضرور تھے مگر وہ بھوک اور پیاس کی شدت سے کب کے مر چکے تھے۔۔۔!!!
مسٹر اُبو حیرت اور خوف سے ان کی طرف دیکھا ۔پانی کی بوتل ان کے ہاتھ سے گر گئی۔وہ واپس بھاگتے ہوئے پھولی سانسوں کے ساتھ اوپر پہنچے ۔وہ دونوں بچے نیم وا آنکھوں سے انہیں واپس آتا ہوئے دیکھ رہے تھے۔مسٹر اُبو نے کچھ سوچ کر اپنے گلوب پہ انگلی رکھی اور دنیا کے غریب اور ترقی پذیر ممالک کا جائزہ لینے لگے ۔غربت ، بھوک ، پیاس ، نے کتنے ہی معصوم اور غریب بچوں کی جان لی تھی ۔ایتھوپیا میں بچوں کی حالت زار دیکھ کر مسٹر اُبو کے رونگتھے کھڑے ہو گئے ۔ان کا دل ، دکھ کی شدت سے پھٹنے والا ہو گیا۔
’’ میں نے آج تک کتنی بے خبر اور مست زندگی گزاری ہے۔جس بارش سے اتنا چڑتا تھا ، وہ بارش کتنے لوگوں کے لئے رحمت اور زندگی اُمید ہے ، مجھے پتا ہی نہیں تھا۔۔۔۔!‘‘
مسٹر اُبو دونوں بچوں کے پاس نیچے زمین پہ بیٹھے اور اپنے دونوں بازو وا کر کے ان نیم بے ہوش اور بے جان ہوتے بچوں کو اپنے بازوؤں میں بھر لیا۔پانی سے چڑنے اور اپنے گھر میں پانی کی ایک بوند کو برداشت نہ کرنے والا ، مسٹر اُبو دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا۔اس دن مسٹر اُبو اتنا روئے کہ ان کے آنسو ؤں سے ساری کتابیں ، سارے کاغذ بھیگ گئے تھے۔ان کے دل انسانیت کی تکلیف اور درد پہ تڑپاٹھا تھا اور ان کے آنسوؤں نے سیلاب کی صورت اختیار کر لی تھیں جس میں یہ مثلث نما بنا گھر ڈوب گیا تھا۔
اس دن کے بعد مسٹر اُبو جتنے سال بھی جیئے ، انسانیت کی خدمت کرتے رہے ۔ان دو بھوکے بچوں کو تو انہوں نے بچالیا تھا مگر دنیا کے کونے کونے میں نجانے کتنے ہی معصوم بچے ، غربت کی چکی میں پستے ،اسی بھوک ، پیاس سے مر جاتے تھے۔بہت دیر سے ہی سہی مگر مسٹر اُبو نے یہ راز جان لیا تھا کہ بیٹھ کر لمبی لمبی باتیں کرنے سے لاکھ گُنا بہتر ہے کہ ہم عملی طور انسانیت کی فلاح وبہبود کے لئے کچھ کریں۔
اس دن کے بعد سے مسٹر اُبو نے کوئی خواہش یا خواب نہیں لکھا تھا۔اس لئے کہ وہ جان گئے تھے کہ خدا کے لا تعداد فرشتے یہ کام بخوبی احسن طریقے سے کر رہے ہیں اور اُس تک پہنچا رہے ہیں ۔مگر ہمیں خود اُس خدا تک پہنچے کے لئے خواہش کی نہیں بلکہ عمل کی ضرورت ہے۔
انسان کا افضل ہونا اس کی انسانیت میں چھپا ہوا ہے اور انسانیت کا تعلق کسی بھی مخصوص ، رنگ ، نسل یاقوم سے نہیں ہے۔انسانیت کا تعلق صرف انسان سے ہوتا ہے اور مسٹر اُبو نے خود کو ایک اچھا اور بہتر انسان ثابت کرنا تھا اور انسانیت کا بہت سا قرض اتارنا تھا تاکہ کل کو کوئی اور بچہ بھاک ،پیاس کی شدت سے موت کے منہ میں نہ چلا جائے۔
بچے تو سارے ایک سے ہوتے ہیں چاہے تھر یا چولستان کے ریگستانوں کے ہوں یا بھوک پیاس سے بلکتے ایتھوپیا ، صومالیہ جیسے اور بہت سے ممالک کے ہوں۔خواب اور خواہشات بھلے سب کی ایک جیسی نہ ہوں مگر بنیادی ضرورتیں سب کی ایک جیسی ہوتی ہیں ۔
اس دن کے بعد سے مسٹر اُبو نے کبھی بارش کو بھی برا نہیں کہا تھا کیوں کہ وہ جان گئے تھے کہ خدا کی دی گئیں نعمتوں کی نہ شکری نہیں کرنی چاہئے اور مسٹر اُبو ایک اچھے اور رحم دل انسان تھے اور ایسے لوگ نا شکرے نہیں ہوتے ہیں۔۔۔۔!!!
ِ
قرۃالعین خرم ہاشمی۔لاہور
( یہ کہانی تعلیم و تربیت میں شائع ہو چکی ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں