کہانی ،، شراکت ،، بشیر شاد

نانی دادی سے سنی کہانیوں کی تیسری کہانی
،، شراکت ،،
تحریر : چوہدری محمد بشیر شاد
دادی اماں دادی اماں کہتے پھولی سانسوں سے عاطف دادی کے قریب پہنچا تو دادی نے اپنی نظر کی عینک کو اپنی شال کے ایک کونے سے صاف کرتے ہوئے پوچھا کہ معاملہ کیا ہے اتنی دوڑ لگا کے آئے ہو کوئی خاص بات ہوئی ہے کیا ؟
کہانی سنائیں ناں دادی اماں ۔۔۔
واہ سرِ شام کہانی سننے کا شوق کیسے چرایا ، چراغ تو جلنے دو ، رات کا کھانا کھا کے پھر سننا کہانی ۔ ۔۔ اچھا پہلے یہ بتاو اسکول سے ملا کام کر لیا ۔
دادی اماں کل چھٹی ہے ناں کل کر لوں گا لیکن آپ یہ تو بتائیں کہ بجلی ہوتے ہوئے چراغ جلنے کی کیابات کر رہی ہیں ؟
بیٹا آج کا کام کل پہ نہیں چھوڑتے ، ابھی رات ڈھلنے میں کافی وقت ہے تھوڑا بہت کام نپٹا لو ۔۔اور رہی چراغ جلنے کی بات تو وہ ساری رات روشنی دیتا ہے آنکھ مچولی نہیں کھیلتا۔
دادی اماں سارا جوش ٹھنڈا ہو گیا ، ٹھیک ہے جیسا آپ کہتی ہیں کر لیتا ہوںکہہ کر عاطف سر کھجاتا چل دیا اور دادی کی مسکراہٹ ابھری ا، عینک لگا کے اسے پیار بھرے انداز میںجاتے ہوئے دیکھتی رہی اور ساتھ ساتھ درازیِ عمر کی دعائیں بھی کرتی رہی۔کتنا پیارا پوتا ہے اللہ پاک سدا اسے اپنی حفظ و امان میں رکھے۔
رات کا کھانا ہمیشہ دادی اماں کوعاطف لا کے دیتا تھا لیکن اس کی جگہ بہو کھانا لے کے آ گئی تو دادی نے پریشانی کے عالم میں بہو سے پوچھا کہ عاطف کہاں ہے ؟
وہ ابھی تک پڑھائی میں مصروف ہے کہتا ہے کہ دادی اماں کا کہا مانو ں گا پہلے آج کا کام ختم کرکے کھانا کھاوں گا
اچھا یہ بات ہے جاو بھیجو اسے میری طرف ۔
آنکھ جھپکتے ہی عاطف دادی کے پاس ملتجی نظروں سے بڑا مودب کھڑا تھا
یہ ایسی شکل کیوں بنا رکھی ہے جاو اپنے والدین کے ساتھ کھانا کھا و۔۔۔
اور وہ اسکول کا کام ۔۔
باقی ماندہ کل کر لینا اور سنو کھانا کھا کے جلدی آ جانا چیونٹیوں کی کہانی سناوں گی
یہ کیسی کہانی ہے دادای اماں ؟
ابھی جاو کھانا کھا کے آو گے تو سناوں گی
اور عاطف مسکراتا لہراتا چل دیا
والدین کے ساتھ کھانا کھاتے عاطف چیونٹیوں کی کہانی کے بارے چہ میگوئیاں بھی کرتا جا رہا تھا
عاطف بیٹا
جی ڈیڈی
بھئی آج کی کہانی جب دادی اماں سے سن لو تو پھر ہمیں بھی سنانا۔۔۔
تو آپ بھی چلیں ہمارے ساتھ ، آپ اپنی امی اور ہم اپنی پیاری دادی اماں سے ایک ہی بار دونوں انہی کی زبانی سن لیں گے ۔۔۔
نہیں تم جاو اور کل ہمیں بھی سنا دینا ، تمہارے منہ سے سن کر ہمیں اندازہ ہو جائے گا کہ کس طرح سناو گے۔
اچھا تو ہمارا امتحان بھی لیا جائے گا ۔۔
باپ نے اس کے کاندھے پہ تھپکی دیتے ہوئے کہا ، یوںہی سمجھ لو اور پھر عاطف ایک ہی جست میں دادی اماں کے ہاں سے برتن اٹھا کے حسب عادت گود میں سر رکھے دادی اماں کی شروعات کا اانتطار کرنے لگا اور دادی اماں وارے نیارے ہو کر عاطف کے بالوں میں شفقت بھراہاتھ رکھے گویا ہوئی۔ہاں بیٹا عاطف تیار ہو کہانی سننے کے لئے۔۔
ہاں دادی اماں ، بالکل تیار ہوں بس جلدی سے شروع کر دیجئے ، ڈیڈی کہہ رہے تھے کہ کہانی سن کے کل انہیں بھی سنانا، دادی اماں آپ نے ان کو یہ کہانی کبھی نہیں سنائی۔
بیٹا عاطف یہ کہانیوں کا سلسلہ اب تمہارا حق ہے ، تمہارے ڈیڈی لڑکپن میں اپنے حصے کی کہانیاں سن چکے ہیں ، آج کی کہانی،، شراکت ،، سنانے چلی ہوں اس پر غور کرنا۔
جی دادی اماں پوتے کے منہ سے نکلا ہی تھا کہ دادی اماں نے تمہید باندھ دی ۔۔۔ !!
ایک قصبے میں دو دوست پرائمری اسکول سے میٹرک تک ساتھ پڑھے سن بلوغت میں قدم رکھے ایک فیصلے پہ متفق ہوئے کہ مزید تعلیم کے لئے دور دراز جانے کی بجائے کوئی مشترکہ کاروبار کھول لیتے ہیں جس میں تھوڑی بہت پونجی لگا کر محنت کریں گے اور ایک اچھی زندگی گزار لیں گے ۔۔
دادی اماں معافی چاہتا ہوں ابتدا ہی میں بول پڑا ، کیا نام تھا ان دونوں دوستوں کا ؟
شاباش عاطف مجھے یقین ہو گیا ہے کہ تمہیں کہانیاں نہ صرف سننے کا شوق ہے بلکہ ازخود اچھے ڈھنگ سے اب کسی کو سنا بھی سکتے ہو، ہاںتو ایک کا نام روشن دین تھا تو دوسرے کا نام نور دین اور دونوں نے کریانہ کے کاروبار میں اپنی جمع پونجی لگا کے ایک دکان بنائی اور اس کا نام ،، روشن نور کریانہ اسٹور ،، رکھتے رکھتے ،، دین دی ہٹی ،، پہ قرعہ نکلا اور یوں دین دی ہٹی چلنی شروع ہو گئی ۔ منافع کم گاہک زیادہ ، زباں شیریں ، تول پورا دونوں دوست انہی اقوال پہ ترقی کرتے کرتے خورد سے کلاں تک رسائی کر گئے ۔ دونوں کی شادیا ںبڑی دھوم دھام سے ہوئیں اور کاروبار میں انہوں نے کبھی کسی دوسرے کی رائے نہ لی بلکہ باہمی اتفاق سے فیصلے کرتے رہے۔ نور دین کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو اس کا نام چراغ دین رکھا گیا ، اگلے ہی سال روشن دین کے ہاں دختر نیک اختر صابراں کی ولادت نے دونوں گھروں کی رونق بڑھا دی اور بچے رزق حلال سے پروان چڑھنے لگے۔ہائے
کیا ہوا دادی اماں ؟
کچھ نہیں بیٹا یہ موسم ہی کچا پکا ہے ٹانگوں میں درد رہنے لگا ہے۔
سمجھ گیا دادی اماں آپ کہانی جاری رکھیں میں آپ کی ٹانگوں کے درد کا اپنے ہاتھوں سے علاج کرتا ہوں ۔
ہاں بیٹا ذرا آہستہ آہستہ دبانا ۔۔ ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ بچے جوانی میں قدم رکھتے ہی والدین کی امنگوں کا سہارا بننے لگے کہ نور دین کی بیوی کا انتقال ہو گیا اور چراغ دین اپنی ماں کے پیار سے محروم ادھورے سپنوں میں خود کو تنہا محسوس کرنے لگا ۔ روشن دین نے اپنے دوست نور دین کو مشورہ دیا کہ چراغ دین کو دکان پہ لے آیا کروکاروبار میں تھوڑے بہت ہاتھ سیدھے ہو جائیں گے لیکن چراغ دین پڑھائی اور اپنے دوستوں کی محافل میں کھو گیااسے کاروبار میں دلچسپی قدرے کم تھی۔
پھر کیا ہوا دادی اماں ؟
ایک دن دونوں دوستوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ مدت ہو گئی کاروبار میں شب و روز محنت کرتے ہوئے کیوں ناں آتھ دن کے میلے میں اپنے پرانے دوستوں کے ساتھ چند لمحات گزار لیں اور دکان پہ چراغ دین کو بٹھا دیتے ہیں ، چارو ناچار کام کرئے گا تو دلچسپی بھی لے گا اسی طرح شاید وہ بھی مصروف ہو جائے ۔ روشن دین کی بات مانتے ہوئے نور دین نے اس کی سوچ پہ لبیک کہا اور دکان کی چابیاں چراغ دین کے حوالے کرکے روشن دین نے کہا کہ ہر روز دکان کے غلے سے ایک روپیہ کا کھانا کھا لینا اور ایک روپیہ اپنی جیب میںرکھ لینا، چراغ دین نے چابیاں لیں اور دکان پہ بیٹھنے کی حامی بھر لی ۔
یہ تم نے کھانے کے لئے ایک روپیہ کی اجازت تو دی اچھی بات ہے لیکن ایک روپیہ جیب میں رکھ لینا اسکی سمجھ نہیں آئی روشن دین ۔۔
نور دین ہم محنت کس لئے کرتے ہیں رزق حلال لمانے کے لئے اور اگر محنت کا پھل نہ ملے تو کام کس لئے کرتے ہیں ، جوان بچوں سے کام لیتے ہوئے انہیں ان کی محنت کا پھل ملنا چاہیئے یا نہیں۔
ہاں بات تو تمہاری سولہ آنے درست ہے۔
یاد ہے ناں تمہیں جب ہم نے محنت شروع کی تھی تو چار چار آنے کا کھانا کھا کر سارا دن کام پہ لگے رہتے تھے اور آج کے دور میں وہی کھانا اب اٹھنی کا ہو گیا ہے چراغ کو ایک روپیہ کھانے کے لئے اسی لئے دیا ہے کہ وہ اٹھنی میں کھانا کھا کر باقی اٹھنی بچائے گا یا نہیں ورنہ کھانا تو میرے گھر سے بن کے آ جاتا ، کچھ بات کی سمجھ آئی یا نہیں۔۔۔
ہاں دادی اماں سمجھ رہا ہوں۔۔
لیکن بیٹا عارف وہ دونوں دوست بات کر رہے ہیں میں نے تو تمہیں کچھ نہیں کہا۔
دادی اماں کہانی تو چیونٹیوں کی تھی وہ کہاں گئیں ؟
وہ اگر ابھی آ گئیں تو میری ٹانگوں کے درد کا علاج کون کرئے گا
اچھا تو یہ بات ہے چلیئے پھر کیا ہوا دادی جان ؟
وہ دونوں دوست میلہ دیکھنے چلے گئے اور چراغ دین دکان وقت پہ کھولتا اور سارا دن گاہکوں کے اسی سوال کا جواب بڑی خندہ پیشانی سے دیتا رہا کہ اس کا باپ اور ان کا دوست دونوں ایک ہفتہ بعد دکان پہ آ جائیں گے ۔ شام کو دکان بند کرکے غلے سے اپنی جیب میں رقم ڈالے حساب کتاب کی کاپی میں اندراج کرتا رہا ، دن گذرتے گئے اور چراغ دین کے دوست دکان پہ آتے ، اسے مصروف دیکھ کر کچھ دیر رکتے اور کھا پی کرچلے جاتے لیکن کسی کو اتنی توفیق نہ ہوئی کہ اس کی مدد کرتے ۔دن بھر کا تھکا ہارا وہ گھر میں گھستے ہی سو جاتا کیونکہ صبح پھر اسے دکان کی تمام تر ذمہ داریاںاکیلے سنبھالنی ہوتی تھیں اسے سوچنے تک کی مہلت نہ ملتی تھی ۔ کبھی کبھی اسے خیال آتا کہ کس قدر اس کے باپ نے لگاتار محنت کی ہے لیکن یہ سارے دن کا کام جس میں تھوڑی دیر کے لئے سستانے کا موقع میسر نہ آئے کیسی زندگی ہے ۔ بس آ جائیں تو دکان ان کے حوالے کرکے اب کی بار وہ شہر بھاگ جائے گا۔
وہ کیوں دادی اماں جب کام اچھا خاصہ چل رہا تھا تو وہ وہیں پر اپنی زندگی بسر کرنے کی سوچ کیوں نہیں رکھتا تھا ، کیا چیونٹیاں اسے سبق دیں گی
عاطف ۔۔۔ پھر چیونٹیوںکا ذکر قبل از وقت کرکے کہانی کا مزاکیوںخراب کرنے پہ تلے ہوئے ہو ۔۔
معاف کیجئے گا دادی جان اب درمیان میں نہیں بولوں گا ۔۔ پھر کیا ہوا ؟
ایسی کوئی بات نہیں بولو ضرور لیکن مجھے کروٹ بدل لینے دو یہ کمر سیدھے لیٹ لیٹ کر تھک جاتی ہے بوڑھی جان جو ہوئی
میں ہوں ناں آپ کی کمر دبانے کے لئے لے لیں کروٹ ، پانی کی تمنا تو نہیں ہو رہی
اچھا کیا یاد دلا دیا حکیم کہتے ہیں کہ روز پانی زیادہ پیا کرو
یہ لیں میں ابھی پانی لے کے آیا اور وہ آ ن واحد پانی کا گلاس ہاتھ میں لئے دادی کے ہاتھ میں تھماکر انہیں بڑے غور سے دیکھے جا رہا تھا دادی نے پانی پیا اور پھر سے کہانی شروع ہو گئی۔بیٹے عاطف دونوں دوست واپس آئے تو چراغ دین نے چابیاں دکان کی ان کے حوالے کرتے ہوئے ہفتے بھر کی رقم اور حساب والی کاپی دیتے ہوئے اپنی ذمہ داری نبھائی۔
باپ اور چچا نے خیریت پوچھتے ہوئے کام کے بارے پوچھا تو چراغ دین نے مختصر جواب میں اتنا کہا کہ دن گذر ہی گئے اب آپ جانیں اور آپ کا کام۔
صبح روشن دین نے دکان کھولی ، وہ اپنی دکان سے بہت اداس تھا ، صفائی کرنے لگا تو اس کا دل دہل گیا ، اتنے میں اس کا دوست نور دین بھی آ گیا۔
اتنی جلدی آ گئے روشن دین ۔
ہاں یہ دکان اب ،، دین دی ہٹی ،، نہیں رہی ، آج ہی بیٹھ کے حساب کتاب کر لیتے ہیں ، تم نے رکھنی ہے تو تم رکھ لو میرا نام اس شراکت سے ختم کر دو ۔
کیا ہو گیا ہے تمہیں ، کوئی ایسی ویسی بات ہوئی ہے تو بتاو ، کوئی نقسان۔۔۔
ہاں بہت بڑا نقصان ہو گیا ہے جو ناقابل برداشت ہے۔۔۔
آخر معاملہ کیا ہے کچھ پتا تو چلے ۔۔
یہ گھر جا کے اپنے بیٹے چراغ دین سے پوچھنا ۔۔۔
لیکن کیا پوچھنا ہے وہ تو بتاو وہ میرا بیٹا ہی نہیں تمہارا بھی کچھ لگتا ہے اور اس نے اگر کاروبار میں کوئی غلطی کی ہے تو خود بھی پوچھنے کا حق رکھتے ہو کیونکہ دکان تم نے اسکے حوالے کی۔۔
اور اب یہی دکان حساب کتاب کرنے کے بعد تمہارے حوالے کرنا چاہتا ہوں۔ یہ دیکھ رہے ہو چیونٹیوں کی ایک لمبی قطار جو اس دکان سے اناج اٹھائے باہر لے جا رہی ہیں۔۔
تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے وہ اپنی روزی پہ لگی ہوئی ہیں انہیں بھی تو کچھ کھانا ہے۔۔
یہ علامت ہے اس بات کی کہ اس دکان میں بے ایمانی ہوئی ہے پوچھوں اپنے بیٹے سے ۔۔۔
نور دین تاو کھاتا سیدھا گھر گیا اور بیٹے سے انتہائی پیار سے پیش آتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ ہر روز وہ غلے سے کتنی رقم لیتا رہا ہے ، چراغ دین نے سچ بتا دیا کہ وہ آپ کی تفویض کردہ رقم سے ایک روپیہ اوپر ہر روز جیب میں ڈالتا رہا ہے ۔۔
تو اس کا مطلب ہے میرا دوست درست کہتا ہے کہ دکان میں بے ایمانی ہوئی ہے ، اب تم میرے ساتھ دکان پہ چلو اور وہاں سچ سچ بتا کے ہماری دوستی کو ختم ہونے سے بچاوگے۔
دونون باپ بیٹا مجرموں کی مانند سر جھکائے دکان میں داخل ہوئے اور چراغ دین نے اپنی غلطی کابرملا اقرار کیا تو روشن دین نے اسے گلے لگا تے ہوئے کہا کہ صبح کا بھولا گر شام کو گھر لوٹ آئے تو اسے بھولا نہیں کہتے، خوشی اس بات کی ہے کہ تم نے جھوٹ نہیں بولا جاو آج تمہاری چھٹی کل سے دکان پہ آ جانا ۔
نور دین سر اوپر اٹھاو تمہارے خون میں کوئی خرابی نہیں یہ صحبت کا اثر ہے جو جوان اولاد میں کچھ دیر کے لئے موجزن ہوا ، چراغ دین کے اس جرم کی سزا یہی ہے کہ وہ میری اکلوتی بیٹی صابراں کو عمر بھر اسی دکان سے رزق حلال کما کر کھلائے اور ان کی شادی جلد از جلد کرکے ہم تمام اہم فریضے پورے کرکے حج پہ چلے جاتے ہیں کیوں منظور ہے ؟
نور دین نے آنکھوں میں آئے آنسو پونچھ ڈالے اور اپنے دوست کے ساتھ بغلگیر ہوتے ہوئے پروردگار کا شکر ادا کیااورعاطف دادی اماںکو شب بخیر کہتے ہوئے رخصت ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں