کہانی ،، جلی روٹی ،، بشیر شاد

نانی دادی سے سنی کہانیوں کے سلسلہ کی (کہانی نمبر دو )
،،،،، جلی روٹی ،،،،،، تحریر ،،، چوہدری محمدبشیر شاد
عاطف۔۔۔۔!!
جی دادی اماں
کھانا کھا لیا
آپ سے پہلے کیسے کھا سکتے ہیں ، وہ گرما گرم چکن سوپ اور ساتھ میں تندوری نان آپ کے لئے ابھی لے کے آتا ہوں دادی اماں۔
یہ چکن سوپ کی جگہ مرغی شوربا کہہ دیتے تو کیسا لگتا
دادی اماں انگلش میڈیم اسکول کی فیس جب گھر والے ادا کر رہے ہیں تو تھوڑا بہت اثر اس کا بھی ہو گا ۔ میں آپ کے لئے کھانا لے کے آتا ہوں اور اس کے بعد۔۔۔
اس کے بعد کیا ؟
وہ اسٹوری اوہو وہ کہانی ، ہونہار طالبعلم کی ، جس کا آپ نے وعدہ کر رکھا ہے سنائیں گی
وہ جو تمہاری نانی اماں نے سنائی تھی وہ کیسی تھی
دادی اماں ، نانی اماں کی کہانی اپنی جگہ اور آپ کی کہانی اپنی جگہ
اچھا چلو تم بھی کھانا کھا لو پھر ہم دونوں پیٹ پوجا کرکے کہانی کے ہر رخ سے پردہ اٹھاتے ہیں
عاطف دادی اماں کا کھانا انہیں دے کر اپنے والدین کے ساتھ جلدی جلدی کھانے میں مصروف ہو گیا ، باپ کے چہرے پہ مسکراہٹ سی ابھری ، لگ رہا ہے دادی اماں سے کہانی سننے کا وعدہ لے آئے ہو
ڈیڈی کل اسکول نہیں جانا چھٹی ہے ناں اس لئے۔۔
لیکن کھانا آرام سے کھاو بیٹے ، دادی اماں ادھر ہی ہیں ، ماں نے جونہی عاطف کو سمجھایا تو اس کی تیز رفتاری میں کمی واقع ہوئی ۔
ارے کھانا کھانے کے بعد ہاتھ دھو کے دادی اماں کے پاس جاو
ڈیڈی بہتری اسی میں ہے کہ دادی اماں کے برتن اٹھا لاوں تو ایک ہی بار ہاتھ دھو کر دادی اماں سے کہانی سنوں گاورنہ دادی اماں سو گئیں تو
بہت شرارتی ہو تے جا رہے ہو تم بروقت جواب دینے میں کمال رکھتے ہو
آپ پہ گیا ہوں ممی جان کہہ کے وہ چل دیا اور باپ کی ہنستی نگاہیں بیگم کے چہرے کا طواف کرنے لگیں۔
عاطف دادی اماں کے ہاں سے برتن سمیٹے باورچی خانے میں رکھ کے جلدی جلدی ہاتھ دھو کر دادی کی جانب چل دیا کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ دادی اماں نے آرام کرنے کے لئے اگر کروٹ لے لی تو گئی کہانی اگلے ہفتے پر اور کون جانے اس وقت ان کا موڈ کیسا ہو، دادی اماں کیا خیال ہے ،اب بیٹھ جاوں آپ کی چارپائی پر ۔۔
ہاں عاطف بیٹے سیدھے ہو کے بیٹھ جاو
دادی اماں آپ کی شفقت بھری گود میں سر رکھ کے کہانی سننے کی تمنا ہے۔
کیوں نہیں میرے لعل ، اور عاطف ٹھک سے دادی اماں کی گود میں سر ٹکائے کہانی سننے کے لئے تیار ہو گیا۔
ہاں تو عاطف بیٹے ایک گاوں میں درمیانہ طبقہ کے ایک زمیندار کے ہاں ان کا اکلوتا بیٹاافضل جب ہائی اسکول سے میٹرک اچھے نمبروں سے پاس کر گیا تو باپ نے مزید پڑھائی کے لئے کالج میں داخل کرا دیا ۔ افضل ہر روز کالج جاتا اور پڑھائی کے بعد سیدھا گھر آ کے باپ کے ساتھ گھر کے کاموں میں مدد کرتا۔ یوں ایک خاندان ہنسی خوشی اپنے محدود ذرائع میں زندگی بسر کر رہا تھاکہ ۔۔۔
کیا ہوا دادی اماں ؟
کچھ نہیں بیٹے مجھے تھوڑا دم تو مارنے دے۔
تھک گئی ہو دادی اماں لو میں آپ کی ٹانگیں دباتا ہوں مگر کہانی مکمل سنا کے سونا
ہاں عاطف تو میں کہہ رہی تھی کہ زندگی اچھی خاصی بسر ہو رہی تھی کہ اچانک باپ کی بیماری طول پکڑ گئی ، افضل ایف ایس سی کے امتحان میں ضلع بھر میں اول آیا ۔ والدین کی خوشی انتہا کو پہنچ گئی ۔ گاوں والوں کا سر فخر سے اونچا ہو گیا ، ہر ایک مبارکباد دے رہا تھا اور بہت سی خوشیاں سمیٹے باپ اس جہانِ فانی سے کوچ کر گیا ۔ بیوی خاموش ہو کے رہ گئی لیکن بیٹے افضل کو برابر دلاسہ دئے جارہی تھی کہ وہ مزید پڑھائی کرئے ۔ کچھ ہی دنوں بعد افضل نے میڈیکل کالج میں داخلہ کے لئے درخواست دی جو اس کی قابلیت پہ منظور ہو گئی ۔ ماں کو اس خبر پہ خاوند بہت یاد آیا جو اسے ایک اعلی مقام پہ دیکھنا چاہتا تھا ۔ بیٹے کو اپنے گاوں سے دور شہر میں تعلیم مکمل کرنے کے لئے جانا تھا اور ماں نے بڑا دل کرکے اسے اجازت دی تو بیٹے نے ماں کے اکیلے پن پہ تشویش ظاہر کی جس کا جواب مانںکے لبوں پہ اس طرح ابھرا کہ ایک اولاد کی ماں بیشک اندھی ہوتی ہے لیکن اگر چند باتوں پہ عمل پیرا رہا جائے تو یہ مرض بڑھتا نہیں ، ابھی تک تو تم ماں کی آنکھوں کے سامنے تھے تو آنکھوں کو سکوں میسر آتا رہا لیکن اب تمہارے جانے سے دل کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہونے لگی ہے ۔۔۔
تو نہیں جاتا ماں اور مزید پڑھائی بھی چھوڑ دوں گا کیونکہ اخراجات کہاں سے پورے ہوں گے ؟
تم اخراجات کی فکر مت کرو میرے بیٹے ، تمہارا باپ اتنی رقم چھوڑ گیا ہے کہ تم پانچ سال میں اپنی ڈاکڑی کا کورس مکمل کر سکتے ہو ۔ اپنے میڈیکل کالج کے قریب تر ایک کمرے کا مکان کرائے پہ لے لینا ۔۔۔
ماں کالج کے قریب تو مکانوں کے کرائے آسمان سے باتیں کرتے ہیں بہتر ہے دور کہیں سستا سا مکان۔۔۔
نہیں بیٹے دور مکان لینے سے تمہارے ذرائع آمد و رفت کے اخراجات زیادہ پڑیں گے اور اوپر سے وقت بھی آنے جانے میں سرف ہو گا چلو میں تمہارے ساتھ چلتی ہوں تا کہ کسی موزوں جگہ کا انتخاب باہمی طور کر لیا جائے ۔۔ ہائے
کیا ہوا دادی جان دوسری ٹانگ دبانے کا خیال ہی نہیں رہا کہانی میں اسقدر ڈوب گیا تھا کہ ایک ہی ٹانگ دباتا رہا پیاس لگی ہوتو پانی لاوں
ہاں بیٹا تم پانی لاومیں اتنے میں پانسہ بدل لیتی ہوں، عاطف جلدی میں پیچھے مڑ مڑ کے دیکھتا بھی جا رہا تھا کہ دادی اماں کہیں سو ہی نہ جائیں
عاطف پانی کا گلاس دادی اماں کے ہاتھ میں تھمائے اک ٹک دیکھے بھی جا رہا تھا کہ دادی نے ماں بیٹے کے سفر کو قریب تر کرتے ہوئے شہر کی گلیوںمیں پہنچا دیا ۔ پوچھ گچھ کی محنت کارگر ثابت ہوئی اور کالج سے چند قدم کی مسافت پہ ایک کمرے کا مکان مل گیا ۔ ایک سال کا اڈوانس کرایہ دینے پر مالکِ مکان نے پوچھ لیا کہ بہن آپ ہر ماہ کرایہ ادا کرنے کی بجائے سال بھر کا کرایہ یک مشت کیوں ادا کر رہی ہیں تو افضل کی ماں نے بڑے اعتماد سے جواب دیا کہ کرایہ دینا تو پڑے گاکیوں نہ یکبارگی ادا کرکے بوجھ ہلکاکر لیا جائے لیکن آپ پانچ سال تک ہمیں اس مکان سے لامکاں نہیں کرئیں گے اور اس کے لئے ہم پانچ سال کا کرایہ بھی یک مشت ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔۔
ایک بات تو بتائیں آپ کو یقین ہے کہ آپ کا بیٹا پانچ سال میں اپنا کورس مکمل کر لے گا مالک مکان کرایہ نامہ پہ دستخط کرتے ہوئے پوچھ بیٹھا
اپنے خون پہ مجھے مکمل بھروسہ ہے کے ساتھ ہی ماں بیٹا مکان کی چابی لے کر واپس گاوں لوٹ آئے
پھر کیا ہوا دادی اماں ؟
ٹھہرو بیٹا عاطف نہ جانے آجکل سر میں خارش کیوں ہونے لگی ہے کل دھوپ نکلتے ہی سر کی مالش کرواوں گی
پریشان نہ ہوں دادی اماںکل آپ کے سر میں تیل لگا کے خوب مالش کروں گا ۔
جیتے رہو بیٹا تم اپنی پڑھائی پہ دھیان دینا جیسے افضل ڈاکٹر بنا تم بھی بننا۔
وہ کیسے ڈاکٹر بنا دادی اماں ؟
وہ دوسرے دن اپنے ہمراہ گھر گرہستی کا کچھ سامان باندھ کر جب چلنے لگا تو ماں نے کہا کہ بیٹا اپنے کمرے میں تنہا رہنا ، کھانا خود بنانا ، کسی کے گھر کا نہ کھانا اور جب روٹی بنانے لگو تو جلی روٹی کا پارچہ ہر روز اکٹھا کرکے رکھنا اور جب چاول پکاو تو اسکی کھرچن میں سے چند دانے دھوپ میں سکھا کر دونوں چیزیں جمع کرکے ہر تین ماہ بعد جب تم گاوں آو تو یہ سامان اپنے ہمراہ لے آنا یہ میرے دل کے درد کی دوائی بنانے کے کام آئے گا دیکھو بھولنا نہیں یہ میرے دل کے درد کےلئے بہترین نسخہ ہو گا ۔
جلی ہوئی روٹی کاپارچہ اور چاولوں کی کھرچن ، دادی اماں ان سے دل کی بیماری کا علاج کیسے ہو گا بڑی حیرانگی کی بات ہے ۔
دیکھو بیٹے عاطف جب افضل نے اپنی ماں سے اس بارے سوال نہیں کیا تو اسکی فرمانبرداری پہ غور کریں اور کہانی کو آگے چلنے دیں
معذرت چاہتا ہوں دادی اماں ۔۔
شاباش بیٹے ۔ افضل ماں کی دعاوں سے اعلی تعلیم کے لئے گاوں چھوڑ شہر چلا گیا ، ہر تین ماہ بعد گھر آتا ماں کو اس کی طلب کا سامان دے کر واپس اپنی پڑھائی میں پانچ سالوں کی مدت کے قریب پہنچ گیا ۔ کالج میں ہر کوئی اس کی عادات و اطوار کو تو نہ جان پایا لیکن اس کی ایک کلاس فیلو افشاں کو کچھ کریدنے کی زیادہ ہی تمنا تھی ۔ جتنی بار اس نے افضل کو گھر دعوت پہ بلایا اس نے یہ کہہ کے انکار کر دیا کہ اس بار گاوں جاوں گا تو ماں سے اجازت لے کر آپ کو بتاوں گا ، افشاں تو تلملا کے رہ گئی اور اس نے کہا کہ چلو تم ہمارے گھر نہ آو اپنے گھر تو بلا لو ، پھر وہی جواب ملا تو وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائی کہ آج کے زمانے میں بھی ڈاکڑ۔۔۔
بس اس سے آگے کچھ نہ کہئے گا افشاں صاحبہ، ایک ماں کا سایہ ہی تو ہے جو اس مقام پہ ہوں انکی ہر بات پہ عمل پیرارہنافرضِ اولین ہے۔
اس بار افضل گاوں گیا تو ماں نے پوچھا کہ پڑھائی کیسی جا رہی ہے اور کتنے مہینے رہ گئے ہیں ؟
بس ماں تین مہینوں کی ہی تو جدائی رہ گئی ہے امتحان پاس کرتے ہی گھر لوٹ آوں گا ڈاکٹر بن کر لیکن میرے ساتھ افشاں نامی لڑکی بھی پڑھتی ہے اور وہ اس بار بضد تھی کہ گاوں کی سیر کراو تو میں نے جواب دیا کہ ماں سے پوچھ کے بتاوں گا ۔ ماں جی یہ تو بتا دیجئے کہ اب آپ کے دردِ دل کا کیا حال ہے ، کچھ افاقہ ہوا آپ کے بنائے نسخے سے ۔۔۔
ہاں بیٹا بہت فرق پڑا ہے اور ایسے کرو جب ڈاکڑی کی سند مل جائے تو اس لڑکی ،کیا نام، افشاں کو اس کے والدین کی اجازت سے بیشک گاوں لے آنا چلو اس کی خواہش بھی پوری ہو جائے گی ۔ جلی روٹی کا پارچہ اور چاولوں کی کھرچن لانا نہ بھولنا اور خیر سے جاو خوب محنت کرو
افضل ماں کی ڈھیروں دعاوں کے ساتھ واپس لوٹا ۔ افشاں نے اسے دیکھتے ہی پوچھ لیا کہ ماں نے اجازت دے دی یا۔۔۔
یا کیا ؟ ماں کا اصل روپ تم وہاں جا کے دیکھنا تم میرے ساتھ گاوں جا سکتی ہو لیکن اپنے والدین کی اجازت لے کر ویسے نہیں ۔
اچھا یہ بات ہے تو چلو میرے ساتھ میرے گھر، تمہارے سامنے میں ممی ڈیڈی سے اجازت لے لوں گی۔
مجھے پورا بھروسہ ہے آپ خود ہی اپنے والدین سے بات کرکے مجھے بتا دیجئے گا اور پھر سند لیتے ہی گاوں کے راستے ناپیں گے
میں اپنی کار خود ڈرائیو کروں گی بس تم راستہ بتاتے جانا
جی نہیں میں یہاں سے ٹرین میں جاوں گا اور وہاں سے بس سیدھی ہمارے گاوں جاتی ہے ، تم ٹرین اسٹیشن پہ پہنچ جانا اور وہاں سے جس بس میں مجھے سوار ہوتا دیکھو پیچھے پیچھے آ جانا ۔
عجیب آدمی ہو میری کار میں میرے ساتھ سفر کرنے کی اجازت بھی لگے ہاتھوں ان سے لے آتے تو بہتر نہیں تھاکیا ؟ افشاں شش و پنج میں سر کے بالوں کو جھٹک کر کالج سے گھر چلی گئی اور ڈیڈی کی لاڈلی نے سب داستان باپ کے گوش گذار کر دی ، باپ نے ایک نظر بیٹی پہ ڈالی ، قدرے سوچ میں مستغرق پہلو بدلا تو بیگم بھی ڈرائنگ روم میں پہنچ گئی ۔ باپ بیٹی کے چہروں کو بغور دیکھتے ہوئے پوچھا کہ کیا راز کی باتیں چل رہی ہیں کیا میں بھی شامل ہو سکتی ہوں تو ایک ہی سانس میں افشاں نے ان کو بھی بات بتا دی ۔باپ نے مثبت میں سر ہلاتے ہوئے گاوں کے باسیوں کی قدر و منزلت کے قصیدے پڑھنے شروع کیا کئے بیگم کو تاو آ گیا ، افشاں ان دونوں کو چھوڑ اپنے کمرے میں چلی گئی ۔
امتحانوں کے نتائج نکلے اور افضل کی اول پوزیشن آئی، مالکِ مکان کو چابی دے کرگاوں کی تیاری کرنے لگا تو افشاں نے اس سے گاوں کا پتہ لیا اور عین پروگرام کے مطابق وہ دونوں الگ الگ گاوں پہنچ گئے ۔ ماں نے بیٹے کو دیکھتے ہی پوچھا وہ افشاں کدھر ہے ؟
ماں جی یہ لیں اپنے نسخے کا مال اور یہ رہی سند ، افشاں وہ گاڑی میں بیٹھی انتظار کر رہی ہے۔اگر اجازت ہو تو میں اسے لے کے آتا ہوں۔
گھر میں رونق لگ گئی افشاں سادگی پسند ماں کے اعلی اصولوں پہ پرورش پایا افضل دل ہی دل میں پسند کر بیٹھی اور ماں سے پوچھا گیا کہ اس کے دردِ دل کا کیا حال ہے تو ماں نے دونوں کو ایک کمرے میں لے جا کر بتایا کہ پانچ سالوں میں بیس لفافے جلی روٹی کے پارچہ اوربیس لفافے چاولوں کی کھرچن یہ سب یہاں موجود اس بات کے شاہد ہیں کہ میرے بیٹے نے کچا کھانا نہیں کھایا جس سے اس کے پیٹ میں درد
ہوتا ، تم اگر ایک دوسرے کو پسند کرتے ہو اپنے بچوں کے لئے اسی طرح کی سوچ رکھنا ، عاطف مسکرایا اور شب بخیر کہہ کے چلتا بنا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں