کہانی ،، تلوے ،، بشیر شاد

کہانی ۔۔۔۔ تلوے
تحریر : چوہدری محمد بشیر شاد (ایتھنز ۔۔۔ یونان)
سن بلوغت میں قدم رکھنے والا بارہ سالہ اکلوتا عاطف نانی اماں کی ایک روزہ آمد پہ لڑکپن کی حدود میں داخل ہو کر بچوں جیسی ضد پہ اتر آیا اور بڑے کروفر سے نانی کی گود میں سر رکھے اسے ایک ٹک دیکھتے ہوئے کہانی کی فرمائش کئے جا رہا تھا اور نانی اماں اپنی بیٹی کے اس چشم و چراغ کی بات کیسے ٹال دیتی جسے وہ والہانہ پیار کرتی تھی ۔ بڑی سمٹ سمٹا کے وہ کچھ سوچنے لگی تو عاطف نے پھر سے یاد دلایا کہ پچھلی بار آپ نے وعدہ کیا تھا ایک خوبصورت شہزادی کی داستان سنائیں گی جو کہ اس کی طرح اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی ۔۔۔
ہاں ۔۔۔ اچھا کیاتم نے یاد دلا دیا ، کہانی سبق آموز ہے ذرا دھیان سے سننا ۔
نانی اماں آپ کی سنائی گئی سب کہانیاں مجھے آج تک سب زبانی یاد ہیں اب دیر مت کریں ناں ، بنا تمہید باندھے شروع کر دیں میں ہمہ تن گوش ہوں
اچھا یہ بات ہے تو لو پھر سنو پہ عاطف نے پہلو بدلا اور نانی اماں نے ایک دفعہ کا ذکر ہے جونہی کہا تو دنیا بھر کی مسرت و شادمانیاں عاطف کے چہرے پہ عود کر آئیں کیونکہ اس روائتی جملے کے بعد اصل کہانی شروع ہو جاتی ہے اور پھر لگاتاراختتامیہ تک ایک لمحہ بھی دماغی خلیے کسی اور سوچ کی جانب راغب نہیں ہوتے ۔نانی اماں پوری کہانی سنا کے سونا۔۔۔
ہاں بیٹا عاطف تو میں کہہ رہی تھی کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہت میں والی وارث کے پیدا نہ ہونے پر وہاں کے بادشاہ اور ملکہ کی پریشانی بڑھتی جا رہی تھی ۔ بڑی منتوں کے بعد ان کے ہاں ایک انتہائی خوبصورت شہزادی نے جنم لیا ۔ ملکہ کی گود بھرائی پہ خزانے کھول دئے گئے ۔ خادماوں کا چناو کیا گیا اور بہت سی خادماوں میں سے سکینہ کی قسمت جاگ اٹھی جسے شہزادی کی پرورش پر مامور کر دیا گیا اور یوں شہزادی کی دیکھ بھال شاہانہ طور طریقوں پہ استوار ہونے لگی ۔سکینہ کا شوہر عادل کی پہلی سالگرہ کے بعد اس جہان فانی سے کوچ کر گیا اور سکینہ پہ جوانی ہی میںبھاری ذمہ داری آن پڑی۔ وہ شاہی خاندان کی روایات کو بڑے سلیقے سے سر انجام دے رہی تھی ۔ ملکہ کے ملکوتی لبادے اس کے ہاتھوں سے دھل کر استری کئے جاتے رہے اور عادل پانچ برس کا ہو گیا ۔ نانی اماںنے ایک وقفہ لیتے کھانستے ہوئے اپنا گلا صاف کیا اور نواسے کے تن بدن میں ہلچل سی مچ گئی ۔ وہ بڑے متفکرانہ تاثرات چہرے پہ لاتے ہوئے نانی اماں کی خیریت پوچھ رہا تھا اور نانی اماں اپنے چہیتے نواسے کی بلائیں لیتے ہوئے بڑی خوشدلی کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگی کہ اسے کچھ نہیں ہوا کہانی سناتے ہوئے گلاا تو صاف کرنا پڑتا ہے ناں ۔ ہاں تو کہاں تک کہانی پہنچی تھی ۔
نانی اماں عادل پانچ سال کا ہو گیا پھر کیا ہوا ۔
پھر اللہ کا کرنا شہزادی پیدا ہو گئی اور سکینہ کو شہزادی کی خادمہ خاص میں ایک اعلی مقام مل گیا اور یوں ماں بیٹے کو شاہی خصوصی رہائش میسر آ گئی ۔ سکینہ شب و روز شہزادی کے لبادوں کو اپنے ہاتھوں نہایت احتیاط سے دھو کر استری کرکے جب تہہ لگاتی تو کانچ کی گڑیا جیسی شہزادی کی من موہنی شکل اس کے روئیں روئیں میں ارتعاش برپا کئے اس کے حسن کی لامتناہی رنگتوں کو اجاگر کرتی اور انمول گڑیا کا تصور اپنی تمام تر رعنائیاں بکھیرتا اس کے انگ انگ میں خوشیوں کا گہوارہ بن جاتا اور وہ اسی لگن میں مگن شہزادی کے ہر لبادے کو بڑی احتیاط سے بنا سنوار کر اس کے تن زیب کرتی رہی ۔ ہر روز ایک نیا روپ سکینہ کے دل کی تمنا پوری کئے جا رہا تھا جب ہر دیکھنے والی آنکھ شہزادی کے نت نئے نئے صاف ستھرے لبادوں پہ پڑتی اور اس میں شہزادی کا کھلتا ہوا چہرہ اپنی مثال آپ ہوتا تو بادشاہ اور ملکہ سکینہ کی محنت پہ عش عش کر اٹھتے اور اسے انعامات سے نوازتے رہے ۔ دن گذرتے گئے اور شہزادی کی پانچویںسالگرہ پہ عادل کو بھی موقع میسر آیا کہ ایک جھلک شہزادی کی دیکھ سکے ۔ دس سالہ عادل دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ شہزادی شہزادوں کی زندگی بھی کیا ہوتی ہے ، شاہانہ ٹھاٹھ ، شاہی تمکنت ، ان کے لبادے، ان کی بود و باش اور مشکلات سے مبرا زندگی ان کے حسن کو اور دوبالا کر دیتی ہے ۔ وہ ایسی زندگی پہ رشک کر رہا تھا اور خود کو ایک شہزادے کے لباس میں شہزادی کے قریب تر ہو کر کھیل کود میں مصروف ہوتے ہوئے دیکھ رہا تھا کہ سالگرہ کا کیک کاٹا گیا ۔ تالیوں کی گونج میں سالگرہ مبارک کی خوشیوں بھری آوازیں آتی رہیں اور شاہی خاندان کی اکلوتی وارث کی نظر اتاری گئی ۔ اشرفیوں سے بھری تھیلیاں اور گلے کی مالائیں خادماوں کی نذر کی گئیں اور اس سکینہ کی محنت کو بہت سراہا گیا ۔ شاہی خاندان کی جانب سے عطا کردہ بےشمار نذرانے دیکھ کر عادل شہزادی کے قربی خیالات سے نکل کر ماں کے قریب کھڑا ہو کر اپنی اصلیت کی جانب لوٹ تو آیا لیکن ایک حسرت سی اس کے دل میں نشتر بن کر معلق ہو گئی ۔ پروگرام نہ چاہتے ہوئے بھی ختم ہو گیا اور عادل منوں بھاری قدم اٹھاتے اپنی ماں کے ہمراہ واپس لوٹا تو طبیعت میںخلفشاری کہرام مچا ہوا تھا۔ ماں نے اپنے بیٹے کے چہرے پہ گھمبیر تفکرات کی نمایاں لکیریں دیکھ کر استفسار کیا تو وہ ذومعنی روہانسی ہنسی میں بات ٹالنے میں کامیاب نہ ہو سکا ۔ ماں کے مزید اصرار پہ بالآخر اسے دل کی حالتوں کے ایک پرت سے پردہ اٹھانا ہی پڑا۔۔۔
ماں کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم شہزادی کے ساتھ کھیل سکیں ؟
عادل بیٹا تمہاری اور شہزادی کی عمر میں دوگنا فرق ہے
یہ فرق اگر تھا تو پانچ سال میں ہمیں پہلی بار موقع ملا شہزادی کو قریب سے دیکھنے کا ورنہ اس کے لبادوں کو آپ کے ہاتھوں بنتے سنورتے ہر روز دیکھا ہے ۔ کس لگن سے آپ ان کی تہہیں لگاتی رہیں اور نت نئے پہناووں میں وہ پانچ برس کی ہو گئی اور ہمیں ایک بار بھی موقع نہ مل سکا کہ اس کے ساتھ بچپن کی یادیں وابستہ کر سکتے ۔
بیٹے عادل جو اپنا مقام نہیں پہچانتے وہ اپنے محور سے ہٹ کر نیست و نابود ہو جاتے ہیں۔
کیا شاہی خاندان میں پیدا ہونے والے ہی شہزادی شہزادے کہلانے کے حقدار گروانے جاتے ہیں ؟
نہیں تو ! عادل میرا شہزادہ ہی تو ہے۔
سچ کہتی ہو ماں ، والدین کے لئے ان کی اولاد شہزادیاں شہزادے ہی تو ہوتے ہیں ۔
کیا ہوا نانی اماں کہانی ختم ہو گئی ۔
نہیں بیٹا ابھی تو تصف حصہ سنانا باقی ہے ، مجھے چند گھونٹ پانی تو پی لینے دے۔
نانی اماں آپ اگلے حصے کی تیاری کریں میں پانی لا کے دیتا ہوں اپنی پیاری نانی جان کو کہتے ہوئے وہ پانی کا گلاس ہاتھ میں تھامے نانی اماں کے روبرو تھا اور نانی اماں نے پانی تین سانسوں میں پی کر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے لاڈلے نواسے کو ڈھیروں دعائیں دیں۔عاطف پھر سے نانی اماں کی گود میں سر ٹکائے کہانی کے اگلے حصے کو سننے کے لئے بیتاب نظر آنے لگا تو نانی اماں نے از راہ یادداشت عاطف سے پوچھ لیا کہ کہانی کہاں تک پہنچی تھی تو عادل نے ٹھک سے جواب دیا کہ شہزادی کی سالگرہ کے بعد ماں بیٹے کی باتیں تھیں۔
شاباش عاطف تمہاری یادداشت تو بہت مضبوط ہے ۔ یہ بتاو شہزادی جب سولہ سال کی ہوئی تو عادل کتنے سال کا ہو گا ۔
نانی اماں سیدھا سا سوال ہے سولہ میں پانچ جمع کریں تو اکیس سالہ عادل شہزادی کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوا یا نہیں اس کے بارے جلدی سے پردہ اٹھا دیجئے کہانی کا دی انڈ ہو جائے گا اور پھر اگلی بار جب آپ آئیں گی تو مہینہ بھر کے لئے ہمارے پاس رہیں گی اور ہر شب ایک کہانی سنا یاکریں گی اور ہم سن کر سب کچھ یاد رکھا کریں گے ۔
سولہ سالہ شہزادی کے حسن کے چرچے دور و نزد ہر زبان پہ آنے لگے اور دوسری ریاستوں کے شہزادوں کی تمنائیں بھی ابھر کے سامنے آنے لگیں ۔۔۔۔
نانی اماں عادل کا کیا بنا اس نے کوئی کوشش نہیں کی ؟
عاطف بیٹے اتنی جلدی بھی کیا ہے ، تمہیں نیند آ رہی ہے تو سو جاو باقی ماندہ کہانی جب اگلی بار آوں گی تو سن لینا ۔۔۔۔
نہیں نانی اماں ، میں اب درمیان میں نہیں بولوں گا آپ اب جلدی سے کہانی کے اس پہلو سے پردہ اٹھا کر میرے دل کی تیز دھڑکنوں کو کم کر دیں ۔
یہ ہوئی ناں بات ۔ تو میں کہہ رہی تھی کہ شہزادی کی خوبصورتی اس قدر نمایاں تھی کہ آئینے کے پیچھے معلق سیندوروہاں سے اچھل کر شہزادی کی مانگ میں خود کو منسلک کرنے میں مچلنے لگا تھا ۔ اس کی طویل قد و قامت میں بدن کی سفیدی کی مدھ بھری رنگت دودھیا سا تصور دیتی چاندکی چاندنی کو بھی شرما دیتی تھی ۔ شاہانہ لباس میں نپے تلے قدموں کی حرکات و سکنات زمیں پہ نرم و نازک پھولوں جیسے تاثرکا پیش رو تھیں۔ نازک اندام شاہانہ سلیقہ اس کے روئیں روئیں کی غمازی کرتا توبہت سے شہزادے اس کی ہر ادا پہ خود کو قربان کرنے کے لئے تیار نظر آتے ۔نشیلی آنکھوں میں خوابیدہ سا نشہ دیکھنے والوں کی تمنا بن جاتا۔ لبادے پہ روپہلی و سنہری مینا کاری مہا کاریگروں کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت مہیا کرتی اور بدن کا ہر انگ شاہی لباس میں قدرت کا شاہکاراس مقام تک پہنچ جاتا جہاں ہر جوان کی خواہش پروان چڑھنے لگی کہ وہ اس حسن یکتا کے حصول کے لئے گھوڑ سواری اور فن سپاہ گری کے تمام مقابلوں کو سر کرکے اسے اپنی ریاست کے شاہی محل کی رانی بنا لے ۔ اس کے کشادہ طویل ریشمی بال بادلوں کی سیاہ گھٹاوں کو رونق بخشتے تو ان میں کئی منچلے سستانے میں کوشاں نظر آنے لگے ۔ سر سے لے کر پاوں تک حسن مجسم کس کی قسمت کا دروازہ وا کرئے گا اس کا فیصلہ تو مقابلے کے میدان میںکیا جائے گا۔۔۔
نانی اماں عادل بھی مقابلے میں حصہ لے سکے گا یا نہیں ؟
عاطف بیٹا تم کیوں نہیں سمجھ پا رہے کہ یہ مقابلہ صرف شہزادوں کے مابین ہو گا جنہوں نے فن سپاہ گری اور گھوڑ سواری کے ہنر سیکھے ہوں گے
ہاں نانی اماں سمجھ گیا بے چارہ عادل ۔۔ آگے کیا ہوا ؟
ابھی مقابلے میں چند دن باقی تھے کہ سکینہ بیمار پڑ گئی اور بیماری کی نقاہت میں عادل کو اپنا کام سونپا جسے بڑی تندہی سے اس نے اپنے دل سے نبھاتے ہوئے شہزادی کے ہر ایک لبادے کو اپنے ہاتھوں سے استری کرکے تہہ بٹھائی اور ماں کے کہنے پر شہزادی کے اجلے لبادے دینے کے لئے قدم بڑھائے تو اسے یوں لگا کہ زندگی کی تمام خوشیوں سے اسے ہمکنار کیا جا رہا ہو۔ جنبیلی کے پھول شہزادی کی پسند تھے وہ ہر روز ماں کو بتائے بغیر چنبیلی کی نئی نویلی کلیاں لبادوں کی تہہوں میں رکھ کر لے جاتا رہا اور لبادے کھولتے وقت شہزادی کی سوچ اس جانب مرکوز ہو گئی کہ لبادوں کی تہہ سکینہ جیسی نہیں اور ان میں ہر روز اس کی من پسند چنبیلی کے پھول کہاں سے آ رہے ہیں ۔ اس راز سربستہ کی گتھیوں کو وا کرنے کے لئے آج در پہ آ کر شہزادی کے دھلے لباس کو اس کے کمرے تک پہنچانے کے لئے جب اسے کہا گیا تو اس کی آنکھوں کی چمک میں اضافہ ہو گیا ۔ وہ شہزادی کے روبرو ہو گا اسکی مدتوں کی پیاس بجھے گی ۔ اس کی بیتاب آنکھیں شہزادی کا دیدار کر سکیں گی ۔ اسی مد و جذر میں وہ گردوں پہ منڈلاتے بادلوں کو دیکھ رہا تھا جہاں بچپن میں وہ ان کو مختلف قالب میں ڈھل کر ایک دوسرے میں مدغم ہوتے ہوئے عجیب و غریب اشکال بناتے دیکھتا تھا لیکن آج ان سب کا بار بار یکجا ہونا شہزادی کے نام کے ہجے نمایاں کر رہا تھا اس کی نگاہیں صرف ایک ہی نام کا دیدار کر رہی تھیں اور وہ تھا شہزادی کے ہندسوں سے ترتیب دیا ہوا پاکیزہ سا نام جسے دیکھنے کے لئے اس کے قدم اندر کی جانب بڑھے تو حسن مجسم کی چکا چوند مرتعش رنگتیں اس کی نگاہوں کو خیرہ کر رہی تھیں ۔ وہ ایک ٹک اسے دیکھتا گیا اور اس لمحے اسے احساس ہوا جب شہزادی نے اس سے کہا کہ لبادے الماری میں رکھ دیں تواس کے بدن میں حرکت ہوئی ۔ اس نے حکم کی تعمیل کی اور لبادے رکھ کر واپسی کا قصد کیا ہی تھا کہ ایک مترنم سی ہنسی کے ساتھ اس سے پوچھا گیا کہ کہ لبادوں کی تہیں اور ان میں ہر روز چنبیلی کے پھول کون رکھتا ہے ، جس کی تصدیق عادل نے اپنے خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے کر دی ۔ شہزادی نے پھولوں کے تحائف صکا شکریہ ادا کرتے ہوئے سکینہ کے بارے پوچھا کی وہ اب کیسی ہیں ؟
جی وہ اب تندرست و توانا ہیں اور کل سے وہ خود آپ کی خدمت میں حاضر ہو جائیں گی ، عادل نے شہزادی کے سراپے کا جائزہ کیا لیا اس کے تیر نظر کا شکار ہو کر گھائل گھر تک واپسی ہوئی ۔ ماں نے بیٹے کی اس حالت پہ پوچھا بھی کہ کوئی خاص بات ایسی تو نہیں ہوئی جس سے تم دل برداشتہ لگ رہے ہو ؟
نہیں تو ، ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا جس سے شاہانہ وقار کو دھچکا لگے ،چھوٹی عمر میں یتیمی کا احساس آپ کی تربیت سے کبھی نہیں ہوا اور جس عزت سے آپ نے ناتواں کو پروان چڑھایا ہے اس کے ہر لمحے کی نعمتیں اس وجود میں موجزن ہیں ۔
شاباش بیٹے عادل تم نے اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے شاہانہ قوائد و ضوابط کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے عدل کیا ہے جس پہ بجا طور فخر کیا جا سکتا ہے کل سے اسب کام خود سنبھال لوں گی
سکینہ بڑی مستعدی سے اپنے کام میں دلچسپی لیتے ہوئے جب شہزادی کے روبرو گئی تو شہزادی کی خوشی کی انتہا دیکھ کر دل کو سکوں ملا ۔ اس کے ہاتھوں سے پرورش پائی شہزادی کے لئے اب رشتوں کی یلغار شروع ہو چکی تھی اور اب کے موسم بہار میں ایک میدان لگنے والا تھا جس کی تیاریوں میں نامور شہزادے اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہزادی کو حاصل کرنے کی سعی میں اپنی قوت بازو میدان کارزار میں دکھائیں گے اور جیتنے والے خوش قسمت شہزادے کے ہمراہ شہزادی کو بخوشی رخصت کیا جائے گا ۔
عادل دن بدن کمزور ہوتا جا رہا تھا ۔ وہ ااندر ہی اندر اپنے تخیلات کی دنیا میںپس کر ایک ہی نقطے پہ جم کے رہ گیا کہ وہ شہزادہ کیوں نہیں اور شہزادی کو حاصل کرنے کے لئے ہر جوان کو مقابلہ میں حصہ لینے کی اجازت کیوں نہیں ؟
ہاں نانی اماں عادل کی سوچ اپنی جگہ درست تھی ۔۔۔
لیکن بیٹا شاہانہ قوانین کی بیخ کنی کرکے سولی پہ چڑھنے کی تاب کسی میں نہ تھی باعث مجبوری چپ بھلی کے مصداق عادل اسی آتش میں اتنا لاغر ہو گیا کہ ماں پشیماں ہو گئی اسے پورا یقین تھا کہ اس کا بیٹا شہزادی کے حسن کا اسیر ہے اور آج مان کی ممتا کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے شہزادی کے آگے اپنے بیٹے کی حالت زار کا ذکر چھیڑا تو شہزادی نے سکینہ سے کہا کہ کل اپنے بیٹے کو یہاں میرے پاس بھیج دینا اس سے تخلیہ میں گفت و شنید ہو گی ۔ ماں کا دل فرط جذبات سے بھر آیا اور وہ تشکرانہ نگاہ شہزادی پہ ڈالتے ہوئے خوش و خرم گھر واپس لوٹی ۔ بیٹے عادل کو کل کے لئے پیغام کیا دیا کہ جیسے عادل کی تمنائیں پوری ہوتی نظر آئی ہوں۔ صبح کی تیاری میں اس نے ہر لبادے کی تہہ میں چنبیلی کے پھول رکھے اور اپنے من کی تمام کلیوں کو وا کرکے اپنا حال دل اس میں سمو کر شاہی خاندان کی اکلوتی وارث کی قدم بوسی کا قصد کرکے قدم اٹھائے ہی تھے کہ ماں کی دعائیں اس کے ساتھ چل دیں ۔وہ ہر قدم اٹھاتے ایک مصمم ارادے پہ براجمان تھا کہ اپنے دل کی آواز اپنی محبوب شہزادی کے گوش گذار کرئے گا اور مدتوں کی پیاس بجھانے کے لئے دل میں ابھرنے والی ہر بات زبان پہ لائے گا ۔ آخر کار وہ مقام بھی آ پہنچا جہاں رعایا اور شاہی ملاقات کے در کشادہ نظر آتے تو ہیں مگر ادب و آداب کا عالم دو راہوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔ دربان نے شہزادی کے کمرہ عروسی میں داخل ہونے کا پیغام جونہی عادل کو سنایا تو اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی ۔ وہ اندر داخل ہوا تو شہزادی کو سامنے کرسیِ شہنشاہی پہ براجمان پا کر قدرے رکا لیکن سریلی مدھ بھری آواز نے سکوت توڑا اور عادل شہزادی کے عدل کے لئے تیار اپنا سلام عاجزانہ پیش کر رہا تھا جسے انتہائی خندہ پیشانی سے قبولیت کا شرف حاصل ہوا ۔ لبادے اس سے ایک خادمہ نے لے کے اپنے مقام پہ رکھے ہی تھے کہ تخلیہ کی آواز گونجی جس سے عادل کو حوصلہ ملا کہ وہ اپنی بات کہہ سکے وہ شہزادی کے روبرو مودب کھڑا اس کے پاوں کی جانب دیکھے جا رہا تھا جہاں شہزادی کے پاوں کے جوتے ایک سیدھا اور دوسرا الٹا پڑا تھا ۔ شہزادی کی آواز آئی بیٹھئے۔وہ اس کی تعمیل کرتے ہوئے اس کے قدموں میں بیٹھ گیا۔جو کچھ کہنا ہے کہ دیجئے۔
زبان زیب نہیں دیتی مگر حوصلہ ملا ہے تو صرف اتنا کہتا ہوں کہ پیار کی انتہا اسی میں ہے کہ مجھے پاوں چھونے کی اجازت دی جائے تا کہ میرے ارمانوں کا ایک خلا پورا ہو ۔ہاں اجازت ہے میرے دائیں پاوں کا ایک جوتا جو سیدھا ہے اس پہ زریں مینا کاری واضح ہے میرے پاوں میں پہنا دیجئے اور عادل نے اپنے لرزتے ہاتھوں سے شہزادی کے نرم و نازک پاوں کو چھوتے ہوئے جوتا پہنا دیا ۔ پھر آواز آئی بائیں جانب والا الٹا جوتا جودل کی حقیقتوں کا علمبردار ہے اسے اٹھائیے، غور سے دیکھئے تو نتیجہ بر آمد ہو گا کہ کائنات کی سب جوتیوں کی اوپر والی مینا کاری الگ سہی لیکن ان سب کے تلوے ایک جیسے ہوتے ہیں کی آواز سنتے ہی عادل گھر واپس آ گیا۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں