کہانی ،، تدبیر ،، سارا احمد

نانی دادی کی کہانیوں کے سلسلے کے لئےادبی دوستوں کی نذر
کہانی ۔۔۔۔ ،، تدبیر ،،،
تحریر ۔۔۔۔ ،، سارا احمد ،،
دادی دوپہر کے کھانے کے بعد قیلولہ کرنا چاہتی تھیں اس لئے سیپ سے ٹال مٹول کر رہی تھیں کہ دوپہر کو کہانی سنانے سے مسافر راستہ بھول جاتے ہیں مگر سیپ بھلا سننے اور ماننے والی تھی جھٹ سے بولی دادی جان ایسا آپ کے زمانے میں ہوتا تھا اب تو ہر جگہ کا نقشہ گوگل پر مل جاتا ہے اور مسافر بھی مہینوں ہفتوں کا سفر دنوں اور گھنٹوں میں طے کر کے اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ جاتے ہیں_دادی اپنی لائق فائق پوتی کی حاضر جوابی پر زیرِ لب مسکرا دیں اور جان گئیں کہ سیپ کہانی سنے بغیر نہ خود آرام کر ے گی اور نہ انہیں سونے دے گی_سیپ نے پھر اپنا ہوم ورک مکمل کر کے تھوڑا سا کھیلنا بھی تھا_سیپ کی امی بچوں کی مثبت سرگرمیوں کے حق میں بہت فعال تھیں لیکن دادی جیسی کہانیاں وہ نہیں سنا سکتی تھیں_ دادی اپنی کہانیوں کے ذریعے در پردہ اپنی پوتی کی تربیت بھی کر رہی تھیں_ یہی تو برکتیں ہیں بڑوں کی کہ ان کے زیرِ سایہ بچے پل بڑھ کر اپنے وقت کے اچھے معمار ثابت ہوتے ہیں_
ہاں تو میری گڑیا…. دادی نے کہانی شروع کی_ سیپ بھی دادی کے ساتھ لیٹ گئی اور دادی کا ہاتھ پکڑ لیا_ایک تھا بادشاہ….ہمارا تمہارا بادشاہ….؟دادی بولتے بولتے رُک گئیں، خدا بادشاہ ، سیپ جھٹ سے بولی_ بے شک ….دادی نے انگشتِ شہادت سے آسمان کی طرف اشارہ کیا_
اس بادشاہ کے ہاں جو بھی اولاد ہوتی وہ دو سال تک بادشاہ کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنی رہتی اور پھر اچانک بھلی چنگی داعی اجل کو لبیک کہتے ہوتے بادشاہ کی آنکھوں کا نور بھی دھندلا دیتی_ ملکہ بیچاری بھی اولاد کے غم سے نڈھال پڑی رہتی اور دن رات بچے کے جھولے کو حسرت سے تکتی رہتی_ملکہ کی ایک خادمہ خاص تھی جس کی گود ہر سال بھرتی اور اس کا آنگن بچوں کی کلکاریوں سے مہکتا رہتا_وہ سچا بادشاہ جسے چاہے دے اور جسے چاہے دے کر لے لے_دادی نے ایک ہنکارا بھر کر کہانی جاری رکھی_ اس بادشاہ کا وزیر اس معاملے میں بہت مستعد تھا_
وہ پیر فقیر اور کسی اللہ والے کے آستانے پر جا کر ان سےدعائیں کروانا اور غریبوں میں لنگر تقیسم کرنا نہ بھولتا_حکیم اور وید بھی کسی جگہ کے اس نے نہ چھوڑے مگر ہونی نہ ٹلتی اور ہو کر رہتی_
پھر کیا ہوا دادی….سیپ نے دادی کو ہلایا کہ کہیں وہ سو نہ جائیں_ پھر کسی نے بادشاہ کے وزیر کو ایک نجومی کا بتلایا_دادی نے سیپ کو ایک ہلکی سی چپت لگاتے ہوئے کہانی جاری رکھی_ اس نجومی نے ایک کاغذ پر مختلف شکلیں بنا کر کچھ حساب کتاب لگایا اور بادشاہ سے مودب ہو کر کہنے لگا، جہاں پناہ اس بار آپ کو جو اولاد ہو ، آپ اور ملکہ اسے دیکھیں بھی مت اور دو سال کے لئے اس کی پرورش اپنی آنکھوں سے دور کریں_وزیر نے اسے روپوں کی تھیلی دے کر رخصت کیا اور سوچ میں گم بادشاہ کی طرف متوجہ ہوا_ بادشاہ کی خاموشی نیم رضا مندی تھی _ ملکہ بھی اولاد کا سکھ پانے کے لئے بادشاہ کی مرضی پر راضی ہو گئی_
اب کی بار ملکہ کے ہاں جو بچہ پیدا ہوا خادمہ نے اسے نہلا دھلا کرشاہی پوشاک پہنائی اور اس کے ماتھے پر کالا ٹیکا لگا کر ملکہ کے پہلو میں لٹایا تو ملکہ نے اپنی آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئےاپنا چہرہ دوسری طرف کر لیا_وزیر کی بیوی ملکہ کی ایسی حالت دیکھ کر آبدیدہ ہو گئی اور بچے کو اپنی نگرانی میں لے کر رخصت چاہی_
ملکہ کی خادمہ خاص وزیر کی بیوی کے سامنے نظریں جھکائے حکم کی منتظر تھی_اسی طوفانی رات کی صبح خادمہ کا نومود بچہ وزیر کی بیوی کی گود میں تھا اور بادشاہ کا وارث اور ریاست کا شہزادہ معمولی کپڑوں میں ایک عام مسہری پر خادمہ کے پہلو میں سو رہا تھا_
شہزادے کو گود میں اٹھائے خادمہ ہر صبح محل میں داخل ہوتی اور سارا دن ملکہ کی خدمت پرمامور رہتی اور اس کی دل جوئی کرتی_ یوں شہزادہ دو سال ملکہ کی آنکھوں کے سامنے بڑا ہوا اور ملکہ بھی اسے دیکھ کر بہل جاتی_ بادشاہ جب بھی محل کے زنانہ حصے میں داخل ہوتا وہ اپنی ملکہ کو خادمہ کے بچے سے کھیلتے ہوئے دیکھ کر اداس ہو جاتا_ایک نجومی کی بات مان کر اس نے اپنے دل پر پتھر رکھ لیا تھا_اگر اس بار بھی ہر بار کی طرح ہی ہو کر رہا اور دو سال جدائی کی قربانی بھی رائیگاں گئی تو……!!
اس سے آگے بادشاہ کچھ نہ سوچ پاتا اور اپنے رب کے آگے گڑ گڑا کر اپنے شہزادے کی زندگی کی دعائیں مانگتا اور رعایا کے فلاح وبہبود کے کاموں کو اور تیز کر دیتا_ سارا ملک بادشاہ سے بہت خوش تھا اور سب کے ہاتھ اپنے بادشاہ کی خوشی کے لئے پھیلے ہوئے تھے_
دادی خادمہ کے بیٹے کا وزیر کی بیوی نے کیا کیا….
سیپ کہانی کے ہر کردار کے لئے متجسس تھی_
ہاں بٹیا رانی خادمہ کا بیٹا وزیر کے محل میں پروان چڑھ رہا تھا اور چونکہ وزیر کی کوئی اولاد نہ تھی اس لئے وہ دونوں میاں بیوی اس بچے سے بہت محبت کرتے تھے اور یہ سب وزیر کی بیوی نے ملکہ کی خوشی کے لئے کیا تھا تاکہ ملکہ جو اس کی بچپن کی دوست بھی تھی ، اپنے بیٹے سے دور نہ رہے اور شہزادے کی جدائی میں بیمار نہ پڑ جائے_ وزیر کی بیوی کا نجومیوں پر اعتقاد نہیں تھا کیونکہ کسی نجومی کے کہے پر عمل کرنے سے اسے اولاد نہیں ہوئی تھی_
اوہ اچھا…..سیپ نے جمائی لی تو دادی نے اسے ٹوکا اور بتایا کہ اپنے بائیں ہاتھ کی پشت سے جمائی روکتے ہیں_
اچھا نا دادو….سیپ محبت سے لپٹ کر آگے کہانی سننے کے لئے بیتاب ہو گئی_
وقت گزرتا رہا اور شہزادہ ڈھائی سال کا ہو گیا اور اب تو بادشاہ اور ملکہ سے صبر نہ ہوتا تھا اور ایک پل کی جدائی بھی برداشت نہ ہوتی تھی_ بادشاہ نے وزیر کو بلا کر اپنی امانت واپس چاہی تو وزیر خوشی خوشی بچے کو اپنے محل سے گود میں اٹھا لایا _ اسوقت نجومی بھی موجود تھا_ بادشاہ نے اسے انعام و اکرام سے نوازنا چاہا تو وزیر کی بیوی نے پردے کی اوٹ سے کچھ عرض کرنے کی جسارت چاہی_ ملکہ اپنے بچے کو وزیر کی گود سے لیتے ہوئے رک گئی اور بے چینی سےوزیر کی بیوی کی طرف بڑھی_ وزیر کی بیوی نے اجازت ملتے ہی سارا ماجرا من وعن گوش گزار کر دیا_
پھر کیا ہوا….سیپ اٹھ کر بیٹھ گئی_
پھر انھوں نے ملکہ کی خادمہ خاص کو طلب کیا تو وہ ڈرتے ڈرتے حاضر ہوئی اور اس سارے قصے کی تصدیق کرنے کے بعد گویا ہوئی شہزدہ صبح سے بیمار ہے اور کچھ کھا پی بھی نہیں رہا_وزیر نے قہر آلود نظروں سے اپنی بیوی کی طرف دیکھا اور نجومی خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا _ شہزادے کی موت کے بعد اس کی شہرت نہ صرف اس ریاست بلکہ آس پاس کی سب ریاستوں میں ہو جانی تھی_
تو کیا دادی شہزادہ مر گیا…..سیپ نے گلوگیر آواز میں کہا ، نہیں میری گڑیا شہزادے کو معمولی بخار تھا ، کھیلتے ہوئے اس کے ہاتھ میں کانٹا چبھ گیا تھا جسے شاہی طبیب نے نکال کر شہزادے کو دوا دے دی اور اگلے دن تک شہزادہ بھلا چنگا ہو گیا_ نجومی تو کھسک گیا اور بادشاہ اور ملکہ شہزادے کو صحت یاب دیکھ کر پھولے نہ سمائے اور خادمہ اور اس کے بچوں کی خصوصی تعلیم وتربیت کا شاہی خزانے سے اہتمام کیا_ وزیر کی بیوی نے خادمہ کا وہ بچہ بھی یہ کہہ کر اس کی گود میں ڈال دیا کہ بچے کو اپنے حقیقی ماں کے پاس ہی ہونا چاہیے لیکن بچہ اپنی حقیقی ماں سے مانوس نہیں تھا اس لئے واپس وزیر کے محل میں ہی ان کا بیٹا بن کر پرورش پانے لگا_
بادشاہ اور ملکہ کتنا خوش ہوں گے نا دادی….. جی میری مانو بہت خوش ، شہزادہ تو پہلے ہی ملکہ سے مانوس تھا اور کچھ ہی دنوں میں بادشاہ کی آنکھوں کا تارا بن گیا_ بادشاہ اور ملکہ نے کبھی شہزادے کو خادمہ کے بچوں کے ساتھ کھیلنے اور کھانے پینے سے منع نہ کیا اور وزیر کا بیٹا بھی ان سب کے ساتھ ہی تیراکی ، گھڑ سواری ، شمشیر زنی اور نیزہ بازی کے مشقوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا اور مقابلوں میں اول رہتا اور پھر بادشاہ کے مرنے کے بعد شہزادے نے عنانِ حکومت سنبھالی اور وزیر نے بڑھاپے کی وجہ سے گوشہ نشینی اختیار کر لی_ اس کی جگہ اب اس کا بیٹا وزیر تھا اور بادشاہ کی بیوی اور وزیر کی بیوی کی دوستی اور بھی گہری ہو گئی اور خادمہ خاص کے سب بچے اہم حکومتی امور پر فائز ہوئے_
سیپ دادی کا ہاتھ پکڑے پکڑے سو گئی اور دادی نے بھی اپنی آنکھیں موند لیں ، اٹھ کر انھیں پودوں کو پانی بھی دینا تھا_

اپنا تبصرہ بھیجیں