پردیسی کی مجبوری ،، ابو سحر

اوپنر تحریر
عنوان : پردیسی کی مجبوری
تحریر : ابو سحر
میرا نام عبدالصمد ہے میں پاکستان کے شہر گوجرانوالہ کا رہنے والا ہوں۔ پچھلے تین ماہ سے میں بحرین میں ایک شیخ کے یہاں بطور ڈرائیور کام کر رہا ہوں۔
بحرین آتے وقت یہ سوچ کر میں بہت خوش تھا کہ اسلامی ملک ہے زندگی سے گناہ کا تناسب گھٹ جائنگا ۔اس کے برعکس یہاں پہونچنے کے بعد شدید مایوسی ہوئی ۔ایسا لگتا ہے جیسے میں یورپ کے کسی ملک میں آیا ہوں۔ جس قدر عیاشی یہاں ہورہی ہیں شاید پاکستان تو کیا بھارت میں بھی نہی ہوتی ہوگی ۔
دن میں شراب اور رات میں اس کے ساتھ شباب اور مجرے سے آپ فیض یاب ہوسکتے ہو ۔ اسی شیخ کے یہاں ایک بنگالی باغبان کئی سالوں سے کام کر رہا ہے ،اس نے بتایا کہ سعودی عرب کے علاوہ خلیج کے ہر ملک کا حال ایسا ہی ہیں۔ یہاں اسلام کے نام پر صرف اتنا ہے کہ رمضان میں کھلے عام کھا پی نہی سکتے اور عورتیں چاہیے وہ کسی بھی مزہب کے ہو بے پردہ باہر نہی جاسکتی۔
پتہ نہی اس قدر بدکاری کے باوجود اللہ نے انہے بے انتہا رزق سے کیوں نوازا ہیں؟ شاید رزق اور اعمال میں کوئی مطابقت نہیں ہے ورنہ دنیا کی سب سے بہترین جماعت صحابہ رضی اللہ عنہ کو اللہ نے محدود رزق عطا کیا تھا اور قریش کو وافر ۔ ۔ ۔
ہر چند کہ میں پاکستان میں بےروزگار نہی تھا اچھا خاصا کما لیتا تھا تاہم گرہستی چلانے کے بعد تین بچوں کے تعلیمی اخراجات اور بیمار ماں کا علاج کا خرچ ممکن نہیں ہو رہا تھا ۔یہاں میں قریب ڈھائی گنا کما رہا ہوں ۔ ظاہر ہے میرے گھر والے خوشحال زندگی گزار رہے ہونگے ۔ تاہم مجھے کربناک جدائی میں دن گزارنے ہیں۔ شریک حیات زیبا سے جدائی، بچوں کی معصوم مسکراہٹ سے دوری اور ماں کی شفقت سے محرومی ۔ ۔ ۔ ۔
جب بھی میں زیادہ اداس ہوتا ہوں ایک ہی بات کا عزم کرتا ہوں کہ اپنے گھر والوں کی خوشیوں کے لیے مجھے یہ قربانی دینی ہی
ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں