ناولٹ ادھورے سپنے ،، چوہدری محمد بشیر شاد

افسانہ : ،، ادھورے سپنے ،،
افسانہ نگار : چوہدری محمد بشیر شاد
ڈیڈی ڈیڈی پکارتے للی سرپٹ باغیچے میں دوڑی جا رہی تھی اور عثمان اس کا پیچھا کر رہا تھا۔ لان میں بیٹھے مطالعہ کرتے فاروق نے للی کی آواز سنتے ہی کہا کہ ڈیڈی ممی گھرپہ نہیںہیں۔ مجھے بتا کیا ہوا ؟ تمہارا بڑا بھائی ہوں ، سمجھ لو اس وقت تمہارا ڈیڈی سامنے کھڑا ہے۔
بھائی جان یہ عثمان مجھے بہت تنگ کر رہا ہے۔ پھولی سانسوں کا مدوجذر للی کی شکایت کا معاون ثابت ہو رہا تھا۔
کیوں بے شیطانی چرخے ، تنگ کیوں کر رہے ہو چھوٹی بہن کو ؟ اگر اس نے تمہاری شکایت کر دی ناں ڈیڈی سے تو تمہیں پتہ ہے کیا ہو گا ؟ وہ ضرور اسی کی سنیں گے اور تم ہکلاتے رہ جاو گے۔
بھائی جان اسی کے کہنے پر ہم گولف کھیل رہے تھے اور یہ عین درمیان کھیل چھوڑ کر بھاگ نکلی ہے۔
یار سمجھا کرو یہ لاڈلی بہن تھک گئی ہو گی۔
ہاں ہاں بھائی جان یہی بات ہے ۔ میں نے اسے کہا بھی کہ گرمی کی شدت بڑھنے لگی ہے گولف کی بجائے سوئمنگ کر لیتے ہیں لیکن۔۔۔ للی نے منہ بسورتے ہوئے آنکھیں جھپکاتے فقرہ ادھورا چھوڑ دیا۔
دیکھو للی میں تم سے بہت نالاں ہوں ۔ہر کام ادھورا مت چھوڑا کر ۔میں تمہیں کہے دیتا ہوں ورنہ ایک دن بہت پچھتاو گی۔
دیکھا فاروق بھائی جان ۔ یہ ہمیں دھمکیاں بھی دیتا ہے ۔ یہ کر دوں گا ، وہ کر دوں گاوغیرہ وغیرہ اور ابھی ابھی آپ کے سامنے۔۔۔۔
نہیں للی عثمان تم سے بہت پیار کرتا ہے۔۔۔۔
اور میں اگر بھاگتے بھاگتے گر جاتی تو۔۔۔
پھر آ جاتی ہم سب کی شامت ۔ ڈیڈی کی لاڈلی ہم پہ بھی رحم کھایا کر ۔ ہم تمہارے کیا لگتے ہیں
اتنا تو سوچ لیا کر۔۔
آپ دونوں میرے پیارے پیارے بھائی ہیں۔۔۔
اور میں تو تمہارا دوست بھی ہوں ۔ دیکھو للی اب ڈیڈی کو کچھ مت بتانا کیونکہ وہ تمہاری جھوٹی شکایت پر بھی ڈانٹ ہمیں ہی پلائیں گے۔ تمہارے علاوہ وہ کسی اور کی سنتے بھی نہیں۔
للی بڑے کرو فر سے کندھے اچکائے ، منہ پھولائے۔۔۔ نہیںلگاوں گی شکایت لیکن تم مجھے ہمیشہ آزاد رہنے دو گے ۔جب ہمارے من میں آئے کھیلیں گے اور جب دل بھر جائے ہم کھیل سے کنارا کشی کر لیں گے۔
ٹھیک ہے بابا جیسے تمہاری مرضی جو جی میں آئے کرنا۔۔۔۔۔
تو چلیں پھرسوئمنگ پول کی جانب۔۔۔
للی سچی بتاوں میرا دل کھٹا ہو گیا ہے۔۔۔۔
اچھا جی یہ بات ہے تو میٹھا میٹھا ، ٹھنڈا ٹھنڈا شربت بناوں۔
تم بناو گی شربت ؟ شرارتی ، چٹخوری۔۔ تو یوں کہو ناںتمہیں پیاس لگی ہوئی ہے۔ بلاتا ہوں آیا کو ۔تمہیں شربت بنا کے پلائے۔۔
نہیں جناب تمہارے ہاتھ کا بنا شربت پی لوںگی۔
بابا مالی مسکراتے بتیسی نکالے للی کی شرارتوں سے محظوظ ہو رہا تھا۔۔۔
بابا آپ کیا دیکھے جا رہے ہیں میری طرف ؟ کیا کوئی غلط بات کہہ دی ہے میں نے ؟
نہیں بٹیا آپ غلط بات کیوں کریں گی، اگر حکم کریں تو میں بنا لاوں شربت۔
نہیں بابا ، عثمان بھائی جان بنا کے لائیں گے خود اپنے ہاتھوں سے۔۔۔ بابا وہ والا سرخ گلاب کا پھول لا دو ناں مجھے۔۔۔
ابھی لو بٹیا آج صبح ہی بادِ صبا اسے چھیڑ کے گئی تھی اور یہ مسکرانے لگا ہے۔۔۔
مسکرانے لگا ہے ، کسے دیکھ کر۔۔ ؟
بٹیا رانی یہ آپ سب کو دیکھ کر اپنی خوشبو پھیلا رہا ہے۔
پھر اسے رہنے دو اوروہ جو صرف ہمیں دیکھ کر کھل اٹھا ہے وہ ہمیں لا دو۔
ہاں ہاں وہ چنبیلی کا پھول ، آپ نے لگایاتھا وہ پودا۔۔۔
ہم نے لگایا تھا ؟ پھر ٹھیک ہے اسی کا کھلا پھول لا دیں۔ فاروق بھائی جان آپ کون سا پھول
پسند کریں گے ؟
ہماری پسند۔۔۔ ہاں۔۔۔ جو تمہیں پسند ہو ۔
اچھا تو پھر میں خود اپنے ہاتھوں سے پھول لے کے آتی ہوں۔
بٹیا مجھے بتاو کون سا چاہئے میں لے کے آتا ہوں ۔ کہیں آپ کے ہاتھوں میں کانٹا چبھ گیا ناں تو ہماری شامت آ جائے گی۔
فاروق بھائی جان آپ کی چوبیسویںسالگرہ منائی جا چکی ہے ، آپ شادی کیوں نہیں کر لیتے ؟
عثمان کھلکھلا اٹھا ۔ بار بار سر پہ ہاتھ مارے کہے جا رہا تھا۔۔ شادی اور وہ بھی تمہارے ہوتے ہوئے۔۔۔ فاروق پریشانی کے عالم میں دونوں کی نوک جھونک سن رہا تھا۔
فاروق بھیا اس کی بات پہ مت جایئے گا۔ بیوی کے سامنے اس نے ڈیڈی سے شکایت کر دی ناں تو بس گئے کام سے ، سبکی ہو جائے گی۔
عثمان تمہاری بات میں دم ہے ۔کیوں ناںللی کی شادی پہلے کر دیں۔
اچھا تو آپ دونوں ایک ہو گئے۔ یہ ملی بھگت نہیں چلے گی۔ للی پاوں پٹختی غصے کے عالم میں وہاں سے چل دی اور بابا مالی کے ہاتھوں میں سے سرخ و سفید پھول دونوں بھائیوں نے لے لئے۔
فاروق بھائی جان آپ کیا مطالعہ کر رہے ہیں۔
اس کتاب میںکینیا کی تاریخی حیثیت اور خاص کر نیروبی کے بارے بڑے اچھے پیرائے میں تحریر کی گئی ہے۔ درمیان میں ہیروں کا ذکر بھی ہے جو میرے مزاج کے عین مطابق ہے۔ نیروبی کا نام ، ، ماسائی ،، کے جز ،، انکاری نیروبی ،، سے ماخوذ ہے جسکا مطلب ہے ،، ٹھنڈا پانی ،، اور جز ماسائی نیروبی کے دریا کا نام بھی ہے جو کہ نیروبی شہر کی شناخت بن گیا۔ یوں اسکی شہرت ،، سورج کے بیچ ہریاولی شہر ،، کے نام سے موسوم ہوئی۔یوں اس شہر کے باسیوں کو نیروبین کے نام سے پکارا جانے لگا۔ اٹھارہ سو ننانوے عیسوی میں ممبا سا سے یوگنڈا تک ریلوے لائن کا مرکزی ڈپو جس پڑاو میں برطانیہ نے قائم کیا وہ نیروبی کی ایجاد کا سبب بنا۔ برطانوی مشرقی افریقہ کا یہ شہر نیروبی 1907ءمیں بڑی تیزی سے اپنی آبادی کو گنجان بنا گیا۔ 1963ءمیں نیروبی شہر کی آزاد کینین ری پبلک کا دارالخلافہ بنا۔
اب رہی بات ہوائی اڈے کی تو جو مو کینیا انٹرنیشنل ائیر پورٹ نیروبی مشرقی اور مرکزی افریقہ
میں ایک بڑا ہوائی اڈہ ہے۔ مشرقی افریقہ کی قدرتی کشش کو ایک نظر دیکھنے کے لئے لاکھوں مسافرین اسی اڈے کو استعمال کرتے ہیں۔ نیروبی سے بیس کلو میٹر یعنی بارہ میل پر موجود یہ ہوائی اڈہ یورپ اور ایشیائی سیاحوں کا مرکز بن چکا ہے۔
فاروق بھائی جان ائیر پورٹ کے بارے تو مجھے سب معلوم ہے۔ ہر روز ہوٹلنگ کے کاروبار میں ہوائی اڈے ، ائیر لائنزاور معزز شخصیات کے علاوہ ہر طرح کے مسافرین سے واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ آپ یہ بتائیں ہیروں کے آپ ایکسپرٹ ہیں ۔ کیسے پہچانتے ہیں ہیرے کو اور پھر آپ تراشتے بھی توہیں۔
ہیرے کو تراشناہی اصل کام ہے میرے بھائی۔
ہیروں کی پہچان ، ڈیڈی کا تجربہ اور خراش تراش انکی محنت اور کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہم صفِ اول کے سوداگر کہلاتے ہیں۔ تم بھی مزید محنت کروتاکہ تمہارا تجربہ بھی اپنے کاروبار میں نمایاں حیثیت کا حامل ہو جائے۔
بھائی جان یہ چڑیل کدھر گئی ؟
عثمان مجھے لگ رہا ہے کہ شربت پی کے سو گئی ہے۔ جاو دیکھ کے آو کدھر ہے۔ میں اتنے میں مزیددو چار صفحات کا مطالعہ کر لیتا ہوں۔
ٹھیک ہے بھائی جان کہہ کہ عثمان دبے پاوں ہر کمرے کے پٹ کھول کے تانک جھانک میں لگا رہا لیکن للی کاکچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔ بنگلہ کوئی چھوٹا تو تھا نہیں۔ سب ملازموں سے پوچھ لیا بالآخر آیا اماں نے بتا دیا کہ وہ سوئمنگ پول کی جانب جا رہی تھی۔۔۔ عثمان میاں میرا مت بتانا اسے ورنہ۔۔۔۔۔۔
ہاں ہاں مجھے سب پتہ ہے۔ ڈیڈی سے شکایت بڑی مہنگی پڑے گی۔ گھبراو نہیں۔۔۔ ممی ڈیڈی بتا کر نہیں گئے کب آئیں گے ؟
جی نہیں فقط ڈرائیور ان کے ساتھ ہے۔۔۔۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی خاص پروگرام میں ان کی شمولیت ہے۔ ممی نے خانساماں کو دوپہر کے کھانے کی کیا ہدایات جاری کی ہیں ؟
جی اس کا تو خانساماں ہی بتا سکتا ہے۔ خوشبو تو اچھی آ رہی ہے۔
نتھنوں میں خوشبو کا ابھار عثمان کو کچن کی جانب راغب کر گیا۔ بابا للی کدھر ہے ؟۔۔۔۔۔
جی وہ شربت پی کے یہاں سے چلی گئی تھی۔
دوپہر کے لئے کیا بن رہا ہے ؟
جی بیگم صاحبہ نے چار ڈشزکی ہدایات دی تھیں جو ظہرانہ میں شامل ہوں گی۔ آپ کی پسند نرگسی کوفتے بھی مینو میں شامل ہیں۔
اچھا ایک آدھ چکھائیں تو سہی۔۔۔۔۔
جی یہ لیں۔۔۔ پلیٹ میں سے گرم گرم ایک نرگسی کوفتہ چٹخارے لے کر عثمان کھاتے ہوئے پھر سے للی کی تلاش میں سوئمنگ پول کی جانب چل نکلا۔ سوئمنگ کاسٹیوم میں بڑی چھتری کے نیچے للی ایک میگزین کے مطالعہ میں مصروف تھی۔ عثمان کو شرارت سوجھی۔ دھیرے دھیرے نپے تلے قدموں سے وہ آگے بڑھتا گیا۔ جب للی کے بالکل قریب پہنچا تو اس کے کان کے نزدیک بھاری بھرکم ڈراونی آواز نکالی۔سوئمنگ پول کے کنارے لگژری چارپائی سے اچھل کر للی پول میں کود گئی۔ میگزین پانی میں بھیگ گیا۔ اب آئی شامت عثمان کی۔۔۔۔
وہ روئے جا رہی تھی ،، مجھے ابھی اور اسی وقت میگزین چاہئے ،،۔ تم نے جو میرے کان کے پردے پھاڑ ڈالے ہیں آ لینے دیں ڈیڈی کو ۔ تمہاری زبان کتروا نہ دی تو میرا نام نہیں !! میرا جینا حرام کر دیا ہے تم نے۔۔۔۔
للی اے للی سنو۔۔۔۔
کیا ہے ؟ ریں ریں ریں ریں ۔میرے کان درد کر رہے ہیں۔ میرا میگزین۔۔۔۔ آں آں۔۔ میںفیشن پڑھ رہی تھی اس میں ۔ مجھے ابھی لا کے دو وہی میگزین۔۔۔
چلو آو دونوں چلتے ہیں ۔ بازار سے ابھی لے آتے ہیں۔۔۔۔
نہیں مجھے نہیں جانا۔۔ تم جاو اکیلے۔۔ فاروق بھائی جان۔۔ بھائی جان۔۔۔۔
اے اے رکو۔۔۔ عثمان نے اس کے منہ پہ ہاتھ کیا رکھا ، وہ اور زور سے چلانے لگی۔۔۔ فاروق بھاگا بھاگا وہاں آ گیا۔۔۔ تم نے پھر سے کوئی شرارت کی ہے عثمان۔۔۔۔ ؟
فاروق بھائی جان یہ دیکھیں میگزین کی حالت۔۔۔ میں یہاں پڑھ رہی تھی کہ اس نے زور سے میرے کان کے نزدیک جن جیسی ڈراونی آواز نکالی اور میں خوف کے مارے پانی میں جا گری۔۔۔۔
عثمان اب تمہاری سزا یہی ہے کہ جو للی کہے تمہیں کرنا پڑے گا۔ چلو آو میری لاڈلی بہن یہ ابھی
میگزین لے کے آتا ہے۔ ہم دونوں اکٹھے مطالعہ کریں گے۔ عثمان بازار جاو ۔ فاروق بھائی جان۔۔۔ یہ دیکھ رہے ہیں آپ ؟ اپنے کان پکڑنے کی بجائے میرے کان کھینچے جا رہا ہے اور نیچے دیکھئے اپنا ہاتھی جیسا بھاری بھر کم پاوں کس بے رحمی سے میرے پاوں پر مسلط کئے ہوئے ہے۔ آج اس کی درگت نہ بنوائی تو میرا نام۔۔۔
للی نہیں۔۔۔ عثمان نے زبان قدرے باہر نکالتے ہوئے توتلی سی نقل اتاری ، جس پرللی اور سیخ پا ہو گئی۔۔۔ بس آج سے پورے تیس دنوں تک بول چال قطعی بند۔۔۔۔
یہ ظلم نہ کرنا میری پیاری پیاری سی گڑیا۔۔۔ بول چال تو ویسے بھی بند ہونے والی ہے۔ جب تم ممی ڈیڈی کے ساتھ فریضہ حج ادا کرنے جاوگی تو بہت یاد آو گی۔ کس سے کروں گا شرارتیں میری بہن ؟ ایک تمہارا ساتھ ہی تو ہے جو گھر کی رونقیں دوبالا کر دیتا ہے۔
میں۔۔ میں جارہی ہوں حج پر۔۔۔
جی محترمہ تا کہ اس فریضہ کے ادا ہوتے ہی تمہارے ہاتھ پیلے کر کے اس گھر سے پیا کے گھر رخصت کر دیا جائے گا۔۔۔۔۔
مجھے دنیا کی کوئی طاقت اس گھر سے الگ نہیں کر سکتی۔ میں ہمیشہ اپنے ڈیڈی کے ساتھ رہوں گی۔ اگر تمہارے ذہن میں کوئی ایسی ترکیب جنم لے رہی ہے تو اسے فی الفور دماغ سے جھٹک دو۔ حج کی خبر سنا کر تم نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ ہم نے تمہیں معاف کیا۔ ڈیڈی سے کوئی شکایت نہیں کروں گی۔ اب مزید کوئی شرارت نہیں کرنا۔ میں ڈیڈی سے کہوں گی کہ آپ دونوں میرے بہت پیارے بھائی ہو۔
واہ۔۔۔ بہت خوب۔۔۔ بہن ہو تو ایسی۔۔۔ دیکھا عثمان کتنی فراخدلی کا ثبوت دیتے ہوئے للی نے تمہیں معاف کر دیا۔ اپنے دل کی حقیقت عیاں کرکے اپنی محبت اور چاہت کا منہ بولتا ثبوت پیش کیا ہے للی نے۔ جب وہ برملا پیار کا اظہار کر رہی ہے تو تم بھی شرارتوں سے باز آو پر للی سسکیاں لیتے سیدھی واش روم میں چلی گئی۔ نئے کپڑے تن زیب کئے فاروق کے پاس بیٹھ گئی۔ ڈیڈی ممی کب آئیں گے بھائی جان ؟۔۔۔۔
بس آتے ہی ہوں گے۔ اس بار حج پہ ممی ڈیڈی کے ساتھ تم بھی جا رہی ہو۔ ہم دونوں بھائی یہ فریضہ ادا کر چکے ہیں ، اب تمہاری باری ہے۔ کیوں کیسی رہی یہ خوشخبری۔۔۔
بہت اچھی۔ بھائی جان عثمان بھی جائے گا ہمارے ساتھ۔۔۔۔۔
عثمان کے ساتھ تمہاری ہر وقت کی لڑائی۔۔۔ اب سمجھ آئی اٹھارہ سالہ بہن اپنے اکیس سالہ بھائی سے کتنا پیار کرتی ہے۔ دیکھو ڈیڈی سے عثمان کی شکایت نہ کیا کرو اسے ڈانٹ پڑے گی۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے بھائی جان میں آج سے اس کی کوئی شکایت نہیں لگاوں گی لیکن وہ مجھے تنگ بہت کرتا ہے۔۔۔۔۔
ارے پگلی اور کسے تنگ کرئے گا وہ۔ تمہارے ساتھ تو اس کا پیار ہی بہت ہے۔
سچی بتاوں بھائی جان ۔ آپ بہت اچھے ہیں لیکن عثمان بھائی جان اگر مجھے نظر نہ آئیں ناں تو مجھے پریشانی لگ جاتی ہے۔
اچھا تو ابھی تک کھسر پھسر جاری ہے۔ یہ لو اپنا میگزین۔ ہماری بول چال بند ، کٹی۔
ہماری بھی پکی کٹی۔ للی نے دونوںانگلیوں کو لبوںپہ لا کے ضرب کا نشان بنایا تو فاروق کی ہنسی نکل آئی۔۔۔ یار تم لوگ بہت پیارے ہو۔ اپنے وقت کا مصرف تلاش کر لیتے ہو۔ ہمیں بھی اپنی معصوم شرارتوں میں شامل کر لیا کرو۔
فاروق بھائی جان ایک آپ ہی تو ہیں جو منصف بن کر فیصلہ کرکے ہمارا تصفیہ کرا دیتے ہیں ورنہ یہ للی بات کا بتنگڑ بنا دیتی ہے۔۔۔۔
لو اور سن لو۔۔۔ اور تم جو بیٹھے بٹھائے ہمارے خیالات کا بیڑا غرق کر دیتے ہو اس کا حساب آج ڈیڈی لیں گے۔ پاوں پٹخ کر وہ اٹھنے ہی والی تھی کہ عثمان دونوں ہاتھ جوڑے اس کے سامنے آ گیا۔۔۔ یہ لو تمہارے کان پکڑتے ہیں۔۔۔۔
شرارتوں سے باز آ جاو ۔ مزید کوئی جھگڑا کھڑا نہ کرنا۔ للی ہماری لاڈلی اکلوتی بہن ہے !!
چوکیدار نے بیرونی دروازہ کھولا ہی تھا کہ للی خوشی سے پھولی نہ سمائی۔۔۔ ڈیڈی ممی آ گئے۔۔۔ ڈیڈی ممی آ گئے کہتے کہتے سرپٹ بیرونی دروازے کی جانب دوڑے جا رہی تھی۔۔۔ کار اندر لاتے ہی ڈرائیور کو روکنی پڑی کیونکہ باپ کہہ رہا تھا احتیاط کرو للی کہیں گر نہ جائے۔۔۔ لیکن للی سنی ان سنی کئے دھک سے باپ کے گلے لگ گئی۔۔۔۔۔
اوہ میری پیاری بیٹی ، گھر میں کسی نے تنگ تو نہیں کیا تمہیں ؟۔۔۔۔
نہیں ڈیڈی وہ بھائی عثمان ہیں ناں۔۔۔۔
کیا کیا اس نے ؟۔۔۔
اس نے مجھے بتایا کہ میں بھی امسال آپ کے ساتھ حج کا فریضہ ادا کرنے جا رہی ہوں۔۔
ہاں بیٹی یہ دیکھو سب کاغذات مکمل ہو چکے ہیں۔۔۔۔ باتیں کرتے کرتے سب لابی کی جانب قدم بڑھا رہے تھے کہ بیگم صاحبہ باورچی خانے کی جانب چلی گئیں۔
لان میں باپ کے ساتھ دونوں بیٹوں کے ہمراہ لاڈلی للی باپ کے قریب والی کرسی پہ براجمان باپ کی ہر بات پہ مسکراہٹوں کے پھول نچھاور کر رہی تھی۔
سب ٹھیک ہو گیا ڈیڈی ، کب کی تیاری ہے ؟
ہاں بیٹے فاروق۔۔۔ عثمان کا خاص خیال رکھنا۔ عثمان تم بھی اپنے بھائی کے ساتھ آرام سے رہنا۔ للی ہمارے ساتھ جا رہی ہے بڑے بھائی کو تنگ مت کرنا۔
ڈیڈی للی تو مجھ سے چھوٹی ہے ناں اس لئے کبھی کبھار چھیڑ چھاڑ ہو ہی جاتی تھی لیکن فاروق بھیا تو بڑے ہیں۔ والدین گھر میں موجود نہ ہوں تو بڑا بھائی سب کچھ ہوتا ہے۔ میری طرف سے آپ کو کوئی شکایت نہیں ہو گی لیکن یہ للی بہت یاد آئے گی۔۔۔۔
ہاں ہاں للی نہیں تمہیں چڑیل بہت یاد آئے گی۔۔۔۔۔
سب اس کی معصومیت پہ دل کھول کر ہنسنے لگے۔
ڈیڈی خانہ کعبہ کے بالکل قریبی ہوٹل میں آپ سب کی بکنگ میں کروا چکا ہوں۔ ایام الحج کے تمام انتظامات ایک کفیل کے سپرد کر چکا ہوں۔ مدینہ منورہ میں آٹھ دن کی رہائش کا بندوبست بھی ہو چکا ہے۔ وہاں کی تمام تر زیارتیں بھی کفیل کے سپرد ہیں۔ درجہ اول کی ٹکٹیں نیروبی سے جدہ ، بعد الحج مدینہ منورہ اور پھر واپسی تک تمام انتظامات مکمل ہیں۔3 دسمبر 1975ءبمطابق 29 ذی القعدہ 1395ہجری یہاں سے ڈائریکٹ فلائٹ ہے آپ سب کی جدہ تک۔ جدہ ہوائی اڈے پر آپ کے نام کی تختی آویزاں کئے استقبال کرنے والے موجود ہوں گے۔ مکہ ہوٹل میں آپ کو اعلی مہمانوں میںشمار کیا جائے گا۔ کفیل کے سب واجبات ادا کئے جا چکے ہیں۔ واپسی کی ٹکٹ پہ درج تاریخ سب او کے ہے لیکن اگر آپ پروگرام میں کوئی بھی ترمیم کرنا چاہیں تو صرف ایک فون کال پہ آپ کی مرضی کے عین مطابق تبدیلی ہو جائے گی۔
3 دسمبر 1975کو کونسا دن بنتا ہے عثمان۔۔۔۔
جی بدھ ۔۔۔۔
پھر بہت ممکن ہے 3 دسمبر بروز جمعرات کو یکم ذی الحج کا چاند دکھائی دے۔۔۔۔
عثمان بیٹے یہ تو مکہ المکرمہ جا کے ہی پتہ چلے گا۔
خانساماں کھانے کی میز سجا چکا تھا۔ آیااماں سب کو مدعو کرکے واپس چلی گئی۔۔۔ دھیرے دھیرے گھر کا ہر فرد کھانے کی میزپہ پہنچ گیا۔ کھانا تناول کرتے کرتے مناسکِ حج کی باتیں بھی ہوتی رہیں۔ عثمان کی نظر بارہا للی کی جانب اٹھتی تو اسے چند دنوں کی دوری اداس کئے جا رہی تھی۔ للی کا حج پہ جانا پھر اس فریضہ کے بعد اس کی شادی کا مرحلہ شروع ہو جانے کا خیال اس کی اداسی کو قدرے کم کر رہا تھا۔
ڈیڈی حج کی کتنی اقسام ہیں یہ تو آپ نے بتایا ہی نہیں ؟ بیٹی کے اس سوال پہ باپ نے شفقت بھرے لہجے میں سب کو کہا کہ ڈرائنگ روم میں چلیں وہا ںسب کچھ بتایا جائے گا۔ سب کے سب ممی ڈیڈی کے پیچھے ہو لئے۔۔۔۔۔۔
ہاں بیٹی غور سے سننا اور بتانا بھی کہ کونسا حج کرنا چاہتی ہو ؟ تاکہ ابھی سے پروگرام میںترامیم کی جا سکیں۔۔ حج کی تین اقسام ہیں۔
لف : حجِ تمتع۔۔۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص حج کے مہینہ میں پہلے عمرہ کرئے۔ عمرہ کے بعد احرام کھول دے ، پھر گھر جائے بغیر آٹھ ذو الحجہ دوبارہ احرام باندھ کر حج کرئے ، اسے حجِ تمتع کہتے ہیں۔
ب : حجِ افراد۔۔۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ حج کرنے والا صرف حج کا احرام باندھے اور اس وقت تک اسی حال میں رہے جب تک حج ختم نہیں ہو جاتا۔ یہ صرف حج ہے اس میں عمرہ شامل نہیں ہوتا اسی لئے اسے حجِ افراد (یعنی اکیلا حج ) کہلاتا ہے۔ اس میں قربانی کرنا ضروری نہیں ہے۔
ج : حجِ قرِان۔۔۔ اس میں عمرہ اور حج دونوں کی ایک ساتھ نیت کرکے احرام باندھا جاتا ہے۔ حاجی پہلے عمرے کے مناسک ادا کرتا ہے لیکن اس کے بعد احرام نہیں کھولتا بلکہ احرام ہی کی حالت میں حج بھی ادا کرتا ہے۔ اس میں حج اور عمرہ دونوں ایک ساتھ ادا کئے جاتے ہیں۔ اس بنا پر اسے قرِان کہا جاتا ہے جس کے معنی ہیں ،، ملانا ،،۔ جو لوگ قربانی کا جانور ساتھ لے جاتے ہیں وہ قربانی کرنے سے پہلے حالتِ احرام سے باہر نہیں آ سکتے۔ ان کے لئے حجِ قرِان دونوں میں جانور کی قربانی کرنا ضروری ہے۔
حجِ مبرور سے مراد ہے وہ حج جو خالصتاً اللہ پاک کی خوشنودی کے لیے کیا جائے اور نبی ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے عین مطابق کیا جائے ۔ حج ادا کرنے کے بعد انسان ایسا ہو جاتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے ابھی ابھی معصوم بچے کی پیدائش ہوئی ہو ۔
ارکانِ خمسہ یعنی کلمہ ، نماز ، روزہ ، زکواة اور آخری رکن حج کے ایامِ خمسہ سے مراد وہ پانچ خوش نصیبی کے ایام ہیں جو 8 ذی الحج سے 12 ذی الحج تک مناسکِ حج ادا کرنے میں بسر ہوتے ہیں ۔ سنتِ ابراہیمی علیہ السلام ، سنتِ اسماعیل علیہ السلام ، سنتِ ہاجرہ اور سنتِ حضورِ اکرم ﷺ سب کی سب اسی خطہ میں انہی ایام میں پوری کرنے کو حج کہا جاتا ہے ۔کسی بھی کام کو شروع کرنے سے پہلے نیت کا عمل دخل بہت ضروری ٹھہرایا جاتا ہے ۔ جس نے نیت نہ کی اس کی حج میں شمولیت چہ معنی ۔
سب کے سب اپنے والدِ محترم کی باتیں بڑے انہماک سے سن رہے تھے اورللی حج کی فضیلت اور اہمیت میں خود کو خوش نصیب تصور کر رہی تھی ۔ وہ انہی سوچوں میں گم تھی کہ عثمان نے اسے بڑے پیار سے کہا کہ ا یامِ حج میںہمیں یاد رکھنا ۔
صرف تم ہی نہیں فاروق بھائی بھی بہت یاد آئیں گے ۔
وقت گزرتا گیا اور وہ دن بھی آ گیا جب فاروق اور عثمان نیروبی ہوائی اڈے پر والد ، والدہ اور للی کوالوداع کہہ کر واپس لوٹے ۔ عثمان منہ بسورے خیالات کی عمیق گہرائیوںمیں کھویا ہوا تھا ۔ فاروق اس کی اداسی بھانپ چکا تھا لیکن اسے اسی کے حال پہ چھوڑ دیا ۔
یکم ذی الحج 1395 ہجری بروز جمعرات بمطابق 4 دسمبر 1975ءحج کی شروعات ہو چکی تھیں۔ دنیا بھر سے حجاج کرام اپنے اس فریضہ کو ادا کرنے کے لیے جوق در جوق آ رہے تھے ۔
عمرہ کی تیاری کے لیے وضو کرکے نیت کی اور احرام میں دو رکعت نفل اور نماز ادا کرکے حج کی نیت کر لی ۔ عمرہ اور حج کی نیت کے بارے للی کے والِد نے بتایا کہ نیتِ حج کے الفاظ بالکل نیتِ عمرہ کی طرح ہیں ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں ،، العمرہ ،، کی جگہ ،، الحج ،، کہہ دیں ۔
۸ ذی الحج مکہ المکرمہ میں نمازِ فجر ادا کرکے سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی منی کے میدان کی جانب تلبیہ کاورد کرتے ہوئے حجاج کرام سفر پہ گامزن تھے ۔ یہ تلبیہ کا ورد صدیوں سے یونہی بر لبِ زبان ہے ۔منی کے میدان میں ظہر ، عصر ، مغرب اور عشا اور ۹ ذی الحج کی نمازِ فجر ادا کرتے ہی سورج کی پہلی کرن کے ساتھ منی کو الوداع کہہ کے سفرِ عرفات پہ چل نکلیں گے ۔ للی نے باپ کی باتیں بڑے غور سے سنیں اور منی کے میدان میں لگے خیموں تک رسائی کر لی ۔
خیموں سے سجے اس میدان میں ترکی اور نائجیریا کے خیمے ملحق تھے ۔ ان میں گیس سلنڈر پھٹتے ہی ایک دھماکا ہوا ۔آنِ واحد ہر سو آگ کے شعلوں نے خیموں میں مزید شعلے بھڑکا دیے ۔ قیامتِ صغری کا سا سماں ہر کسی کی پریشانی کا باعث بنا ہوا تھا ۔ حجاج کرام میں افراتفری کا عالم ، چینخ و پکار اور بھگدڑ مچی ہوئی تھی ۔منی کا میدان آگ کے شعلوں کی بھینٹ چڑھ چکا تھا ۔ ایسی حالت میں بہت سے ساتھی ایک دوسرے سے بچھڑ گئے ۔ سعودی فائر بریگیڈ کا عملہ آگ پہ قابو پانے کے لیے منی میں پہنچنا شروع ہو گیا لیکن آگ تھی کہ بتدریج پھیلتی ہی جا رہی تھی ۔ حجاج کرام خود بھی آگ بجھانے میں کوشاں تھے ۔ کئی ناتواں آگ کی لپیٹ میں جھلسے بدن لیکر تڑپتے ہوئے جدھر جان بچانے کا راستہ نظر آیا بھاگ رہے تھے ۔ کئی خیموں میں اپنا دم توڑ چکے تھے ۔ خیموں میں موجود گیس سلنڈر یکے بعد دیگرے پھٹتے گئے اور حدِ نگاہ فلک شگاف آگ کے شعلے اور بھی بھڑکتے ہر شے کو بھسم کرتے رہے ۔ قیامت کے دن سوا نیزے پہ سورج کی تپش کا گمان ہو رہا تھا ۔ بھڑکتی آگ اور پانی کا سیلِ رواں روکے کب رکتا ہے ۔
ہر کوئی ایک دوسرے کو آواز دے رہا تھا ۔ للی کی ماں زور زور سے چلا تے ہوئے کہہ رہی تھی ،، میری بیٹی اور خاوند کو بچاو ،، ۔بچاو بچاو کی اس آواز پہ فہد نے مچلتی آگ کی جانب ایک جوان لڑکی کو بھاگتے ہوئے دیکھ لیا تھا ۔ فہد نے اپنے دوستوں کو ،،ماں جی کا خیال رکھنا،، کہتے ہوئے دوڑ لگا دی ۔ آگ بجھانے والا عملہ بڑی تندہی سے مصروف تھا ۔ للی اپنے باپ کی تلاش میں پاگلوں کی مانند انتظامیہ کے منع کرنے کے باوجود آگ میں کود گئی ۔ فہد نے آو دیکھا نہ تاو للی کو مچلتی آگ کے اٹھتے ہوئے گرم ہیولوں سے باہر نکال لیا ۔ وہ فہد کے اس حصار سے آزاد ہو کر باپ کو تلاش کرنے پہ بضد تھی ۔ اس کی سرخ سرخ دہکتی آنکھوں کی ناراضگی اس کے چہرے کی تلخیوں سے عیاں تھی ۔ فضا میں ہیلی کاپیٹر آگ پہ چھڑکاو کر رہے تھے ۔ للی ،،میرے ڈیڈی،، کی آوازیں بلند کر رہی تھی ۔ دوسری جانب ماں جی کو دوستوں نے سنبھالا دے رکھا تھا ۔ ایک مرتبہ للی نے پورے جھٹکے سے اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کی لیکن فہد اور انتظامیہ نے للی سمیت کئی دوسرے حجاج کرام کے ساتھیوں کو سختی سے منع کر رکھا تھا ۔ ٹی وی پہ خبریں نشر ہو رہی تھیں ۔ آگ پہ قابو پا لیا گیا ۔ راکھ ہوئے خیموں سے جھلسے ہوئے انسانی وجودایمبولنسوں میں ہسپتالوں میں منتقل کیے جا رئے تھے ۔ للی کی ماں بھی پریشان حال فہد کے دوستوں کے ہمراہ اس مقام پہ پہنچ گئی ۔ اپنے خاوند کو وہاں نہ پا کر چکر ا کے گرنے ہی والی تھیں کہ دوستوں نے سنبھالا دیا ۔ تمام جلے خیموں سے والد کی کوئی خبر نہ پا کر للی اتنی زور سے چلا رہی تھی کہ منی کا میدان بھی اس کے غم میں شریک ہو گیا ۔ اس خاندان کا سعودی کفیل ان سب کو ساتھ لے کر تھانے اور ہسپتالوں کی جانب چل نکلا ۔خبریں چل رہی تھیں اور پوری دنیا میں اس کے بارے بتایا جا رہا تھا ۔ اس آگ کی نذر ہونے والے دو سو افراد جامِ شہادت پی چکے تھے ۔ ان دو سو افراد میں بھی للی کے ڈیڈی کا نام تحریر نہیں تھا ۔ قدرے حوصلہ تو ہوا لیکن وہ ہیں کہاں ؟ ۔۔۔۔۔ یہی خدشہ انہیں کھائے جا رہا تھا ۔ مناسکِ حج کی ادائیگی کے لیے ہر کوئی پھر سے مستعد ہو گیا ۔ ایک ہسپتال کی ایمرجنسی میں ان کا سراغ مل گیا ۔ دھویں کی زیادتی کی وجہ سے ان کا دماغ قدرے ماو¾ف ہوا تھا اور انہیں ابتدائی امداد مہیا کرکے فارغ کیا جا چکا تھا ۔ باپ کے زندہ ہونے کی خبر سن کر للی نے ماں کی جانب دیکھا جو ہاتھ اٹھا کر دعا مانگ رہی تھی ۔ ایک نظر فہد اور اس کے ساتھیوں پہ پڑی ۔ تشکرانہ نگاہ کا جھکاو اس کی پیشانی پر بھی جھلک رہا تھا ۔ کفیل سب کے ساتھ واپس منی کے میدان میں اپنے خیموں کی جانب گیا ۔ وہاںللی کے ابو پریشان حال ہر کسی سے اپنے خاندان سے متعلق پوچھ گچھ کر رہے تھے ۔ للی نے باپ کو دیکھتے ہی سرپٹ دوڑ لگا دی ۔ باپ بیٹی کے گلے ملنے پر زمین آسمان تھوڑی دیر کے لیے یکجا ہو گیا ۔ وقت تھم گیا ۔ باپ نے ان سب کا والہانہ استقبال کیا ۔ میاں بیوی کی رفاقت پہ افسردہ ماحول بھی ان کی خوشیوں میں شامل ہو گیا ۔ کفیل نے اپنے ایک کارندے کو ہوٹل روانہ کیا تاکہ وہ نیروبی فون کرکے خیریت کی اطلاع دے دے۔ للی باپ سے پوچھ رہی تھی کہ آپ تو تھوڑی دیر کے لیے انہی خیموں کی جانب نکلے تھے جہاں سے آگ شروع ہوئی تھی ۔ جب دھماکا ہوا تو
بیٹی میں ان خیموں سے قدرے دور تھا لیکن دھواں اس قدر پھیل گیا کہ جس جانب راستہ ملا نکل گیا ۔ وہیں سے مجھے دوسرے حجاج کے ہمراہ ہسپتال پہنچایا گیا ۔۔۔!!
ہمیں دیجئے اجازت ۔۔۔۔فہد کی زبان سے ابھی جملہ مکمل نہ ہونے پایا تھا کہ للی نے اپنے ڈیڈی کو فہد اور اس کے دوستوں کی ساری داستان سنا دی ۔ بیگم نے بھی ان سب کی ہمدردیوں کو سراہا ۔ للی کے باپ نے ان سب کا شکریہ ادا کیا اور خواہش ظاہر کی کہ تمام مناسکِ حج ہم سب یکجہتی سے ادا کریں گے ۔ فہد کے دوستوں نے معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے ساتھ اہلِ خانہ بھی ہیں لیکن فہد صاحب اگر آپ کے ساتھ ۔۔۔۔
بہت پیارا نام ہے ۔ بھئی فہد میاں اپنے دوستوں کا تعارف تو کروا دیں ۔۔۔
جی یہ ہیں اکبر اور یہ ان کے چھوٹے بھائی اصغر۔ بڑے بنک میں ملازم ہیں اور چھوٹے کار رنٹ کمپنی میں کام کرتے ہیں ۔ ۔!! اکبر نے فوری اپنے دوست کا تعارف کروانا مناسب سمجھا
فہد صاحب سعودیہ کی ایک بڑی کنسٹرکشن کمپنی میں چیف انجنئیر ہیں اور ہم سب پاکستانی ہیں۔ہمیں تو دیجئے اجازت ۔ ہم ساتھ ہی تو ہیں، ایک دوسرے سے ملاقات ہوتی رہے گی ۔فہد نے اپنے دوستوں کے ساتھ قدم بڑھایا تو ماں جی نے کہا،، بیٹا آپ ہمارے ساتھ مناسکِ حج ادا کر لیں توہماری ہمت بڑھ جائے گی ،، ۔ للی باپ کے ساتھ چمٹی فہد کو دیکھ رہی تھی ، بالآخر فیصلہ ماں جی کے حق میں ہو گیا ۔
۹ ذی الحج سب حجاج کرام میدان عرفات کی جانب عازمِ سفر ہوئے ۔ للی کے باپ نے بتایا کہ میدانِ عرفات میں قیام کو وقوفِ عرفات کہتے ہیں جو ارکانِ حج کا ایک اہم حصہ ہے ۔اس کی اہمیت اس طرح روشن ہے کہ اگر کسی وجہ سے ۹ ذی الحج کے روز یا اس رات تک بھی کوئی عازمِ حج یہاں پہنچنے سے قاصر رہے تو اس کا حج تصور نہیں ہو گا اور نہ ہی اس کی تلافی کی کوئی گنجائش رکھی گئی ہے ۔میدانِ عرفات میں زوال سے قبل کھانے پینے سے فارغ ہونا ہوتا ہے ۔ نمازِ ظہر اور عصر ،، مسجدِ نمرہ ،، میں جا کے ادا کرنی ہوتیں ہیں ۔ اگر وہاں تک رسائی نہ ہو سکے تو پھر آپ جہاں بھی ہیں وہیں پر باجماعت دونوں نمازیں پڑھ لیں، جائز ہیں ۔ہاں ایک بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ یہ دونوں نمازیںظہر کے وقت ملا کر پڑھنی ضروری ہیں ۔میدانِ عرفات میں حضورِ پاک ﷺنے اپنی امت کے لیے بکثرت دعائیں مانگی تھیں ، لہٰذا حجاج کرام پہ بھی لازم ہے کہ سنتِ نبوی کو پورا کرتے ہوئے اس جگہ خصوسی دعائیں ، استغفار اور زیادہ سے زیادہ حضورِ اکرم ﷺ پر درود شریف پڑھیں ۔
میدانِ عرفات میں اکبر ، اصغر اپنی بیویوں کے ساتھ فہد اور للی کے ماں باپ کو بھی ملے ۔ میدانِ عرفات میں مناسک پورے ہوتے ہی اسی دن سورج غروب ہوتے ہی مغرب کی نماز ادا کیے بغیرمزدلفہ روانگی ہو گئی ۔مزدلفہ میں نمازِ مغرب اور عشاءباجمات ادا کی گئیں ۔رات مزدلفہ میں قیام کے وقت کو غنیمت جان کر سب نے اس افضل رات کو زیادہ سے زیادہ منور کرنے کو کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر خوب عبادت کی ۔
فجر کی نماز مزدلفہ میں ادا کرکے وہیں وقف کیا گیاکیونکہ یہ وقف واجب ہے ۔اس توقف کے بعد سب نے منی کو روانہ ہونے کی تیاری کر لی ۔۰۱ ذی الحج منی پہنچ کر حجاج کرام تین واجبات ادا کرنے میں لگ گئے ۔یہی دن عیدالاضحی کا دن ہے مگر حجاج کرام کو مصروفیاتِ حج کی بنا پر اس نماز سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے ۔ واجباتِ منی میں بڑے شیطان کی رمی یعنی جمرہ کو کنکریاں مارتے وقت پہلی کنکری مارتے ہی سب نے تلبیہ بند کر دی ۔ فہد اس خاندان کے ہمراہ اس جگہ خصوصی دھیان دے رہا تھا کیونکہ ہجوم ہونے کی بنا پر بے ترتیبی سے یہاں پریشانی کا عالم تھا ۔ رمی سے فارغ ہوتے ہی قربان گاہ جا کے قربانی کی گئی ۔ بعد ازاں للی کے ابو نے سر منڈوایا ، فہد نے بال کتراوے اور للی اور اس کی ماں نے ایک پور کے برابر بال قصر کروائے ۔ان واجبات سے فارغ ہو تے ہی احرام کھول کر غسل کیا گیا اور سب نے نئے کپڑے تن زیب کیے ۔احرام کی سب پابندیاں سوائے مباشرت کے ختم ہو چکی تھیں ۔ چوتھے رکن طوافِ زیارت کے لیے سب نے خانہِ کعبہ کی راہ لی ۔ باپ نے للی کو بتایا کہ یہ رکن حج کے فرائض میں شامل ہے جو ۲۱ ذی الحج کے آفتاب تک جائز ہے ، اس کے بعد ،، دم ،، واجب ہو گا اور فرض بھی ذمہ رہے گا ۔یہ طواف کسی حالت میں ساکن نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کا کوئی نعم البدل ہے ۔خواتین اپنی فطری اور قدرتی مجبوریوں کے پیشِ نظر ایام حج میں باقی امور اسی طرح سرانجام دے سکتی ہیں ۔ یہ طوافِ زیارت اس وقت تک جائز نہیں جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں ۔ اس کے متعلق تمام معلومات تمہاری ماں تمہیں بہم پہنچا چکی ہے ۔ سعی صفا و مروہ کے بعد منی کے میدان میں دو راتیں اور دو دن سنتِ موکدہ ہے ۔ مکہ میں یا کسی اور جگہ رات گزارنا ممنوع ہے ۔ گیارہ ، بارہ اور تیرہ ذی الحج کو مناسکِ اصطلاح میں ،، ایامِ رمی ،،کہتے ہیں ۔ ان تینوں دنوں میں سنتِ ابراہیمی اور سنتِ اسماعیل ذبح اللہ دہرائی جاتی ہے ۔ منی کے میدان میں سب یکجا ہو کر جمرہ اولی ، جمرہ وسطی اور جمرہ عقبی سے فارغ ہوئے ۔ ۳۱ ذی الحج واپس مکہ المکرمہ آتے ہی نیروبی فون کال ملا کر فاروق اور عثمان سے سب نے باتیں کیں ۔ زیادہ تر منی میں آگ لگنے اور مشاکل پہ بات چیت ہوئی جس میں فہد اور اس کے دوستوں کا ذکر بھی ہوتا رہا ۔ گفت و شنید میں بچوں کی اداسی کا اظہار نمایاں ہو رہا تھا ۔ اسی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حج کے آخری فریضہ ،، طوافِ الوداع ،، کا قصد کرکے طواف شروع ہوا ۔ طواف کے بعد دو رکعت نوافل ادا کرکے سب نے آبِ زمزم خوب نوش فرمایا ۔چوکھٹِ کعبہ کو بوسہ دیکر مقامِ ملتزم پہ غلافِ کعبہ کو پکڑ کر گڑگڑاتے ہوئے دعائیں مانگیں گئیں ۔ بعد الحج مقدس مقامات کی زیارتیں باعثِ اجر و ثواب ہیں ۔ حجرِ اسود ، مقامِ ابراہیم علیہ السلام ، حطیمِ کعبہ ، میزابِ رحمت ، حجر ابراہیم علیہ السلام ، زمزم کا کنواں ، مسجدِ عائشہ تیعم ،مسجدِ جن ، جنت المعلی ، غارِ حرا ، جعرانہ اور غارِ ثور وہ زیارتیں ہیں جو مکہ المکرمہ کی حدود میں ہیں ۔
مکہ المکرمہ میں حج کی ادائیگی اور زیارتوں کے ساتھ ہی دل میں ہلچل سی مچ جاتی ہے کہ اڑ کر مدینہ المنورہ یعنی روشن بستی میں پہنچ جائیں ۔ چالیس نمازوں کی ادائیگی کے لیے قافلہ جوں جوں سفر طے کر رہا تھا مسرت و شادمانیوں سے لبریز چہروں پہ رونق عیاں ہو رہی تھی ۔ للی اور اس کے والدین اس قافلہ میں انتہائی خوش و خرم مدینہ منورہ کی مسافت طے کر رہے تھے۔ جونہی گنبدِ خضرا دور سے نظر آیا ایک رقعت سی طاری ہو گئی ۔ مسجدِ نبوی میں ریاض الجنہ میں سجدہ ریز ہونا ، محراب النبی ﷺ ، منبرِ رسولِ اکرم ﷺ ، صفہ ، اسطوانہ توبہ ، اسطوانہ حنانہ ، اسطوانہ عائشہ صدیقہ ، جنت البقیح، مسجدِ قبا ، مسجدِ قبلتین ، بیئر علی ، مقامِ بدر ، مقامِ خندق ،نخل سلیمان فارسی ، مقامِ احد ، سبعہ مساجد ، بیئرِ عثمان غنی،خاکِ شفا اورمسجدِ شمس۔ وہ گلیاں جن میں آپ کی خوشبو رچی بسی ہے آٹھ ایام کے قیام میں ایک بیش قیمت نعمتِ خداوندی ہے جو زندگی بھر کے لیے عشقِ رسول کو تازہ رکھتی ہے ۔ آپ حضور ﷺ کے در سے کسی کا دل نہیں چاہتا وہ دور ہو لیکن وہاں رہنے کی مہر ثبت ہوئی ہوتی ہے اور اسی طرح پھر کوئی اور قسمت والا پہنچ جاتا ہے۔
فہد ، اکبر ، اصغر کے اہلِ خانہ کے ساتھ مدینہ منورہ سے جب جدہ کی جانب روانہ ہونے لگا تو للی کے والدین کوجیسے اس جدائی کا صدمہ محسوس ہو رہا تھا ۔ للی کی والدہ نے معاً فہد کو کہا کہ بہتر تو یہی ہے آپ سب ہمارے ساتھ مدینہ منورہ سے بذریعہ ہوائی جہاز جدہ چلیں ۔۔۔
آپ فہد کو ساتھ لے لیجیئے ہم اپنی کارمیں واپس جدہ جائیں گے ، اور ویسے بھی فہد کا گھر جدہ ہوائی اڈے کے بالکل قریب ہے ۔ وہیں ملاقات ہو گی کہتے ہوئے سفر پہ گامزن ہو گئے۔
للی نے ایک نظر فہد پہ ڈالتے ہوئے ماں کی جانب دیکھا۔ دل ہی دل میں فہد کو چاہتے ہوئے اسے اپنا مان لیا ۔ ہوائی اڈے سے جہاز جدہ روانہ ہو گیا ۔جدہ ائیر پورٹ سے نکلتے ہی للی کے ابو نے ہوٹل جانے کا قصد کیا تو فہد نے ملتجی ہو کر کہا کہ اب آپ سب میرے مہمان ہیں ۔ یہاں ہوائی اڈے کے قریب الحدیبیہ میں رہائش پذیر ہوں ۔ شارع الملک فہد کے علاقے الشرفیہ میں اکبر اور بنی مالک میں اصغر رہتے ہیں ۔ جدہ میں سب سے بڑا کاروباری مرکز بلد بھی ہمارے قریب ہے ۔ آپ کو خوب سیر کرائیں گے ۔ بات چیت کرتے الحدیبیہ کی وہ عمارت بھی آ گئی جہاں فہد کا چوتھی منزل پہ کشادہ فلیٹ تھا ۔گھر میں داخل ہوتے ہی للی کو یوں لگا کہ وہ اس گھر کی مالکہ ہے ۔ ہر جانب اچٹکتی نگاہ سے دیکھے للی کے اہلِ خانہ نے فہد کے رہن سہن اور رکھ رکھاو کو پسند کیا ۔ للی کی ماں نے پردوں کی تعریف کی تو فہد نے بتایا کہ اس گھر میں تمام تر اشیا پاکستان کی مصنوعات ہیں جو لاہور انار کلی سے یہاں تک پہنچیں ہیں۔ ۔۔۔
اچھا تو آپ پاکستان لاہور سے ہیں ۔للی کے ابو نے بات بڑھائی ۔۔۔۔
جی ہاں ۔ ۔۔۔
اور یہاں آپ کب سے ہیں ؟
جی تین سال سے یہاں ہوں اور پانچ سال کا عقد عمل ہے کمپنی کے ساتھ ۔۔۔۔
اگر آپ سے یہ کہا جائے کہ یہاں سے کام چھوڑ کر نیروبی ہمارے ساتھ چلیں تو کیا ۔۔۔۔
قطع کلامی معاف ، میں ایسا نہ کر سکوں گا ۔ میرا پانچ سالہ عقدِ عمل پورا ہو جائے تو پھر کسی اور جانب جانے کی سوچ پہ غور و خوض کیا جا سکتا ہے ۔
اکبر اصغر کی باتوں سے ظاہر ہے آپ کی شادی ابھی تک نہیں ہوئی ، کہیں منگنی ہوئی یا نہیں ۔۔
چند ماہ بعد بڑی بہن کی شادی ہو لے پھر جہاں نصیب میں ہوا منگنی بھی کر لیں گے ۔۔
والدین بقیدِ حیات ہیں ۔۔۔۔
جی نہیں۔ فہد نے ایک طویل سانس بھری اور اداس اداس ماضی میں کھو گیا ۔
اللہ پاک انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے اور آپ سب کو حوصلہ و ہمت دے۔مجھے نیروبی میں اپنے دونوں بیٹوں فاروق اور عثمان جو کہ للی سے بڑے ہیںسے بات کرنی ہے ۔ یہاں کوئی کال سنٹر قریب ہے تو میرے ساتھ چلیے ،کیوں بیگم اطلاع دے دیں ۔
ڈیڈی میں بھی ساتھ چلوں گی بھائی جان فاروق اور عثمان بھیا سے تو میں بہت اداس ہوں ۔۔
گھر میں فون کی سہولت موجود ہے کسی فون کال سنٹر پہ جانے کی ضرورت ہی نہیں کہتے ہوئے فہد نے فون آگے بڑھا کے باورچی خانے کی راہ ناپی ۔للی کے ابو نے اپنی شریکِ حیات سے بات کرنے سے پہلے اپنی بیٹی کی جانب غور سے کیا دیکھا وہ شرما کے واش روم کی جانب چل دی ۔ ماں کو بیٹی کی پسند کا پتہ تھا برملا خاوند سے کہہ دیا کہ بیٹوں کو بتا دیا جائے تا کہ منگنی کی رسم ان کی مرضی کے مطابق ادا ہو سکے ۔ کریں فون ان کو ۔۔۔۔
فون کرنے سے پہلے بہتر ہے فہد سے بھی پوچھ لیا جائے۔۔۔۔
للی کا مجھے پتہ ہے وہ فہد کو پسند کرتی ہے ، آپ فہد سے پوچھ لیں ۔۔
اتنے میں فہد باورچی خانہ سے باہر آیا ۔۔جی مجھ سے کچھ پوچھنا ہے تو بلا جھجھک پوچھ لیں۔ میں کچھ دیر کے لیے باہر بازار جا رہا ہوں کچھ منگوانا ہو تو بتا دیں اور للی سے بھی پوچھ لیں ۔
للی سے ہم نے پوچھ لیا ہے ۔ ادھر آو میرے پاس ، ہاں ہاں بیٹھو ادھر میرے سامنے ۔۔ شاباش ۔ اب یہ بتاو کہ تمہاری منگنی اگر للی کے ساتھ کر دی جائے تو ۔۔۔۔
ابھی میری بڑی بہن کی شادی ۔۔۔۔
وہ بھی ہو گی لیکن تمہاری منگنی کی انگوٹھی للی کے بھائی نیروبی سے لیکر اگر یہاں آ جائیں تو ۔۔
میرے ماں باپ تو ہیں نہیں جیسے آپ کی مرضی کہہ کے فہد فوری وہاں سے باہر نکل گیا ۔ دوسری جانب للی تمام گفت و شنید سن رہی تھی اور فہد کے قبول کرنے کا سادہ ساانداز سن کر تو اس کے چہرے کی رنگت گلابی ہو گئی ۔ خوشیوں کے خزانے اس کے دامن میں بسیرا کر گئے ۔ وہ کن انکھیوں سے والد کو نیروبی بات کرتے دیکھتی رہی ۔ ماں کے ساتھ بھائیوں کی بات ہو رہی تھی ۔ عثمان تو ماں سے کہہ رہا تھا فون دیں اس بلی کو اپنی منگنی تو کروا لی ہمارا خیال تک نہیں کیا ۔ ماں نے للی کو آواز دی کہ بھائیوں سے فون پہ بات کر لو ۔۔۔ وہ شرم کے مارے والدین کا سامنا نہیں کر رہی تھی ۔ بیگم رہنے دو للی کو ابھی مت بلاو ، لاو دو فاروق سے میں بات کرتا ہوں ۔۔۔ ہاں فاروق بیٹا سنو بہترین ہیرے کی دو انگوٹھیاں ایک للی کے لیے اور دوسری مردانہ اپنے ہاتھ کے ناپ کی فہد کے لیے لے کر دونوںفوری جدہ پہنچو تا کہ للی کی منگنی کر دی جائے ۔۔۔
جی بہتر کہہ کے فون بند کرکے فاروق انتظامات مکمل کر نے کی تیاریوں میں لگ گیا اور عثمان نے گھر کے کونے کونے میں منگنی کی خبر گرم رکھی ۔ سب نوکر چاکر دعائیں دے رہے تھے ۔
گھر کے لیے خورد و نوش کا سامان اٹھائے جب فہد گھر میں داخل ہوا تو للی کے ابا نے کہا بھئی یہ سامان کیوں اکٹھا کر رہے ہو ؟۔ کھانا کسی ریستوران میں کھائیں گے ۔ ۔۔
باورچی خانہ میں ضروری سامان کی کچھ کمی محسوس کر رہا تھا اس لیے لے آیا ہوں ۔آپ سب کے ہوتے ہوئے میری تعطیلات بھی اچھی گزر جائیں گی ۔ چائے کی تمنا ہو تو تیار کر دوں ۔۔
تم بیٹھو یہاں للی کے ابو کے ساتھ !! وہ نیروبی پھر سے فون کرکے پروگرام پوچھتے ہیں اور میں للی کے ساتھ باورچی خانہ میں چائے تیار کرکے لاتی ہوں۔ للی ادھر آو باورچی خانہ میں۔
نیروبی کال پہ بات چل نکلی ، فاروق اور عثمان دونوں 23 دسمبر 1975 ءبروز منگل جدہ پہنچ رہے ہیں ۔ آج 21 دسمبر ہے یہ آپ کے دوست اکبر اور اصغر کب تک جدہ پہنچ جائیں گے ؟ ۔۔۔
بس آج شب کسی وقت بھی پہنچ جائیں گے اور مجھے آتے ہی فون بھی کر دیں گے ۔۔۔
للی ماں کے ہمراہ چائے اور کیک مہمان خانہ کے مرکزی میز پہ بڑے سلیقے سے رکھ رہی تھی اور فہد اس کے سلیقہ کو اندر ہی اندر سراہتے ہوئے اپنے مستقبل کے سہانے سپنوں میں کھو گیا ۔ والدین یاد آ گئے ۔ بہن کی ہر بار بھابھی کی امنگ کا تذکرہ بھی حقیقت میں ڈھل گیا ۔۔۔ فہد بیٹے یہ لو چائے پہ وہ اپنے خیالات سے باہر نکل اس ماحول میںواپس آیا ۔ بہت سے موضوعات پہ بات چیت ہوتی رہی جن میں زیادہ تر سعودیہ کے معاشی حالات پہ روشنی ڈالی گئی ۔اس ملک میں بہت سے ترقیاتی منصوبے بیک وقت پروان چڑھ رہے تھے ۔
سرِ شام جدہ کی جگمگ کرتی روشنیوں میں یہاں کے کاروباری مرکز البلد میں ٹیکسی رکی ۔ ماں اور للی نے برقعہ میں مرکز کی دکانوں سے من پسند اشیا خریدیں ۔ ایک اعلی درجے کے ریستوران میں عشائیہ سے فارغ ہوتے ہی گھر کی راہ لی ۔ فہد نے اکبر کو فون کیا ، وہ سب بخیریت واپس آ چکے تھے۔صبح ملاقات کے لیے وقت کا تعین کر لیا گیا ۔
چھ کمروں کا کشادہ فلیٹ مگر تین کمروں کے ماحول میں ایک جیسی لگن سر ابھارے ہوئے تھی ۔ میاں بیوی اپنی بیٹی کے لیے ایک انمول ہیرے کا انتخاب کر چکے تھے ۔ فہد للی کے خد وخال میں اسقدر محو تھا کہ اسے وہ آگ سامنے دکھائی دی جس میں وہ اپنے والد کے لیے جھلس جانا چاہتی تھی ۔ اتنی چاہت کرنے والے باپ کی اکلوتی بیٹی کو جدا کرکے وہ جدہ لے آئے گا ۔۔ بس اسی ماحول کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسے اپنی بہن سلمی یاد آ گئی ۔ کتنی چاہت تھی والدین کے ہاتھوں رخصت ہوتی مگر تقدیر کا لکھا کون مٹا سکتا ہے ۔ اس کا دل چاہا ابھی لاہور فون کرکے بہن کو بتا دے کہ اس کی بھابھی جدہ میں آ چکی ہے ۔ اٹھتے اٹھتے پھر قدم رک گئے کیونکہ رات کافی گزر چکی تھی ۔ کروٹ بدلی اور اپنے سنہرے خوابوں میں نیند کی دیوی کا پلو پکڑ لیا ۔
للی کی آنکھوں نے جیسے قسم کھا رکھی تھی کہ بند رہیں گی لیکن زندگی کے تمام نظاروں سے برسرِ پیکار اپنے ہونے والے مجازی خدا کی تمام تر رعنائیوں کو مزید رنگ بخشیں گی ۔ اس نے اپنے دل سے سرگوشی کی ،، نیروبی واپس چلیں ،،اس نے جواب دینے کی بجائے زور زور سے دھڑکنا شروع کر دیا ۔،، اچھا تو تم ہو مجھے ماں باپ ، بھائیوں کے گھر سے یہاں اچک لاو گے ،،۔ بہت شریر ہو تم !! للی نے فہد کے کمرے کی جانب کروٹ بدلی ۔ اسے یوں لگا فہد اسے پیار بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے ۔ مارے شرم کے اس نے اپنے ہاتھوں کی مخروطی انگلیوں کے نیم وا سوراخ سے جائزہ لیا ۔ وہ بنا آنکھ جھپکے، متواتر اسے دیکھے جا رہا تھا ۔ سرخی مائل گالوں کی رنگت انار سی ہو گئی ۔ کانوں کی لوئیں ارتعاش برپا کر رہی تھیں ۔ پردہِ سماعت میں میٹھی میٹھی سرگوشیاں سی عود کر آئیں ۔مسکان پھیلتی گئی ۔ بالوں کی لٹ ماتھے کے جھومر کا نشان بنائے مردانہ وجاہت کے مضبوط ہاتھوں کی قربت کا احساس دلانے لگی ۔ اگلا حج ہم دونوں میا ں بیوی اکٹھے کریں گے کی سوچ ابھرتے ہی ہر سو فجر کی اذانیں نئے دن کی نوید سنا رہی تھیں ۔ آو نماز کی طرف ، آو فلاح و بہبود کی جانب ۔
گھر کا ہر فرد بیدار ہو چکا تھا ۔ فہد کے ساتھ للی کے ابو قریبی مسجد کی جانب چلے گئے ۔ ماں اور للی نے باوضو ہو کر گھر میں نماز ادا کی ۔ باورچی خانے میں للی کو تمام کام سنبھالتے ہوئے دیکھ کر ماں کی خوشی دوبالا ہو گئی ۔ وہ فکر جو بیٹی کو بیاہے جانے پہ والدین کو لاحق ہوتی ہے وہ ایسی سچائی میں بدل گئی کہ للی اب اپنا گھر سنبھال سکتی ہے ۔ماں کا بہت سا بوجھ ہلکا ہو گیا ۔ کوئی بھی صنفِ نازک جب عورت کے روپ میں ڈھلتی ہے تو اسے سب سلیقے خود بخود آ جاتے ہیں ۔
مسجد میں نماز پڑھنے کے بعد اکبرنے دوپہر کے کھانے کی دعوت دی اور اصغر نے عشائیہ اپنے گھر میں رکھا ۔ فہد نے کہا کہ بہتر ہے گھر ناشتہ کرتے ہیں اور پروگرام کے متعلق بات چیت بھی ہو جائے گی ۔
گھر میں للی نے فہد اور ابو کے ساتھ اکبر اصغر کو مہمان خانے میں داخل ہوتے دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پھر سے باورچی خانے کا رخ کیا ۔ ماں اسے برابر دیکھ رہی تھی ۔ تھوڑی ہی دیر میں ناشتہ کی ٹرالی مہمان خانہ میں موجود تھی ۔ باپ کے چہرے پہ حیرانگی اور خوشی کے ملے جلے تاثرات نمودار ہو رہے تھے ۔معاً منہ سے نکل گیا ،، یہ سب کام للی کر رہی ہے ،، ؟
جی ہاں یہ سب اہتمام للی نے کیا ہے ۔ ماں اپنی بیٹی پہ نازاں تھی ۔
اکبر نے ظہرانہ کی دعوت گھر والوں کو دی اور اصغر نے عشائیہ ساتھ کرنے کے لیے التماس کی جسے گھر کے سب سے بڑے فرد نے بصد شوق قبول کر لیا ۔ اصغر نے اپنی کمپنی کے ایک ڈرائیور کو گاڑی سمیت مہمانوں کی سیر و تفریح کے لیے مختص بھی کر دیا ۔ اکبر اور اصغر دونوں بھائی جب جا چکے تو للی کی ماں نے اپنے خاوند سے تحائف کے بارے پوچھا تو اس نے ہزار امریکی ڈالرز بیوی کے حوالے کر دیے ۔ کیا خیال ہے فہد یہ بہتر رہے گا وہ اپنے تحائف خود خرید لیں۔
جی ہاں جیسے آپ مناسب سمجھیں ۔
شارع العام پرنس ماجد کے علاقے الحدیبیہ سے فہد للی کے والدین کے ساتھ شارع الملک فہد کے علاقے الشرفیہ میں اکبر کے ہاں ظہرانہ کے لیے بروقت پہنچ گئے ۔ اکبر بڑی شدت سے مہمانوں کا انتظار کر رہا تھا ۔ کھانے کی میز پربہت سے کھانے سجے ہوئے تھے ،جن میں ایشیائی رنگ نمایاں تھا ۔ سب نے کھانے تناول کرتے کرتے ہر کھانے کی تعریف کی ۔ اکبر اور اصغر کی بیویاں خاص طور للی کا بغور جائزہ لے رہی تھیں ۔ گڑیا جیسی للی تھی ہی بہت پیاری ۔ ہر کوئی اس کی بات سنتے وقت یہی محسوس کرتا تھا کہ وہ اسے سنتا ہی رہے ۔ لاابالی طبیعت کی للی میں اتنا بڑا تغیر کہ وہ سنجیدگی کی مثل بن گئی، باپ کے لیے لامتناہی خوشی کا مقام تھا ۔ظہرانہ سے فارغ ہوکر للی کی ماں نے ایک بند لفافے میں اکبر کی بیوی کو جب تحفہ دیا تو اکبر نے کہا کہ سارا دن دوڑتے ہم ہیں اور تحفہ بیوی کو مل جاتا ہے ۔ اس فقرے نے ماحول کو خوشگوار بنا دیا ۔
گھر آتے ہی باپ نے للی کو گلے لگا کر بہت پیار کیا ۔ بیٹی سمٹی ہوئی اپنے باپ کی آغوش میں آسودگی حاصل کر رہی تھی اور ماں سوچ رہی تھی کہ باپ اسے رخصت کیسے کرے گا ۔
سعودیہ میں قیلولہ ہر کوئی کرتا ہے ۔ گھر میں فون کی گھنٹی بھی اس وقت نہیں بجتی تو پھر یہ کس کا فون آ گیا ہے؟ ۔ دیکھا تو پاکستان سے بہن کا فون تھا ۔ فہد نے بہن سے کہا کہ پانچ منٹس کے بعد کال کرتا ہوں۔ فون اپنے کمرے میں لے جا کر دروازہ بند کرکے بہن سلمی کو کال کی ۔ بہن نے خیریت دریافت کی اور بھائی نے بھابھی کا مژدا سنا دیا ۔ سلمی تواچھل پڑی ۔ بھائی مجھے دکھاو ناں بھابھی ۔ کہاں ہے ؟بات کراو ناں مجھ سے !! ارے پگلی آہتہ بول ، وہ اپنے کمرے میں ہے ۔ اس کے ماں باپ بھی ساتھ ہیں ۔ پرسوں اس کے دو بھائی بھی نیروبی سے جدہ پہنچ رہے ہیں میری اور للی کی منگنی کرنے ۔ واہ کیا خوبصورت نام ہے بھئی بات کراو ناں۔میں تو ابھی اسے کوئی پیغام نہیں دے سکتا ۔ بس صبر سے کام چلا لو ۔ جاو میری تمہاری بول چال بند ۔ اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ اپنی بہن سے بات کرا سکو ۔ میں پرائی تھوڑی ہوں ۔۔۔ ارے سلمی ناراض مت ہونا شاید اس کے ابو نیروبی فون کرنا چاہتے ہیں ۔ کل بات ہو گی اوکے۔ فہد نے فون بند کرکے پھر سے مہمان خانے میں میز پر رکھ دیا ۔
بعد نماز المغرب سب جدہ کی سیر کرنے نکلے ۔ مختلف شاہراہوں میں شاہراہ ستین نمایاں نظر آتی ہے ۔ گھومتے ہوئے البلد کے نزدیک ساحلِ سمندر پہ روشنیاں ٹمٹماتے ستاروں کی مانند لگ رہی تھیں ۔ سعودیہ میں قانون کی پابندی پہ گرفت بیشک مضبوط ہے لیکن یہاں کی ترقی اپنے عروج کی جانب بتدریج مراحل طے کر رہی ہے ۔عشائیہ میں شمولیت کے لیے پر رونق علاقے بنی مالک میں اصغر کے ہاں پہنچے تو سب نے خوشی کا اظہار کیا ۔ رات گئے تک لذیذ کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے باتیں ہوتی رہیں اور وہیں للی کی ماں نے اس بات کا اظہار کر دیا کہ فہد اور للی کی منگنی کے لیے اس کے دونوں بیٹے نیروبی سے جدہ پہنچ رہے ہیں ۔ للی تو فوراً وہاں سے اٹھ کر باورچی خانہ کی جانب چلی گئی تو پیچھے پیچھے اکبر اور اصغر کی بیویاں بھی اس کے پاس پہنچ گئیں ۔ اکبر کی بیوی نے تو پاکستان کال ملا کر سلمی کو خبر سنائی اور یوں للی نے اپنی نند سے ہلکے پھلکے انداز میں بات کرتے ہوئے مبارکباد قبول کی ۔ للی کی ماں نے اصغر کی بیوی کو بند لفافے میں تحفہ پیش کرکے منگنی کی تیاریوں کے لیے تاکید کرتے ہوئے اجازت چاہی ۔ للی کو فہد کے سامنے آتے ہوئے شرم آرہی تھی۔ نظریں جھکائے وہ کار میں ماں کے ساتھ یوں سفر کر رہی تھی جیسے اس کے وجود کا گمان تک نہ ہو ۔ گھر آ گیا ۔ ہاں اس کا اپنا گھر ، جہاں وہ فہد کے ساتھ رہے گی ۔ وہ چپکے سے سرنگوں سیدھی اپنے کمرے میں چلی گئی ۔
23 دسمبر 1975 ءبروز منگل بمطابق 20 ذی الحج 1395 ہجری فاروق اور عثمان جدہ پہنچ گئے ۔ ان کو ہوائی اڈے سے لینے اکبر، اصغر انکی بیویاں ، فہد ، للی ، امی ابو سب کے سب لاونج میں یوں ملے جیسے دنیا بھر کی خوشیاں فقط ان ہی کی ملکیت ہوں ۔ عثمان بڑی شرارتی نظروں سے کبھی للی اور کبھی فہد کو دیکھ رہا تھا اور للی اس مقام پہ کچھ نہ بول پائی ۔ زندگی میں شاید پہلی بار عثمان اپنی برتری میں کامیاب ہوا تھا ۔ وہ اندر ہی اندر غصہ میں جلی بھنی کہہ رہی تھی ، ،نیروبی چل کے تیری خبر لوں گی ،،للی کچھ کہہ ناں خاموش کیوں ہے ؟ وہ صرف ہلکے سے اتنا کہہ پائی ،، ڈیڈی ،، بس اب کیا تھا ڈیڈی نے عثمان کو غور سے دیکھا تو اسکی شرارت ایکدم کافور ہو گئی ۔
فہد کے مہمان خانے میں آج ایک مکمل خاندان کا اجتماع اور گہرے دوستوں کی موجودگی اسے دولہا کا روپ دے گئی ۔ فاروق اور عثمان چاہتے تھے کہ کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں یہ تقریبِ منگنی ہو اور اس کے لیے انہیںابھی ہوٹل میں منتقل ہونا ہو گا ۔سب کی تجویزات میں زیادہ تر اکبر کی بات کو سراہا گیا جس میں اس نے درخواست کی کہ فہد ہمارے ہاں رہے گا اور آپ اسی گھر میں تیاریاں کیجئے ۔ کل کا دن ہی تو رہ گیا ہے ۔ پرسوں کس وقت ہم فہد کو لیکر یہاں حاضر ہوں بتا دیں ۔
ماں نے اس تجویز پہ حامی بھر لی اور منگنی کی انگوٹھیاں مع زری جوڑا للی اور فہد کا جوڑا سب کچھ نیروبی سے آ چکا ہے کوئی چیز خریدنے کی ضرورت نہیں ۔ بعد نمازِ عشا منگنی کی رسم اسی گھر میں ادا ہو گی اور شادی نیروبی میں کی جائے گی ۔ امید ہے ہم سب کی بات رہ جائے گی ۔ اب فیصلہ صادر ہو چکا تھا ۔ کسی کی کیا مجال جو چوں چراں کرتا ۔ اکبر آداب بجا لاتے ہوئے فہد کے ساتھ ہو لیا ۔ گھر میں للی اور عثمان کی چپلقش سے ہر کوئی محظوظ ہو رہا تھا ۔ اتنے میں فون کی گھنٹی بجی ۔ ماں نے فون اٹھایا ۔۔۔۔ ہیلو ۔۔۔ بھابھی کیا حال ہیں ۔ ارے بیٹی للی کی منگنی پرسوں ہو گی ۔کون بول رہا ہے ؟ جی پاکستان سے سلمی فہد کی بہن کے ساتھ ہی فون بند ہو گیا ۔ للی نے ماں کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا کے بولی، تمہاری نند تھی ۔
اوہو تو ابھی سے بھابھی کی خاطر داری میں لگ گئیں موصوفہ ۔ للی کتنی نندیں ہیں تمہاری ۔۔۔
دیکھو عثمان شرارتیں بند کرو ایک ہی نند ہے اور لگتا ہے تم اس کے ساتھ بھی کوئی نہ کوئی شرارت ضرورکرو گے۔ ڈیڈی کو آ لینے دو تمہاری شکایت ۔ او خدا کی بندی اب تو شکایتوں کی پٹاری بند کر دو ۔ دیکھو تمہارے گھر آئے ہیں کچھ تو خیال کرو ۔۔ڈیڈی۔۔ ممی ۔۔یہ عثمان مجھے ۔۔۔۔
تنگ کر رہا ہے یہی کہو گی ناں ۔۔۔ ڈیڈی میں تو اسے یہ کہنا چاہتا تھا کہ فہد بھائی کا جو جوڑا نیروبی سے لائے ہیں وہ تو ان کو دیا ہی نہیں ۔ یہیں رہ گیا ہے ۔
بہت اچھا کیا یاد دلا دیا ۔ ابھی فاروق ڈرائیور کے ساتھ نیچے کوئی پروگرام ترتیب دے رہا ہے جاو دوڑ کے اسے جوڑا دے آو ۔ عثمان فہد کا جوڑا سنبھالے فوراً نیچے پہنچا اور فاروق نے ڈرائیور کو اکبر کے ہاں روانہ کر دیا ۔دونوں بھائی گھر میں داخل ہوئے تو للی کو عثمان پہ بہت پیار آیا ۔
فاروق بیٹا صبح یاد سے فہد کا پاسپورٹ لے کر اسکی فوٹو کاپی بھی نکلوا لینا تا کہ اس کے کاغذات تیار کیے جا سکیں اور عثمان تم ابھی سے فہد کے لیے نیروبی کی ٹکٹ ۷۲دسمبر کی او کے کروا لو ، وہ ہمارے ساتھ ہی چلے تو بہتر ہو گا ۔ ابھی عثمان نے جی بہتر ہی کہا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی ۔ فاروق اٹھاو فون سنو تو کس کا ہے ؟ فاروق نے فون اٹھایا تو دوسری جانب سے فہد فکرمند تھا کہ گھر میں رہ کر آپ کی خدمت نہ کر سکا ۔ اگر کسی چیز کی ضرورت محسوس ہو توبلا تکلف اکبر کے فون پہ فون کر لیجئے گا ۔ فاروق نے فون تو لکھ لیالیکن لاو مجھے دو کا اشارہ ہوتے ہی فون اپنے ڈیڈی کے حوالے کر دیا ۔ بیٹا فہد کچھ باتیں تم سے تنہائی میں کرنا تھیں جو گہما گہمی میں نہ ہو سکیں ۔ اگر کچھ دیر کے لیے ابھی آ سکو تو آ جاو پر فہد نے آنے کی حامی بھری اور فون بند کر دیا ۔۔
اب آپ فہد سے کیا بات کرنا چاہتے ہیں ۔ بیوی کے اس سوال پر مسکراہٹ دیتے ہوئے خاوند نے کہا کہ معاملہ ہماری للی کا ہے تو کیوں نہ سب پروگرام ابھی سے ترتیب دے لیا جائے ۔ بیوی تو خاموش ہو گئی لیکن للی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا ۔ شادی خانہ آبادی کے خوب سے خوب تر پروگرام بنتے جا رہے تھے کہ فہد نے اپنے ہی گھر کی گھنٹی بجائی ۔ عثمان نے خوش آمدید کہتے ہوئے للی کے چہرے پہ ابھرنے والی کشادگی کو بھانپ لیا تھا ۔
فہد تمہیں اس وقت اس لیے تکلیف دی ہے کہ ایک تو تمہارا پاسپورٹ چاہیے تا کہ کاغذات تیارکیے جا سکیں ۔ دوسرے میں یہ چاہتا ہوں کہ تم بھی ہمارے ساتھ ۷۲ دسمبر کو نیروبی چلو ۔ ایک بات اور جو بہت ضروری ہے اپنی بہن سلمی کی شادی کے دن بھی جنوری میں رکھ لو تا کہ تمہارے ساتھ للی بھی لاہور اس شادی میں شامل ہو سکے ۔ بہن کی شادی کے لیے فکر مت کرنا سب کچھ للی سنبھال لے گی اس کے پاس بجٹ موجود ہے ۔۔۔
لیکن میں بہن کے لیے سب کچھ اپنی بساط کے مطابق اپنی جیب سے خرچ کروں گا ۔۔۔
للی بحیثیت سلمی کی بھابھی اگر خرچ کر لے گی تو اس میں حرج ہی کیا ہے ۔ویسے بھی یہی رشتے زندگی بھر ایک دوسرے کے کام آتے ہیں ۔ آج آپ ایک قدم آگے بڑھائیں گے تو کل کو دوسرا بھی ایسا ہی مثبت رویہ آپ کے ساتھ برقرار رکھے گا ۔اکبر کو فون کر دوکیونکہ رات بہت ہو چکی ہے باہر جانا مناسب نہیں ۔ ایک خاندان کی چاہت مل بیٹھ کے مضبوط ہوتی ہے ۔اور ہاں ایک کام اور ضروری ہے۔ کل اپنی کمپنی سے مہینے بھر کی چھٹیاں ضرور لے لینا ۔
فہد نے فون کرکے اکبر کو اطلاع دے دی کہ صبح ملاقات ہو گی ۔ للی ڈیڈی کے فیصلے پر بہت خوش تھی، دوسری طرف عثمان کو موقع مل رہا تھا شرارتوں کا مسالہ اکٹھا کرنے کا ۔ اکبر اپنے کمرے میں گیا اور پاسپورٹ کے ساتھ شناختی کارڈ بھی فاروق کے ہاتھ میں تھما دیا ۔ فاروق نے عثمان کو ٹکٹ بک کرنے کو کہہ دیا تو وہ بڑی چابکدستی سے للی کے قریب سے گزر کر فون پر اپنے ہوٹل کے ملازم کو فہد کے سب کوائف لکھوا کے فرسٹ کلاس کا اوکے اسٹیٹس لے چکا تھا ۔یہ لیں فاروق بھائی جان اب اگلا کام آپ کا ہے ۔۔۔ وہ تو صبح ہی ہو گا کہتے ہوئے فاروق نے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ سنبھال لیا ۔
سلمی بیٹی کے ہونے والے خاوند کیا کام کرتے ہیں ؟
وہ بھی انجنئیر ہیں ۔ہم دونوں کلاس فیلو تھے ۔ میں نے اس کی درخواست بھی اپنی کمپنی میں جمع کرا رکھی ہے ۔ امید ہے جلد ہی اس کا ویزا بھی مل جائے گا ۔ بیٹا تمہارے جانے کے بعد سلمی کا فون آیا تھا ۔۔۔۔ جی میں نے اکبر کے ہاں سے فون کرکے اسے سب کچھ بتا دیا تھا۔ للی کے ابو امی نے کمرے کی طرف جاتے ہوئے سب سے جلدی سونے کو کہہ تو دیا لیکن عثمان کی باتیں ختم ہونے کو نہیں آ رہی تھیں ۔ للی کو عثمان کی ڈھینگ مارنے والی عادت سخت ناپسند تھی ۔ یہ کیوں بات ختم نہیں کرتا ، مجبوراً اس نے کہہ ہی دیا عثمان بھائی اگر ابو بیدار ہو گئے ناں تو ۔۔۔
اوہ فاروق بھائی شب بخیر ، فہد بھائی یہ ابو کی لاڈلی کے الارم پہ میں تو چلا شب بخیر ۔۔ سب نے اپنے اپنے کمروں کی راہ لی اور للی نے فہد کا دیدار کرکے اپنے کمرے کی رونقیں سجا لیں ۔
صبح ہر کوئی وقت پہ بیدار ہو چکا تھا ۔ ڈرائیور کے ساتھ فاروق اور اسکے ابو نکل گئے ۔ فہد عثمان کو ساتھ لے کراپنی کمپنی کی جانب چلا گیا ۔ گھر میں للی اور اس کی ماں باورچی خانے میں کھانا تیار کرنے میں مصروف رہیں ۔للی ماں کا ہاتھ بٹا تی ہوئی بہت اچھی لگ رہی تھی ۔ اس میں ذمہ داری اور سلیقہ اجاگر ہو چکا تھا ۔ سنجیدگی سے بات کرنے کا رنگ نکھر چکا تھا ۔ عورت بننے کے شواہد اس کی تبدیلی میں موجود پا کر ماں کو حوصلہ ہوا ۔ وہ اپنے گھر کو سنبھال سکتی تھی ۔
سب اپنے اپنے کاموں سے ہنسی خوشی فارغ ہو کر کامیاب و کامران گھر لوٹے تھے ۔کینیا نیروبی کا ویزا پاسپورٹ پہ لگ چکا تھا ۔ ٹکٹ خریدی جا چکی تھی ۔ فہد نے مہینہ بھر کی چھٹی بھی منظور کرا لی تھی ۔ دوپہر کا کھانا گھر میں ہی کھایا گیا ۔ فہد نے اکبر کے ہاں جانے کی اجازت چاہی تو ماں نے اسے ہیرے کی انگوٹھی تھما دی تا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ للی کو پہنا سکے ۔ فہد نے سب کا شکریہ ادا کیا اور جیسے وہ کہتے گئے انکی خوشی پوری کرتا رہا ۔
25 دسمبر بعد نماز العشا فہد کا گھر بقعِ نور بنا ہوا تھا ۔ ایک چھوٹی سی تقریب میں فہد کے ساتھ آنے والے اکبر ، اصغر اور ان کی بیویوں نے تحائف للی کو دیے ۔ فہد نے للی کی انگشت میں ہیرے کی انگوٹھی پہنا کر پہل کی ۔ للی نے بھی فرطِ محبت سے ہیرے کی انگوٹھی فہد کی انگلی میں پہنا کر اپنے ہونے کا اعلانِ عام کر دیا ۔ عثمان تصاویر بناتا رہا ۔ والدین کی آنکھوں میں خوشی کے اثرات نمودار ہوئے ۔ فاروق بہن کی اس رسم پہ بہت مسرور نظر آ رہا تھا ۔ کھانے کا اہتمام ایک کمپنی کے سپرد تھا۔ وہ اچانک باوردی گھر کے اندر ہی سے کھانا میزوں پہ سجانے میں محوہو گئے ۔ للی کے ابو نے کھانے کا اعلان کیا ۔ رات گئے تک یہ محفل چلتی رہی ۔ سب نے فہد اور للی کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کے لیے دعائیں مانگیں ۔ فہد ایک دن کے لیے اکبر کے ساتھ چلا گیا ۔ نیروبی جانے کی سب تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں ۔ فہد نے بہن کو فون کرکے ساری روداد گوش گزار کر دی ۔ بہن پھولے نہ سما رہی تھی ۔ بھابھی کو دیکھنے کا شوق شدت پکڑ گیا تھا ۔
جدہ ہوائی اڈے سے27 دسمبر 1975ءنیروبی جانے والی فلائٹ پہ سب دوست للی کے اہلِ خانہ کے ساتھ فہد کو الوداع کرکے ہوائی جہاز کو پرواز کرتے حدِ نگاہ دیکھتے رہے ۔ دلہا دلہن کے ساتھ جا چکا تھا ۔ نیروبی ہوائی اڈے سے گھر تک کا راستہ بھی طے ہو گیا ۔ استقبال کرنے والے پھولوں کی پتیاں نچھاور کر رہے تھے ۔ گھر آتے ہی ایک دوڑ سی لگ گئی ۔ مہمان خانہ میں فہد سمیت گھر کے سب افراد کو یکجا کیے ہدایات دی گئیں ۔
للی اور فہد کی شادی خانہ آبادی 31 دسمبر1975بروز بدھ 28 ذی الحج 1395ہجری کو رکھی گئی ، پروگرام میں نیا سال مبارک ہو کے ساتھ ہی دلہا دلہن کو اس گھر سے رخصت کر دیا جائے گا اور وہ اپنے نئے گھر میں چلے جائیں گے ۔ ۵ جنوری بروز سوموار للی اور فہد نیروبی سے لاہور چلے جائیں گے ۔7 جنوری بروز بدھ سلمی کی شادی اور رخصتی کرکے 10 جنوری 1976 ءبروز ہفتہ للی اور فہد واپس نیروبی آ جائیں گے ۔ فاروق اور عثمان نے اپنے اپنے کام سنبھال لیے ۔
فہد کو فون دیا گیا تا کہ وہ پاکستان سلمی کی شادی کی اطلاع کر دے ۔ فہد نے سلمی کے منگیتر جہانگیر سے بات کی اور وقت کو خاص طور ملحوظِ خاطر رکھا ۔ وہ تو پہلے ہی سے تیار تھے ، صرف انتظار فہد کا تھا ۔ سلمی سے فون پہ بات کرتے ہوئے فہد نے اپنی شادی اور پھر للی کا لاہور تک کا سب پروگرام بتا دیا ۔ اس کام سے فارغ ہوا ہی تھا کہ للی اور اسکے والدین فہد کو ساتھ لے کر ایک کشادہ مکان کی جانب بڑھے ۔ للی کو گھر کی چابی دے کر دونوں کو مبارکباد دی ۔ للی نے چابی فہد کو دے کر ہلکی سی آواز میں دروازہ کا قفل کھولنے کو کہا ۔ جس پر للی کی خواہش کا احترام کیا گیا ۔ اس کشادہ گھر کو دو دنوں کے اندر اندر خوب سجانے کا کام ایک کمپنی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ ہاں اگر اپنی مرضی کا فرنیچر اور آرائش کروانی ہو تو للی اور فہد ڈرائیور کے ساتھ جا سکتے ہیں ۔ آپ دونوں کی پسند سے گھر کی تمام ضروریات زندگی کا سامان مہیا کیا جائے گا ۔ڈرائیور کمپنی کے پتہ سے واقف ہے پھربھی یہ لو ان کا کارڈ ۔ فہد تم انجنئیر ہو عمارت پسند آئی ۔۔۔
جی ہاں نقشہ تو بہترین بنایا گیا ہے اور عمارت بناتے وقت ہر سہولت کا خیال بھی رکھا گیا ہے ۔ چلو ڈرائیور ہمیں گھر چھوڑ کے فہد اور للی کو ابھی کمپنی والوں کے پاس لے جاو ۔۔۔ ڈرائیور نے حکم کی تعمیل کی اور للی فہد کے ساتھ گھریلو سامان کی پسند کے لیے ایک بڑے شو روم میں باہمی مشاورت سے سامان کا انتخاب کرتے گئے ۔ شادی کی سہاگ رات کے لیے مسہری کے قریب پہنچ کر للی بالکل خاموش ہو گئی ۔ فہد بھی پریشانی میںمبتلا ہو گیا ۔ اب فیصلہ کون کرے ۔ بہت سی مسہریوں میں سے للی کی نظرایک بڑی خوبصورت مسہری پہ ٹکی ہوئی تھی ۔ اس کی نظر کا تعاقب کرتے ہوئے فہد نے اسی کا چناو کر لیا ۔جو جو اشیا انہوں نے پسند کیں اسی کے لحاظ سے ان کا سیٹ کمپنی والوں نے منتخب کرکے اپنا کام شروع کر دیا ۔ صبح ۰۱ بجے ٹرک تمام سامان لے کے آپ کے گھر پہنچ جائے گا ۔ شام ڈھلے تک ہر شے مکمل طور اس گھر میں منتقل ہو جائے گی ۔ آپ آ کے دیکھ لیجیے گا تا کہ کوئی کمی ہو تو اسے بروقت پورا کیا جاسکے ۔
للی ۔۔۔
جی ۔۔۔
یہاں کوئی مارکیٹ نزدیک ہو تو چلیں آپ کے لیے کوئی تحفہ خرید لیں ۔ جدہ میں تو آپ کے والدین نے کچھ خریدنے کا موقع ہی نہیں دیا ۔۔۔
یہاں بھی وہ آپ کو کچھ خریدنے نہیں دیں گے۔ لاہور جا کے اپنی مرضی کا تحفہ ضرور لوں گی ۔
گھر پہنچے تو عثمان بڑی تیزی دکھا رہا تھا ۔ یہ لیجئے فاروق بھائی میں نے تو تمام پروگرام کی ٹکٹیں سب کی سب او کے کروا دی ہیں ۔ باقی ویزے لگوانے کا کام آپ کا ہے ۔ شادی کے کارڈ ز پریس والے کب دیں گے ؟ پہ بڑا زور ڈال کے پوچھ رہا تھا لیکن نظر للی پہ ٹکی ہوئی تھی ۔ للی کی مجبوری فہد کے سامنے کچھ نہ بولی اور صرف فاروق بھائی جان کہہ کے باورچی خانے کی جانب چل دی ۔۔۔ اے اے للی مجھے بھی ساتھ لے چل ، خدا قسم بھوک بہت لگی ہے ۔ ۔۔
باورچی خانہ سے عشائیہ کی تمام تیاریاںمکمل تھیں ۔ سب کو گھر میں موجود پا کر میز پہ کھانا لگا دیا گیا ۔ لذیذ کھانے اور گھر میں شادی کی رسومات شروع ہو چکی تھیں ۔ ہر کوئی قلیل وقت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا تھا ۔وقت اپنی ڈگر پہ چل رہا تھا ۔ شادی والے گھر کی زیبائش بھی شروع ہو گئی ۔ دوسری جانب نئے گھر کی آرائش بھی پایہ تکمیل تک پہنچ چکی تھی ۔
31 دسمبر 1975 ءشب ۹ بجے مہمانوں کا تانتا بندھا ۔اس شادی میں نیروبی کی شخصیات نے شرکت کی ۔ دس بجے نکاح کی رسم ادا ہوتے ہی کھانے کی لذتوں سے مہمان آشکارا ہو رہے تھے ۔ ٹھیک نصف شب نیا سال مبارک کے شادیانے بجے اور دوہری خوشی میں للی اور فہد اپنے نئے گھر کی جانب ایک نئی زندگی کی شروعات کے لیے رواں دواں ہو گئے ۔سیٹھ ہارون اور بیگم ثریا ہارون اپنی لاڈلی بیٹی للی کو وداع کرتے وقت آنکھوں میں نمی لیے افسردہ ہو گئے ۔عثمان شرارت کرنا بھول گیا ۔ فاروق اپنی ننھی سی بہن کی شکایتوں سے لبریز آواز کو ترسے گا ۔ گھر کے نوکر چاکر سب اس کا دم بھرتے تھے ۔ سب اس کی بات کومقدم رکھتے تھے ۔ عثمان سے نہ رہا گیا ۔ ابو میں بھی لاہور جاوں گا للی کے ساتھ۔۔۔ اس کی روہانسی شکل پہ ابوکو پیار آ گیا ۔ چلو ٹھیک ہے صبح اٹھتے ہی میری ، اپنی امی، فاروق اور اپنی ٹکٹیںمع ہوٹل اوکے کروا لو لیکن للی اور فہد کو اس کی خبر نہ ہو ۔ بیگم ثریا اپنے خاوند کے اس فیصلے پہ بہت خوش ہوئی اور فاروق تو دیکھتا ہی رہ گیا ۔ عثمان کے چہرے پہ پہلے سی رونق عود کر آئی ۔
شادی خانہ آبادی کے ابتدائیہ شب و روز زندگی بھر کی خوشیوں میں لپٹے گزرتے گئے ۔ نیروبی سے پاکستان کی فلائٹ میں سب کو یکجا ہمسفردیکھ کر للی اور فہد کی خوشیاں دوبالا ہو گئیں ۔ سفر کٹ گیا ۔ لاہور ہوائی اڈے پہ سلمی کے ساتھ جہانگیر کے خاندان نے فہد، للی اور اسکے اہلِ خانہ کا بھرپور استقبال کیا ۔ہوائی اڈے سے سیدھا انٹرکانٹ کا راستہ بھی طے ہو گیا ۔ وہیں پہ سلمی اور جہانگیر کی شادی کا پروگرام بھی ترتیب دیا گیا ۔
7جنوری بروز بدھ جہانگیر اور سلمی کی شادی سے فارغ ہو کر تمام لوگ لاہور اور اسلام آباد کی سیر و تفریح میں مصروف رہے ۔ 10 جنوری فہد، للی اور اہلِ خانہ لاہور سے نیروبی پہنچ گئے ۔ فہد کی مہینہ بھر کی چھٹیاں آنِ واحد گزر گئیں ۔ للی کو سعودیہ کا ویزا مل چکا تھا ۔ وہ وقت بھی آن پہنچا جب للی اور فہد کو نیروبی سے جدہ کی فلائٹ پہ الوداع کہنے والوں کی آنکھوں میں نمی کے اثرات نمودار ہوئے ۔ گھر کی لاڈلی للی اپنے ساتھی کے ہمراہ جا چکی تھی ۔فہد للی کو بڑے غور سے دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ لاہور انار کلی سے تحفہ کا وعدہ وہیں کا وہیں رہ گیا ۔ للی کے والدین نے سلمی اور جہانگیر کی شادی بڑی دھوم دھام سے کی ۔ یوں اس فریضہ سے سبکدوش ہو کر فہد اب للی کی تمام تر خوشیوں کے لیے خود کو نئی زندگی میں ڈھال رہا تھا ۔
الحدیبیہ فلیٹ میں للی نے اپنی مرضی کے مطابق بہت سی تبدیلیاں کیں ۔ اکبر اصغر اور انکے اہل و عیال نے للی کی ڈھارس بندھائے رکھی ۔ للی کو اپنے مختصر گھر میں مسرت و شادمانیاں میسر آئیں ۔ ازدواجی زندگی کے رخ نرالے ہوتے ہیں ۔ یک جان دو قالب میں ایک اور اضافت ہوتے ہی للی کو متلی سی ہوئی ۔ فہد گھر میں داخل ہوا تو للی کے چہرے پہ نگاہیں مرکوز کئے کچھ سمجھنے میں کوشاں تھا کہ للی نے پلکیں جھکا لیں ۔ فون کی گھنٹی بجھی تو فہد نے للی کوکہا فون سن لیں ، میں واش روم جا رہا ہوں ۔ ہیلو ۔۔۔نیروبی سے ماں اپنی للی سے ہمکلام تھی ۔ للی شرمائی لجائی سی بتا رہی تھی کہ اسے متلی سی ہو رہی ہے ۔ فہد کے کان میں ہلکی سی بھنک کیا پڑی وہ وہیں کا وہیں رک کے باتیں سنتا رہا ۔ ماں سب کچھ سمجھ گئی اور للی کو ہدایات دیتی رہی ۔ للی کے بدن میں ہلچل سی مچ گئی ۔ فون بند ہوا ہی تھا کہ فہد نے پیچھے سے للی کو بازووں کے حصار میںجکڑ چکر دینے شروع کر دیے ۔ رک جائیں ۔۔۔ میری طبیعت خراب ہو جائے گی ۔۔۔
ہاں تم درست کہہ رہی ہو ۔ اب اسی خوشی میں ہو جائے ایک تحفہ ۔۔ چلو البلد چلتے ہیں۔۔۔
نہیں ،تحفہ لاہور انار کلی سے ہی خریدوں گی ۔۔۔۔
چلو بتاو کیا چاہیئے، فون کرکے منگوا لیتا ہوں ۔۔۔
جی نہیں وہاں جا کر لوں گی۔۔۔ امی کہہ رہی تھیں نیروبی ۔۔۔۔
جی نہیں ، نیروبی نہیں ، یہاں جدہ میں میرے ساتھ رہو گی ۔ مارچ میں جہانگیر بھی سعودیہ پہنچ جائے گا ۔ سلمی کا ویزا بھی جلدلگ جائے گا ۔ یہیںکہیں نزدیک ہی ان کو بھی فلیٹ کرائے پہ لے دیں گے ۔ سلمی کے آنے تک اکبر اور اصغر کی بیویاں بھی تمہیں دیکھنے آتی رہیں گی ۔
للی کے جسم میں نئی روح داخل ہو چکی تھی ۔ ہر روز نیروبی سے تمام گھر والے بات چیت کرتے للی کی خوشیوں میں رنگ بھر رہے تھے ۔ عثمان سے بات کرتے ہوئے للی گھبرا جاتی تھی ۔ جہانگیر بھی سلمی کے ساتھ خوشگوار زندگی بسر کر رہا تھا ۔ ان کے ہاں بھی مہمان کی نوید سنتے ہی فہد اور للی بہت خوش ہوئے ۔ للی کے والدین دو بار پہلے بھی آ چکے تھے ۔ اس بار انہوں نے للی کو نیروبی ساتھ لے جانا مناسب سمجھا تو للی اور فہد ایک دوسرے پہ نظریں ٹکائے اک ٹک دیکھنے لگے ۔ ماں نے فہد کو سمجھایا کہ دو ماہ کی تو بات ہے ۔ للی میرے پاس ہو گی تو اس کا خیال زیادہ رکھا جائے گا ۔ ستمبر کے اوائل میں نیروبی آ جانا ۔ شب بھر فہد اور للی اپنے فیصل کی باتیں کرتے رہے ۔ فیصل ماں کے پیٹ میں اچھل کود میں خوشی کا اظہار کرتا رہا اور صبح ہو گئی ۔
نیروبی جا کر للی بوجھل بوجھل سی ہوئی لیکن فہد سے الگ ہونے کی مجبوری تھی ۔ ہر روز فون پہ بات ہوتی رہی ۔ سات ستمبر فہد پندرہ ایام کی چھٹیاں لے کر نیروبی پہنچ گیا ۔ 9 ستمبر 1976 ءللی نے ہسپتال میں فیصل کو جنم دیا ۔ زچہ بچہ دونوں صحت مند تھے ۔ نانی ، نانا، ماموں سب نئے مہمان کی آمد پہ بہت خوش تھے ۔ للی فیصل کے ننھے منے بدن کے انگ انگ کو فرطِ جذبات سے مس کر رہی تھی ۔ فہد نے سلمی کو فون پہ اطلاع دی ۔ پھوپھی پھولے نہ سما رہی تھی ۔ فیصل کو فہد نے جونہی اپنے بازووں کے جھولے میں لیکر دیکھا تو للی کی چاہت عروج پہ پہنچ گئی ۔ گھر کا ماحول فیصل کے کھلونوں سے رونق افروز ہو گیا ۔نانی تو واری واری جاتے ہوئے فیصل کو اٹھائے رکھتی ۔ اسے سعودیہ روانہ کرنا چاہتی ہی نہیں تھی لیکن للی کا لاڈلا تو اس کے ساتھ ہی جائے گا ۔ دو ہفتے گزر گئے ۔ فہد واپسی کا قصد کر بیٹھا تو بیگم ثریا نے للی کو دو ماہ تک میکے رکھنے کی ٹھان لی ۔ ان کے فیصلے پہ فہد واپس سعودیہ پہنچ گیا ۔فیصل کی تصاویر کا البم ہر کوئی دیکھ دیکھ خوشی کا اظہار کر رہا تھا ۔ فہد کے ساتھ ہر روز للی کی بات ہوتی تو فیصل کی ریں راں بھی سنائی دیتی ۔ نہ چاہتے ہوئے بھی کام پہ جاتے وقت فون کو قطع کرنا پڑتا تھا ۔ایک ایک لمحہ بالآخر گزر ہی گیا ۔ للی کے والدین اسے فہد کے پاس لے آئے ۔ دو ماہ کا مسکراہٹیں بکھیرتا فیصل ماں کی گود میں ہشاش بشاش ہر سو نظر دوڑاتا تو اس کی من موہنی صورت میں سب کو سکون ملتا ۔ پھوپھی نے فیصل کی تربیت میں شب و روز ایک کر دیے ۔ عثمان فون پہ فیصل کے ساتھ عجب عجب سی آوازیں نکال کر اس کی ہنسی میں تازگی بھرتا ۔ گھر کے تمام افراد باری باری للی سے پوچھتے کہ فیصل میں کون کون سی نئی شرارتیں عود کر آئی ہیں ۔
مارچ 1977 ءکے اوائل میں سلمی کے ہاں بھی بیٹے نے جنم لیا ۔للی نے جہانگیر کے بیٹے کا نام سلیم رکھا ۔ جون کی چھٹیوں میں سب یکجا پاکستان پہنچ گئے ۔ فہد نے ایک دن للی سے پوچھا کہ چلیں انار کلی اس تحفہ کا وعدہ پورا ہو جائے ۔ للی نے مسکان دیتے ہوئے فیصل کو سلمی کے حوالے کرکے ملائم ہونٹوں کی جنبش سے ہاں کہا اور وہ اس مقام پہ پہنچ گئے جسے بانو بازار کہا جاتا ہے ۔ ایک دکان کے سامنے رکتے ہوئے للی نے ست رنگی چوڑیوں کی فرمائش کی جو اسی لمحے پوری کر دی گئی ۔ ہاں اب بتاو اس تحفہ کے بارے میں ؟ ۔۔۔۔ یہی ست رنگی چوڑیاں ہی تو تھیں ، اب چلیں گھر ۔۔۔ کیوں مزید سیر نہیں کرنی کیا ؟ ۔۔ تو پھر فیصل کو بھی ساتھ لے آتے ناں ۔۔۔!! ہاں سمجھ گیا کہتے ہوئے فہد للی کو فوراً گھر واپس لے آیا ۔
اسلام آباد ،مری ، ایبٹ آباد ، گلگت ، کشمیر اور کراچی کی سیر و سیاحت سے واپس سعودیہ آتے ہوئے اگرچہ اداسی چھائی مگر جہاں رزق لکھا ہو وہاں جانا تو پڑتا ہے ۔ 15 اکتوبر1978ءللی نے بیٹی ثمینہ کو جنم دے کر فہد سے کہا کہ یہ لیں آپ کی گڑیا والی خواہش پوری ہو گئی ۔ فہدبیٹی کو سینے سے لگائے اس نعمتِ خداوندی پہ نازاں تھا ۔ دوسالہ فیصل اپنی بہن کی آمد پہ بہت خوش تھا ۔اب اس خاندان میں تین بچوں کی رونق اکبر اصغر کے بچوں کے ساتھ مزید مضبوط ہو گئی ۔ آئے دن کی پارٹیوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا ۔ پردیس میں ایک دوسرے سے میل ملاقات وطنِ عزیز جیسی طرزِ بود و باش اور اپنی روایات پہ قائم دائم رہنا بچوں کی اعلی تربیت میں شامل ہوتا گیا ۔ بچے توتلی توتلی زبان سے قدرے آگے نکلے تو ان کی تعلیم و تربیت میں سلمی اہم کردار ادا کر رہی تھی ۔ للی کے والدین سہ ماہی ،ششماہی چکر لگاتے ہوئے کئی بار کہہ بھی چکے تھے کہ مکمل سکونت نیروبی میں اختیار کر لو لیکن فہد اپنے کام پہ بہت خوش تھا ۔ ہر سال سب یکجا حج پہ جاتے ۔ عمرے کرتے اور خصوصی طور مدینہ منورہ جاتے ہوئے اس موقعہ کو غنیمت جان رہے تھے ۔ سعودیہ میں نوکری ان کے لیے خوش قسمتی ہی تو تھی ۔
فیصل کی تیسری اور ثمینہ کی پہلی سالگرہ بڑی دھوم دھام سے منائی جا چکی تھی ۔ اس بار سب اپنے بیوی بچوں سمیت ۸ ذی الحج ۹۹۳۱ ہجری بمطابق ۹۲ اکتوبر ۹۷۹۱ ءحج کی سعادت حاصل کرکے چالیس نمازوں اور زیارتوں کے لیے مدینہ المنورہ چلے گئے ۔ 9 نومبر 1979ءبروز جمعہ واپسی ہوئی ۔ 19 ذی الحج کا چاند بادلوں کی اوٹ سے آنکھ مچولی کھیل رہا تھا ۔ سڑکوں پر سفر پہ گامزن ڈرائیورز کبھی کبھار گاڑی پارکنگ میں لگا کر کھلی ہوا میں نیند کو کافور کرکے پھر سے متحرک ہو جاتے ۔ نصف شب تجاوز کرکے اپنے آخری پہر میں قدم رکھ چکی تھی ۔ للی کو اس بار حج میں بچے خود سنبھالنا پڑے کیونکہ سلمی اور جہانگیر مع سلیم پاکستان جا چکے تھے ۔ فیصل پچھلی سیٹ پر ماں کے ساتھ چمٹا نیند کی دیوی کے خوابوں میں لوریوں سے لطف اندوز ہو رہا تھا ۔ ثمینہ ماں کی گود میں کبھی کبھی ریں کی آواز نکالتی تو فہدفوری للی سے پوچھتا اسے بھوک تو نہیں لگی ۔ میں کارکھڑی کرتا ہوں ، اسے دودھ پلا لو ۔ ۔۔۔
آپ دھیان سے ڈرائیو کریں ۔ یہ تھکی ہوئی ہے ۔ گھر جا کر بستر پہ آرام کر لے گی ۔ فہد بیٹی کے آرام کی خاطر بڑی مستعدی سے سفر کر رہا تھا ۔ اکبر اور اصغر اس سے آگے تھے ۔ ایک جگہ انہوں نے اشارے لگا کر فہد کا انتظار کیا ۔ فہد نے بھی کار روک لی ۔ صبح کے تین بجے کا عالم تھا ۔ جدہ کی حدود میں داخل ہونے سے قبل ہر ایک نے سب کو حج مبروک کے عمدہ الفاظ سے نوازا ۔ یہاں سے ان کی منازل منقسم ہو گئیں ۔
دس نومبر کی صبح کاذب شروع ہونے والی تھی ۔ گہرے بادلوں نے چاند کو چھپا رکھا تھا ۔ الشرفیہ کا علاقہ خاموشی کا لبادہ اوڑھے کسی سنسان بستی کا روپ دھارے ہوئے تھا ۔ وہ چاند کا ہالہ جو سفر کے دوران دکھائی دے رہا تھا سرے سے غائب تھا ۔ سترہ ایام گھر سے دور بچوں کے لیے بیشک تھکاوٹ کا موجب بنے لیکن سب کے سب حجاج کرام میں اپنا پانچواں فریضہ پورا کرکے واپس لوٹ رہے تھے ۔ ننھی ثمینہ کے اس بار رونے پر للی نے اسے پیار کرتے ہوئے بتایا کہ گھر نزدیک آ گیا ہے ۔ فہد نے کار سڑک پہ پارک کی ۔ اسے بحیثیت انجنئیر اس بات پہ سخت غصہ بھی آ رہا تھاکہ اس علاقے میں ابھی تک بڑی بڑی رہائشی عمارتوں کے نیچے سیوریج سسٹم کی بجائے کار پارکنگ ہونی چاہیے تھی ۔ سوتے بچوں کو نیند سے بیدار کرکے کار سے باہر وہ لے تو آئے لیکن فیصل نیند میں ہی چل رہا تھا ۔ اندھیرے میں پاوں کہیں کا کہیں پڑ رہا تھا ۔ للی نے ثمینہ فہد کو دے کر فوری فیصل کو انگلی لگانا چاہا تو وہ اچانک کہیںغائب ہو گیا ۔ ۔۔۔ فیصل ۔۔۔ فیصل ۔۔۔ کی گھمبیر آواز نکالتے ہوئے ماں کی ممتا تڑپ اٹھی ۔ پاوں عمارت کے زمین دوز گٹر کے لوہے کے ڈھکن سے ٹکرایا تو خدشات ابھرے ۔ فہد ،فہد ۔۔فیصل اس گٹر میں گر گیا ہے ۔ فہد نے ثمینہ للی کے حوالے کی اور گٹر میں کود گیا ۔ للی کی چیخ و پکار سے ماحول افسردہ ہو گیا ۔ محلہ والے جوق در جوق آتے گئے لیکن سب بے سود تھا ۔باپ بیٹا موت کے منہ میں جا چکے تھے ۔ پولیس آئی ۔اکبر اصغر اور اہلِ خانہ سب آئے ۔ غوطہ خوروں نے متواتر کوشش کرکے لاشیں باہر نکالیں ۔ للی بالکل ساکت آنکھوں کی پتلیاں جھپکائے بغیر کسی گہری کھائی میں سوچوں کے منجھار میں پھنسی کسی اور منزل کا تعین کیے ہوئے تھی ۔ اسے اب کسی دلاسے کی ضرورت نہیں تھی ۔ وہ ڈرائیور جو کچھ دیر پہلے گندگی بھر کر پہلے ہی پھیرے میں ڈھکنا لگانا بھول گیا دو زندگیوں کا قاتل تھا ۔ اسے پولیس نے گھیرے میں لے لیا ۔ اس کی نا اہلی کی سزا اسے ملے گی ۔ افریقی ڈرائیور ہاتھ باندھے معافی مانگ رہا تھا کہ اس نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا ۔ وہ اپنی اولاد کی خاطر یہاں روزی کمانے آیا ہے کسی کی جان لینے نہیں ۔۔ للی موت کے فرشتے سے ناراض تھی ۔۔ وہ چلا اٹھی اس ڈرائیور کو میں نے معاف کیا لیکن یہاں کا نظام بدلیں ۔وہ گھر میں داخل ہوئی ۔ فیصل اور فہد کی تصاویر کا البم ساتھ لیے اپنے گھر کے قریبی ہوائی اڈے پہ پہنچی۔ فہد اور فیصل کی پاکستان پروازکا سارا انتظام کیا ۔ اکبر نے نیروبی فون کرنے کے لیے ابھی ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ للی نے منع کر دیا ۔ نیروبی کی فلائٹ کے لیے ٹکٹ او کے کروا کر ہسپتال کی راہ لی ۔
اکبر ، اصغر اور اہلِ خانہ سب محلہ والے اس حادثہ پہ ماتم کناں تھے ۔ للی ایک بار پھر اپنے خیالات میں کھوئی سب سے الگ تھلگ نظر آ رہی تھی ۔ اس کے سوچنے کے انداز میں کسی آنسو کا عمل دخل نہیں تھا ۔ کوئی بھی اس کی اس ہذیانی کیفیت کا مداوا نہ کر سکا ۔ بیٹی ثمینہ بھی رونا بھول چکی تھی ۔آسمان کی بلندیوں میں جانے سے پہلے اس نے گرد و نواح کا جائزہ لیا ۔ لاونج میں اسے ایسی انجانی حالت میں ہر کوئی دیکھ رہا تھا لیکن وہ ثمینہ کو انگلی لگائے چند قدم چل کے ایکدم رک گئی ۔ بیٹی کو معاً گلے لگا کے جہاز میں بیٹھے نزدیکی سیٹوں پہ فہد اور فیصل کو نہ پا کر پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی ۔ جہاز کی کھڑکی سے باہر نظر پڑی ۔ پی آئی اے کی پرواز کے ابتدائیہ نے فہد اور فیصل کو اس سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا کر دیا تھا ۔ کینیا ائیر وے نیروبی کی فلائٹ بھی متحرک ہوئی ۔ دونوں آنکھوں سے گرم لاوا بہہ نکلا ۔حسین یادیں تلخیوںکی نذر ہو گئیں ۔ جدائی کے ان لمحات میں ہونٹ کپکپائے ۔۔۔
،، فہد ! فیصل کو تمہارے ساتھ روانہ کر رہی ہوں اور تمہاری پیاری بیٹی ثمینہ کو اپنے ساتھ لے جا رہی ہوں ۔۔ الوداع ،،

اپنا تبصرہ بھیجیں