ناولٹ ،، پلیٹ فارم ٹکٹ ،، از قلم بشیر شاد

افسانہ ،، پلیٹ فارم ٹکٹ ،، ناول،، دوریاں ،،سے ماخوذ ہے
افسانہ نگار : چوہدری محمد بشیر شاد ایتھنز یونان
بخدا مریم میں نے مسرت کے کان میں کچھ نہیں کہا ۔
والدین جب دوسرے والدین سے ملتے ہیں تو نتیجہ کیا نکلتا ہے ۔ ہونہہ ، اب سمجھی ۔۔۔
مریم تم بہت شرارتی ہوتی جا رہی ہو ۔۔۔۔
میری شرارت سے اگر وحید کا کام ہو سکتا ہے تو پھر دوستی کا حق نبھایا ہے میں نے ۔۔۔
یہ تو جمعہ کی شب پتہ چلے گا اور بہت ممکن ہے ہفتہ کی صبح ہماری قسمت کا فیصلہ ہو جائے ۔۔
چلیئے جناب آپ دن شمار کرنا شروع کر دیں اور ہم چلتے ہیں ڈیوٹی پر ۔۔۔
رکو رکو ، مریم فون بند نہیں کرنا ۔۔
ہاں کہو ۔بھئی جلدی کہو ناں ۔۔۔
وہ کلثوم کے بارے پوچھنا تھا ۔ کیا حال ہے اس کا ؟ کچھ فرق پڑا یا ویسے کی ویسی ہے ۔۔۔
خدا کے بندے کبھی خود بھی جا کر حال احوال پوچھ لیا کرو ۔اب مزید باتوں کا وقت نہیں ہے ۔،ڈیوٹی از ڈیوٹی کہہ کر فون منقطع کر دیا ۔
وحید نے دفتر کے کاموں میں خود کو مصروف کرنے کی از حد کوشش کی لیکن خیال تھا وہیں ٹکا ہوا ، کیا مجال جو دھیان کسی اور طرف راغب ہوتا ۔دفتر کے اوقات کار ختم ہوئے تو وہ شکر پڑیاں کی جانب چل نکلا ۔ اونچائی سے اسلام آباد کا نظارہ بے حد خوبصورت اور دلکش لگ رہا تھا ۔حدِ نگاہ ہریاول ہی ہریاول آنکھوں کو بھا رہی تھی ۔اس پر فضا مقام پر یادوں کی بارات مزید ابھرتی تصاویر منعکس کر رہی تھیں ۔کتنی گھڑیاںاور گننی پڑتیں اگر مسرت کا ساتھ نہ ہوتا ۔تلاشِ بسیار میں تنہا زندگی کہاں کٹتی ۔دم توڑتی آہیں دل کے نہاں خانوں میں سسک سسک کر آتش فشاں برپا کرتی رہتیں تو مسرت کے نام سے روشناس کہاں ہوتا ۔آسمان پہ جھلملاتے ستارے چاند کی رعنائی سے منور ہوتے ہیں ۔سورج کی کرنیں معدودے چند اپنا تاثر شفق کی صورت میں مدغم کرنے کی آخری سعی کر رہی تھیں۔یادوں کے اس طرح کے ہیولے اس کی چاہتوں میں پنہاں ہو کر سرخیِ شفق میں مزید اضافے کا باعث بنے ہوئے تھے ۔وہ کیسے اور کس طرح بقیہ ایام کے لمحات سے برسرِ پیکار رہے گا ، اس کی سمجھ سے بالا تر تھا ۔وحید نے شکر پڑیاں کے راستے ناپے اور شکرپڑیاں سے زیرو پوائنٹ سے بس میں سوار ہو کر خود کو سفر میں سمو لیا ۔منزل تک پہنچتے پہنچتے کتنے خیالات سے واسطہ پڑا ، یہ سب کچھ اس کا دل جانتا تھا ۔
دن رات میں ڈھل جاتے ہیں اور ہفتے مہینوں میں جن کا انتظار بہت جانگسل ہوتا ہے۔ وحید سوچوں میں مستغرق رہا ۔۔۔۔ اس وقت یقیناً والدین مسرت کے گھر جا چکے ہوں گے ۔کیا فیصلہ ہوا ہو گا ، وہ پر لگا کر وہاں پہنچنا چاہتا تھا ۔جمعہ کی پوری شب بیت گئی اور وہ سو نہ سکا ۔دفتر میں بھی مسرت کے فون کا شدت سے انتظار رہا ۔ہر بار فون کی گھنٹی بجتی اور بات کسی اور کی چل نکلتی ۔تھکا ہارا وحید گھر جانے کی بجائے بس میں سوار اپنے گاوں چلا گیا ۔ والدین کو دیکھتے ہی ملے جلے اثرات عود کر آئے ۔نجانے کون سا رخ اس کی قسمت کا فیصلہ کرے گا ۔ماں نے فوراً اپنے بیٹے کی بلائیں لیں اور ایک وحید تھا خوشخبری سننے کے لیے بیتاب تھا ۔ماں نے انتہائی کرب سے اس سفر کی داستان سنائی جس میں وحید کی منگنی کا تذکرہ تھا ۔ماں کہتی گئی اور وحید بت بنا سنتا رہا ۔
بیٹے وحید کیا بات ہے تم پریشان کیوں ہو گئے ہو ۔۔۔۔
نہیں ابا جان میں والدین کے ہوتے ہوئے پریشان کیوں ہونے لگا ۔
بیٹے وحید بات دراصل یہ ہے کہ جوڑے آسمانوں پہ بنائے جاتے ہیں اور جو نصیب میں لکھا ہو وہ مل جاتا ہے ۔ہم تو تمہارے کہنے پر وہاں گئے لیکن مسرت کے گھر والے وہاں موجود نہ تھے ۔ہمسایوں سے پوچھا تو پتہ چلا کہ وہ کسی مرگ پہ جا چکے ہیں ۔اس طرح رات کے اندھیروں میں ہمسایوں کی درخواست پر ان کے گھر رہنا پڑا ۔ہم تو اسی سوچ میں سرگرداں رہے کہ ممکن ہے وہ رات گئے تک گھر لوٹ آئیں گے ، لیکن وہ نہیں آئے ۔تمہاری والدہ سے گفت و شنید جاری رہی ۔ جن کے ہاں ہم ٹھہرے ہوئے تھے وہاںاس بیوہ عورت نے ہماری بہت خدمت کی ۔ ان کے ہاں ایک جوان بیٹی جو صوم و صلواة کی پابند دیکھی تو ایک الجھن میں پڑ گیا ۔شاید اس کی وجہ کچھ ایسی تھی کہ میرے دل میں ایک ایسا گوشہ جاگ اٹھا جو صرف اور صرف رات بھر ہی سوچ برپا کیے ہوئے تھا ۔میری سوچ کے دائرے ایک ہی نقطہ پہ اٹک گئے کہ کس طرح میں ان کی حسرتوں کو مٹا کر انہیں خوشیاں دے سکوں ۔ایک طرف ثواب کا کام تھا اور دوسری جانب تمہارا چہرہ بھی میرے روبرو تھا ۔الصبح ماں بیٹی کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھ کر پھر سے میری سوچوں کے دائرے سمٹ کر رہ گئے ۔میں چند ثانیے منگنی کی انگوٹھی کو دیکھتا رہا ۔ تمہاری والدہ نے اس کی وجہ پوچھی بھی لیکن میری سماعت اور بصیرت کے خول میں یہی سوچ برقرار رہی ۔میں نے اٹھ کر از خود منگنی کی انگوٹھی اس بیٹی کی انگشت میں پہنا کر منگنی کا اعلان کر دیا ۔بس یہی کچھ ہونا تھا اور وہ ہو گیا ۔مبارکباد کے الفاظ اس ماں کی تمام تر خوشیوں کا مرقع بن گئے ۔وہ تمام دکھ درد بھول گئی اور اپنی بیٹی کی قسمت پہ فخر کرنے لگی ۔ارد گرد کے ہمسایوں نے اچانک اس فیصلے پر انتہائی مبارکباد ہمیں دی ۔ تمہاری زندگی کے فیصلے میں میرا جو بھی کردار رہا وہ ایک باپ کی حیثیت کو برقرار رکھے ہوئے تھا ۔میری سوچ اس منزل کی جانب رواں دواں ہو گئی جہاں کے راستوں کا نہ کسی کو پہلے پتہ تھا اور نہ معلوم مزید کیا ہوگا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کچھ ہوا وہ قدرت کے فیصلوں کی ایک کڑی تھی ۔بیٹا مجھے قوی امید ہے کہ تم اپنے باپ کی اس روش پر ضرور چل نکلو گے ۔ اسے باپ کا نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ فیصلہ سمجھ کے قبول کر لینا
ماں بیٹے کے چہرے کے تغیرات بغور دیکھ رہی تھی ۔اس کے اتار چڑھاو میں تناو آ چکا تھا ۔رنگ بدلے ضرور لیکن کوئی آہ ، کوئی سسکی اور کوئی انکار کا لفظ ہونٹوں پہ نہ آیا ۔
ماں میں ڈیوٹی پہ واپس جانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔
لیکن بیٹے کچھ بتایا نہیں تم نے ۔۔۔۔
میں کیا کہہ سکتا ہوں ابا حضور ۔میری زندگی کا فیصلہ جب آپ نے کر ہی دیا ہے تو ایک ہونہار بیٹے کا یہ کام نہیں اس سے انکار کرکے کوئی اور راستہ اختیار کر لے ۔میں آپ کی ہر ایک بات پہ مکمل سوچ بچارکر چکا ہوں اورہر بات آپ کی مرضی کے عین مطابق ہو گی ۔مجھے اس وقت صرف اجازت دیں کیونکہ صبح مجھے بہت سے کام کرنے ہیں ۔
صبح تو چھٹی ہے بیٹے رات ہمارے ساتھ گزار لو ، کل شام واپس چلے جانا ۔
امی جان میں آپ کی بات کسی طرح بھی ٹالنے کا اہل نہیں ہوں لیکن اگر آپ دونوں مجھے اس وقت جانے دیں تو بہت ممکن ہے میں اپنے رہے سہے خیالات کا دھارا منجمد کر سکوں ۔
چلو آو مل بیٹھ کے کھانا کھا لیتے ہیں ، پھر چلے جانا ۔
ابا جان میں نے کہہ دیا ناں مجھے بھوک نہیں اور میری واپسی میںہی عافیت ہے ۔نجانے کیوں میں آج آپ سے بار بار درخواست کیے جارہا ہوں ۔
چلو بیٹے جیسے تمہاری مرضی ، لیکن وہ لوگ بھی منگنی کی انگوٹھی پہنانے آ رہے ہیں۔ اگلے اتوار کا دن موزوں رہے گا ۔۔۔
جیسے آپ کی مرضی ابا جان میں اگلے اتوار آ جاوں گا ۔
وحید لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا وہ منزلیں دیکھ رہا تھا جس کی تمنا اس نے کبھی کی نہیں تھی ۔کیا سے کیا کچھ ہو جاتا ہے اور کیوں ہو جاتا ہے کس پہ گلہ کریں ۔شکوے کی گنجائش باقی رہ نہیں گئی ۔ دل کی تمام امنگیں اپنے خون میں نہائی سورج کی کرنوں میں اپنی تمازت کھو رہی تھیں ۔وہ ماضی سب کچھ بیکار سی بات تھی ، ماضی کے جھروکوں میں خود کو سموے وہ اسقدر ٹوٹ پھوٹ چکا تھا کہ کسی کو اندازہ نہ ہوا ۔اندرونی حالات چہرے کے غماز ہوتے ہیں ۔وہ مسرت سے کیسے ملے گا ۔آیا مسرت کو اس منگنی کی خبر ہو گئی ہو گی یا نہیں ۔رات کے اندھیروں نے اس کے مستقبل کو تاریک بنا دیا تھا ۔روشنی کی کوئی کرن باقی نہ بچی تھی ۔بس کا سفر دھیرے دھیرے اپنے اختتام کو پہنچ رہا تھا ۔منزلوں کے راہی جدا ہو رہے تھے ۔ہر ایک کی اپنی ایک پہچان تھی لیکن وحید کی پہچان کون بننے والا ہے ۔اسے کوئی خبر نہیں ۔ وہ مکڑی کے جال میں الجھتا گیا ۔راولپنڈی واپس آتے آتے وہ دروازے بند ہو چکے تھے جہاں سے اس کے دردِ دل کی دوا مل سکتی تھی ۔وہ فیصلے جو اس کے دل کی ترجمانی کر سکیں مقصود تھے ۔وقت کی سوئیاں ملاقات کی حدود پار کر چکی تھیں ۔وحید کو کسی پل چین نصیب نہیں ہو رہا تھا ۔منزل کے قریب پہنچ کر راہیں مسدود ہو گئیں ۔وہ روشنی مدھم ہو گئی جس سے راستوں کا تعین کیا جا رہا تھا ۔رات تو گذر ہی جائے گی لیکن کل کس کا ہو گا ۔ملاقات میں کیا معاملات زیرِ بحث آئیں گے ۔وہ کس منہ سے مسرت کو بتائے گا کہ زندگی کے راستے کیسے جدا ہوئے ۔وہ کیسے ثابت کرے گا کہ یہ فیصلہ اس کا ہرگز نہیں تھا ۔مسرت کے ہمسایوں کے ہاں والدین کا جانا ایک حادثہ ہی تو تھا ۔نہ مسرت کے والدین اچانک گھر سے جاتے اور نہ یہ معاملہ رونما ہوتا ۔وحید شاعری کے اس مقام پہ پہنچ گیا جہاںزخمِ دل رستے رستے محرک ہو جاتے ہیں ۔وہ اپنی بے چینی کی حالت کو انگلیوں کی حرکات و سکنات میں لے گیا ۔صفحات پر کرتے کرتے وہ پھر سے ہونے والے ظلم پہ نظر ڈالتا تو دل تڑپ کے رہ جاتا ۔وہ خول جس میں رنج و الم کے سوتے ابھر کے سامنے آ گئے تھے وہ اس قابل نہ رہا کہ اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہو سکتا ۔شبِ کامل تحاریر لکھ لکھ کے قطع کرتا رہا ۔کسی کروٹ چین اس کی بساط سے باہر تھا ۔زندگی اس ڈگر پہ چل نکلے گی کہ اپنے پرائے ہو جائیں گے ، اس پہلو پہ سوچتے سوچتے اسے گھٹن سی محسوس ہونے لگی ۔فیصلے اس کی امنگوں سے باہر ہو جائیں گے۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس کے والدین ہی اس کی پریشانی کا موجب بنیں گے ۔نہیں ہرگز نہیں ۔وہ ماں جو ساری زندگی اپنے بچے کی خوشیوں کے لیے وقف کر دیتی ہے ۔ وہ والد جو اپنے تنہا لختِ جگرکے لیے لمحہ لمحہ گنتا رہا ۔ خوشگوار مستقبل کی دعائیں دیتا رہا کیسے ایسا فیصلہ کر سکتا تھا ۔یہ آناً فاناً جو افتاد ٹوٹ پڑی ہے اس کا کوئی مداوا نہیں ۔وہ خواہش جو وحید کی تمنا تھی اور اس پر مسرت کے اظہار کا والہانہ جائزہ زندگی کو کس قدر شادماں بنا گیا تھا ۔کسی نظرِ بد کی بھینٹ چڑھ گیا ۔شب بھر وہ امید و یاس میں الجھتا رہا ۔ اکتا کر وہ اونچی اونچی دھاڑیں مار کر رونا چاہتا تھا لیکن کمرے کی ساخت اس کی آواز کو ہر طرف وا کیے ناموسِ محبت کی دھجیاں بکھیر رہی تھی ۔وہ اپنی محبت کی پاسبانی کیے اندر ہی اندر کھولتا رہا ۔اس ماحول میں تنہائی سے دوستی کا تقاضا اس کی اشد ضرورت تھی ۔یادوں کے دبیز پردوں میں مبین کا مسکراتا چہرہ نمودار ہوا ۔والہانہ پیار کرتا ہوا انمول قہقہہ جو قصہِ جانگسل سے بالکل نابلد تھا تنہائیوں کے مد و جذر میں جذب ہو کے رہ گیا ۔مریم کی اختراحِ جدید ہتھوڑے برسانے لگی ۔وہ کس کس کو جواب دے ۔یہ سب معاملے کی تہہ تک کیوں نہیں پہنچتے ۔اسے کیوں قصور وار ٹھہرایا جا رہا ہے ۔ یہ فیصلے گر آسمان پہ لکھے جاتے ہیں تو پھر وہ کون ہے ان سے منحرف ہونے والا ۔جو بات بساط سے باہر ہو اسے کس قوت سے تبدیل کیا جائے ۔قدرتی نظام کے خول سے ہم جیسے کیسے تجاوز کر سکتے ہیں جن کا آج کوئی پرسانِ حال نہ ہو ۔
وہ تنہا رہ گیا ہے ، بالکل تنہا ۔ہمکلامی کے دور میں وہ رات کے آخری پہر کی مسافت طے کر رہا تھا ۔صبح کاذب کی وہ گھڑیاں جو اس کے چہرے کی پشیمانیوں کو کافی حد تک ناتواں بنا چکی تھیں آنکھوں کی پتلیوں میں جم کے رہ گئیں ۔
ماتم کناں خاموشیوں کی باز گشت سنگلاخ پہاڑوں سے چوٹیوں سے ٹکرا کے وہیں کی ہو کے رہ جاتی ہے ۔وقت کے متحرک پہیے کسی کی آہ و زاری کو کیا تقویت دے سکتے ہیں ۔شب بھر مایوسی کا عالم اور سرد جنگ کی بھینٹ چڑھنے والا وحید لاشعوری طور پر ان راہوں کی جانب چل نکلا جہاں پر کسی کی شکایت کا لبادہ اسی کے جسم پہ پہنایا جائے گا ۔ہاسٹل تک پہنچنے والے قدم دروازے پر جامد ہو گئے ۔بابا چوکیدار نے بتایا کہ مریم اور مسرت گزرے کل یہاں سے جا چکی ہیں ۔مریم کی تبدیلی ایبٹ آباد اور مسرت نے اپنی خواہش سے کوئٹہ کا راستہ ناپا ہے ۔کوئٹہ لیکن کیوں کے الفاظ لبوں کی تھرتھراہٹ میں اپنا دم توڑ گئے ۔وہ اپنے دل کی حالت پہ قابو نہ پا سکے گا ۔وہیں سے پلٹا اور انجان راہوں کی بے ترتیبی میں کھو گیا ۔بابا چوکیدار اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا کیونکہ اس نے بہت سارے ایسے قصے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہوئے تھے ۔ایک عرصہ سے وہ اس گیٹ کی چوکیداری پہ مامور تھا ۔ بہت سی داستانیں جنم لیتی اذیتیں دیتی ناپائیدار وعود سب کچھ اس کے سامنے ہوتا رہا ہے ۔وحید کی حالت ان سب سے الگ تھی ۔وہ ایک لفظ تک نہ بول سکا اور چہرے کے تاثرات میں نبرد آزما مختلف حصوں میں بٹا ہوا انسان خود کو یکجا ہونے سے نہ بچا سکا ۔چاہت کے پرستار بکھر گئے ۔ان کا سفر ، ان کی منزل ، ان کے خیالات ، بے ریا محبت اور مستقبل کے خواب سب چکنا چور ہو گئے ۔بابا چوکیدار اندر ہی اندر پس کے رہ گیا ۔اس کے کانوں میں میڈم کی آواز ابھری ۔۔۔ بابا دروازہ بند کیوں نہیں کرتے ؟یہ وہ سوال تھا جو بند دروازوں پہ مزید قفل لگانے کا حکم صادر کر رہا تھا ۔
وحید کی امیدوں میں کوئی جاذبیت نہ رہی ۔ایک انجانے فرد کو زندگی کا ساتھی بنایا جا رہا تھا ۔اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا ۔ دل کے گوشے کسی طرح بھی اس فیصلے کو قبول نہیں کر رہے تھے ۔وہ فون کے دفتر پہنچ کر مبین سے اپنے دل کی بات کرنا چاہتا تھا ۔فون کیا تو وہ بھی برابر مصروف جا رہا تھا ۔وقت کسی طرح بھی کٹ نہیں رہا تھا ۔ لاہور مسرت کے ہاں پہلی ہی جست میں فون مل گیا ۔ مسرت کی ماں بڑے مثبت انداز میں ہیلو کہہ رہی تھی لیکن اس ہیلو کا جواب وحید کے پاس نہیں تھا ۔وہ کیا جواب دیتا ۔فون قطع کرکے پھر سے لندن کال ملائی ۔اس بار وہ کامیاب ہو گیا ۔ فون اٹھانے والا مبین ہی تھا ۔ہاں بولیں کس سے بات کرنے تھی۔۔۔۔۔ مبین وحید کی آواز نہیں پہچانتے کیا ؟ ۔۔۔
بولو خوب بولو دلہا میاں آج تمہارا وقت ہے ۔ دنیا جہاں کی خوشیاں تم نے لوٹ لی ہیں ۔کتنے خوش قسمت ہو تمہیں تمہارا پیار مل رہا ہے ۔ارے پگلے دنیا میں خوش نصیبی کے ابواب بہت کم لوگوں کے حصے میں آتے ہیں ۔کہو ٹھیک کہہ رہا ہوں ناں میں ۔۔۔ بھئی کہاں گم ہو گئے ہو ۔ بولتے کیوں نہیں ؟یہ میرے کانوں میں سسکیاں سی در کر آئی ہیں ۔۔۔ میں خوب سمجھتا ہوں ۔ خوشی کے آنسو ہیں نکلیں گے تو سہی ۔
مبین سب کچھ تباہ ہو گیا ۔۔۔
یار کیا ڈرامہ کر رہے ہو ۔ایسے تباہی کے الفاظ تمہارے منہ سے اچھے نہیں لگتے ۔۔۔
بالکل سچ کہہ رہا ہوں مبین ۔۔۔
کیا سچ اور کیا جھوٹ ہے ، کچھ بتاو گے تو پتہ چلے گا ناں ۔۔۔
لیکن میری منگنی مسرت کے ساتھ نہیں کسی اور کے ساتھ ہو رہی ہے ۔۔
یہ کیا مذاق ہے وحید ہوش کے ناخن لو ۔۔۔
بخدا میں مذاق نہیں کر رہا ۔
اس کی وجہ بتاو گے ۔مسرت کے والدین نے انکار کیا یا مسرت کا ارداہ بدل گیا ۔۔۔
ان میں سے کوئی بھی ایسی بات نہیں ہوئی ۔ ہم میں سے کوئی بھی اپنے وعدوں سے منحرف نہیں ہوا ۔ ۔۔۔ اگر کوئی اس معاملہ میں حائل ہوا ہے تو وہ ایک اٹل فیصلہ ہے جو میرے والدِ محترم کسی کے ہاں کر آئے ہیں ۔مجھ میں اتنی جرات کہاں کہ والدین کے فیصلوں کو منسوخ کرکے اپنی الگ راہ متعین کر لوں ۔میں تھوڑی دیر پہلے ہاسٹل بھی گیا تھا ۔ مریم ایبٹ آباد جا چکی ہے اور مسرت نے اپنی مرضی سے کوئٹہ کی راہ اختیار کی ہے ۔ غالباً دونوں اپنی اپنی ڈیوٹیاں سنبھالے ہم سے راہِ فرار کی کوشش میں کامیاب ہو چکی ہیں ۔
کیا تمہاری منگنی کا ان دونوں کو پتہ ہے ؟
ان کو خبر ہے تو انہوں نے مجھے بتائے بغیر اپنے اپنے راستے جدا کر لیے ہیں ۔۔۔
یار وحید تم پھر سے والدہ سے مشورہ کرکے بات چلا کے دیکھو ۔
تمہارا مقصد ہے کہ میں والد ِ محترم کی بات پر قائم نہ رہوں ۔میں ان کو کیا بتا سکتا ہوں جو فیصلہ کرتے وقت کارِ ثواب پہ چل نکلے ہیں ۔فرمانبرداری کے لفظ کو کیسے پامال کر دوں ۔انہوں نے ساری زندگی مجھ پہ لگا دی ہے ۔ آج ان کی زبان کی پاسداری اگر میں نہ کر سکا تو اور کون کرے گا ۔عجیب جھنجھٹ میں پھنس گیا ہوں ۔۔۔۔۔
تو پھر چھوڑ دو سوچنا اور خاموشیوں کے جال میں زندہ رہنے کی اہلیت پیدا کر لو ۔صبر کا پیمانہ لبریز ہونے سے بچاو ورنہ زندگی اجیرن ہو جائے گی ۔
تمہاری اس حوصلہ افزائی کا شکریہ مبین ، مجھے اس وقت تمہاری شدت سے کمی محسوس ہو رہی ہے ۔ اے کاش تم اس وقت یہاں ہوتے تو ممکن تھا ایسا نہ ہو پاتا ۔ کہو پڑھائی کیسے جا رہی ہے ۔
کوشش تو بہت کر رہاں ہوں کہ وقت ضائع کیے بغیر پڑھائی مکمل کرکے اپنے وطن واپس آ جاوں ۔ دیکھو وحید تم حوصلہ سے کام لو ۔ میں ان نازک لمحات میں فقط اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ تمہارے جیسے فرمانبردار نوجوان اپنی زندگی داو پر لگا کر والدین کی عزت و وقار کو برقرار رکھتے ہیں ۔مریم نے اگر مجھے فون کیا تو معاملہ کی جانچ پڑتال کرکے تمہیں بتاوں گا ۔۔
اچھا مبین اب نہ چاہتے ہوئے بھی میں فون بند کرنے لگا ہوں ۔ یہاں سے کدھر جاوں گا ، اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا ۔ اللہ نگہبان ۔
فون کا بل ادا کرتے ہی وہ ٹیکسی میں سوار بس اڈہ کی جانب چل نکلا ۔ پشاور جانے والی بس سفر پہ جانے کے لیے بالکل تیار تھی ۔ وہ سوچے سمجھے بغیر اس پہ سوار ہو گیا ۔صفدر بھائی ، بھابھی اور بچوں کے ساتھ پورا دن گزاروں گا ۔ اپنے دل کی بھڑاس نکالوں گا شاید من کو راحت و سکوں میسر آ سکے ۔لاہور جانے والی بس پہ بھی نظر پڑی لیکن سوائے شرمندگی کے کوئی اور چارہِ کار نہ تھا ۔خاموشی کی مہر زبان پہ لگ چکی تھی ۔کسقدر بھیانک تصورات میں اس کی تمام تر خوشیاں دفن ہو چکی تھیں ۔دوریاں اس کا مقدر بنیں گی اس کا تصور اس نے کبھی کیا نہیں تھا ۔انسان اپنے فیصلوں میں کتنا بے بس ہے اور تا مرگ رہے گا ۔یہ سلگتی آگ ساری زندگی اس کا حصہ بنی رہے گی ۔پہاڑیوں کا نیم طویل سلسلہ شروع ہو چکا تھا ۔وہ ان کی تراش میں خود کو سمونے کی سعی کر رہا تھا ۔مخروطی اٹھان والی پہاڑیاں قدرتی رنگوں میں اپنا عکس سورج کی شعاعوں میں مدغم کرکے دلکش نظاروں کا مرقع بنی ہوئی تھیں ۔کہیں کہیں جھلسے پہاڑوں کی مشابہت اس کے اپنے بدن سے مماثلت کرتی ہوئی وہ تصویر پیش کر رہی تھی جو اداسیوں کی ترجمان ہو ۔ بے آب و گیاہ ریگستانوں کے سلسلے بھی اس کی آوارگی کے متمنی نظر آ رہے تھے ۔پہاڑوں کی چٹانوں پر سبزے کا نہ ہونا رنج و الم کی حالتوں کی عکاسی تھی ۔وہ خود کو ایسی ہی مشکلات کا حامل سمجھ رہا تھا ۔کسے کیا ملے گا اس کا اندازہ کوئی انسان نہیں لگا سکتا ۔ پیدا کرنے والا ہی بہتر جان سکتا ہے کہ جوڑے کیسے ترتیب دیے جاتے ہیں ۔غالباً اٹک کا پل قریب تھا ۔ ہر مسافر خود کا محاسبہ کر رہا تھا ۔آتے جاتے ہونے والی چیکنگ میں نجانے کیا بہتری کے نتائج اخذ ہوتے تھے، اسے سیکورٹی والے بہتر جانتے تھے ۔وحید کو تو ایسے لگ رہا تھا کہ اپنے ہی ملک میں ہر فرد کی چیکنگ ایسے ہو رہی ہے جیسے کسی اور حدود میں داخل ہو رہا ہو ۔ہر ایک کے سامان کو الٹ پلٹ کر دیکھنا ، آخر کس لیے ؟وحید کے پاس تو سامان بھی کوئی نہیں تھا۔ وہ لٹا پٹا ایسا مسافر تھا جو اپنی زندگی کی تمام تر پونجی اپنے ہی ہاتھوں سے تباہ کر چکا تھا ۔اس کی چیکنگ کیسی ۔ بس رکی اور ملیشیاوردی میں ملبوس تلاشی لینے والے بس میں آ گھسے ۔دو ایک بس کی چھت پہ بھی چڑھ گئے ۔اعلان ہوا جن مسافروں کا چھت پہ سامان ہے وہ بس سے باہر آ جائیں ۔باقی ماندہ مسافرین کی تلاشی بس میں شروع ہو گئی ۔وحید کے لبادے پہ سرسری ہاتھوں سے تسلی کی گئی ۔ اس کے پاس کچھ ہوتا تو ملتا ناں ۔
بس پھر سے رواں دواں ہو گئی اور مسافرین کی چہ میگوئیاں اختتام کو پہنچیں ۔زیادہ تر مسافرین کو یہی گلہ تھا کہ اپنے ہی ملک میں اپنے شہریوں کی تلاشی ایک بے اعتمادی کا سلسلہ تھا جو دن بدن نفرت کی دیواروں کو اونچائی تک پہنچانے میں اپنا گھناونا کردار استعمال کر رہا تھا ۔رسالپور آ گیا ۔ وحید نے بس کو خیر باد کتے ہوئے سیدھاصفدر کے گھر کی جانب قدم بڑھا لیے ۔یہاں آ کے اس کا دماغ ایک لمحے کے لیے جام ہو گیا ۔۔۔ ان کا گھر ہے کہاں ؟چند قدم اور آگے جا کر اس نے گھر کا پتہ معلوم کرنا شروع کر دیا تو سارا مسلہ حل ہو گیا ۔ایک جوان نے تو یہاں تک کیا گھر کی دہلیز تک لے جا کے دروازے پہ دستک دی ۔اندر سے صفدر نکلا ۔ وحید کو سامنے پا کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی ۔وحید تم نے آج یہاں آنے کی خبر کیوں نہیں دی۔وحید کا نام سنتے ہی اندر سے دونوںبچے انکل انکل کہتے دوڑے دوڑے باہر آ کر وحید سے چمٹ گئے ۔راستے کی پہچان کرانے والے جوان نے اجازت چاہی اور صفدر کے لاکھ کہنے پر بھی وہ کسی اور دن آنے کا وعدہ کرکے چلا گیا ۔
بھابھی کو دیکھتے ہی وحید خوشی کی بجائے پریشانی کے عالم میں ملا ۔بھابھی نے وحید کے چہرے کے خدوخال کا بغور جائزہ لیا اور اسے معاملے کی سمجھ نہ آ سکی ۔بچے تھے وحید کے دائیں بائیں مختلف موضوعات پہ بات چیت کرنے میں اولیت حاصل کر رہے تھے ۔رقیہ شکوے پہ شکوے کیے جا رہی تھی اور بار بار یہی اس کے ہونٹوں پہ آ رہا تھا کہ انکل آپ ہمیں چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے ۔ہم ہر روز آپ کا انتظار کرتے رہے اور ایک آپ ہیں کہ گھر کا راستہ ہی بھول گئے ۔اجمل نے اپنی الگ داستان چھیڑی ہوئی تھی ۔انکل انکل گھومنے کب چلیں گے ۔صفدر نے بڑے پیار سے دونوں بچوں کو بتایا کہ تمہارے انکل راولپنڈی میں رہتے ہیں اور ہم یہاں رسالپور میں ۔ ۔۔۔ بچوں کو اس فاصلے سے کیا واسطہ ۔وہ تو متمنی تھے کہ انکل وحید ہر روز ان کے پاس آ جایا کریں۔بھابھی بھی آہستہ آہستہ باتوں میں مصروف ہو گئی ۔مریم کا حال پوچھا اور جونہی مسرت کے حال احوال کی بات چلی تو وحید اس موضوع سے بالکل کٹ کے رہ گیا ۔کوئی جواب دینے کی بجائے ہوں ہاں پہ اکتفا کیے رکھا ۔صفدر کو وحید کے اس رویہ پہ خدشہ ہوا کہ کوئی نہ کوئی بات ضرور ہے جس کی راز داری وحید کر رہا ہے ۔جب تک یہ کوئی بات نہیں بتائے گا ، معاملے کی تہہ تک پہنچنا مشکل ہے ۔وحید مسرت کے بارے کیوں نہیں بتا رہے ۔
کیا بتاوں صفدر بھائی وہ تمام معاملات ختم ہو کے رہ گئے ہیں۔۔۔۔
کیسے ختم ہو گئے بھابھی نے بھی استفسار کیا ۔۔۔
بھابھی سب محنت رائیگاں چلی گئی ہے ۔والدین وہاں گئے اور منگنی کی انگوٹھی مسرت کی جگہ کسی اور انگشت کی زینت بن گئی ۔
جہاں تک مجھے تمہاری بھابھی نے بتایا تھا کہ تمہارا معاملہ مسرت کے ساتھ بالکل طے تھا پھر یہ سب کچھ ۔۔۔۔
جی ہاں یہ سب کچھ ہو گیا ۔ قدرت کے نظام کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا ۔اس کے ساتھ ہی وحید وہ سب رودادصفدر اور بھابی کے گوش گزار کرتا گیا جو اس پہ گزری ۔بچے دوسرے کمرے میں اپنے کھیل کود میں لگے رہے اور وحید بولتا گیا ۔ اس کی داستانِ غم کے ہر موڑ پر صفدر اور بھابھی کے چہروں پر پریشانیوں کے آثار نمودار ہو رہے تھے ۔قصہ تمام ہوا اور پھر چراغوں میں جیسے روشنی نہ رہی ۔
بھابھی نے وحید کی ڈھارس بندھائی اور صفدر تھا بضد کہ اسے لاہور کا فون دو تا کہ وہ بات کر سکے مسرت سے اور اگر کہو تو چچی جان اور چچا جان سے بھی گاوں جا کر بات کرتا ہوں ۔ دیکھتا ہوں کیسے نہیں مانتے ۔۔۔۔
ماننے کی بات نہیں صفدر بھائی وہ خود اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ ان سے غلطی سرزد ضرور ہوئی ہے لیکن ایک ثواب کی خاطر اللہ تعالی نے ان کے ہاتھوں یہ فیصلہ کروایا ہے ، جسے وہ اگر تبدیل کرنا چاہیں تو نہ صرف سبکی ہماری ہو گی بلکہ اس بیوہ اور اس کی بیٹی پہ نجانے کون کون سی برائیاں لگیں گی ۔ طعنہ زنی بھی ہو گی ۔ یہ سب کچھ میرے والدین کو پسند نہیں کہ کسی کی بیٹی کو عزت دے کر اپنی بہو تسلیم کرکے منگنی توڑ دی جائے ۔۔۔۔
لیکن تمہاری منگنی کی انگوٹھی تو وہ اتوار کو پہنانے آ رہے ہیں پھر مشکل کیا ہے انکار کر دو ۔
والدین منگنی کی انگوٹھی پہنا آئے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ منگنی توڑ کے چرچوں سے مقابلہ نہ کر سکیں گے ۔۔۔
بات تو تمہاری درست ہے لیکن وحید تمہاری اپنی زندگی کا سوال بھی ہے ۔
بھابھی میری زندگی کا سب کچھ کرنے کا حق میرے والدین کو ہے ۔انہوں نے میری تربیت کی ہے ۔ تعلیم دلوائی ہے اور میں ان کے نقشِ قدم پہ چلنے کو ترجیح دیتا ہوں ۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ تمہیں یہ زہر اب باعثِ مجبوری پینا پڑے گا ۔کل کو اگر تمہاری طبیعت اس ساتھی سے نہ مل سکی تو کیا کرو گے ؟
نہیں صفدر بھائی ایسی بات نہیں ، میری کوشش ہو گی کہ چار و ناچار نبھا ہو جائے ۔ والدین کی پسند اور فیصلے کا احترام کرنا بھی میرا اولین فرض ہے ۔
چلو آو پھر کھانا بھی آج باہر سے کھاتے ہیں ۔ بچوں کی سیر و تفریح بھی ہو جائے گی اور تمہیں رسالپور کے راستے بھی سمجھ میں آ جائیں گے ۔
بھابھی نے فوراً اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ لنڈی کوتل چلتے ہیں۔۔۔۔
نہیں بھابھی مجھے واپس جانا ہے ۔لنڈی کوتل کے سفر میں وقت ختم ہو گیا تو راولپنڈی کیسے جاوں گا ؟صبح ڈیوٹی پہ بھی جانا ہے ۔
تمہاری بات مان لیتے ہیں وحید ۔ بتاو سینما دیکھنے چلو گے یا جھگیوں میںجا کر کچھ خریداری ہو جائے ۔بتاو ناں خاموشی کیوں اختیار کر لی ۔۔۔
سچ تو یہ ہے صفدر ، مجھے کسی جگہ نہیں جانا ۔صرف یہاں تک اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے آیا ہوں ، مزید بچوں سے کھیل کود کرکے سکون حاصل کر لوں گا ۔
نہیں انکل گھر تو ہم ہر روز بیٹھے پڑھتے رہتے ہیں ۔ آج آپ ہیں پھر کیوں ناں کہیں گھوم لیں ۔ کیوں ابو ٹھیک کہہ رہی ہوں ناں میں ۔۔۔
ہاں بیٹی رقیہ اور اجمل بھی گھومنا چاہتا ہے ۔صفدر نے بازارگھومتے گھومتے رسالپور کے مشہور چپل کباب والے ریستوران میںسب نے کھانا کھایا اور یونی سیر و تفریح میں وقت ختم ہو گیا ۔بس تک چڑھانے کے لیے سب سڑک تک آئے ۔وحید آخری بس پر سفر کر رہا تھا ۔ وہی اٹک پھر سے تلاشی کا مرکز بن گیا ۔وحید کے پاس سوائے یادوں کے اور کچھ نہ نکلا ۔ہر کوئی وحید کی طرفداری کر رہا تھا لیکن نظامِ قدرت ان سب کی نفی میں اپنا فیصلہ سنائے ہوئے تھا ۔پنڈی تک کا سفر خیالات کے دھاروں میں منقسم رہا ۔کٹاو کی صورت میں وحید بکھر کے رہ گیا ۔اس کے دل کی تمام داستانیں ادھورے سپنے بن گئیں ۔وہ خاموشیوں کا پرستار بن گیا ۔خوشی کا دور دور تک نام و نشان نہ رہا ۔وہ کروٹیں بدلتا رہا اور اسی ماحول میں اسے ہوش نہ رہی اپنی ۔
وحید شکست و ریخت کے مد و جذر میں اسقدر پس کے رہ گیا کہ اس کو اپنے ہوش برقرار رکھنا کافی مشکل نظر آ رہا تھا ۔وہ دور بہت دور اس جگہ جانا چاہتا تھا جہاں کسی جاننے والے کی پہنچ نہ ہو ۔والدین کے زندہ ہوتے ہوئے وہ کسی صورت میں بھی ان کو تنہا چھوڑ کر پردیس جانے کے خیال سے ہی لرز گیا ۔ماں کہاں برداشت کر پائے گی اور ویسے بھی بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچے والدین کی دیکھ بھال اس کی ذمہ داری بن چکی تھی جسے کماحقہ اسے نبھانا ہو گا ۔یہ دل پھر کیوں منفی رویہ اختیار کرنے پہ تلا ہوا ہے ۔دماغی سوچیں بھی سوچ بچار کرکے تھک جاتیں لیکن محبت کے وہ لمحات جو اپنی راہیں متعین کر چکے تھے کسی طرح بھی مدھم ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔ہر سو اندھیرا ہی اندھیرا چھایا ہوا تھا ۔وہ راہِ فرار حاصل کرتا بھی تو کیسے ؟الفت پہ ضرب کاری اس کی بنا پہ نہیں تھی ۔ اے کاش وہ ایک بار مسرت سے مل کے دل کی حقیقتِ حال کھل کے کہہ دیتا ۔ وہ گرد و غبار جو غیر دانستہ اٹ گیا تھا کسی قدر کم ہو جاتا ۔وہ دفتر سے چند ایام کی رخصت لے کر کوئٹہ جانا چاہتا تھا لیکن اس میں بھی ناکامی کا عنصر موجود تھا ۔جہاں والدین زبان دے آئے تھے ان سے بغاوت کی بھنک یقیناً ان کی تذلیل ہو گی ۔معاملہ کسی کی عزت کا تھا جو اس سے منسوب ہو چکی تھی ۔دل کے نہاں خانوں میں توڑ پھوڑ کا سلسلہ برقرار رہا ۔وہ خود کو اس قید خانے میں مقید کرنے کی سعی کرتا رہا ۔دفتری اوقات سے فارغ ہوتے ہی وہ فوراً ریڈیو پاکستان پشاور روڈ راولپنڈی کی طرف چل نکلا ۔ وہی سڑک ، وہی مقامات ، سب کچھ تووہیں تھا مگر اس دروازے پہ بھاری بھرکم قفل لگ چکا تھا جہاں اس کی محبت پروان چڑھی تھی ۔وہ ڈراموں کی ریہرسل ، ریکارڈنگ اور ایساتذہ کرام کی تعلیمات رات گئے تک حاصل کرتا رہتا ۔ اردو ڈراموں کے نامور پروگرام پروڈیوسر نور صاحب نے وحید کے چہرے پہ ابھری پریشانیوں کو بھانپ لیا تھا ۔ انہوں نے وحید کو پکارا تو وہ استادِ محترم کے روبرو مودبانہ ان کے حکم کی تعمیل میں کھڑا تھا ۔
سنیئر پروگرام پروڈیوسر نور صاحب نے ایک پروگرام کا اپنا مکمل مسودہ وحیدکے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ اسکی چار کاپیاں کاربن پیپر رکھ کر لکھے اور مکمل کرکے کل ساتھ لیتے بھی آنا۔ قوی امید ہے تمہاری خوش خطی دوسروں سے بہتر ہو گی۔پروڈیوسرز کے جاتے ہی سب نے اپنے اپنے راستے ناپے۔
وحید نے بڑے انہماک سے چار کورے کاغذ لے کے ان میں تین کاربن پیپر رکھ کے پن لگا دی۔ کچی پنسل کی بجائے پکی پنسل سے لکھنا شروع کیا اور بڑی احتیاط سے پورے پروگرام کا مسودہ تیار کرکے سکھ کی سانس لی۔ لکھتے لکھتے اسے پورے پروگرام کے سب کرداروں کی مکمل تفصیل کا پتہ چل گیا۔ وہ مکمل مسودے کو بار بار پڑھ کر اپنے ہاتھ سے لکھے مسودے کے ایک ایک لفظ کی تصدیق کر رہا تھا مبادا کہیں غلطی ، کردار کی ادائیگی کے الگ معنی نہ دے دے۔ رات دیر تک خیالوں میں کھویا وحید اپنے والدِ محترم کی نصیحت کو مدِ نظر رکھے قدرے خوش تھا کہ اس کا شوق جب ریڈیو سے پورا ہونے لگا ہے تو اسٹیج کو خیرباد کہہ دے گا۔ ریڈیو پہ مونچھیں رکھنے نہ رکھنے کی کوئی بندش نہیں ،ضمیر کاظمی کی ہلکی ہلکی مونچھیں بدستور چلی آرہی ہیں جبکہ سید علی مونچھیں رکھنا پسند ہی نہیں کرتے۔ نیند کی دیوی کچھ زیادہ ہی مہربانیاں دکھا رہی تھی۔ وہ مائک سے نکلی آواز کے ساتھ ساتھ خود بھی محوِ پرواز تھا۔ لوگوں کے تاثرات اس کی آواز کی بھرپورعکاسی کر رہے تھے۔ شب گذرتے دیر نہ لگی اور ایسے خوشی کے لمحات تو ویسے بھی آنکھ جھپکنے میں گذر جاتے ہیں۔
ایک نیا سفر شروع ہو چکا تھا۔ ریڈیو اسٹیشن پہنچتے ہی سب سے ملاقات ہو گئی۔ اصل مسودہ کے ساتھ باقی چار تیار مسودے بھی نور صاحب کے حوالے کئے اور انہوں نے مسودوں پہ ایک طائرانہ سی نطر ڈالتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ دی جو اس کے لئے ایک انمول تحفہ تھی۔ اصل مسودہ اپنے پاس رکھتے ہوئے باقی چاروں مسودے زبیر زوبی ، روبینہ ، شمع اور وحید کو دیتےہوئے اپنے اپنے کردار کو یاد کرنے کی ہدایت دی۔ ضمیر کاظمی اور سید علی کے پاس الگ مسودے تھے۔ وحیدنے اپنے مسودے کو کھولا تو اس کے حصے پاگل کے کردار کے صفحات تھے۔ اس کے ذہن میں مکمل مسودہ کی روداد گونج رہی تھی کہ ریڈیو کی وین میں سب سوار کسی انجانے راستے پہ چل نکلے جس کا علم صرف ڈرائیور اور پروڈیوسر کو تھا۔ نور صاحب بالکل خاموش دور کہیں اپنی سوچوں میں مستغرق شاید نئے ڈرامہ کی تشکیل دے رہے تھے کہ ڈرائیور نے وین کی رفتار ہلکی کرکے مینٹل ہاسپیٹل کے مین گیٹ پہ بریک لگائے۔ گیٹ پہ متعین گارڈ کو اجازت نامہ دکھاتے ہوئے وین پارکنگ میں لگا دی گئی اور نور صاحب کے ہمراہ چھ فنکار ان کے نقشِ قدم پہ چلتے رہے۔ جہاں جہاں فنکار کو کہا گیا اسی پاگل کردار کی حرکات و سکنات اور اس کی خود کلامی یکے بعد دیگرے ہر فنکار اپنے اندر سمو رہا تھا اور وحید کو ایک ادھیڑ عمر خاتون کے احاطے کے باہر اس کی حالت کو نقل کرنے کی ہدایت دیتے وقت نور صاحب نے بتایا کہ یہ خاتون ایک پروڈیوسر کی بیوی ہے ، اس کے ردِ عمل پہ غور کرنا۔۔ بس اتنا کہہ کے وہ آگے بڑھ گئے لیکن اس خاموش طبع خاتون کے سماعتی پردوں سے جیسے کوئی مانوس آواز نے پورے بدن میں ہلچل سی مچا دی ، اپنے بکھرے بالوں کو جھٹک کراپنی آنکھوں کو وا کئے طنزیہ ہنسی میں ،، تم آ گئے ،، کہہ کے اتنا اونچا قہقہہ لگایا کہ وحیدکا دل دہل گیا۔ دور جاتے ہوئے لمبے سایہ میں خود کو سموئے اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ گرتے موتی گالوں کی ویرانی سے ڈھلک کر زمین بوس ہو رہے تھے اور انہی ہچکیوں میں اس نے اپنا منہ دوسری جانب پھیر لیا۔ بالکل ساکت بت بنی ماضی کی یادوں میں کھوئے اس کردار کو کچھ یاد نہ رہا کہ وہ پاگلوں کے ہسپتال میں ہے یا یادِ ماضی کی تلخیوںسے برسرِ پیکار ہے۔
وین میں بیٹھے تمام فنکاروں پہ ایک عجیب سی کیفیت طاری تھی جس کا اظہار ان کے چہروںسے عیا ں تھا۔ وہ سفر پہ گامزن تو تھے لیکن ہسپتال کے ماحول میں ڈوبے ہوئے اپنے اسباق ازبر کر رہے تھے۔ واپس ریڈیو اسٹیشن پہنچتے ہی سب ریڈنگ روم میں اپنے مسودوں کے ایک ایک لفظ پہ اپنی کارکردگی دکھانے میں کوشاں تھے کہ پروڈیوسر نور صاحب نے وحید کو اپنے کمرے میں بلایا۔ وہ سر جھکائے ہدایات لینے کے لئے منتظر تھا کہ اسے مسودہ پڑھنے کو کہا گیا۔ ا بھی پہلا مکالمہ ،، سمندر کی گہرائی۔۔۔۔۔۔ ایک زناٹے دار تھپڑ وحیدکی گال پہ انگلیوں کے نشان ثبت کر گیا۔۔۔۔۔ لفظ سمندر نہیں سمنَدر ہے اوپر زبر ہے پیش نہیں اور تم جو بولرہے ہو وہ ایک آتشی کیڑا ہے جو آگ میں پیدا ہوتا ہے۔ وحید تھپڑ کی کسک۔۔۔
نہیں استادِ محترم یہ تو کسی کسی خوش نصیب کے حصے میں آتا ہے ؟
تمہاری شادی ہو چکی ہے ؟
جی بات چیت تو چل رہی ہے۔۔
بہتر ہے تم اس شعبے کو چھوڑ دو کیونکہ جو لگن تمہارے وجود میں پنپ رہی ہے اس کی رنگت میں دیکھ چکا ہوں ، بہتر ہے تم۔۔۔
معاف کیجئے گا اب میں آپ کے زیرِ سایہ اپنی منزل تک پہنچ جاوں گا۔ مجھے اپنی شاگردی میں لے کے دور نہ کیجئے گا پر ہلکی سی چپت لگا کے نور صاحب نے مثبت میں سر کو جنبش دی اور بڑے پیارے انداز میں وہ مزید گویا ہوئے۔۔
ق پہ دو نقطے حلق سے نکالنا اور ڈنڈے والے ک کی آواز الگ ہوتی ہے ، غ اور گ کا فرق واضع رکھنا ، اردو بےشک اپنے اندر ایک لشکر کو سنبھالے ہوئے ہے لیکن ہر زبان کا اپنا ذائقہ ہوتا ہے جس میں دوسری زبان کی شمولیت اس کی ساخت کو تباہی کے دھانے پہ پہنچا دیتی ہے۔ مختلف زبانیں سیکھنا اچھی بات ہے اور علاقائی زبانیں ہر بارہ کوس پہ اپنی شناخت کرواتی ہیں جس سے وہاں کے باسیوں کے رہن سہن کا پتہ چلتا ہے۔ ا ردو میں صرف اردو استعمال کرنا اور جب ،، ہماری گلی ،، پنجابی پروگرام میں جاو تو وہ ہر بار کسی علاقائی زبان کو نشر کرتے ہیں ، اس کا خاص خیال رکھنا الطاف پرواز ایک اچھا پروڈیوسر ہے۔ اب تم جا سکتے ہو اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ ایک دوسرے سے مکالمات کی ادائیگی کا اہم مرحلہ عقلمندی سے نبھانا۔
جی بہتر کہتے ہوئے وحید دوسرے فنکاروں میں پروڈیوسر کی ہدایت کے عین مطابق اپنے کام میں مگن ہو گیا۔ فائنل ریہرسل کے ساتھ ہی ریکارڈنگ میں سب کی محنت رنگ لائی اور رات کی آخری خبروں کی نشریات کے بعد یہ ڈرامہ آن ائیر ہو گیا۔ ریڈیائی لہریں بہت سے سامعین کے پردہ سماعت میں رس گھولتی اپنا مقام بنا گئیں۔ ایک نئی آواز نے اس وقت خود کو نمایاں کیا جب ریڈیو پاکستان لاھور سے پنجابی پروگرام میں نظام دین عروج پہ تھے۔ آزاد کشمیر ریڈیو تراڑکھل آزاد کشمیر اپنی آزادی کے پروگراموں میں چاشنی بھر رہا تھا۔ ریڈیو ایران زاہدان سے فرمائشی پروگرام کی دلکشی عروج پر تھی۔ بی بی سی لندن اور وائس آف امریکہ سے اردو پروگرام دنیا کی سیاسیات پر قبضہ جمانے میں کوشاں تھے اور آکاش وانی پر سیکولرازم کاپراپیگنڈہ کرنے میں سب ا یڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔ ان سب کے مابین ایک منفرد اردو پروگرام ،، سب رنگ ،، کی ابتدا ہوئی جس میں ایک آواز نصف گھنٹہ ایک کہانی کو صوتی ِ اثرات اور کہانی کے مطابق آواز کے لوچ میں خود کو اسقد ر عوامی شاہکار بنا گئی کہ مارکیٹ سے فلپس ، مرفی ، مارکونی ، زینت ، بش ، ہٹاچی ، فارگوسن اور نیشنل کے اعلی برانڈز ریڈیو زیادہ تر گھروں میں اس آواز کی لگن میں پروگرام شروع ہونے سے قبل ریڈیو بینڈ پہ فریکیونسی تلاش کرنے میں محو نظر آتے۔
وحید بادلِ نخواستہ گھر کی چوکھٹ پہ پاوں رکھتے ہی پریشانیوں سے نڈھال ہو کر لمبی تاننے کی سوچتے سوچتے مزید گرداب میں پھنس گیا ۔کاغذ قلم سے مددچاہی تو شاعری کے پردے وا ہوئے ۔جوٹ گہری تھی الفاظ بھی ویسے ہی موزوں ہونے لگے ۔عجیب پریشانی کا عالم تھا ۔کبھی شاعری کبھی تحریر کی گہرائی میں ڈوب کے لکھتا ، پھر سے اسے پڑھتا تو احساس ہوا کہ اس کے سوچنے کے انداز میں کتنا تغیر آ چکا ہے ۔اس نے خود کو مزید مصروف رکھنے کے لیے اسٹیج کے فنکاروں کے ساتھ وقت گزارنے کا سوچا تو اسے وہ وقت یاد آ گیا جب وہ اپنی خواہش کا اظہار اپنی والدہ سے کر بیٹھا تھا تو والدِ محترم کو خبر ہو گئی ۔ وہ انہی خیالوں میں کھو گیا ۔جب ابا حضور کے سامنے اس کی پیشی ہو گئی تھی ۔
وحید ادھر آو۔۔۔۔۔ !!
جی ابا حضور۔۔۔۔
دوسرے گاوں سے ڈھولک بجتے ہی تمہارے پاوں نچلے کیوں ہو جاتے ہیں ؟۔ دیکھنے والے کیا کیا باتیں بناتے ہیں۔ تم مراثی ، بھانڈ یا ناچنے والوں کے گھر پیدا نہیں ہوئے۔ ہر روز کی طرح آج پھر تمہاری شکایت آئی ہے۔ اس قصاب کے بیٹے کی توتلی زبان کی نقل کیوں اتاری ؟۔ وہ فتھو کا رک رک کے بات کرنے کا انداز تمہارے اندر کیسے گھس گیا ؟۔ مائی خیراں چلتے چلتے یکلخت رک کر ماتھے پہ ہاتھ رکھے اگرکسی کو دیکھتی ہے تو اس کی نقل اتارنے کی کیا ضرورت پڑی تھی ؟۔ وہ لنگڑا سائیں بابا کشکول اٹھائے خیرات مانگتا پھرتا ہے تو اس کے کردار کو اپنے دوستوں کی محافل میں کیوں اچھالتے ہو ؟۔ گاوں کے ایرے غیرے نتھو خیرے سے لے کرسب معززین کی چال ڈھال اور چہروں کے خدوخال تک تمہاری نقالی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ تمہیں کب سمجھ آئی گی۔ آئے روز کی ان فرسودہ واہیات حرکات سے ہمارےآباواجداد کا وقار مجروح ہوتا ہے۔
وحید کو وہ دن بھی اچھی طرح سے یاد رہا جب اس کی فنکارانہ صلاحیتوں کو سراہنے کی بجائے اسے تنبیہ کی گئی کہ اگر وہ مسخروں والے کام نہیں چھوڑے گا تو اسے نہ صرف جائداد سے عاق کر دیں گے بلکہ ان کے عطا کردہ نام سے بھی اسے دستبردار ہونا پڑے گا۔ اس نے اپنے فن کی داستان تنہائیوں میں آئینہ کے سامنے دہرانا شروع کر دی۔ آئینہ اس کے چہرے پر بےشمار چہروں کی کیفیات دیکھتے ہوئے داد دیتا جس سے اس کو پذیرائی میسر آتی رہی۔ یوں سنگلاخ کوہ میں مقید اسکے فن کا لاوابےتاب رہا اور اسے اپنے اندر چھپے قیمتی ذخائر کو جوہریوں تک پہنچانے کی مہلت نہ مل سکی۔ شور و غوغا مدھم ہو چکا تھا۔ وہ پنڈال میں جانے سے گریزاں ضرور تھا لیکن وہاں کی یادیں اسے دل و جان سے بھی پیاری تھیں۔ اب کوئی شکایت نہیں آتی تھی۔وحید سن ِبلوغت میں قدم رکھ چکا تھا۔ مسیں پھوٹنا شروع ہو چکی تھیں۔ اندرونی خلفشار بغاوت پہ اتر آنے کو مچل رہے تھے۔ وہ جب ایک فن کو بہتر طور نبھانے کا ہنر جانتا ہے تو اس کا یہ قیمتی وقت کیوں رائیگاں کیا جا رہا ہے ؟۔ ذہن میں ابھرنے والے ہر سوال کا جواب نہ پا کر اس کے قدم آئینہ کی جانب اٹھ گئے۔ وہ آئینہ جو جھوٹ اور سچ کے نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا آج اسے ایک ٹک دیکھے جا رہا تھا۔ بالکل خاموش ، بنا کسی تاثر کے ایک مجسمہ کی مانند ، ترچھی نظروں کے زاویے جیسے اس سے آنکھیں چرا رہے تھے۔ ،، اے میرے پرستار کیا ہوا تجھے ؟ ،،۔۔۔ وحید اس کی بدلی حالت پہ پشیمان سوال کر بیٹھا۔۔۔۔۔
مجھے تو کچھ نہیں ہوا البتہ تمہارے اندر کی فنکارانہ صلاحیت وقت کے ساتھ ساتھ اپنی تمازت کھو رہی ہے۔۔۔۔
اس کا اور حل بھی تو کوئی نہیں ، ایک تم ہی تو ہو حوصلہ افزائی کرنے والے۔۔۔۔
میری حوصلہ افزائی تمہارے عکس کی روداد ہے اور اس گھر میں تمکنت ِ دستار کا رحجان میری ہیت ترکیبی پر اثر انداز ہونے لگا ہے۔ میری پشت پر سیندور کی تہہیں سرد مہری کی نمی سے خرد برد ہونے والی ہیں۔ قبل اس کے کہ اس میں دھندلی تصاویر عود کر آئیں تمہیں اس ماحول سے نکلنا ہو گا۔۔۔۔۔
کہاں جاوں ؟۔۔۔
دنیا ایک بہت بڑی تجربہ گاہ ہے وہاں اپنے فن کے جوہر دکھاو ؟
ایک اور سوال ؟۔۔۔
پوچھو۔۔۔۔
تم نے اپنی نظریں کیوں چرا رکھیں ہیں ؟۔۔۔۔۔
جب تک سامنا کیا تمہیں نتائج سے آگاہی ہوتی رہی ، اب میرے وجود میں کمی کا عنصر بسیرا کرنے لگا ہے تو تمہارا فن اس میں دھندلا جائے گا ، جتنی جلدی ہو خود کو اس ماحول سے الگ کر لو ، اپنے فن کے لئے ، اپنے مستقبل کے لئے اور سب سے بڑھ کر اپنے دنیا میں آنے کے مقصد کے لئے۔۔۔
اس مقصد کی تکمیل کے لئے کون سی کسوٹی پہ پورا اترنا ہو گا ؟۔۔۔۔
یاد ماضی سے اخذ کردہ نتائج اپنے سامنے رکھو ، جہاں جہاں کمزور پہلو وں کی نشاندہی ہو ان کے خلا کو اپنے فن سے پورا کرکے لازوال بنا دو۔ اچھا فنکار مرتا نہیں۔ چاہنے والوں کے دلوں میں بستا ہے۔۔
تم سے جدا ہوا تو کون مجھے۔۔۔۔۔
غلط فہمی میں مبتلا سوچ کو ذہن سے فوری جھٹک دو ورنہ تمہاری ترقی کے تمام راستے مسدود ہو جائیں گے۔تمہاری تعلیم مکمل ہو چکی ہے ، اب اپنے افکار کے ہر پہلو سے پردہ اٹھاو۔۔۔۔
دنیا کے بڑے بڑے نامور فنکاروں میں اس کی کون سنے گا ؟۔۔۔۔
دیکھا ، تمہارے اندر احساسِ کمتری کا شائبہ سر ابھارنے لگا ہے۔ کل تک تو تم میدانِ کارزار میں اپنے جوہر دکھانے میں یکتا تھے ، پھر آج ان میں۔۔۔۔۔
ہاں تمہارے سراہنے کا انداز اس قدر والہانہ تھا کہ کبھی کمزوری کی ہلکی سی لکیر بھی اس چہرے پہ نمودار نہیں ہوئی۔۔۔۔۔
بنیادی طور تمہاری پرورش کے لئے جو لوازمات از حد ضروری تھے ان کے فرائض ادا ہو چکے اب عوام الناس کے روبرو خود کو پیش کرو تا کہ تمہاری مزید اصلاح ہو سکے۔ ہر وقت کی مدح سرائی فنکار کے لئے سمِ قاتل ہے۔ مثبت تنقید میں دلائل کی شراکت تمہارے فن کو چار چاند لگا دے گی۔ تالاب کا مینڈک بننے کی بجائے سمندر میں رہنا سیکھو۔ ۔۔۔
سمندر میں ۔۔۔ ہاں سمندر ی عفریتوں میں پہنچ تو چکا ہوں مگر تنہا ۔۔۔ میرا ساتھی کہاں ہے ؟ کہاں ہے مجھے پیار کرنے والا ؟مجھے سکون چاہیے ، مجھے میرا پیار واپس کر دو ۔وہ تو سوچ رہا تھا کہ مصروف رہنے سے اسے یادوں کے جان لیوا لمحوں سے قدرے چھٹکارا مل جائے گا لیکن دن بھر کی مصروفیات اور رات کا تناو اس کے آرام و سکون کی تباہی بن گیا ۔اس کی سوچ ایک نقطہ پہ مرکوز ہو کے رہ گئی ۔وہ اسی ہفتے ایبٹ آباد مریم کے پاس جانا چاہتا تھا ۔مریم جیسے مخلص ساتھی کو اپنی بے گناہی کا ثبوت مہیا کرکے وہ راز جو رازِ سربستہ بن کر تکالیف کی شدت کو مزید بڑھا رہا ہے واضح ہو جائے گا ۔ ایسا کرنے سے وہ موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جائے گا ۔شک و شبہات کے تمام گہرے بادل چھٹ جائیں گے ۔قہر آلود نگاہوں سے گھورنے والی رعد کوندنے سے باز رہے گی ۔جو ہونا تھا وہ ہو گیا لیکن سچائی کو بیان کرنے کے لیے اور اس پر بے وفائی کی جو مہر ثبت ہو چکی ہے اسے دھونے کے لیے مریم سے ملنا اشد ضروری ہے ۔
سوچ تو اپنی درست تھی لیکن اس ہفتے وہ وہاں اپنی ڈیوٹی پہ جائے گی بھی یا نہیں ؟ممکن ہے چھٹی پر ہو ۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور خیال ابھرا کہ مسرت بھی ابھی لاہور میں ہو گی لیکن یہاں معاملہ کچھ اور بن چکا تھا اور وہ لاہور میں کیسے رہ سکتی ہے ۔اگر وہ اس ہفتے مریم سے ملاقات نہ کر سکا تو اگلے ہفتے جانے کی ضرورت درپیش نہیں رہے گی ۔حسب وعدہ اس کا والدین کے پاس اتوار کو گاوں میں موجود ہوناضروری ہے بصورتِ دیگر معاملہ عزت بے عزتی کا آڑے آئے گا ۔اس کے دماغ کی نسیں بری طرح متاثر ہو رہی تھیں ۔
وحید کی خاموشی دفتر میں سب سے زیادہ ظہیر صاحب کو پریشان کر رہی تھی ۔انہوں نے سید علی شاہ سے کہا کہ وہ اپنے ساتھ پاکستان ٹی وی چکلالہ روڈ راولپنڈی وحید کو بھی لے جائیں ۔دل بہل جائے گا اور ویسے بھی وحید ریڈیو اور اسٹیج پہ کافی تجربہ حاصل کر چکاہے ،کام کر لے گا۔ ٹی وی اسٹیشن چکلالہ ابھی نو زائیدہ تھا ۔ کچھ ہی سال پہلے پروگرام شروع ہوئے تھے ۔وہاں نئے چہروں کے ساتھ ساتھ پرانے فنکاروں کی خدمات دیکھنے والوں کی توجہ کا مرکز بن رہی تھیں ۔ظہیر صاحب معاملے کی تہہ تک پہنچ چکے تھے اور وہ وحید کو مزید کریدنے سے اجتناب کر رہے تھے ۔دفتر میں باقی ماندہ ساتھی بھی اس کی نجی زندگی کے کسی پہلو کو دانستہ یا غیردانستہ زیرِ بحث نہیں لا رہے تھے ۔
وحید کی خاموشی اور چہرے کے تاثرات ہر کسی پر عیاں ہو چکے تھے ۔ہفتے بھر کی تلخیوں اور وقت کے بے رحم ہاتھوں میں وہ کھلونا بن کے رہ گیا ۔اسکے کے وجود سے بڑھ کر مصائب نے دھاوا بول دیا تھا ۔وہ سوچوں کے انبار میں اس ماحول میں پہنچ گیا جہاں اس کی بودوباش ہوئی تھی ۔چپہ چپہ اس سے روشناس تھا لیکن ہر جانب خاموشیاں اس کے آڑے آ رہی تھیں ۔والدین اپنے کیے پہ پشیمان ضرور تھے لیکن بیٹے کی ازدواجی زندگی کی شروعات کے متمنی بھی تھے ۔
جان کنی کے لمحات جب طاری ہوتے ہیں تو عالمِ ارواح سے برپا ہونے والا شور بدرجہ اتم کانوں کے پردہِ سماعت کی وسعتوں میں اپنا دائرہِ کار بڑھا دیتا ہے جو دنیا کے شور شرابے میں مدغم نہیں ہوتا ۔عین اسی وقت ایک جانب سے جنازے اٹھائے جا رہے ہوتے ہیں تو دوسری جانب شادیانے بجتے سنائی دیتے ہیں ۔دو طرح کے ماحول میں سانسیں برقرار رکھنے والا پاگل نہ ہو گا تو اور کیا ہو گا ۔حالتِ آلام کو سمجھنے والے بہت کم ہوتے ہیں ۔ والدین کی خوشیوں میں وحید کی حالتِ اضطراری کھسیانی ہنسی کا روپ دھار لیتی ۔ دوسرا رخ مسرت کا اداس چہرہ اسے مغموم کیے جا رہا تھا ۔اس بھیانک روپ میں وہ دیواروں سے سر ٹکرا کر دماغی سوچوں کو پاش پاش کرنا چاہتا تھا ۔وحید نے دل میں ٹھان لی کہ وہ اس مسلے کا حل مریم سے پوچھے گا ۔ اس مثبت سوچ پہ اس کی تڑپ میں کمی آئی ۔ ڈوبتے کو جیسے تنکے کا سہارا مل گیا ۔ نیند سولی پہ بھی اپنی مٹھاس لیے اسے کل کی امید پر سونے کا دلاسہ دے گئی ۔
دفتر جاتے ہی اس نے ایک گھنٹے کی چھٹی مانگی تو ظہیر صاحب نے ہلکے سے پوچھ لیا ۔ کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ ۔۔۔فون کرنے جا رہا ہوں ۔۔۔کہاں فون کرنا ہے ؟ایبٹ آباد ۔۔۔
ایسے کروفون کی بجائے ایبٹ آباد خود چلے جاو اور کل دفتر آ جانا ۔
وحید کو تو پر لگ گئے ۔ وہ فوراً اڈے سے ایبٹ آباد کی بس پکڑ مریم کے پاس ہسپتال پہنچ گیا ۔ شومیِ قسمت مریم پندرہ دن کی چھٹی پر تھی ۔ بڑی بے دلی سے واپسی ہوئی اور خیالات مسرت کی جانب رخ موڑ چکے تھے ۔ کیا وہ بھی پندرہ ایام کی تعطیلات پر ہے ۔ اپنے ہی خیالات کی اسے نفی کرنی پڑی ۔اس نے لاہور فون کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا ۔ کس منہ سے بات کروں گا ؟
دل و دماغ کی چپقلش شروع ہو چکی تھی ۔ دل کہہ رہا تھا بات کر لو بس اسی کی جیت ہوئی اور اس نے راولپنڈی آتے ہی کال کر دی ۔ اتنی رات گئے فون کی گھنٹی بجتی رہی اور فون منقطع ہو گیا ۔
وقت گزر گیا ۔ مایوسی کی حالت میں اس کے قدم گاوں کی جانب بڑھے ۔ والدین بہت خوش ہوئے ۔ گاوں سے تقریباً ہر گھر کا فرد وہاں موجود تھا ۔لاہور سے آنے والے اپنی چاہتوں کا صلہ پا رہے تھے ۔رسمِ منگنی ادا ہوئی اور شادی کے دن مانگے گئے ۔دم مقرر ہو گیا ۔ دن بھی ایسا کہ وحید کی پیدائش کا دن !! پیدائش کے دن زباں بندی کا دستور اپنایا جائے گا ۔حالات کی ستم ظریفی پہ وحید دم بخود رہ گیا ۔خوشیوں کا قصہ شام ڈھلے تک چلتا رہا ۔ وحید وہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا لیکن پاوں میں پڑی رسومات کی زنجیر سے چھٹکارہ کسی طرح بھی ممکن نہ تھا ۔وقت کے ساتھ ساتھ وہ ڈھلتا گیا ۔ وہ اس پرندے کی مانند تھا جو صیاد کے قفس میں اپنے پہلے لمحات کی آزادی سلب ہونے پہ تڑپ تڑپ کر خود کو لہولہان کر لیتا ہے ۔ اس کی آنکھوں کی چمک دھمک زائل ہونے لگی ۔یوں وہ قید و بند کی صعوبتوں کے چنگل میں بے یار و مددگار خاموشی اختیار کر گیا ۔وہ اس قفس کا ایک حصہ بن کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کے قوانین پہ کاربند ہو گیا ۔اس کی فریاد کسی گہری کھائی میں دم توڑ گئی ۔ طنز و طعنوں سے بے خبر وہ قیدیوں جیسی زندگی گزارنے پہ مجبور ہو گیا ۔لوگ مبارکباد کے الفاظ ادا کر رہے تھے اور اسے ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ اسے قیدی بننے پہ ایسے جملے کسے جا رہے ہوں ۔دنیا ایک قید خانہ ہی تو ہے ۔ کون کون سی مشکلات سے گزرنا نہیں پڑتا ۔لاہور سے آئے مہمان منگنی کرکے چلے تو گئے لیکن انہیں یہ خیال تک نہ آیا کہ وحید کس اندرونی خلفشار میں مبتلاہے ۔
کتنا بڑا مذاق ہو گیا لیکن اس کی تشہیر تک نہ ہوئی ۔چار و ناچار وحید کو اس ماحول سے گزرنا پڑا ۔جانے والے جا چکے اور وحید خاموش ہر شخص کی خوشیوں میں اپنے سر کی جنبش سے شامل رہا ۔
ماں جی اب میں جانا چاہتا ہوں ۔ آپ کے ساتھ کیا وعدہ پورا ہوا اور صبح مجھے نوکری پہ جانا ہے
ہاں بیٹا کیوں نہیں ۔سارا دن میرے بیٹے نے ہنسی خوشی گزارا ہے ۔ میں تو بہت خوش ہوں گھر میں بہو آئی گی ۔ رونق دوبالا ہو جائے گی ۔
ہاں ماں جی آپ کی خوشیوں میں اضافہ کے لیے ہی تو یہ سب کچھ قبول کر رہا ہوں ۔
وحید بیٹے مجھے امید ہے کہ تم مجھے معاف ضرور کر دو گے ۔خدا جانے اس میں کیا حکمت ہے کہ جو فیصلہ میں کر چکا ہوں اس میں خوشیوں کا عنصر موجود ہے ۔
جی آپ کا فیصلہ برحق ہے ۔ مجھے اب اجازت دیں ۔
چلو میں بس کے اڈے تک تمہارے ساتھ چلتا ہوں ۔۔
آپ کیوں تکلیف کریں گے ۔ گھر میں رہیں ۔ الوداعی سلام کہتے ہوئے وحید نے گھر کی چوکھٹ پار کی اور راستے ناپتا ہوا بس کے اڈے تک جا پہنچا ۔ عجب سا خیال تھا جو دماغی خلیوں میں ہلچل مچاے ہوئے تھا ۔ وہ اڈے پہ پہنچ کر بھی ایسے محسوس کر رہا تھا کہ کس بس پہ سفر کرے ۔ لہور لہور لہور ، چلو باو جی لہور ۔ اس نے اسی آواز پہ لبیک کہتے ہوئے دل کی بات مان لی ۔ سفر میں اس کے ہمراہ مسرت تھی ۔ اسے اسلام آباد سید پور کی وہ پہاڑی یاد آ گئی جہاں اس کے ہاتھوں نے اس کے مختلف پوز بنوانے شروع کیے ۔ کیمرے کی آنکھ نے بالآخر ایک ایسی یادگار تصویر بنا دی جو ساری زندگی کے البم میں سے آج بھی یکتا ہے ۔ پہاڑی کادامن اور آم کے باغات ایک الگ منظر پیش کر رہے تھے ۔ اپنے نرم نرم ہاتھ کی پوروں سے لقمے دیتے ہوئے غزالی آنکھوں کی مستی میں وہ اس وقت کو سموئے جارہی تھی ۔ انہی جذبات سے بھرپور لمحات میں ایک سوال یہ بھی ابھرا تھا ،، وحید تم مجھے کبھی چھوڑ تو نہیں دو گے ۔ ۔۔۔۔
اوں ہوں ۔۔۔ ،،، دیکھ لینا میں تمہارے ان نرم و نازک ہاتھوں میں رخصت ہوں گا،،،۔۔ شی شی شی ایسا نہیں کہتے۔۔۔ ،، تم اس وقت سے پہلے ہی مجھے چھوڑ کر کہیں دور چلے جانا لوگ یہی کہیں گے کہ تم مجھے چھوڑ گئے ہو اور میں تمہارا انتظار کرتی رہوں گی کہ تم لوٹ آو گے ،،
وحید کو بہت بڑا جھٹکا لگا ۔ وہ تو اس کا انتظار کر رہی ہے ۔ اسے چھوڑ کر وہ دور کیسے جا سکتا ہے ۔ لوگ اسے طعنے کیوں دیں گے ۔ جو دل نے فیصلہ کیا ہے اس پہ کاربند رہنا ضروری ہے ۔ سفر کٹ تو گیا لیکن اس کے گھر والے میرے لیے دروازہ کھولیں گے یا نہیں ۔ رکشا کا سفرختم ہوتے ہی وہ اس چوکھٹ تک پہنچ گیا جہاں اس کے والدین رسائی نہ کر سکے تھے ۔ دروازے پہ دستک دینے کے لیے دل کی امنگ نے ساتھ دیا ۔ مسرت کی ماں نے دروازہ کھولتے ہی اپنی نظر کی عینک کو درست کرکے آہ بھری ۔۔۔۔
اگر اجازت ہو تومیں ۔۔۔ میں ۔۔ مسرت سے بات کر سکتا ہوں۔
اب تو دیر ہو چکی وہ لاہور ریلوے اسٹیشن پہنچ چکی ہو گی اور کچھ ہی دیر بعد کراچی جانے والی گاڑی میں بیٹھ روانہ ہو جائے گی ۔۔۔
وحید نے وہیں سے دوڑ لگا دی ۔ ٹیکسی والے کو لاہور ریلوے اسٹیشن جلدی پہنچانے کا کہا تو ڈرائیور نے معاملہ کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے اپنی تیز رفتاری میں اپنا تجربہ سمو دیا ۔ وحید کا دل دھڑک رہا تھا ۔ خدا خدا کرکے اسٹیشن نظر آیا ۔ ٹیکسی والے کو رقم ادا کرکے وہ ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم کا ٹکٹ خرید رہا تھا اور بابو سے کہہ رہا تھا جلدی کیجئے کراچی کی گاڑی کہیں نکل نہ جائے ۔ ۔۔۔۔ وہ تو وسل بجا رہی ہے۔۔ یہ لیں پلیٹ فارم ٹکٹ ۔۔۔۔ وحید نے ایک ہی جست میں پلیٹ فارم پہ قدم رکھا ہی تھا کہ گاڑی متحرک ہو گی ۔ عین سامنے اسے مسرت کی متوالی آنکھیں نظر آئیں ۔ اس نے بھاگنا شروع کر دیا ۔ گاڑی کی رفتار میں بتدریج اضافہ ہو رہا تھا ۔ مسرت کا ہاتھ باہر ہوا میں الوداعی حرکت کرتے کرتے ایک بند لفافہ اپنی یادیں چھوڑ گیا ۔ وحید حدِ نگاہ گاڑی کو اوجھل ہوتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔ بہت سی آنکھوں سے نیر جاری تھے ۔ بہت سے بچھڑ چکے تھے اور بہت سے اپنوں کو ملنے کے لیے سفر پہ گامزن تھے ۔وہ لفافہ میں بند تحریر کو جانتا تھا ۔ تحریر اس کی امانت تھی جسے صرف وہی اپنی ملکیت سمجھتا ہے ۔ ریلوے پلیٹ فارم کی مدھم مدھم روشنی میں وہ تحریر کے ایک ایک لفظ کو بار بار پڑھتے ہوئے خود کو موردِ الزام ٹھہرا رہا تھا جس نے اپنی زبان پہ تالے لگا لیے تھے ۔ اب وحید میںکچھ کہنے کی ہمت ہی کہاں تھی ۔۔ بس اداس اداس اس کے جانے کے منظر کو آخری سمجھ کردل میں سماے آنکھوںسے رواں گرم گرم لاوے کو روکنے میں کوشاں رہا لیکن وہ تحریر میں جذب ہو کر رہ گئے اور اپنی نمی کو صفحہِ قرطاس پہ مسرت کے ہاتھوں سے لکھے حروف میں مدغم کر گئے ۔
وہ تھکا ہارا پلیٹ فارم سے باہر آیا ۔ راولپنڈی کی ٹرین کا ٹکٹ لیا اور مسافر خانے میں بیٹھا ایک انجانے سفر کی طویل مسافت میں الجھی زندگی کا تصور کیے اس نامے کو دیکھے جا رہا تھاجو اس کے نام اپنا آخری پیغام دے رہا تھا ۔ اب وقت کی کسے پرواہ تھی ۔ جیسے بھی گزرے گا گزارنا پڑے گا ۔ راولپنڈی کی ٹرین میں وہ واپسی جا تو رہا تھا لیکن کسی بھی جذبات سے بالکل عاری ۔ ہر مسافر اپنے سفر پہ گامزن تھا ۔ شہر کی روشنیاں مدھم ہو چکی تھیں ۔ اندھیروں ہر سو غالب تھے ۔دل کی رونقوں پر غمناک سائے بسیرا کر چکے تھے ۔آج جو کچھ اس کے ساتھ ہوا ایک تماشہ ہی تو تھا ۔کھوکھلے سے قہقہے ، بے جان سی خوشی اک طمانچہ تھا ۔وہ ساری زندگی کٹھ پتلی ایک غلام کی مانند خاموش تماشائی بنا رہے گا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں