ناولٹ ،، مسدود راہیں ،، بشیر شاد

ناولچہ ،، مسدود راہیں ،،، تحریر : چوہدری محمد بشیر شاد ایتھنز یونان
گندم کی کٹائی کے ساتھ ہی سب کو فراغت مل جاتی ہے۔ ہر کوئی اپنی چارپائی بغل میں دبائے چوپال کی جانب نکل آتا ہے جہاں برگد کی قدوقامت آنے والوں کو سایہ مہیا کرتی ہے۔ گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لئے اس سے بہتر اورکوئی جگہ نہیں ہوتی۔ سچ کہتے ہیں بڑے بوڑھے ”جیٹھ ہاڑرُکھیں تے سَون پہادروں کُکھِیں“ایشیائی تہواروں میں میلوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ سال بھر انتظار اور پھر گرمی کا جوبن، کھلے میدانوں میں یا پھر گاوں سے ملحقہ قبرستانوں میں ایسے میلوں میں ہر کوئی بن ٹھن کے آتا ہے۔ بڑی بڑی درگاہوں کے گردونواح ایسے تہوار منائے جاتے ہیں جنہیں ”میلہ“ کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس لفظ کے ساتھ کچھ مزید الفاظ کا اضافہ کر کے بولا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے ”میلہ میلیاں دا، پیسے تیلیاں دا“ ایک دوسرے کو ملنے کے لئے میلے میں آنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ سارے سال کی بچت میلے میں سرف کرنے کے لئے جیبی طاقت بھی اپنا جلوہ دکھاتی نظر آتی ہے۔ ایک ایسے ہی میلے کی رُوداد کا نقشہ یقینا ہر ذہن میں ابھر کر سامنے آ جاتا ہے کہ میلے کا انعقاد ہونے سے پہلے گاوں کا چوکیدار سرشام ہر گھر کے سامنے سے گذرتے ہوئے اعلان کرتا چلا جاتا ہے اور ہر کسی کے دل میں اٹھنے والی امنگیں شدت اختیار کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ کمسن بچے اپنے والدین سے توتلی توتلی زبان میں پوچھتے ہیں”اوول کن دن نے“ تو والدین ویسے ہی میٹھے میٹھے بھولے بھالے انداز میں جواب دیتے ہیں، ”بس پرسوں چلاں گے“ اور بچوں کے چہرے مسکراتے ہوئے پھولے نہ سماتے ”آہا جیا آہا، جلیبیاں وی کھاں گے، لڈو وی لیاں گے، آہو آہو‘ ‘ کا جواب سنتے ہی وہ باپ کی جانب یوں دیکھتے کہ شاید کچھ اور چیز کا بھی اضافہ ہوگا۔ تھوڑا انتظار کر کے ایک دوسرے سے چہ میگوئیاں کرنے لگتے۔
کیا بات ہے بہن بھائی میں کوئی بات چل رہی ہے؟
گڈی کے نرم لبوں سے ”پنگوڑے وی چہوٹنے نے“ کی حرکات و سکنات اس قدر معصومیت سے لبریز تھیں کہ ماں نے ٹھک سے جیب پہ ہاتھ مارتے ہوئے کہا کہ یہ سب پیسے تم خرچ کرنا، بس دو دن صبر تو کر لو۔
اماں اماں…. مجھے….
ہاں بولو….بولو….
نہیں نہیں۔ گڈو دوڑ کر باپ کی جھولی میں جا ٹکا۔ باپ حقہ کی واری لگانا بھول گیا۔
او میرا شیر جوان…. ہاں گڈو بول کیا چاہئے تمہیں میلے سے؟
گڈو نے باپ کی شفقت کا جھٹ سے فائدہ اٹھایا۔ ”مینوں نگوجا وی لے کے دینا جے‘۔
جیڑی پچھلے سال بانبسری لے کے دِتی سی اوہ کتھے ای؟
بانسری کا نام سنتے ہی گڈو نے باپ کی گود سے دوڑ لگا دی اور ماں کے قریب کھڑے ہو کر دونوں ہاتھ کولھوں پہ جما کے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
اوہ پرانی ہو گئی اے….
ہاں گڈو کے ابا اس سال میلے پر نئی نئی چیزیں آئیں گی اگر گڈو مانگ بیٹھا ہے تو لے دینا ناں۔ انہی کے لئے تو کماتے ہیں۔
گڈی دی ماں توں فکر مت کر۔ میں تو ان کے ساتھ ذرا ”چول مول“ کر رہا تھا۔
بچے ماں باپ کی گود میں اپنی خواہشات پوری ہونے کی خوشی میں خواب استراحت کے مزے لوٹنے لگے۔ کتنی معصومیت جھلک رہی تھی ، والدین اُن کے چہروں کی مسرت و شادمانی میں اپنی تسکین تلاش کر رہے تھے۔کتنی مشکل سے یہ اولاد اُن کو ملی تھی۔ گڈو کی پیدائش سے اگلے سال ہی بیٹی کا روپ بھی گھر کی زینت بنا۔لوگ سمجھنے لگے تھے میری بیوی بانجھ ہے یا خدا نہ کرے مجھ میں قوتِ مردانگی کی کمی ہے۔ بس جتنے منہ اتنی باتیں۔ کوئی مشورہ دیتا فلاں پیر کے پاس جاو تو کوئی چہرہ دیکھ کر مرض پکڑنے والے حکیم کے پاس جانے کا صلاح و مشورہ دیتا۔ اللہ کے گھر میں دنیا کو دینے کے لئے بہت کچھ ہے۔ ”دیر آئید درست آئید“ وہی مسبب الاسباب ہے، وہی بہتر جانتا ہے کہ کب اور کس وقت کسے کیا دینا ہوتاہے۔
ارے اللہ کی بندی اب بچوں کو ساری رات گود میں سلاتے رہیں گے، اٹھو اور ان کو اپنی اپنی چارپائیوں پر آرام کرنے دیں گڈو کو باپ نے اٹھایا اور گڈی ماں کی آغوش میں اپنے بستروں تک پہنچ گئی۔
گڈی کی ماں….
جی….
بھئی اِدھر آو….
ہاں جی….
تم نے ہمیں نہیں بتایا۔ میلے سے کیا لاوں تمہارے لئے؟
میلے سے لاوں نہیں۔ میں بھی چلوں گی آپ کے ساتھ۔ بچوں کو کون سنبھالے گا۔
ہاں…. ہاں ٹھیک کہہ رہی ہو لیکن تمہاری فرمائش کیاہے؟
” بُندے چاندی کے لوں گی“
سونے کے کیوں نہیں؟
وہ سونے کی مرکیاں بنوانی ہیں ناں گڈی کے لئے….
جیسے تمہاری مرضی
تو مجھے کیا دو گی….
آپ کو….اچھا ….چلئے ہٹیے….میلہ ابھی دو دن بعد ہے پہلے ہی فرمائشیں شروع ہو گئیں۔
ہماری اتنی فرمائشیں کہاں ہوتی ہیں بس ہر وقت صرف ایک ہی فرمائش ہوتی ہے۔ گرم گرم تمہارے ہاتھوں کا کھانا۔
اگر پھر سے بھوک ستانے لگ گئی ہے تو آ جاو رسوئی میں۔
تو چل آگ تیکھی کر میں حقہ تازہ کر کے آتا ہوں۔ دیکھئے کوئلے بنانا توڑنا نہیں ذرا چلم رات بھر چلتی رہے گی۔
ویسے آپ سے زیادہ حقے کا شوقین میں نے نہیں دیکھا۔
کیا کہا، میری غیر موجودگی میں کس کس کو دیکھتی ہو حقہ پیتے ہوئے ۔
چلو ایک نئی افواہ گھر سے ہی چل نکلی ۔ میں جب اپنے ماں باپ کے گھر سے بیاہ کے یہاں آئی تھی تو میرے گھر میں بھی سب حقے کے شوقین تھے لیکن آپ کی طرح نہیں کہ سوتے میں بھی نڑی منہ میں رہے اور سانس کے آنے جانے سے حقہ بڑبڑ کرتا رہے۔
ارے پگلی یہ تو وہ آواز ہے جو چوروں کی ہمت کو چکنا چور کر دیتی ہے اور سن لگانے والا اس آواز سے چوکس ہو جاتا ہے اور چوری نہیں کر پاتا۔
کیا بات ہے گڈو کے ابا۔ تم سے بحث میں پورا گاوں آگے نہیں نکل سکتا ، اگر سکول آپ نے چھوڑا نہ ہوتا تو آج وڈے وکیل ہوتے۔
تو اب کون سا میں وکیلوں سے کم ہوں۔ کچہری یمں سب بڑے بڑے وکیل مجھ سے رائے لے کر میری شہادت ڈالتے ہیں اور کیس چاہنے دیوانی ہی کیوں نہ ہو میری وجہ سے جیت جاتا ہے۔
ذرا بچ کے وکیل صاحب۔ اندھیرے میں کہیں گر نہ جانا اور حقہ کا پانی بدلتے بدلتے کہیں گھڑا نہ توڑ دینا۔ اس وقت نلکے کی بوکی کو تر کرنے کے لئے بھی پانی نہیں ملے گا۔
واہ بھئی واہ بُڈھی تیرے وَرگی۔
چلو…. مینوں ابھی سے بوڑھی کہنا شروع کر دیا ہے۔ کیا خیال ہے کوئی نئی نویلی میری سوکن تے نہیں لب لئی۔
جے میں وکیل آں، تے کَہٹ توں وی نہیں۔
بچ کے ،ویکھیا ای ناں…. ابھی گرنے لگے۔”اٹھیا جائے نہ تے پھٹے منہ گوڈیا دا “
دال کو لگا ذرا تھوم کا تڑکا اور گرم گرم روٹیاں بنا دے اپنے پیارے ہاتھوں سے۔
اس وقت تو آملیٹ ہی بنے گاچار روٹیاں بچی ہوئی ہیں بس آنے والی بات کریں….
آ رہا ہوں…. یہ کیا میں نے تو….
دال کل بنا لیں گے آج جو کچھ بن چکا ہے اسی پر گزارہ کر لیں
بیوی ابھی تک ایک روٹی چبانے میں لگی ہوئی تھی کہ میاں تین روٹیاں آملیٹ کے ساتھ چٹم کر کے مونچھوں کو تاو دیتے ہوئے حقے میں چلم بھر کے کش لگانے لگا۔ کیوں روٹی کھائی نہیں جاتی کیا؟
آپ کے پیٹ کو تو سکون آ گیا ہوگا۔ بہتر ہے اپنے حقے کے ساتھ بستر کی راہ لیں، میں رسوئی کو صاف کر کے آتی ہوں۔
حقے کے کش لگاتے لگاتے وہ آنکھیں بند کئے اپنی نیند کے جلووں میں کھو گیا۔ بیوی واپس آئی تو اُس نے ہر روز کی طرح اُسے خراٹوں سے دوستی کرتے دیکھا۔ آوازیں اونچی کبھی مدھم سروں میں آ جا رہی تھیں اور سانسوں کا یہ سلسلہ خود بخود حقے کے کش لگاتے لگاتے کبھی کبھار اُسے کھانسنے پر مجبور کرتا تو بلغم کو وہ تھوکنے کی بجائے نیند یمں ہضم کر کے پھر سے رواں ہو جاتا۔ بیوی بچوں کے چہروں کو دیکھتے دیکھتے سو جاتی اور اُسے خراٹے تو کیا میلے میں بجتے ڈھول تک سنائی نہ دیتے۔
سورج کے طلوع ہوتے ہی تیکھی کرنوں نے گرمی کا رنگ دکھایا۔ میلے کی خبر ڈھول کے ڈگے سے سنائی دی۔ہر کوئی میلے کی تیاریوں میں لگ گیا۔ گاوں میں چہل پہل ہونے لگی۔ گردونواح سے ہی نہیں بلکہ دور دراز سے آنے والے دکاندار اپنے خیمے لگا کر بڑے بڑے ٹال سجا رہے تھے ۔ کل سے باقاعدہ میلہ شروع ہو جائے گا۔ پہلوانوں نے اپنے اپنے پٹھوں کو مالش کروانا شروع کر دی۔ ڈنکے کی چوٹ پر وہ کشتی جیتیں گے۔ کبڈی کے شائقین بھی جوانوں کو تیار کر رہے تھے۔ بڑے بڑے پنگھوڑے بھی نصب کئے جا رہے تھے۔ موت کے کنوئیں کی فٹنگ بھی ہو رہی تھی۔ ایک تھیٹر کمپنی اپنے پورے سازو سامان کے ساتھ شام ہوتے ہی وہاں آ پہنچی۔ ان کے آنے سے رونق دوبالا ہو گئی۔ بدن کو آگ لگا کر بلندیوں سے چھلانگ لگانے والے بھی اپنی فلک بوس سیڑھی کی فٹنگ کرنے لگے۔ مٹی کے تیل سے روشنی دینے والے گیس منور ہو گئے۔ کہیں کہیں لالٹین کی روشنی رات کی تاریکی کا دم توڑ رہی تھی۔ زمین کو چومتے ہوئے جھوم جھوم کر ابھرنے والا چودھویں کا چاند دوشیزاوں کے دل میں ہلچل مچا رہا تھا۔ کل میلے میں ملاقاتیں، سوغاتیں، تحفے و تحائف، چوڑیاں رنگ برنگی، پنگھوڑوں اور جھولوں میں کن اَنکھیوں سے دیکھنے والے بے شمار نظاروں کا سامنا ہوگا۔ گرم گرم جلیبیاں اور موتی چُور لڈو پیار کی داستانیں دہرائیں گے۔ چاندی کے ورق لگی برفی کی ڈلیاں نرم و نازک اندام مخروطی انگلیاں کسی کے کھلے لبوں تک رسائی حاصل کر لیں گی۔ جیولری کی چمک دمک ہرسو بکھرتی نظر آئے گی۔ چاندی کی بالیوں، انگوٹھیوں، جھمکوں اور ست رَنگیا کوکے نمایاں ارتعاش برپا کرتے رونق افروز ہوں گے۔یہ ہفتے بھر کا میلہ کوئی معمولی بات نہیں۔ یہاں سال بھر کے فیصلے ہوں گے۔ کون مالی جیتے گا۔ بہت سے گاوں کا اکٹھ، بڑے بڑے جوڑ پہلوانوں کے اور اُن کا آپس میں مقابلہ ایک نمایاں حیثیت کا حامل ہے۔ سال بھر کثرت کرنے والوں کی پہچان کا دن اسی میلے سے ہوگا۔ کشتیوں کے لئے زمین کو ہموار کیاگیاتو کہیں چھلانگ چھڑپا مارنے والوں کے لئے جگہ تیار کی گئی۔ ایک جانب پتھر اٹھانے والوں کے لئے جگہ سیدھی کی جا رہی تھی تو دوسری جانب نیزہ پھینکنے کے لئے چونے کے نشانات ثبت کئے جا رہے تھے۔ ساتھ ہی ڈسک تھرو لینی تھال کو گھما کے پھینکنے کی نشاندہی ہو رہی تھی۔ گولہ پھینکنے کا انداز بھی اپنی جگہ مسلّم تھا وہ کیسے پیچھے رہتے۔ اپنی جگہ وہ بھی متعین کر چکے تھے۔ میلے کے اس بڑے میدان میں دوطرفہ دکانیں اِس ترتیب سے لگائی جا رہی تھیں کہ ہرجنس کی اپنی ایک مخصوص گلی نظر آ رہی تھی۔بچوں کے لئے رنگ برنگے کھلونوں کی دکانیں بڑی پرکشش تھیں۔ رات بھر مٹھائی بنانے والے حلوائیوں نے راتوں رات قدآور اسٹال سجا ڈالے۔رنگ برنگی مٹھائیاں چمکتے چاندی سونے کے ورق سونے پہ سہاگہ تھے روح کھچ کیمرہ بھی میلے میں آ گیا۔ سرخی پاوڈر لگائے نئی نویلی دلہن ، مونچھوں کو تاو دیتے مائیے کے ساتھ ایک اسٹول پہ بیٹھے اِس کیمرے کے سامنے یوں ساکت ہو جاتے جیسے سانسیں بھی کیمرے میں آ جائیں گی۔ اسٹول کے پیچھے کنوئیں سے پانی بھرتی مٹیار اور گھوڑے سے اتر کر دونوں ہاتھ جوڑے پیاسا مسافر بھی اس تصویر کی یادگار بن جاتا ہے۔ ہر نیا آنے والا جوڑا اپنی اپنی تصاویر دیکھ کر مسکراتا ہے۔ فوٹو گرافر بار بار پردوں میں اپنی گردن تک چہرہ لے جا کر تصویر بناتا ہے اور پھر ہاتھوں کی حرکات و سکنات تصویر کو کیمرے سے باہر لے آتی ہیں۔
وہ وقت بھی آ گیا، میلہ جوبن پر تھا۔ ہرسوآوازیں، رنگ برنگی پوشاکیں تن زیب کئے لوگ جوق در جوق ہر طرف سے آ رہے تھے۔ تربوز، خربوز، آم ، جامن، امرود کے ڈھیر بھی اپنی رنگت دکھا رہے تھے۔برف کے گولے بنانے والے رندے پر برف رگڑ کر جب مختلف رنگوں کی بوتلوں سے رنگ انڈیلتے تو خوبصورتی نمایاں ہو جاتی۔ ماں باپ ایک بار ضرور پوچھتے بھائی اس میں اسکرین تو نہیں وہ نہ ہو بچوں کے گلے خراب ہو جائیں۔ دوسری طرف لمبی لمبی زلفوں والا کالا سائیں شربت لگا کے بیٹھا ہاتھ میں ایک جھالر سی لئے آواز لگائے جا رہا تھا۔ آ جا بھائی آنے دا، ٹھنڈا مٹھا آنے دا۔ ٹھنڈ پوندا آنے دا،اسبغول، تخم لنگا، صندل دا شربت ٹھنڈا ٹھار جے، آ جا بھائی آنے دا ، زلفاں والے کالے سائیں کی بھاری آواز دور دور تک سنائی دے رہی تھی۔ اس کے بائیں طرف مینگو ملک شیک، بنانا ملک شیک والا اپنا راگ الاپ رہا تھا۔ ایسے میں اے ٹھنڈی ٹھار اے، گل بہار اے کھوئے دی قلفی، فالودہ کھاو تے جان بناو۔ گرمی میں یہ سب نعمتیں بچوں کی دلدادہ تھیں۔ شکر کا شربت ستو ڈال کے آواز لگائی جا رہی تھی۔ مکھیوں کی بھنبھناہٹ بھی سنائی دی جا رہی تھی۔ بڑے بوڑھے خربوز اور تربوز سے گرمی مٹا رہے تھے۔
پنگھوڑے والے نے بڑے شوخ رنگوں سے ہر پنگھوڑے کو الگ الگ رنگوں سے رنگا ہوا تھا اور جونہی ہوا میں معلق پنگھوڑے کے ڈبے پنگھوڑے والے کی حرکات و سکنات سے تیزی میں گھومتے نظر آتے تو بچوں کا شور والدین کے کانوں میں خوشی کا اظہار برپا کر دیتا۔ چوڑیوں والوں کے پاس عورتوں، جوان لڑکیوں اور بچیوں کا رَش تھا۔بڑے ماہرانہ طریقے سے وہ چوڑیوں کو نسوانی ہاتھوں میں پہناتا۔ کبھی کبھار ایک آدھ چوڑی ٹوٹ جاتی تو اُس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں سے پیار نکالا جاتا۔ پیار نکالتے وقت نظر ادھر بھی اٹھ جاتی جس کے لئے پیار نکالا جا رہا ہوتا۔ اس طرح میلے میں وہ میلہ بھی لگ جاتا جسے ایک سال تک کے انتظار میں دل و دماغ میں ہر لمحے سوچا جاتا۔ آج چلمن سے باہر آیا حسن میلے میں جلوہ افروز ہو چکا تھا۔
منیاری والے کے پاس بھی صنف نازک کا رَش تھا۔ رنگ برنگے پراندے، میک اَپ کا سامان ، انگوٹھیاں، کوکے، نتھنی، بالیاں، کانٹے اور بہت سے مخفی لبادے جو صرف پوچھنے پر ہی دیئے جاتے ہیں۔ نزدیک ہی کپڑے کا اسٹال تھا جہاں جہیز کی مہلک بیماریوں کے علاج کے لئے کتنے جوڑے لینے میں انگلیوں پر گنتے گنتے پھر ایک آدھ اور کا اضافہ ہو جاتا۔ اُس فلانی کے لئے بھی لے لیں بدنام کر دے گی پورے رشتے داروں میں۔ اُس کے آدمی کا جوڑا بھی لینا ہے۔ جیبی طاقت کا فکر الگ لگا ہوتا ہے اور ضروریات ہیں تو خواہ مخواہ گلے پڑتی ہیں۔ بستر کی چادریں، تکیے، میز پوش اور نہ جانے کیا کیا بیٹی کے ساتھ جائے گا بوڑھے والدین کو اس میلے میں ایک الگ فکر کا سامنا تھا۔
شعبدہ بازی دکھانے والے اپنا مجمع لگائے بیٹھے تھے۔ کہیں بندر سسرال جا رہا تھا تو بندر یا روٹھی بیٹھی تھی۔ بکرے کا چاروں پاوں اکٹھے کر کے لکڑی کے اسٹول پر کھڑے ہونا، آخری سلام بندرکا اور سانپ کی پھنکار، مجمع پر خوف طاری کر دیتی۔ اب کیا ہوگا مداری کو اگر سانپ نے ڈس لیا تو…. ہر جیب سے ازراہِ ہمدردی پیسے نکلتے گئے اور وہ اپنی روزی اکٹھی کر کے اپنا بشکا پھر سے کندھے میں لٹکائے پٹاری میں سانپ رکھے بندر اور بکرے کے ساتھ کسی دوسرے کونے میں تماشہ دکھاتا نظر آتا۔ تاش کے پتوں کے شوقین ایک کے دو لینے کے شوق میں اپنی پونجی لٹا کے روہانسی ہنسی ہنستے وہاں سے ہٹ جاتے۔
میلے میں سب سے زیادہ رَش بانو بازار میں لگا ہوا تھا جہاں گول گپے، دہی بھلے، فروٹ چاٹ اور پاپڑ چٹخاروں میں نوش کئے جا رہے تھے۔ ہر گاوں کی چھوری اپنے گاوں کے جیالے کی بات کر رہی تھی۔ دیکھ لینا اس بار ہم مالی لے جائیں گے۔ دوسری جانب سے گول گپہ منہ میں ڈالتے ہی کھٹی مٹھی آواز آتی۔ بڑی آئی مالی لے جانے والی، میری شرط اگر وہ پوری نہ کر سکا تو بول چال بند کر دوں گی۔ دیکھتی ہوں کیا کرے گا وہ میرے لئے۔ مالی ہم لے جائیں گے۔ دہی بھلے کی تیز مرچوں پر اور مرچیں لگیںجب دوسرے گاوں والے مالی جیت کےلئے جائیں گے۔
موت کے کنوئیں پر رش بتدریج بڑھ رہا تھا۔ کنویں کی دیوار اور ہاتھ چھوڑ کر موٹر سائیکل چلانا کوئی آسان کام نہ تھا۔ لوگ تو سیدھی سڑک پر پھسل جاتے ہیں یہ کیسے کنویں ہیں چکر پہ چکر کاٹ رہا ہے۔ بچوں کی سمجھ سے یہ بالاتر کھیل تھا جو اُن کی بساط سے باہر تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے رفتار تیز تر ہو گئی اور بڑی مہارت سے سلام پیش کرتے ہوئے موٹر سائیکل سوار موت کے کنویں میں اپنا ریکارڈ بنا رہا تھا۔ تین بچوں کے ساتھ کھڑی ماں اپنے خاوند کو بار بار پوچھ رہی تھی کہ اسے چکر نہیں آتے…. تماشہ دیکھ تماشہ یہ تمہاری طرح تھوڑی ہے کہ بس میں بیٹھتے ہی چکر آنا شروع ہو جاتے ہیں اور اگر اسے دیکھتے دیکھتے تمہاری آنکھیں تھک گئی ہیں تو چلو ہٹو یہاں سے کسی اور کو جگہ دو۔ چلو بچو تمہاری ماں کہیں متلی نہ شروع کر دے یہاں پر۔نزدیک ہی برتنوں کی چند ایک دکانیں سجی ہوئی تھیں۔ مختلف قسم کی کراکری کا سامان گھریلو عورتوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ کانسی، پیتل اور چینی کے برتنوں کے ساتھ ساتھ مٹی کے برتنوں کی ورائٹی بھی نمایاں تھی۔ کوئی دود ھ کی کاڑھنی پسند کر رہا تھا تو کوئی کڑونجنی پر رکھنے کے لئے دو برابر کے گھڑے خرید رہا تھا۔ بچوں کو اپنی فکر لاحق تھی مٹی کے کھلونے پر نظر جمائے اپنی پسندیدگی کا اظہار ہو رہا تھا تو کئی بچے اپنے جیب خرچ کو محفوظ کرنے کے لئے غلے خرید رہے تھے
ایک طرف ڈھول پہ لگا ڈگا انعام یافتہ سفید گھوڑے کے مستی بھرے رقص کی نشاندہی کر رہا تھا تو دوسری جانب بڑی بڑی کالی گھنگھریالی جھومتی لٹوں والے کالے سائیں کے کونڈے میں بادام، خشخاش ، چاروں مغز اور بہت سی طاقتور اشیاءکا محلول ڈنڈے میں لگے گھنگھرووں کی ردھم میں آ جا پہائی آنے دا، ٹھنڈا مٹھا آنے دا، اے ٹھنڈ پاوے آنے دا، دل جگر دیاں دور کرے گرمیاں، اے شربت پیو تے سدا جیو…. آ جا پہائی آنے دا…. اے ٹھنڈا مٹھا آنے دا۔ پانچ گلاس بیوی بچوں سمیت پیٹ میں ٹھنڈک ڈالے وہ میلے کی رونقوں میں کھو گئے۔
میلے میں رنگ برنگی دنیا اپنی اپنی خوشیوں میں مگن سال بھر کے انتظار کو سکون کی گھڑیوں میں منتقل کر رہی تھیں۔ اس میلے میں سرکس کو فوقیت حاصل تھی ۔ بڑے بڑے قدآور انسانوں اور جانوروں کے کرتب کرتے پوسٹر سرکس کے مین گیٹ پر آویزاں تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں پہلا شو شروع ہو جائے گا۔ ہر طرف ھوم مچی ہوئی تھی۔ اعلان کیا جا رہا تھا کہ اس سے پہلے آپ نے ایسی سرکس کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔ سرکس کے باہر اسٹیج پر خواجہ سراوں نے اپنی دنیا سجا رکھی تھی۔ ہر گانا اُن کے اجسام کو یوں حرکت دیتا جیسے زبان سے ادا نہ ہو رہا ہو بلکہ حرکات و سکنات اُس کی تشرح میں کوشاں ہوں۔
کُشتیوں ، دوڑ، چھڑپے، تھپڑوں والی کبڈی کے رنگ میدانوں میں پوری طرح عیاں تھے۔ جب کوئی ایک دوسرے کو پچھاڑ کر اپنی برتری کو منوا لیتا تو دیکھنے والوں کی واہ واہ اُس کا ساتھ دیتی۔ اُسے کندھوں پہ اٹھا لیا جاتا اور میدان میں سب لوگوں کی چاہت کا مرکز ٹھہرایا جاتا۔ ایسے میں ایک ایسا نوجوان بھی اپنی خوشی کا اظہار لکڑی کی بنائی ہوئی مصنوعی رائفل کو دائیں ہاتھ میں تھامے ٹھُس ٹھُس کی آواز منہ سے نکالے کرتا تو نزدیک کھڑے دوسرے لوگ اس کی اس خوشی کو فاتح کی خوشیوں میں شمولیت خیال کرتے۔ وہ دنیا کے اس میلے میں اکیلا، تن تنہا خود کو بہلانے میں کوشاں تھا۔ کبھی اُس کی نظر جوان نوبیاہتا جوڑوں پر پڑتی تو وہ وہاں بھی جھوم جھوم کر رائفل سے گولیاں برسائے ٹھس ٹھس کی آواز کو شدت سے نمایاں کرتا۔ نرم و نازک کلائیوں میں رنگ برنگی چوڑیوں کو پہناتے وقت اُس کی نظر چوڑیوں والے پر رہتی اور جونہی پور مکمل ہو جاتا اور کلائیاں حرکت پذیر ہو کر چوڑیوں کی رنگینیوں کو اجاگر کرتیں تو اس کے من کی پیاس تسکین میں بدل جاتی۔ وہ دور کہیں خیالوں میں کھو جاتا اور اپنی ہی ہنسی میں ڈوب جاتا۔ منگنی کے بندھن میں بندھے جوڑوں کو تو وہ دور سے پہچان لیتا اور سر کو ہلکی سی جنبش دے کر ہا ہا ہاہا کی ہلکی سی آواز نکالے صرف اتنا کہتا کہ تمہاری شادی ہو گی تو میں خوشی میں بہت سے گولیاں فائر کروں گا۔
میلہ کمیٹی نے انتظامات بہت اچھے کر رکھے تھے ۔ ہر طرح کی سہولیات وہاں میسر تھیں۔ خاص کر میلے میں آنے والوں کی خوشیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بازار اس طرح ترتیب دیئے گئے تھے کہ ہر لائن میں ایک ہی قسم کی ہر چیز میسر تھی۔ حلوائیوں کی الگ دکانیں، منیاری والے الگ اور اُس کے ساتھ بانو بازار، کھیلوں کے میدان الگ، بزازی والے الگ، کھیل تماشہ دکھانے والی کمپنیاں ایک طرف اور سب سے بڑھ کر کسی بھی قسم کی شکایت کو سننے والا میلے کا ایک دفتر بھی اس سال ترتیب دیا گیاتھا لیکن میلے کی رونقوں میں کسی کو کسی سے ابھی تک کوئی شکایت نہیں تھی۔ پہلا دن تھا مجموعی رونقوں کو ترسے ایک دوسرے کے سنگ وہ میلے کی چاشنی کو بتدریج بڑھا رہے تھے۔
ڈھول سپاہی جی ذرا آنا میری دکان پر بھی ایک آدھ اعلانیا فائر کر دو یہ لو پیو باداموں والا شربت، دل نوں ٹھنڈ پا دے گا….ڈھول سپاہی قدرے توقف سے دیکھتے ہوئے شربت گٹا گٹ پی گیا اور وہاں سے چلتا بنا…. پیچھے سے کالے سائیں کی آواز آئی یار فائر کی آواز تو آئی نہیں…. ڈھول سپاہی قدرے دور جا چکا تھا لیکن اسے آواز جونہی سنائی دی تو اس نے ایک نظر مڑکے کالے سائیں کو دیکھتے ہوئے کہا ”کالا ریچھ کہیں کا“ کہتا ہے خوشی کے فائر کروں۔ بچ گئے ہو، شکر کرو تم ریچھ نہیں بلکہ ریچھ نما انسان ہوں نزدیک ہی گذرتے ایک جوڑے نے اس کی دبی دبی سی آواز کو سنا کیونکہ ان کا چھ سالہ اکلوتا بیٹا بھی سرکس میں جانوروں کے کرتب دیکھنے پر بضد تھا۔ اُس بچے نے ساتھ چلتے ہوئے ایک انجان کے ہاتھ میں لکڑی کی رائفل دیکھی تو معاً یہ خیال آیا کہ اگر اسے بھی سرکس میں لے چلیں تو کتنی اچھی بات ہے …. اسی سوچ بچار میں سرکس بھی قریب آ گئی۔ لوگ جوق در جوق سرکس سے باہر قطار میں لگے ٹکٹیں خرید رہے تھے۔ رقص کرنے والوں نے اپنی اودھم مچا رکھی تھی اور لوگ بڑے بڑے بورڈ دیکھ کر اندازہ کر رہے تھے کہ یہ سارے کرتب دکھانے کے لئے ایک گھنٹہ تو بہت قلیل ہے، جو کر کے کرتب، جنگل کے بادشاہ شیر کے انداز، نازک اندام چھریرے بدن والی سرکس کی لڑکیوں کے مختلف کام، بندروں، کتوں، بلیوں، گھوڑوں، ہاتھیوں اور ریچھ کے کمالات، یہ سب جانور سدھائے ہوئے ہیں۔ انسانوں اور حیوانوں کی ٹیم کا نام ہی سرکس ہے۔ یہ جو باہر پھٹوں کی اسٹیج پر محرک ہیں اور انگ انگ سے رقص میں ادائیں شامل کررہے ہیں سرکس کے استقبالیے کے فنکار ہیں۔
ڈھول سپاہی سرکس کے باہر ایک ایک بورڈ دیکھ رہا تھا اور آخری بورڈ پہ آ کے وہ رک گیا جہاں ایک ریچھ کی تصویر آویزاں تھی۔ اس کی سوچوں کے دائرے اسی تصویر پر مرکوز ہو کے رہ گئے۔ مبادا وہ کچھ اور سوچتا کہ اتنے میں چھ سالہ لڑکے نے اس کی قمیض کو پکڑ کر کہا کہ چلیں آپ کی ٹکٹ خرید لی ہے۔ ڈھول سپاہی کا خیال منتشر ہو گیا جب لڑکے کے باپ نے بھی کہا کہ آپ آئیے ہمارے ساتھ اندر چل کے دیکھتے ہیں کہ انسانوں اور حیوانوں کا جوڑ کیسے رہتا ہے….
اچھا یہ سب اندر موجود ہوں گے….
ہاں ہاں تم چلو تو سہی….
ریچھ بھی….؟
تم چلو تو سہی، اتنی پریشانی کی کیا بات ہے؟
ہاں چلیں کہتے کہتے ہہ اُن کے ساتھ ہو لیا۔ ٹکٹیں اول درجے کی تھیں جو بالکل سرکس کی اسٹیج کی پہلی قطار میں تھیں۔میاں بیوی کے ساتھ لڑکا اور اس کے ساتھ ڈھول سپاہی بھی لکڑی کی اپنی مصنوعی رائفل پر گرفت مضبوط کئے خالی اسٹیج پر نظریں جمائے ایک ٹکٹ دیکھے جا رہا تھا۔ اتنے میں اسٹیج پر بڑی خوبصورتی سے سجائے ہاتھ کی سونڈھ میں معلق لڑکی کا چھریرا بدن ہاتھ کی جنبش سے استقبالیہ دے رہا تھا ۔ سرکس دیکھنے والوں نے بڑی گرم جوشی سے تالیوں اور سیٹیوں کی گونج میں انہیں سراہا۔ ہاتھی اپنے نپے تلے قدموں سے اسٹیج کی بیرونی حدود کے دائرے میں چلتا رہا اور اس طرح سرکس کی ابتداءہوئی۔ ہاتھیوں کی مزید آمد ہوئی اور وہ اسٹیج کے عین وسط میں آ کر اگلے دونوں ہاتھ اوپر کر کے سونڈھ سے کرتب دکھاتے ہوئے بیٹھے بیٹھے آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ ایک ایک کر کے قطار میں ہاتھی واپس چلے گئے اور سفید تیکھے نقوش والی دبلی پتلی لڑکی سیاہ گھوڑے پر جمناسٹک دکھاتی سب کو سلام پیش کر رہی تھی۔ گھوڑا اپنے ٹاپوں کی مناسبت لڑکی کے کام سے مماثلت رکھے چکر پورا کر کے جونہی واپس گیا تو آگ کی مچلتی شمعیں اٹھائے جوکرز آن پہنچے انہوں نے آناً فاناً اتنی تیزی سے شمعوں کو حرکت دی کہ آنکھ گھمانے سے پہلے وہ کوئی دوسرا ایکشن کرتے دکھائی دیتے ۔ آخر میں منہ سے پٹرول کی پیک شمع پر پڑتی دکھائی دی اور ہر طرف سے شعلے ابھر کر یکجا ہوئے تو یوں لگا جیسے ایک بہت بڑا آگ کا شعلہ نمودار ہو گیا ہو۔
ڈھول سپاہی آگ کے شعلوں کو دیکھ رہا تھا جیسے جنگ میں توپ کے گولوں سے شعلے اٹھ رہے ہوں۔ ہینڈ گرنیڈ سے تباہی آ گئی ہو۔ گولیوں کی بوچھاڑ میں کسی کا گھر تباہ ہو گیا ہو۔ ابھرتے شعلے کی حدت اُسے ہرگز نہ بھا رہی تھی۔
گلوب کے اوپر حرکت کرتی نازک اندام لڑکی نے اپنے پورے وجود کو محرک کر رکھا تھا۔ مختلف زاویوں سے اپنے کسرتی بدن سے جمناسٹک کے نادر نمونے بنا رہی تھی۔ گلوب کے اوپر صرف دانتوں میں گلوب کے اوپر منسلک ڈنڈے میں اپنا پورا بدن حرکت میں لا کر دیکھنے والوں کو مجبور کر دیا کہ اس کے کام کو سراہتے ہوئے داد دیں۔ اتنے میں ایک ہاتھی اندر آیا اور اس نے لڑکی کو اپنی سونڈھ کا رِنگ بناتے ہوئے اٹھا لیا۔ بڑے کروفر سے لڑکی نے ہاتھی کی سونڈھ میں لوہے کا رِنگ سمویا اور پھر بڑی چابکدستی سے دو لڑکوں نے ہاتھی کے آگے لکڑی کا اسٹول رکھ دیا۔ ہاتھی نے اپنے دونوں پاوں اُس پر رکھ لئے اور لڑکی اونچائی پر ہاتھی کی سونڈھ میں پڑی رِنگ میں اپنے کرتب دکھانے لگی۔ لوگ بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے اور بچے بھی محظوظ ہو رہے تھے ۔ اتنے میں لڑکی نیچے اتری اور ایک والی بال اس کے ہاتھ میں تھما دیاگیا۔ ہاتھی پچھلی جانب چلتا گیا لوگ سمجھ رہے تھے کہ اگر یہ اسی طرح پیچھے آتا گیاتو یقینا لوگوں پر آ گرے گا لیکن ایسا نہیں ہوا لڑکی کے اشارے پر وہ کھڑا ہو گیا۔لڑکی کی طرف سے بال آتا اور سونڈھ اس کو دوبارہ لڑکی کی جانب پھینک دیتی۔ عجب والی بال کا کھیل تھا دونوں میں سے کوئی ہارنے کو تیار نہ تھا۔ تماشائی اس تمنا میں تھے کہ کون ہارے گا لیکن کھیل میں تیزی آتی گئی۔ بچے اپنی بتیسی نکالے اس طرح نظریں جمائے بیٹھے تھے کہ ہاتھی نہیں ہارے گا تو ہاتھی نے کیا کیا آخری ہٹ لگا کر سونڈھ کو گھما دیا اور والی بال ہال میں تماشائیوں پر جا گرا۔ سب نے اس شرارت کی تعریف کرتے ہوئے واہ واہ میں تالیاں بجائیں تو ڈھول سپاہی کے ساتھ بیٹھے لڑکے نے پوچھا کہ پسند آیا یہ کھیل…. ہاں ہاتھی سب کا ساتھی ہے بہت اچھا ہے ہاتھی….
اتنے میں ایک لڑکی سائیکل سوار میدان میں آئی۔ چند قدم آگے بڑھی تو دو لڑکیاں اور آ گئیں وہ دونوں طرف سائیکل پہ سوار ہو گئیں پھر ایک لڑکی نے جمپ لگایا اور سائیکل چلانے والی لڑکی کے کندھوں پر سوار ہو گئی۔ تینوں کی الگ الگ شرارتوں اور اپنی جگہ تبدیل کرنے کے کام کو سراہا گیا اتنے میں ایک جوکر سائیکل سوار بھی میدان میں نمودار ہوا ، ہر کوئی اُس کی مضحکہ خیز ہنسی پر بے ساختہ ہنس رہا تھا۔ کبھی سائیکل کا ہینڈل خود بخود الٹا ہو جاتا تو وہ پریشان ہونے لگا ، اتنے میں چار اور جوکر آ گئے۔ وہ اشاروں کنایوں میں اسے سمجھانے لگے پھر سے سائیکل چلانا شروع کر دی، ایک جوکر پچھلی سیٹ پر بیٹھنبے لگا تو پچھلی سیٹ دھم سے نیچے آ گری اور چوٹ کھائے جوکر کا انداز اُس کی تکلیف کو ظاہر کر رہا تھا۔ سائیکل سوار جوکر نے سائیکل جلدی جلدی اسٹینڈ پر کھڑی کر کے گرے ہوئے جوکر کو اٹھانا چاہا تو سائیکل اسٹینڈ سے ہٹی اور گر گئی۔ا۔ ان دونوں میں لڑائی ہو گئی ایک کا کہنا تھا تم نے سائیکل گرائی ہے دوسرے کا کہنا تھا کہ تم نے جان بوجھ کر مجھے گرایا ہے یہ اشارے چل رہے تھے کہ تین جوکر سائیکل لے کر بھاگ نکلے۔ یہ دونوں پیچھے پیچھے اور تین جوکر سائیکل لے کر اسٹیج سے آوٹ ہوگئے۔ پولیس کی سیٹی بجتے بجتے مدھم سے مدھم تر ہو گئی ۔ ایک لڑکی آئی اور زمین پر لیٹ گئی اس کے پاوں پر چھ گلاس پانی کے بھرے ہوئے رکھے گئے پھر دونوں جانب ہاتھوں پر بھی چھ چھ گلاس پانی کے بھرے رکھ دیئے گئے۔ آخر میں منہ میں لکڑی کے ڈنڈے کو مضبوطی سے تھامے اُس کے اوپر چارپانی کے بھرے گلاس کا کھیل چلتا رہا اور اس نے بغیر کسی نقصان کے اپنا کھیل عوام میں پیش کر کے داد وصول کی۔
ایک درمیانی اونچائی والی سطح سے نیچے گر کر نیٹ سے ابھرتے ہوئے اونچائی پر مچان میں لگی کرسی پر براجمان ہونا جوکر کی کارکردگی کو نمایاں کر گیا۔ اتنے میں ہاتھوں میں چھڑیاں لئے ایک دوسرے کی طرف پھینکتے ہوئے فنکار بھی اپنے فن کا بھرپور نمونہ پیش کرکے چلے گئے تو ایک شیر بڑے پہیئے میں گھوم رہا تھا اور پہیہ چلتا رہا۔ ببر شیر کی اولاد پہئے کے اوپر چھلانگیں لگا کے پہیئے کو گھماتی رہی ایک راونڈ مکمل ہوا تو تین ہاتھیوں پر تین لڑکیاں میدان میں آئیں۔ اگلے ہاتھی کی پیٹھ پر پچھلے ہاتھی نے اگلے پاوں جما کر تیسرے ہاتھی کو بھی ویسا ہی کرنے کا اشارہ دے دیا اور تیسرا ہاتھی بھی اپنی پوزیشن کو مضبوط کر گیا۔ تینوں ہاتھیوں نے لڑکیوں کو پشت پر سے اپنی اپنی سونڈھ سے نیچے لانے میں ایک سا ایکشن دیا اور گانے کی آواز گونجی۔ موسیقی میں رقص نمایاں کرتے ہوئے ہاتھیوں اور لڑکیوں کا باقاعدہ رقص نمایاں حیثیت کا حامل رہا۔ بڑی داد ملی اور پھر اونٹ کیسے پیچھے رہتے ۔ عربوں کی ثقافت اور صحرائی جہاز دونوں کا اشتراک بڑا خوبصورت تھا۔ بڑے بڑے کسرتی بدنوںوالے(جاری ہے) والے اپنے گلے میں بھاری بھرکم سانپوں کو لٹکائے میدان میں آئے تو بچوں کی جیسے چیخ نکلنے والی تھی۔ اگر اس سانپ نے ان کو کاٹ لیا تو…. ڈھول سپاہی نے قدرے مسکراتے ہوئے کہا کہ جنگلوں میں اس سے بھی بڑے بڑے سانپوںسے اس کا واسطہ رہا ہے انسان اشرف المخلوقات ہے ۔ سب کو سدھار لیتا ہے لیکن …. کہو ناں رک کیوں گئے…. کچھ نہیں وہ دیکھو جوکر آیا ہے چڑی چھکا کا تماشہ دکھائے گا۔ جوکر اپنے کرتب دکھاتا رہا اور ہٹ لگاتے ہوئے ہر بار اسے کچھ ہو جاتا۔ کبھی خارش ہو جاتی کبھی پاوں سلپ ہو جاتا، آخری ہٹ لگانے لگا تو دھم سے نیچے گرا اور چڑی کو ہٹ لگی تو وہ ڈھول سپاہی کے نزدیک بیٹھے لڑکے کی جیب میں آ گھسی۔ جوکر ہر طرف چڑی کو تلاش کر رہا تھا کہ لڑکے نے آواز دی ادھر میرے پاس ہے آ جاو لے لو۔ وہ جونہی نزدیک آتا گیا، ڈھول سپاہی کے ہاتھ میں لکڑی کی بندوق دیکھ کر واپس بھاگتے بھاگتے ہاتھ کے اشارے سے رائفل سے منسلک گھوڑے پر ایکشن دیتے ہوئے رائفل چلاتے چلاتے چڑی لئے بغیر بھاگ گیا ۔
بڑے بڑے کسرتی بدنوں والے اپنے گلے میں بھاری بھرکم سانپوں کو لٹکائے میدان میں آئے تو بچوں کی جیسے چیخ نکلنے والی تھی۔ اگر اس سانپ نے ان کو کاٹ لیا تو…. ڈھول سپاہی نے قدرے مسکراتے ہوئے کہا کہ جنگلوں میں اس سے بھی بڑے بڑے سانپوںسے اس کا واسطہ رہا ہے انسان اشرف المخلوقات ہے ۔ سب کو سدھار لیتا ہے لیکن …. کہو ناں رک کیوں گئے…. کچھ نہیں وہ دیکھو جوکر آیا ہے چڑی چھکا کا تماشہ دکھائے گا۔ جوکر اپنے کرتب دکھاتا رہا اور ہٹ لگاتے ہوئے ہر بار اسے کچھ ہو جاتا۔ کبھی خارش ہو جاتی کبھی پاوں سلپ ہو جاتا، آخری ہٹ لگانے لگا تو دھم سے نیچے گرا اور چڑی کو ہٹ لگی تو وہ ڈھول سپاہی کے نزدیک بیٹھے لڑکے کی جیب میں آ گھسی۔ جوکر ہر طرف چڑی کو تلاش کر رہا تھا کہ لڑکے نے آواز دی ادھر میرے پاس ہے آ جاو لے لو۔ وہ جونہی نزدیک آتا گیا، ڈھول سپاہی کے ہاتھ میں لکڑی کی بندوق دیکھ کر واپس بھاگتے بھاگتے ہاتھ کے اشارے سے رائفل سے منسلک گھوڑے پر ایکشن دیتے ہوئے رائفل چلاتے چلاتے چڑی لئے بغیر بھاگ گیا۔ سرکس کی چھت پر کرتب دکھانے والوں نے مختلف انداز میں اپنی باری پوری کی ۔ کبھی کبھار ایسا بھی موقع آیا یہ ابھی گریں گے لیکن دوسرے کا ہاتھ بروقت تھامتے ہوئے وہ اپنا کام تمام کر رہے تھے ۔ ایسے ایسے کرتب کہ بندر بھی ان کی عادات پر عش عش کر اٹھیں ۔ سرکس کا یہ حسن بڑا ہی نمایاں تھا جس میں لڑکیوں اور لڑکوں نے اپنے بروقت کے فیصلوں کو مقدم رکھا اور شائقین کے سامنے سرخرو رہے۔
ایک لڑکی کا ایک بندر کے ساتھ وارد ہونا بچوں میں ہنسی کا پٹارا کھول گیا۔ لڑکی کے ہر قدم پر بندر کی مختلف قلابازیاںاُس کے دیکھنے کا انداز، آنکھوں کی پتلیاں گھمانے کی حرکات ، عوام کی توجہ کا مرکز بنی رہیں۔ اچانک اُس نے زمین سے جمپ لگایا اور لڑکی کے کندھوں پر بیٹھ کر سر سے جوئیں نکال کر کھانے کا انداز بڑا خوبصورت تھا وہ جوئیں منہ میں ڈالے بڑے انہماک سے اور تلاش کر رہا تھا جہاں لڑکی کا ہاتھ بالوں میں خارش کرتا وہ فوراً وہاں سے تلاش کر کے منہ میں ڈالتا۔ سب تماشائی اور بالخصوص بچے اُس کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔ جاتے ہوئے اُس نے آخری جووں کا پراگا عوام کی جانب ہاتھ کے اشارے سے کیا جس کا مطلب تھا آپ بھی کھائیں گے۔ بہت سی تالیوں اور سیٹیوں کی آواز کافی دیر تک ابھرتی رہی اور یہ سین بھی اختتام پذیر ہوا۔
جادو کے کرشمے دکھانے والی ٹیم نے وہ کرتب دکھائے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ منہ مکمل کھولتے ہوئے خالی ہاتھوں کا اشارہ کرتے ہوئے منہ کو بند کر لیا اور ایسا ایکشن دیا کہ جیسے وہ کچھ کھا رہا ہو۔ ایک ڈکار لیتے ہوئے اُس نے منہ پر ہاتھ رکھا اور اندر سے دھاگہ نکلنا شروع ہو گیا۔ نجانے کتنے گز تھا شمار نہ ہو سکا۔ دوسرے نے اپنی طرف راغب کرتے ہوئے کہا ادھر دیکھو اُس نے اپنے کان کو پکڑ کر گھمایا تو ہر بار ایسا کرنے سے گرگٹ کی لمبی زبان باہر آتی اور پھر منہ بند ہو جاتا۔ تیسرے جادوگر نے کہا یہ کچھ بھی نہیں۔ اپنے سر پہ بڑی اونچائی والے ہیٹ کو دائیں ہاتھ میں لے کر جھک کر اس نے سلام کیا اور ہیٹ کو الٹا سیدھا کر کے پھر سر پر پہن لیا۔ چوتھے نے پوچھا اشاروں میں ختم۔ انگلی کے اشارے سے اُس نے کہا نہیں۔ ہاتھ کو ہیٹ تک لے گیا جونہی ہاتھ نے سر سے ہیٹ کو اتارا تو اندر سے سفید کبوتر نے پرواز کر کے واپس ہیٹ والے کے کندھے پر بسیرا کیا اُس نے جھک کر سب کو سلام کیا تو چوتھے جادوگر نے عوام سے التجا کی کہ ایک چاندی کا روپیہ اسٹیج پر پھینکا جائے کسی نے نہیں پھینکا تو اُس نے ایک آنے کی درخواست کی۔ ایک تماشائی نے آنے کا سکہ اسٹیج پر پھینک دیا۔ آنے کو ہاتھ میں لے کر اُس نے آنکھیں بند کئے ایک دو پھونکیں ماریں اور پھر ہاتھوں کی پوروں سے آنے بنانے شروع کر دیئے۔ آواز آئی چاندی کے روپے بھی بناو تو وہیں جادو ختم ہو گیا۔آپ مجھے نہ روکتے تو ملک کا ہر فرد خوشحال ہو جاتا سوائے میرے….سب کو سلام پیش کرتے ہوئے جادوگر اپنا کرتب دکھا کر واپس چلے گئے اور تین لڑکیوں نے اپنی خوبصورتی کو نمایاں کرنے کے لئے شیشے میں خود کو سنوارنے کی روداد شروع کر دی۔ کسی نے چہرے کی خوبصورتی میں اضافہ کرنے کے لئے عورتوں کی کمزوری اور زیادہ ترخود کو سنوارنے کا کام دکھایا۔ دوسری نے بالوں کی خوبصورتی میں اضافت کا کردار ادا کیا ۔ تیسری نے بن سنوار کر آنے والی شخصیت کے انتظار میں اپنی تڑپ شامل کی۔
وقت کا دورانیہ اختتامیے کی جانب رواںد واں تھا۔ باہر پھر سے اگلے شو کی ٹکٹیں عنقریب کھلنے والی تھیں۔ریچھ کے کرتب دکھانے والی خوبصورت لڑکی ایک کالے ریچھ کے ساتھ اسٹیج پر نمودار ہوتی ہے اور ریچھ فوراً اگلے پاوں پر چلتے چلتے اپنے پچھلے دونوں پاوں اوپر اٹھا لیتا ہے اور شائقین تالیوں سے استقبال کرتے ہیں۔ ڈھول سپاہی کے چہرے پر عجب طرح کی لکیروں کا ابھار واضح دکھائی دینے لگتا ہے۔ وہ پہلو بدل بدل کے دیکھ رہا ہے۔ سیڑھیوں والا چبوترا عین وسط میں لاکھڑا کر دیا جاتا ہے اور ایک ہی اشارے سے ریچھ سیڑھیوں کے ڈنڈوں پر پاوں رکھتے ہوئے اپنے بدن سے چھوٹے چبوترے پر پہنچ جاتا ہے سر نیچا کئے چبوترے پر قلابازی لگا دیتا ہے ۔ پچھلے دونوں پاوں اوپر یکجا کر کے اٹھا لیتا ہے ایک ڈیڑھ گز کا ڈنڈا اُس کے پاوں میں تھما دیا جاتا ہے اور وہ اپنے پاوں محرک کر لیتا ہے ڈنڈے کو گھمانا شروع کر دیتا ہے۔ رفتار میں تیزی آ جاتی ہے لوگ دیکھتے رہتے ہیں۔ چبوترے سے لڑکی کی مدد سے وہ نیچے چھلانگ لگا دیتا ہے اسی چبوترے کے آگے سلائیڈ لگا دی جاتی ہے تو ریچھ ڈنڈا ہاتھوں میں تھمائے واپس چلا جاتا ہے۔ دو بڑے بڑے طوطے اندر داخل ہوتے ہیں۔ ڈھول سپاہی کی سانسیں متوازن ہونے لگتی ہیں ۔ طوطے سیڑھیاں چڑھ کر سلائڈ پر سے یکے بعد دیگرے پھسلتے ہوئے زمین پر آ کے پھر سے اُسی رفتار میں واپس جا رہے ہوتے ہیں کہ ایک سفید چھوٹے قد کا کتا اپنی مہارت دکھاتے ہوئے سیڑھیوں پر ماہرانہ پاوں رکھتے ہوئے چبوترے پر جاتا ہے اور سلائیڈ سے اس طرح پھسل کر واپس آتا ہے کہ سب کی ہنسی نکل آتی ہے۔ اتنے میں سین تبدیل ہو گیا۔ مضبوط لوہے کی سیڑھیوں میں دونوں طرف رسے کو باندھا گیا اور بُورے ریچھ کی انٹری ہوئی۔ اُس نے پانے رسے پر اپنے چاروں پاوں جما کر ہلنا شروع کر دیا اور پھر دونوں پاوں پر کھڑا ہوگیا۔ عوام نے خوشی کا اظہار کیا اور ریچھ نیچے اتر آیا۔ لڑکی نے پھر سے اشارہ کیا اور وہ پھر سے تروتازگی میں رسے کے اوپر چڑھ گیا۔ پچھلے پاوں رسے پر جمائے ہاتھ آگے کی جانب بڑھائے منتظر رہا لڑکی نے ایک رِنگ پھینکا سیدھا اُس کے دائیں ہاتھ میں گیا اسی طرح یکے بعد دیگرے پانچوں رنگز ریچھ نے برابر اپنے دائیں ہاتھ میں تھما لئے۔ نیچے اتر کر پانچوں رنگز ریچھ نے لڑکی کے حوالے کئے اور ایک بڑے بال پر چاروں پاوں یکجا کئے اسٹیج کے چاروں طرف گردش میں رہا۔ لڑکی اُس کے ساتھ چلتی رہی اور ایک حد پر آ کر اس کا کام ختم ہوگیا۔جاتے جاتے ایک ہاتھ اٹھا کر اس نے سب کو سلام کیا اور ایک بار پھر ڈھول سپاہی گہری سوچوں میں مستغرق مکڑی کے جا ل میں خود کو پھنسا ہوا دیکھ رہا تھا۔ ریچھ کے جانے کے بعد قدرے جان میں جان آئی اسے دنیا میں سب کچھ دیکھنا قبول تھا لیکن آخری تماشہ دکھانے کے لئے کالے ریچھ کا پھر سے واپس آنا اُسے بالکل اچھا نہیں لگا۔ سیاہ چمکتی رنگت، منہ پر ناک کے نزدیک آٹے میں نمک کے برابر سفیدی، آنکھوں میں وحشت ، تیز پنجوں والا وحشت ناک جانور اُسے کسی طرح نہیں بھارہا تھا۔ اس بار جب وہ چبوترے پر چڑھنے کے لئے سیڑھیاں استعمال کر رہا تھا تو ڈھول سپاہی پر جیسے بجلی آن گری تھی۔ اُسے آنکھیں بند کر کے یہاں بیٹھنے کی بجائے یہاں سے بھاگ جانا ہوگا۔پھر سوال اٹھا اس جانور سے بھاگوں گا، نہیں نہیں، ہرگز نہیں، ریچھ چبوترے پر چڑھ چکا تھا۔ دولکڑی کے بلاک اُس کے سامنے رکھے گئے تو وہ اُن پر بھی کرتب دکھانے میں کامیاب ہوگیا۔ تیسرے بلاک کی اونچائی پر کرتب دکھانا اگرچہ کافی مشکل تھا لیکن کالے ریچھ کی مہارت پر اُسے بہت سی داد ملی۔ ڈھول سپاہی کو اُس کی کوئی بھی مہارت بالکل پسند نہیں آ رہی تھی۔ جب وہ لڑکی کی مدد سے چبوترے کا کھیل ختم کر کے نیچے اترا تو آخری سین ایک بچے کی سائیکل پر عوام کو الوداع کہنا تھا۔ ریچھ بھی کافی تھک چکا تھا اور جونہی اس کے بھاری بھرکم بدن کو ایک چھوٹے سے سائیکل پر کرتب دکھانے کے لئے چڑھنا پڑا اگر لڑکی جو اسے برابر منہ میں لذیذ خوراک کی گولی تھما رہی تھی ایسا نہ کرتی تو ممکن تھا وہ بھی باغی ہو کے وہاں سے بھاگ جاتا۔ چڑچڑاپن جوان کالے ریچھ میں بددستور موجود تھا لیکن اس کے بعد اسے کچھ گھنٹوں کے لئے آرام کرنا ہوگا۔ بادل ِ نخواستہ وہ اپنے دیئے گئے اسباق پورے کر رہا تھا۔ لڑکی نے ریچھ کے کندھے پر ایک ہاتھ رکھے اسٹیج کی آخری حدود میں پیلی لکیر سے ظاہر کئے گئے گول رستے کی گولائی میں دھیرے دھیرے سفر کیااور آخر میں جونہی سائیکل سے اتر کو اس نے لڑکی کو اپنے مضبوط بازووں میں اٹھایا اور واپس جانے کا قصد کیاتو ڈھول سپاہی پر بجلی کوند پڑی۔ وہ اپنی لکڑی کی مصنوعی بندوق ہاتھ میں مضبوطی سے پکڑ کر چھلانگ لگاتے ہوئے اسٹیج پر آ دھمکا اور کالے ریچھ پر وار کرنا شروع ہو گیا۔ ریچھ نے لڑکی چھوڑ کر حملہ کرنے والے کے منہ پر تھپڑ رسید کیا تو وہ ٹھس ٹھس کہتے ہوئے رائفل کے گھوڑے کو دباتے ہوئے گولیاں برسانے لگا۔ ریچھ نے بڑی سرعت سے دوسرا وار اس کے دل کے عین اوپر اپنے جوان ہاتھوں کی پوری قوت سے کیا اور پنجے نے جسم میں پیوست ہو کر دل سے خون نکال لیا۔سکیورٹی کے آنے تک ڈھول سپاہی نیچے گر چکا تھا اور ریچھ پے درپے وار کئے جا رہا تھا۔ ہرسو بھگدڑ سی مچ گئی۔ ڈھول سپاہی اسٹیج پر تڑپ رہا تھا اور ریچھ کو پنجرے میں مقید کر دیا گیا اُس کی وحشت برقرار تھی اور دوسرے جانور بھی اس کیفیت کو بھانپ چکے تھے۔ بندروں کی چیخیں نکل رہی تھیں ، شیر الگ دھاڑ رہے تھے۔ پرندوں نے خوفناک آوازیں نکال کر اس دہشت ناک واقع پر افسوس کا اظہار کیا۔ جنہوں نے ٹکٹ خرید کر اس ڈھول سپاہی کو سرکس دیکھنے کی آفر کی تھی وہ ششدر تھے۔ اے کاش وہ ایسا نہ کرتے تو یہ ہولناکی دیکھنا نصیب نہ ہوتی۔ نزدیک کوئی ہسپتال نہیں تھا۔ دل پہ زخم گہرا آ چکا تھا وہاں سے خون کا بہنا اس انسان کی موت کا موجب بن سکتا تھا۔میلہ کمیٹی کے ارکان فوراً وہاں آ گئے۔ کار تو کسی کے پاس تھی نہیں ایک چھوٹا سا ہسپتال 10میل کی مسافت پر تھا۔ فوراً دو تازہ دم بیلوں کو گڈے کے آگ لگا یاگیا۔ زخمی جسم کو گڈے کے اوپر ایک روئی والے لحاف پر لٹایاگیا اور وہ آدمی اپنے بیٹے کو اپنی بیوی کے سپرد کر کے اس کے ساتھ ہو لیا، جس نے اُس کی ٹکٹ خریدی تھی۔ کپڑے سے دل کے زخم پر روئی رکھ کر کس کے باندھ دیاگیا تاکہ زخم سے خون اور نہ بہے۔ پانی کے گھونٹ اُس کے حلق میں جاتے تو وہ دائیں ہاتھ میں رائفل پر اپنی گرفت مضبوط کرتا اور نصف سے زائد راستہ طے ہوتے ہوتے معاً اُس نے اپنی بائیں جانب جیب میں سے ایک ڈائری نکال کر بائیں ہاتھ میں مضبوطی سے پکڑ لی۔ دیکھنے والے پریشان تھے کہ اس ڈائری کو کیوں اتنا سنبھال رہا ہے۔ وہ اسے لیناچاہتے تھے کہ مبادا اس ڈائری میں اس کے عزیز و اقارب کا پتہ چل جائے لیکن وہ انتہائی کرب میں بھی یہی کہہ رہا تھا کہ یہ ڈائری میری ہے خون میں نہائی لاش اس کے حروف کو ماند نہیں کرے گی۔ رہنے دو یہ میرے ہاتھ میں…. وہ پھر سے آنکھیں بند کر لیتا لیکن دونوں چیزوں پر اُس کی گرفت مضبوط رہی۔ جتنی قوت اس میں تھی وہ زیادہ تر اس قوت سے انہی کی حفاظت کر رہا تھا۔ اس کے ساتھ ہم سفر انتہائی پریشان تھے کہ آخر یہ معمہ کیا ہےجو اس ڈائری میں تحریر ہے۔ بیلوں کو پھر سے دوڑنے کا جونہی اشارہ ہوا تو وہ سرپٹ دوڑ پڑے۔ ایک جان جانے کا سوال تھا۔ ہسپتال اب نزدیک آ رہا تھا لیکن زخمی کی طاقت کم ہوتی جا رہی تھی۔ اسے ہسپتال کے سامنے لا کر اسٹریچر پر ڈالا گیا۔ جونہی ڈاکٹر نے اُس کا چیک اَپ کیا تو مایوسی کی لہر ہر چہرے پر عود کر آئی۔ ڈاکٹر کے چیک کرنے کا طریقہ اگرچہ بہت تیزی دکھا رہا تھا لیکن مایوسی کی رمق بھی بتدریج نمایاں ہوتی جا رہی تھی۔ اتنے میں اس کے سانسوں کی ڈوڑی ٹوٹ گئی اور لکڑی کی بنی مصنوعی رائفل زمین پر آ گری ، ایک آواز ابھری اور بائیں ہاتھ کی جنبش بھی ختم ہو کر ڈائری سے گرفت ختم کر گئی۔
،، دلیر خان دامن ِکوہ کی پیداوار ہے جہاں کوہ ہندوکش، تبت اور قراقرم کے نامور تاریخی پہاڑی سلسلے پوری آب و تاب سے دنیا کی دوسری بڑی پہاڑی چوٹی K2سے ملحق ہیں۔یہان کی بودوباش، رسم و رواج اور تہذیب و تمدن مسلمہ ہیں۔ مدرسوں میں پروان چڑھنے والے بچے اساتذہ کی قدرومنزلت کو بخوبی جانتے ہیں۔ بچوں اور بچیوں کی تربیت کا خاصہ یہی ہے کہ ایک ٹاٹ پر یکجا بیٹھے تعلیم کا زیور تن زیب ِ کرتے ہیں اور نظرِ بد کا تصور تک نہیں آتا اذہان میں۔ پیدا ہوتے ہی دادا جان نےپوتے کا نام دلیر خان رکھ دیا۔ وہ خود بھی نامور حیثیت کے حامل تھے، شکار کے سلسلے میں اُن کا دورونزد کوئی ثانی نہ تھا ۔ وہ پوتے کو ساتھ لے جاتے اور اسکے نشانے پر عش عش کر اٹھتے۔ گھر لوٹتے وقت اسے کہتے کہ دیکھا دلیر خاناں یاد رکھو نشانہ خطا نہیں ہونا چاہئے ورنہ تم نشانہ بن جاw گے۔ ان کی اس بات میں وزن تھا۔ انہی کے ہاتھوں پوتے کی پرورش ہوئی ، دلیر خان کی منگنی ماں نے اپنی سہیلی کے پیٹ پر ہاتھ رکھ کے کر دی تھی۔ اگر بیٹی ہوئی تو دلیر خان کی بیوی ہوگی اور اگر بیٹا ہوا تو دلیر خان کا دوست، جب دلیر خان کی عمر دو سال کے قریب ہوﺅ گئی تو رانی کی پیدائش ہوئی اور بڑی دھوم دھام سے قرب و جوار وادیوں کے سربراہوں میں رسم منگنی بھی ادا ہو گئی۔ رانی کے نقوش انتہائی دلکش اور من موہ لینے والے تھے۔ پرائمری سکول کی تعلیم بھی ایک ساتھ جاری رہی۔ ہلکی پھلکی شرارتوں میں سن ِ بلوغت میں قدم رکھنے والی رانی پردہ چلمن میں رہنے لگی۔ دلیر خان بھی کبھی کبھار کوشش کر کے ایک آدھ بار اُس کی جھلک دیکھ لیتا لیکن بس دور سے۔ دل میں نئی امنگ چمکنے لگی۔ والدین دونوں طرف سے شادی کے موضوع پر گفت و شنید کرنے لگے۔ اسکے اندر ایک ہلچل سی مچ گئی۔ ہاں شادی ہو ہی جانی چاہئےتا کہ ایک دوسرے کو دیکھ تو لیا کریں ، لیکن باتوں باتوں میں ایک سوال یہ بھی اٹھتا تھا کہ دلیر خان کو اب کوئی نہ کوئی کام ضرور کر لینا چاہئے۔ شادی کے بعد ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ بات تو ان کی صحیح تھی باوجود اس کے کہ اسکےخاندان کے بزرگ انتہائی معزز شخصیتو ں کے مالک تھے لیکن اسنے ابھی تک کوئی کارہائے نمایاں نہیں دکھایا تھا۔ ہاں عمر اٹھارہ سال ہو چکی تھی اور رانی سولہ سال میں پری چہرہ کے نام سے موسوم ہو گئی۔ رانی کے حسن کو دیکھتے ہی ہر کوئی ساکت ہو جاتا۔ اُس کی ایک نظر کے اٹھتے ہی کتنے گھائل ہو جاتے۔ گالوں پہ مترشح پہاڑی سیبوں جیسا رنگ، آنکھوں کا خمار، قدوقامت، صراحی دار گردن، ہونٹوں کے ابھار نمایاں، مسکان میں دلکشی، ٹھوڑی میں کٹاو، مژگاں مانند ِ شمشیر، کالے بالوں کی طوالت اور گھٹاوں جیسے لہریئے، ہرنی سی چال اور انداز گفتگو دل میں اتر جانے والی، ہر لہجے میں اداوں کے انداز اسکےشب و روز کی ساعتوں میں بسیرا کرنے لگے۔مسکراہٹ میں گالوں کے گڑھے اضافت کا باعث بنتے اور موتیوں جیسے چمکیلے دانتوں میں دراڑ خوبصورتی کا مرقع بنتی ،، ۔
ابھی دلیر خان اور رانی کی شادی کی سوچ و بچار جاری تھی کہ دوسری جنگ عظیم کے بادل سر پر منڈلانے شروع ہو گئے۔ پہلی جنگ عظیم کے گیارہ سال بعد 1930ءمیں عظیم مالیاتی اور معاشی بحران کی بے کیفی نے سرمایہ داری کے لئے بیک وقت کئی چیلنجز کھڑے کر دیئے اور یہ سارے دوسری جنگ عظیم کی بنیاد بنے ۔
ایک طرف آسٹریلیا، بلجیم، بولیویا، برازیل، کینیڈا، چائنہ، کولمبیا، کوسٹاریکا، کیوبا، چیکوسلواکیہ، ڈومیکان ری پبلک، السلویڈور، ایتھوپیا، فرانس، یونان، گوئٹے مالا، ہیٹی، ہندرس، انڈیا، ایران، عراق، لکسمبرگ، میکسیکو، ہالینڈ، نیوزی لینڈ، نیکاراگوئے، ناروے، اپناما، فلپائن، پولینڈ، جنوبی افریقہ، انگلینڈ، امریکہ، روس اور یوگو سلاویہ اور دوسری جانب البانیہ، بلغاریہ، فن لینڈ، جرمنی، ہنگری، اٹلی، جاپان، رومانیہ، سلواکیہ اور تھائی لینڈ محارب گروپوں میں متحرک تھے۔ یہ جنگ عظیم دوم 1939ءسے1945ءتک بے شمار انسانوں کی زندگیاں تباہ کر گئی۔
فوج میں جبری بھرتی کا سلسلہ بھی عروج پر تھا۔ انکار کی صورت میں مشکیں باندھ دی جاتیں۔ سترہویں انڈین انفنٹری ڈویژن جن میں جاٹ، راجپوت اور گورکھا کا اندراج کیا جا رہا تھا دلیر خان کا نام بھی آ گیا۔ نشانے میں نامور خاندان کی عزت و آبرو رکھنے کے لئے دلیر خان نے آخری بار رانی کے دیدار اور چند لمحوں کی باتیں کے لئے بالآخر چارونچار اپنی ماں کے ساتھ بات کی۔ دونوں جانب سے تبادلہ خیال ہوا اور رخصتی سے قبل محدود دورانیے کی ملاقات اور ایک دوسرے کو دیکھتے دیکھتے ہونٹوں کی حرکات و سکنات پر ہی الوداعی سلام کے گھمبیر اور دلخراش الفاظ نے گاوں کے ہردلعزیز راستوں کو جدا کر دیا۔ دلیر خان اپنی وادیوں کو دیکھے جا رہا تھا اور پھر مدہم سے مدہم تصویر قوتِ بینائی سے غائب ہو کر دماغی گوشوں میں معلق ہو گئی۔
ایک تربیتی کیمپ میں شب و روزمدمقابل دشمن کو زیر کرنے کے عمل کو بار بار دہرایا گیا اور پوری دنیا میں دو بلاک آمنے سامنے اپنے اپنے مفادات کی خاطر برسرپیکار تھے۔ برطانوی کالونی برما جاپانیوں کے لئے ایک بہت بڑے تحفے سے کم نہ تھی تیل، چاول اور ربڑ کے ذخائر وافر مقدار میں یہاں موجود تھے۔ سترہویں انڈین انفنٹری ڈویژن میں تازہ ترین ہراول دستہ تیار ہو چکا تھا۔ دلیر خان کو برما روانہ کر دیاگیا۔ وہ اپنے وطن کی سرزمین کو بھی الوداع کہتے ہوئے اتنا ہی تڑپا جتنا اسے اپنی رانی والدین، عزیز و اقارب اور وادیوں کو خیرباد کہنے پر تکلیف ہوئی تھی۔ وہ اپنے دوسرے ساتھیوں سمیت جنگ عظیم دوم کے شعلوں میں سمو چکا تھا۔ انسان انسان کا قاتل ہے۔ انسان کا لفظ برائے نام تھا۔ انسانیت کا فقدان ہو تو انسان کیسا، حیوانیت پر عمل پیرا ایک دوسرے کو زیر کرنے کے لئے اس بے دردی سے قتل کر رہے تھے کہ درندے بھی پناہ مانگ رہے تھے۔ ہرسو قیامت صغریٰ بپا تھی ۔ زن،زر،زمیںکا حصول انسانی اقدار کا خاتمہ ہے۔
یہ جنگ عظیم دوم 1939ءسے1945ءتک بے شمار انسانوں کی زندگیاں تباہ کر گئی۔
فوج میں جبری بھرتی کا سلسلہ بھی عروج پر تھا۔ انکار کی صورت میں مشکیں باندھ دی جاتیں۔ سترہویں انڈین انفنٹری ڈویژن جن میں جاٹ، راجپوت اور گورکھا کا اندراج کیا جا رہا تھا دلیر خان کا نام بھی آ گیا۔ نشانے میں نامور خاندان کی عزت و آبرو رکھنے کے لئے دلیر خان نے آخری بار رانی کے دیدار اور چند لمحوں کی باتیں کے لئے بالآخر چارونچار اپنی ماں کے ساتھ بات کی۔ دونوں جانب سے تبادلہ خیال ہوا اور رخصتی سے قبل محدود دورانیے کی ملاقات اور ایک دوسرے کو دیکھتے دیکھتے ہونٹوں کی حرکات و سکنات پر ہی الوداعی سلام کے گمبھیر اور دلخراش الفاظ نے گاوں کے ہردلعزیز راستوں کو جدا کر دیا۔ دلیر خان اپنی وادیوں کو دیکھے جا رہا تھا اور پھر مدہم سے مدہم تصویر قوتِ بینائی سے غائب ہو کر دماغی گوشوں میں معلق ہو گئی۔
ایک تربیتی کیمپ میں شب و روزمدمقابل دشمن کو زیر کرنے کے عمل کو بار بار دہرایا گیا اور پوری دنیا میں دو بلاک آمنے سامنے اپنے اپنے مفادات کی خاطر برسرپیکار تھے۔ برطانوی کالونی برما جاپانیوں کے لئے ایک بہت بڑے تحفے سے کم نہ تھی تیل، چاول اور ربڑ کے ذخائر وافر مقدار میں یہاں موجود تھے۔ سترہویں انڈین انفنٹری ڈویژن میں تازہ ترین ہراول دستہ تیار ہو چکا تھا۔ دلیر خان کو برما روانہ کر دیاگیا۔ وہ اپنے وطن کی سرزمین کو بھی الوداع کہتے ہوئے اتنا ہی تڑپا جتنا اسے اپنی رانی والدین، عزیز و اقارب اور وادیوں کو خیرباد کہنے پر تکلیف ہوئی تھی۔ میں اپنے دوسرے ساتھیوں سمیت جنگ عظیم دوم کے شعلوں میں سمو چکا تھا۔ انسان انسان کا قاتل ہے۔ انسان کا لفظ برائے نام تھا۔ انسانیت کا فقدان ہو تو انسان کیسا، حیوانیت پر عمل پیرا ایک دوسرے کو زیر کرنے کے لئے اس بے دردی سے قتل کر رہے تھے کہ درندے بھی پناہ مانگ رہے تھے۔ ہرسو قیامت صغریٰ بپا تھی ۔ زن، زر، زمیں کا حصول انسانی اقدار کا خاتمہ ہے۔
پہلی جنگ عظیم 1914۔ 1918کو مدنظر رکھتے ہوئے ایڈولف ہٹلر نے اپنی نازی پارٹی کو مضبوط کرتے ہوئے جرمنی کی معیشت اور سیاسی بیداری کو بام عروج تک پہنچانے کے لئے پروگرام ترتیب دیتے ہوئے اٹلی اور جاپان کے ساتھ دفاعی معاہدے کر لیئے ۔ اگست 1939ءمیں ہٹلر اور سویٹ یونین لیڈر جوزف اسٹالن نے جرمن سویٹ یونین دفاعی معاہدے پر دستخط کیئے جس نے لندن اور فرانس کے لیڈروں میں ابتری اور ہلچل مچا دی۔اس دفاعی معاہدے کا مقصد صاف ظاہر تھا کہ پولینڈ پر حملے کی صورت میں برطانیہ اور فرانس یکجا ہو کر پولینڈ کی حفاظت کریں گے۔یکم ستمبر1939ہٹلر نے مغربی پولینڈ پر حملہ کیااور دو دنوں بعد فرانس اور برطانیہ نے جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔17 ستمبر 1939ءسویٹ آرمی نے پولینڈ پر قبضہ جما لیااور اسطرح دونوں اطراف سے حملہ پولینڈ کو جرمن اور سویٹ یونین کا مرہون منت بنا گیا۔۰1940ءکے اوائل میںمکمل طور پر جرمنی اور سویٹ یونین پولینڈ پر قابض ہو گئے۔اسٹالن افواج نے اس کے بعد بالٹک ریاستوںیعنی اسٹونیا،لٹویا،اور لتھوآنیاپر قبضہ کرتے ہوئے فن لینڈ کی تمام مزاحمتوں کو ختم کر دیا،پہلے ہی چار مہینوں میں سمندری لڑائی میں سو سے زائد بحری جہازوں کو تباہ کرتے ہوئے برطانیہ کی مرچنٹ نیوی پر بھی سمندرمیں داخل ہونے کی پابندی لگا دی گئی۔
۹ اپریل 1940ءجرمنی نے یکے بعد دیگرے ناروے اور ڈنمارک پر قبضہ جما لیا،اسی طرح 10 مئی نیدرلینڈاور بلجیم بھی جرمنی کے قبضے میں آ گئے۔تین دنوں بعد جرمن افواج نے مییوسی دریا کو پار کرکے فرانسیسی افواج کو سیڈان کے مقام سے جو کہ انتہائی شمالی حصہ ہے وہاں سے ناکارہ بنا دیا۔ مئی 1940ءکے آخرتک برطانوی فورسز کو سمندر کی حدود سے باہر پھینک دیا گیا۔ فرانس کی رہی سہی طاقت اس وقت مسمار ہوئی جب اٹلی کے لیڈر بینٹو مسولینی نے ہٹلر کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرکے دس جون 1940کو برطانیہ اور فرانس کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔
13 جون 1940 ءجرمن افواج پیرس میں داخل ہوئیں ۔ جنگ عظیم اول کے ہیرو فلپس پیٹین کو ایک حسے پر حکومت کرنے کی اجازت دی گئی اور دوسرے ھصے پر جرمن کا کنٹرول رہا ۔یہان سے فارغ ہو کر جرمن افواج برطانیہ میں داخل ہونا چاہتی تھیں۔ شب و روز جرمن ائیر فورس نے متعدد حملے کئے لیکن برطانوی رائل ائیر فورس نے قدم نہ جمنے دئے لیکن لندن میں پرائیویٹ املاک ، انڈسٹری اور بہت سی جانیں ہوائی حملوں میں ختم ہوئیں ۔ہٹلر نے بالآخربرطانیہ پر ہوائی حملے بند کر دئے ۔اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کو امریکہ کی جانب سے امدادی پیغامات آنے شروع ہو گئے، جو کہ 1941 کے اوائل میں کانگریس سے تصدیق شدہ تھے ۔
برطانوی کالونی برما میں لڑائی دست بدست بھی زورں پر تھی ۔سترھویں انڈین انفنٹری ڈویزن فروری 1944 ءمیں بڑی بہادری سے جاپانیوں کے وار روک رہی تھی ۔گھنے جنگلوںمیں اسلحہ بارود کی کمی کے باوجود گوریلا جنگ جاری تھی ۔ درندوں کی بہتات نے الگ ناک مین دم کر رکھا تھا ۔ جنگلی ریچھ ہر رات شب خون مارتے اور بچا کھچا کھانا تک ہضم کر جاتے ۔ مچھروں کی خون چوسنے کی عادت رات بھر جاری رہتی ۔ دوپہر مکھیاں تک ہمارا خون پیتی رہتیں ۔درختوں کے پھل اور کبھی کبھار پتوں تک کو کھا کر پیٹ کی بھوک مٹاتے ۔
ایبٹ آباد کا محمد علی بھی اس کے ساتھ ان جنگلوں میں بھٹک رہا تھا ۔دلیر خان کی زندگی کی کہانی اس کیے دل کی رانی کے ساتھ وابستہ تھی۔اگرچہ جنگ کے بدترین مراحل میں سے سب گذر رہے تھے لیکن کوئی ایسا لمحہ نہ گذرا ہو گا کہ موت کو قریب تر دیکھتے ہوئے بھی دلیر خان بڑی جانفشانی سے رانی کے لئے زندہ رہا ۔ ہینڈ گرنیڈ کی تباہی سے جسم کے پرخچے اڑتے دیکھ کر دستی بم پھینکنے والوں پر بہت غصہ آتا ۔ دو حریف بلاک آمنے سامنے تھے اور انسانوں کے قتل و غارت کی داستانیں وحشیانہ رویوں کو رقم کر رہی تھیں ۔ لڑائی میں پیچھے رہ جانے والے کو تنہا سسکنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ۔ اپاہج ہونے کی صورت میں اسے ختم کر دیا جاتا ۔ محمد علی بخار میں مبتلا کپکپا رہا تھا اور بدن کی حرارت بتدریج بڑھتی جا رہی تھی ۔ وہ ہذیانی کیفیت میں اپنی یادیں دھرانے لگا ۔ نئی نویلی دلہن کو وہ اپنے والدین کے حوالے کرکے ان جنگلوں میں زندگی کے بدترین دن گذار رہا تھا ۔ دلیر خان کو ایک ٹک دیکھے وہ کہہ رہا تھا کہ اس کی آخری سانس اس کا ساتھ چھوڑ دے تو اس کے گھر ضرور جانا اور اس خط کواس کی امانت سمجھ کر اس کی بیوی تک پہنچا دینا۔اس خط کا ہر لفظ اس کی بیوی کے نام ہے اسے وہاں تک پہنچانا ضرور۔۔۔۔۔۔
محمد علی ایسا مت سوچو دلیر خان ہے نان تمہارے ساتھ ، تمہیں کچھ نہیں ہو گا م حوصلہ رکھو اور دل میں امنگوں کو مردہ مت ہونے دینا ۔ ان کو موجزن رکھو گے تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں اپنے گھر والوں سے ملنے کے لئے نہیں روک سکے گی ۔جنگ کے شعلے اختتام پذیر ہو رہے ہیں ۔ چند سر پھرے دنیا پر اپنا راج برقرار رکھنا چاہتے ہیں لیکن تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی ۔ تم ہمت سے کام لو ۔ یہ کپکپی کا بخار مہلک ضرور ہے مگر انسانی ہمت کے آگے یہ کچھ بھی نہیں ۔ ہم نے تو جنگ میں بڑے بھیانک اور موت سے قریب تک کے مراحل دیکھے ہیں اس بخار سے گھبرا گئے ہو ۔
دلیر خان بات بخار کی ہی نہیں ہے بدنی نقاہت بھی آڑے آ رہی ہے ، بھوک الگ ستا رہی ہے اور پیاس سے حلق خشک ہوا جا رہا ہے۔
محمد علی تم اپنی بیوی کے ساتھ باتیں کرو تمہاری بھوک اور پیاس کا بندوبست ابھی ہو جائے گا کہتے ہوئے دلیر خان تھوڑے فاصلے پر برمی مورچے میں چلا گیا ۔ کچھ جنگلی پھل اور پانی کا مشکیزہ لے کر واپس لوٹا تو محمد علی کے جسم سے روح پرواز کر چکی تھی ۔ زندہ رہنے کے لئے سامان کی بنیادی ضروریات کی اب اس جسم کو قطعی ضرورت نہیں تھی ۔ ضرورت اگر تھی تو اس جسم کو مٹی میں پوشیدہ کرنے کی تھی ۔ دشمن کے فائر سے بھگڈر مچ گئی ۔ دلیر خان کو اتنی مہلت نہ مل سکی کہ محمد علی کے ہاتھ میں تھاما خط جو اس کی بیوی کے نام تھا لے سکے ۔ دلیر خان نے ایک ہی جست میں اپنے مورچے میں پوزیشن لے لی ۔ دستی بموں اور گولیوں کی بوچھاڑ نے محمد علی کے مردہ بدن کو ریزہ ریزہ کر دیا ۔ ایک مردہ جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے اس کی شناخت تک کو مسمار کرنے والے اپنے اجسام پر بھی ایک نظر ڈالیں تو پتہ چلے اس برما میں قربانیاں ، جانوں کے نذرانے اور ملک کو بچانے میں بھوکے پیسے دفاع کرنا بہت مہنگا تھا ۔ دلیر خان کا دل چاہ رہاتھا کہ محمد علی کے ہاتھوں میں تھامی تحریر کو اچک لے اور اس کے مردہ جسم کے تمام ٹکڑوں کو یکجا کرکے برما کے ان گھنے جنگلات میں دفن کر دے لیکن گھمسان کی جنگ شدت اختیار کرتی جا رہی تھی اور ہائی کمان سے مورچے چھوڑنے کا حکم صادر ہو گیا ۔ وہاں سے مشرق کی جانب کوچ کرنے کو کہا گیا ، جس پر فوری عمل کیا گیا ۔دلیر خان کے دل سے آ نکلی ۔اے کاش اسے محمد علی کے پاس ہی جگہ مل جاتی لیکن یہ خلش زندگی بھر اسے ستائے گی کہ محمد علی کی آخری خواہش کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکا ۔
ایبٹ آباد کی وادی میں کس مقام کا وہ باسی تھا ، اس کی بیوی ، والدین ، بہن بھائی ، عزیز و اقارب کسی کا بھی اتا پتہ اسے معلوم نہ تھا اور وہ خط جو اس کی مٹھی میں جسم سے الگ ہو کر بھی بدستور موجود تھا دماغی خلیوں میں ہلچل مچا رہا تھا ۔ محمد علی کی شہادت کو اگرچہ کفن کی ضرورت نہیں تھی لیکن مٹی کو مٹی میں دفن کرنے کا موقعہ تک میسر نہ آ سکا ۔ دلیر خان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور وہ اضطراری حالت میں کہے جا رہا تھا ،، مجھے معاف کر دینا محمد علی ۔۔۔۔ مجھے معاف کر دینا ، تمہاری آخری ہچکی میں تمہارا ساتھ نہ نبھا سکا ۔ اپنے وطن سے کوسوں دور پردیس کے بیابانوں میں تمہاری شہادت کا یہ اندوہناک منظر زندگی بھر فراموش نہ کیا جا سکے گا ۔کتنے سالوں سے دوسروں کی ڈھارس بندھانے والے تم ہی دلیر خان کے ہمنوا اور راز داں تھے ، ہر شب دلیر خان کی کہانی بار بار سنتے سنتے دوسروں کے دل کا غبار نکالنے والے تمہاری کہانی کیا تھی جو تمہاری مٹھی میں بند ہے ، تم نے اپنی چھٹی کی درخواست پہلے دے رکھی تھی اور دلیر خان کو اپنی باری دے کر خود لمبی رخصت پہ چلے گئے ہو ۔ تمہیں بھوک اور پیاس ستا رہی تھی ، تمہاری بدنی طاقت جواب دے رہی تھی اسے تقویت دینے کے لئے چند لمحوں کی جدائی پہ تم نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دلیر خان سے منہ موڑ لیا ۔ بیخودی کا ہیجان دماغی خلیوں میں ارتعاش برپا کر گیا اور دلیر خان واپس محمد علی کی جانب قدم بڑھانے ہی لگا تھا کہ ایک برطانوی حوالدار نے دلیر خان کا بازو پکڑ کر اسے سیدھے راستے پہ چلنے کا حکم دیا ۔ فوج مین قانون کی بالا دستی ہوتی ہے ۔ کمانڈر کی بات پہ عمل پیرا ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ بادل نخواستہ وہ اپنی پلاٹون کے ساتھیوں کے ہمراہ بھاگتا رہا ۔ اسے دشمن پہ بہت غصہ آ رہا تھا جس نے محمد علی جیسے جانباز اور ایک اچھے ساتھی کو اس سے جدا کر دیا تھا ۔ سارے دن کی مسافت نے بدن کو نڈھال کر دیا تھا ۔رات کا سناٹا ہر سو پھیل چکا تھا ۔ وائرلیس پہ پیغام آ رہے تھے اور متحارب گروپ برما پر مکمل قبضہ کرنے میں کامیاب ہو چکے تھے ۔ برطانوی ، برمی اور انڈین فورسزکے اتحادی ہتھیار ڈال چکے تھے اور باقی ماندہ جو بچے تھے وہ بھی کسی نہ کسی طرح وہاں سے نکالے جا رہے تھے ، ان میں دلیر خان کا نام بھی شامل تھا ۔ کیسے اور کس طرح وہاں سے نکلے یہ ایک خطرناک ترین مرحلہ تھا ۔پیدل چلتے چلتے پاوں میں آبلے تک اپنا وجود ختم کر بیٹھے لیکن آزاد ہونے کے لئے یہ تکلیف کچھ بھی نہیں تھی ۔ وہاں سے نکال کر سب کو ایک ایسے محفوظ مقام پہ لے جایا گیا جہاں سے ہر کسی کو اس کے ملک تک جانے کے مکمل انتظامات کر لئے گئے ۔ ہر آہٹ پہ یوں لگ رہا تھا کہ اب بھی پکڑے جائیں گے اور قیدی ہونے کی صورت میں نجانے کتنے سال تک قید و بند کی صعوبتوں میں سانسیں آخری ہچکی لیں گی ۔ شہادت کا رتبہ سب سے اچھا ہے ، کسی کی قید میں غلامی کے ایام گذارنے نہیں پڑتے ۔ یہ خوف طاری ےھا کہ کسی نہ کسی طرح جتنی جلدی ہو سکے یہاں سے نکل جائیں تاخیر کی صورت میں حرام موت مارے جائیں گے ۔
لمبی مسافت کے طویل سفر میں برما سے نکل کر انڈیا پہنچے ۔ ہر ایک کو اپنے سفر کی داستان یاد رہی ۔ برمی سرحد تک چھوڑ کر واپس اپنے وطن چلے گئے ، برطانوی اپنے ملک سدھارے اور دلیر خان اپنی وادیوں میں واپس محمد علی کی یادوں میں کھویا اپنی رانی کے گھر کے قریب سے گذر رہا تھا لیکن اس کے دماغ میں کوئی ایسی پرانی یادداشت باقی نہ تھی جو اس کی خوشی کا اظہار کرتی اگر کچھ تھا تو وہ محمد علی کا خط بنام اس کی بیوی کے جو اس کے ہاتھ میں رہ گیا تھا اور یہ پیغام آخر اپنے مقام تک نہ پہنچ سکا اس کی کسک بہت زیادہ تھی ۔گھر کی دہلیز پر قدم رکھنے سے پہلے گاوں بھر کے بچے سب مل کر نعرے لگا رہے تھے ،، غازی دلیر خان زندہ باد ،، ۔۔۔۔ غازی دلیر خان ۔۔۔۔۔
محمد علی شہید کے نعرے لگاو، اس کو سلامی دو ، مت لگاو میرے نام کے نعرے ۔ سب خاموش ہو کےایک ٹک دلیر خان کی شکل پر اداسی کو بھانپ چکے تھے ۔ ماں نے اپنے بیٹے کو گلے لگا کے بہت پیار کیا ۔باپ کی مسکراہٹ دلیر خان کی اداسی ختم نہ کر سکی ۔ سسرال والے بھی آ گئے لیکن دلیر خان سرسری دعا سلام کے علاوہ کچھ اور کہنے سے قاصر ہوتا ۔ وہ ابھی تک ہنگامی حالات کے جال میں جکڑا ہوا تھا ۔ اسے واپس لانے میں کچھ وقت درکار تھا ۔ ماں کا کلیجہ پھٹا جا رہا تھا ۔ اس نے رانی کی ماں کا ہاتھ دبایا ۔ آنکھوں کے اشارےوں میں بے بسی کا عنصر نمایاں تھا ۔ گھر کے ایک کونے میں دونوں کی گفت و شنید شروع ہوئی ۔ دلیر خان کی ماں رانی کی ماں سے کھسر پھسر میں بیٹے کی حالت پر تشویش کا اظہار کر رہی تھی ۔
یہ دلیر خان کو کیا ہو گیا ہے ، ہاں ہونہہ کے علاوہ کوئی اور بات کرتا ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔
اسی لئے تو تمہیں ادھر لے کے آئی ہوں ، اسے اس ماحول سے رانی ہی نکال سکتی ہے ۔ میں کچھ سمجھی نہیں ۔۔۔
دلیر خان پر جنگ کے وحشیانہ تین سالہ اثرات ابھی تک قائم ہیں ، آنکھوں کے سامنے قتل و غارت ، بہتے خون کے دھارے ، اجسام کے پرخچے اڑتے دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہو چکے ہیں۔ ذرا سوچو تو ہم خبریں سنتے سنتے کتنی پریشانی میں مبتلا رہے ہیںاور جن کی خبریں سنتے رہے ہیں وہ آج ہمارے سامنے بت بنے بیٹھے ہیں، دھڑ یہاں ہے اور سوچیں جنگ کی سختیوں میں برسر پیکار ، بس تم تھوڑی دیر کے لئے رانی کو ادھر لے آو اسکے سامنے ، دیکھ لینا یہٹھیک ہو جائے گا اور ویسے بھی اب ان دونوں کی شادی کے دن بھی جلدی جلدی پکے کرنے ہیں ۔
رانی کی ماں ڈب ڈب دیکھے جا رہی تھی بالآخر بول اٹھی ، تم یہ چاہتی ہو کہ میں برادری میں بدنام ہو جاوں ۔رسم و رواج کو بالاے طاق رکھتے ہوئے وہ کام کروں جو ہماری بدنامی کا باعث بنے ۔ تمہیں تو یاد ہے ناں جب تم نے رانی کے پیدا ہونے سے پہلے میرے اس پیٹ پہ ہاتھ رکھ کے کہا تھا ،، لڑکی ہوئی تو دلیر خان کی منگیتر،، اور ہم نے کہا تھا منظور ہے لیکن اگر رانی اندھی ، بولی ، لنگڑی ، کانی ، گونگی بہری گنجی اور لکنت والی پیدا ہوئی تو دلیر خان شادی سے انکار نہیں کرئے گا اور انکار کی صورت میں اس کی جان جائے گی ۔
یہی فیصلہ مد نظر رکھتے ہوئے میں التجا کرتی ہوں کہ اسے اپنے ماحول میں لنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ رانی اور دلیر خانکی ملاقات کرائی جائے ۔ میں دلیرخان کے ابا کو گوشت لانے کا کہتی ہوں ، یقینی اس کے ساتھ تمہارا خاوند بھی جائے گا ، اگر نہ گیا تو تم کہنا کہ اس کے ساتھ جائے کیونکہ زمین میں دفن گوشت کے ٹکڑے برفیلی تہہوں میں محفوظ ہوتے ہیں انہیں باہر نکالنے اور پھر محفوظ کرنے میں وقت درکار ہوتا ہے ۔ لکڑی کا بورا اچھی طرح ان پہ لپیٹا جاتا ہے ، پھر اوپر برف اور برف پہ مٹی ڈالنے میں آدھ گھنٹے سے زائد وقت لگ جاتا ہے ، ٹھرو دلیر خان کا باپ مجھے اشارے کر رہا ہے میں اس کی بات سن کے آتی ہوں ۔
ہم دونوں گوشت لینے جا رہے ہیں تم دونوں دلیر خان کے پاس رہنا، اس کے ساتھ اچھی اچھی باتین کروتا کہ وہ جنگ کے ماحول سے باہر نکل آئےکہتے ہوئے وہ دونوں باہر نکل گئے ۔
لو جلدی کرو رانی کی ماں یہ موقعہ ضائع مت کرنا ، تم میری سہیلی ہو ، اب انکار نہیں کرنا ۔ تم نے ایک بار جب دلیر خان چھہ مہینے کا تھا اور اسے ڈبل نمونیہ ہو گیا تھا اس کے حلق میں برانڈی کا ادھا چمچ انڈیل کر بچایا تھا اور میرے منع کرنے کے باوجود کہ خمر منع ہے پہ تم نے جواب دیا تھا کہ جان بچانے کے لئے خمر کا استعمال دوائی کے طور کیا جا سکتا ہے اور میں خاموش ہو گئی تھی۔ آج رسم و رواج کے بندھن ایک انسان کے پاگل پن کا علاج کیوں نہیں کرنے دیتے ۔دیکھو وقت ضائع مت کرو ، رانی کو لے آو ۔ برقعہ تو صنف نازک سب پہنتی ہیںاور بغیر پردے کے یہان عورتیں کہاں باہر نکلتی ہیں ۔ اس وقت تو لوگ بھی اپنے اپنے گھروں میں دبکے بیٹھے ہیں۔ اٹھو میری مشکل نہیں ہے اس میں ، ہم سب کی تکلیف یکساں ہے ۔کیا تم نہیں چاہتی کی دلیر خان اور رانی کی شادی ہو جائے ؟
ہاں چاہتی ہوں ، لو میں لا رہی ہوں رانی کو ، تم دلیر خان کا خیال رکھنا اور کان کھول کے سن لو اگر اصولوں کے خلاف کوئے بات ہوئی ناں تو اس کی سزا میں تم بھی برابر کی شریک رہو گی ۔
ہاں مجھے قبول ہے، بس تم جانے والی بات کرو ۔
رانی کی ماں تیز تر ودم چلاتی ارد گرد کا جائزہ لیتے گھر کی دہلیزتک پہنچی اور بہت سے وسوسوں نے نوکیلے کانٹوں کی طرح چبھن کا تاثر دیا لیکن وعدہ کرکے آنے والی کوہ کی ماں نے رانی کو ساتھ لیا اور آ بٹھایا دلیر خان کے سامنے ،۔ چہرے سے پردہ ہٹاتے ہیرانی کی چمک کا خیرہ کن انداز دلیر خان کے وجود میں سے تلخیوں کو کافور کرکے یاد کوہ میں داخل کر گیا ۔وہ چند لمحے ایک ٹک حسن یکتا کو دیکھتا رہا ، جاتے ہوئے اس حسن پر طائرانہ سی نظر پڑی تھی اور آج یہ نکھر کے سامنے آ گیا ۔ خوبصوری کا مرقع اس کی اپنی منگیتر رانی اس کے روبر و تھی ۔
رانو ۔۔
جی خوش آمدید
تم بہت خوبصورت ہو
رانی کی ماں نے فوری بیٹی کا ہاتھ تھامے ، چہرے پہ نقاب الٹ کر گھر کی راہ لی ۔گھر میں بیٹی کو سامنے بٹھا کر بلائیں لیںاور ڈھروں دعائیں دیں ۔ دودھوں پوتوں نہاو کے چاشنی سے بھرپور الفاظ کی دلکشی بھی سنائی دی ۔ دیکھ بیٹی برا محسوس مت کرنا ، دلیر خان تمہارا اپنا ہے لیکن زیادہ دیر ہم وہاں بیٹھ نہیں سکتے تھے ۔ رسم و رواج بنائے اسی لئے جاتے ہیں کہ ان میں پاکیزگی کے عناصر موجود ہوتے ہیں بصورت دیگر ہر کوئی اپنی من مرضی کرتا پھرے تو معاشرے میں ابتری پھیل جاتی ہے ۔ماں ہوتے ہوئے تمہیں اتنا بتا دوںکہ یہ عمل جو میں نے ابھی کیا ہے ایک بہت مشکل کام تھالیکن تہمارے دلیر خان کی بیماری کا علاج بھی تم ہو ۔اب دیکھنا وہ چہک مہک رہا ہو گا ، تم ہو ہی اتنی خوبصورت۔
رانی اپنے دلیر خان اور اپنے حسن کی بات سنتے ہی شرمیلی چھوئی موئی بنے ایک کونے میں کھڑی نگاہوں کو نیچی کئے پاوں کے دونوں انگوٹھوں کو آپس میں ملاتے ہوئے زندگی کے انمول انداز میں مسرت و شادمانی کے لمحات میں کھو چکی تھی ۔ میں دلیر خان کے گھر جا رہی ہوں تمہاری شادی کے دن پکے کرنے ۔ آج چاند کی بارہ ہو گئی ہے ، چودھویں کے چاند چودھویں رات دلیر خان کے گھر گزارنی ہو گی ۔ رانی کی نگاہوں کے جھروکے قدرے اوپر اٹھے اور ماں کی ممتا پہ بہت پیار آیا ۔ ماں جا چکی تھی ۔ رانی نے خود کو آئینہ کے سامنے لا کھڑا کیا ۔ انگ انگ ے خوشیاں پھوٹنے کا جائزہ لیا۔ د دلیر خان کا چہرہ بھی سامنے آ گیا تو آئینہ چغلی کھانے(جاری ہے) لگا۔ فرطِ جذبات سے رانی نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا لیا اور دھیرے دھیرے انگلیوں کو پھر سے ہٹایا تو شرم کی تاب نہ لا کر شیشے سے لاتعلقی کر لی۔ نئی زندگی کے آثار نمایاں تھے۔ کلی کو پھول بنے تک جن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے وہ مسافت طے ہو چکی تھی۔ تو اس کا مطلب ہے کل ہاتھوں پر مہندی رچے گی اور پرسوں بارات، دلیر خان کو وست یار چارپائی پر بٹھا کر اُس کی حفاظت کریں گے اور ہماری طرف سے چند ایک اُسے چارپائی سے گرانے کی کوشش کریں گے۔ پھر دلیر خان کا نشانہ دیکھا جائے گا۔ اُسے اپنی حفاظت کرنی آتی ہے۔ فوجی جوان ہے ناں اور نشانے میں تو وہ بہت پکاہ ے بچپن ہی سے، پھر ہمیں الوداع کرنے کے لئے سب اکٹھے ہوں گے اور دلیر خان کے ساتھ روانہ کر دیں گے۔ یہ چند قدموں کے فاصلے پر تو ہے دلیر خان کا گھر۔ سب مبارک باد دینے آئیں گے ، دلیر خان ہمارا گھونگھٹ اٹھائے گا۔
رانی دروازہ کھولو….والدین گھر آ چکے ھتے۔ ہشاش بشاش، اُن کے چہروں کو پڑھ کر رانی نے اندازہ لگا لیا کہ دلیر حان نوبھر نو ہو گیا ہے۔وہ دور بیٹھی والدین کی گفت و شنید سن رہی تھی ۔
میں تو بہت پریشان ہو گیاتھا کہ پتہ نہیں یہ کبھی ٹھیک ہوگا۔
ہاں رانی کے ابا میری حالت بھی یہی تھی لیکن ماں کے پیار میں بڑی دلکشی ہوتی ہے ۔
رانی کی ہنسی نکل آئی۔
ارے…. اِدھر آو…. تم اکیلے ایک کونے میں بیٹھی ہنس رہی ہو تیاری پکڑو۔ دو دن کی مہمان ہو ،ہماری گڑیا دلیر خان کے گھر جا رہی ہے۔دیکھا دیکھا رانی کی ماں سب عادتیں تم پر گئی ہیں۔ تم بھی….
بس اتنا ہی کافی ہے۔ بیٹی کا ماتھا چومنا بھول گئے آپ….
اوہو دلیر خان کو خوش ہوتے دیکھ کر اور شادی کی بات پکی کرنے کا ماحول ابھی تک طاری ہے۔ ایک امانت ہماری رانی امانت داروں کے پاس جا رہی ہے۔ خوشی غمی کے ملے جلے تاثرات میں کھو گیاتھا۔ بیٹی کے پاس جا کے ماتھا چوما اور پھر رانی کی ماں نے بھی خوشی کے آنسووں میں بیٹی کی پیشانی چومی۔
دوسری جانب دلیر خان کا باپ بیٹے کو ہشاش بشاش باتیں کرتے دیکھ کر بہت خوش تھا اور ماں تو واری واری ہوئے جا رہی تھی۔ ماں نے بیٹے کا علاج جان تلی پہ رکھ کے کر لیاتھا۔ رسم و رواج کے توڑنے کے جرم میں جرگے میں سنائی گئی سزا ناقابل معافی ہوتی ہے۔
سنو دلیر خاناں تمہارا دادا بڑا نشانے باز تھا اور تمہاری تربیت بھی اُسی کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ سسرال میں نشانہ نہ چُوکے اور تمہارے سسرال والوں کے پاس تھری ناٹ تھری پکی رائفل ہے۔ بڑی انمول رائفل ہے وہ۔ رانی کے ساتھ وہ رائفل بھی تمہیں ملنے والی ہے….
نہ میں نشانے بازی کروں گا اور نہ ہی رائفل مجھے دی جائے۔
کیا بول رہے ہو دلیر خان۔ باپ کی آواز میں کڑک آ چکی تھی
ہاں سچ کہہ رہا ہوں۔ ہتھیار ہونے ہی نہیں چاہئیں۔ یہ سمِ قاتل ہیں۔ انسانیت کی بربادی کا سبب۔انہی ہتھیاروں نے بے شمار بے گناہوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے….
لیکن ہم رسم و رواج کو توڑ نہیں سکتے۔انکار کی صورت میں رانی سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔دلیر خان کی پیشانی پر نفرت کی لکیریں واضح نظر آ رہی تھیں…. ماں نے موقع غنیمت جان کر بیٹے کو بڑی شفقت بھری نگاہوں سے دیکھا۔ بیٹا ایک بار ہی تو یہ کام کرنا ہے نشانے بازی کا۔ کون سا کسی جاندار پر نشانہ باندھنا ہے۔ ایک دوست کے سر پر رکھے سیب ہی کو تو اڑانا ہے اور پھر رائفل لے لینا گھر لاکے کسی صندوق میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کر دینا۔ بس اتنی سی بات ہے آخر ہمیں اپنے ماحول میں رہنا ہے رسم و رواج بدل تو نہیں سکتے ناں۔
دلیر خان نے اثابت میں سر ہلا دیا۔
شاباش میرا بیٹا….شاباش دلیر خاناں…. باپ موچھوں کو مروڑتے ہوئے بیٹی رانی کے شوہر دلیر خان کی شجاعت پر فخر محسوس کر رہا تھا۔
رات جیسے بھی گزرنی تھی گزر گئی۔ صبح کا سورج طلوع ہوتے ہی نوعید نو پھیلا رہا تھا ہر کوئی رانی اور دلیر خان کی شادی کے پیغام پر خوشی محسوس کر رہا تھا۔ دلیر خان کے دوست بندوقیں تھامے فائر کرتے دلیر خان کے گھر کے سامنے خوشیاں منا رہے تھے اور دلیر خان کو آوازیں دے رہے تھے لیکن دلیر خان اس ماحول سے بھاگنے کی کوشش میں سرگرداں تھا۔ باپ نے اپنی رائفل پکڑی اور دلیر خان کے حوالے کر کے اسے باہر لے آیا۔ دوستوں نے مزید فائرنگ کر کے اس کی شادی کا ڈگا بجا دیا۔ ایک دوست نے کہا…. دلیر خان چلیں بھوتوں والی غار تک…. دوسرے دوست نے دلیر خان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ وہاں جانے والا واپس نہیں آ تا، انہی وادیوں میں بنی غار میں ختم ہو جاتا ہے۔ آج تک یہ معمہ حل نہیں ہو سکا کہ وہاں ہے کیا؟ کون سی بلا وہاں رہتی ہے جو سب پہ بھاری ہے۔ وہ دیکھ رہے ہو پہاڑی کی چوٹی…. یوں سمجھ لو کہ اس چوٹی پر جا کے راہیں مسدود ہو جاتی ہیں۔ آگے کوئی اور راستہ نہیں نکلتا۔
دلیر خان کو غصہ آ گیا…. یہ بتاو تم میں سے کوئی وہاں گیا ہے یا یونہی ہوا میں اڑاتے رہتے ہو بے تُکی سی باتیں۔
دلیر خان یوں لگتا ہے تم یہاں نئے آئے ہو۔ تین سال برما میں کیا گزار آئے اپنی وادیوں کی داستانیں بھول گئے ہو۔
میں کچھ بھی نہیں بھولا۔ کانوں سے سنی باتیں اور آنکھوں سے دیکھنے میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ اب بولو اُس غاز کی جانب چلیں یا نشانے بازی کرنی ہے۔
فی الحال تو نشانے بازی کرتے ہیں غار کو چھوڑو دلیر خان۔ کل تمہارا شادی منائے گا، ڈانس کریں گے، تمہاری خوشیوں میں شامل ہوں گے۔
چلو آو تم دونوں میں سے کون رکھے گا اپنے سر پر سیب۔۔۔۔
ہم ونوں باری باری رکھیں گے۔ تم نشانہ لگانا۔ اتنے میں ہر طرف سے وادی کے لوگ اکٹھے ہو گئے۔دلیر خان نے نشانہ لیا اور سیب کو اڑا کے رکھ دیا۔
او یارا تمہارا نشانہ تو بڑا پکا ہے۔
دوسرا دوست بھی نشانے کی زد میں آیا اور دلیر خان نے بغیر کسی توقف کے نشانہ داغ دیا…. واہ واہ کے ساتھ تالیوں کی گونج میں وادی کے اطراف میں خوشیوں کی لہر دوڑ گئی۔ رانی کا باپ بھی خوش و خرم واپس گھر آیا اور شادی کی تیاریوں میں مصروف ہوگیا۔
سکھیوں نے مل کر گیت گائے، سسرال سے آئی مہندی کو ہاتھوں کی زینت بنائے رانی قسمت کی لکیروں پر عش عش کر اٹھی۔ کل اُس کا دلیر خان اُسے اپنے ساتھ لے جائے گا۔ میں اُس کی امانت ہوں۔ ڈھولک کی تھاپ اور سریلے گیت وادیوں کی چوٹیوں سے ٹکرا کر ہرسُو اپنا حسن بکھیر رہے تھے۔امنگوں اور چاہتوں کی تکمیل ہو رہی تھی۔ مطلع بالکل صاف تھا۔ چاند اپنی پوری آب و تاب سے ستاروں کے جھرمٹ میں چاندنی بکھیر رہا تھا۔ کہکشاں کے ٹمٹماتے ستارے افشاں کی دوستی کو سراہ رہے تھے۔ میٹھی میٹھی دلکش چاندنی پہاڑی جھرنوں کے پانی کی اسپیدی کو نیا رنگ دے رہی تھی۔ چرند پرند پرسکون تھے۔ پہاڑی چوٹیوں کی چمک اور چیڑ و چنار کا سبزہ بھلا لگ رہا تھا۔ دھیرے دھیرے رانی کی سہیلیاں اپنے اپنے گھروں کو سدھارنا شروع ہو گئیں۔ نصف شب کا عالم تھا آخری دو سہیلیاں چھیڑ چھاڑ میں لگی ہوئی تھیں۔ رانی سہاگ رات کی داستان سب سے پہلے مجھے سناو گی یا اسے۔
دیکھو مجھے تنگ نہ کرو۔ تم خود اپنی شادی کروا کے تجربہ کرلینا۔
ہے تیرے کی رانی تم نے تو ہمارا دل ہی توڑ دیا۔
گھبراو نہیں تمہارے شوہر نامدار ٹوٹے دل کو پھر سے جوڑ دیں گے۔
ان دونوں سہیلیوں کے والدین بھی اپنی دختران کو لے کر وداع ہوئے۔
سارے دن کی مصروفیت اور تھکاوٹ نے رانی کی ماں اور باپ کو صبح کی تیاری کے لئے نیند کی آغوش میں لے لیا۔ رانی کو نیند نہیں آ رہی تھی۔ وہ مہندی لگے ہاتھوں کو بار بار دیکھ رہی تھی۔ بدن پر بٹنا کی خوشبو ایک الگ تاثر دے رہی تھی۔ دلیر خان کا تصور سوہانِ روح بنتا جا رہا تھا۔ انگ انگ سے محبت کے چشمے پھوٹ رہے تھے۔
بھوتوں والی غار سے دوہرے بدن کا کالا ریچھ بڑی بے قراری سے باہر نکلا۔آسمان کی جانب دیکھتے ہوئے نتھنوں کو حرکات و سکنات میں مبتلا کئے جھومنے لگا۔ آنکھیں سکیڑ کے حدِ نگاہ وادی کا جائزہ لیتا رہا۔ بار بار کی اس دیکھا دیکھی میں اُس کی شیطانی قوت عود کر آئی۔ اُس نے پھر سونگھنے کے لئے نتھنے وا کئے ، پچھلے دونوں پاوں پر بیٹھے وادی کی جانب تاک لگا لی۔ ایک گھنٹے کے لگ بھگ وہ کبھی اضطراری حالت میں چہل قدمی شروع کر دیتا کبھی پھر بیٹھ کر وادی کی جانب نظریں جمائے کسی گہری سوچ میں مصروف رہا۔ نہ جانے کون سی مقناطیسی قوت اُس کے پورے جسم میں محرک ہوئی اور وہ اپنے نپے تلے قدموں سے وادی کی جانب چل نکلا۔ آسمان کی بلندیوں سے چھنتی ہوئی چاندنی میں اُس کامتحرک وجود صاف دکھائی دے رہا تھا۔اُس کی حرکات و سکنات سے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے رانی کے گھر کا تعین اُس کی منزل ہو۔ رانی کے گھر کی چار دیواری اتنی اونچی تھی کہ گھر کا ماحول صاف دکھائی دے رہا تھا۔ ریچھ نے ایک بار پھر نتھنے پھُلائے اور ناک پہ ہلکی ہلکی نمی نے جنم لیا۔ کتوں کے بھونکنے کی آوازیں بلند ہونے لگیں اور اُس نے اپنے قدم روک لئے۔ پچھلے دونوں پاوں پہ ساکت بیٹھے تاک لگائے وہ منتظر رہا کہ کتے بھونکنا بند کر دیں لیکن اُن میں کمی کی بجائے اور آوازیں بھی شامل ہو گئیں اُس نے کھڑے ہو کر ارد گرد کا جائزہ لیا اور چند ایک گھروں سے باہر بسیرا کرنے والے کتوں کا خطرہ لاحق ہونے پر اُس نے اسی میں بہتری محسوس کی کہ اسی جگہ چاروں پاوں چِت کئے تاک لگائی جائے۔
رانی کوشش کے باوجود سونے میں کامیاب نہ ہو سکی اور کتوں کے بھونکنے کی بتدریج آوازیں اُسے کسی خطرے کا الارم دے رہی تھیں۔ وہ رفع حاجت کے لئے باہر نکلی۔ ریچھ کی شیطانی آنکھوں میں چمک ابھری اور وہ کسی ماہر جنگی فوجی کی طرح زمین پر رینگتے ہوئے آگے بڑھنے لگا۔رانی چار دیواری کے اندر ایک کونے میں کچی مٹی سے بنائے بیت الخلاءمیں داخل ہوئی ۔ ریچھ نے جست لگائی اور چار دیواری پھلانگ کر اندر داخل ہوا۔ کتوں کی آوازیں تیز تر ہو گئیں۔ ایک شاخ پہ بیٹھے اُلو نے اپنے گلے سے آواز نکالی۔ رانی جونہی بیت الخلاءسے باہر نکلی ریچھ نے اُسے اپنی بانہوں کے حصار میں لے لیا۔ دونوں پچھلے پاوں کی قوت اس قدر پرجوش تھی کہ ایسی چار دیواری کی دوگنی طوالت بھی وہ پار کرنے کی سکت رکھتا تھا۔رانی بیہوش ہو چکی تھی۔ دنیا و مافیہا سے بے خبر وہ ایک گھناونے سفر پر گامزن ہو چکی تھی۔ کتوں کی جتماعی اطلاعی چیخیں کم سے کم تر ہو گئیں۔ بھوتوں والی غار میں شیطانیت نے قبضہ جما لیا۔ ریچھ کی کھردری زبان رانی کے پاوں کے تلوے چاٹتی رہی۔ بدن کا لبادہ تار تار ہو گیا۔ حیوانی وحشت اور شیطانیت کے آثار نمایاں ہو گئے ۔ صنفِ نازک کا قدس اور بدن کی پاکیزگی پر دھبے آن لگے۔ تلوے اور ہاتھوں کو چاٹنے کا عمل ا س قدر وحشیانہ تھا کہ ہڈیاں ابھر کے سامنے آ گئیں۔
مساجد سے اور دوسری عبادت گاہوں سے آوازیں آنے لگیں۔ رانی کی ماں نے رانی کو آواز دی۔ جواب نہ آنے پر وہ پریشان ہو گئی۔ ایک ہی آواز دینے پر دو تین بار جی کہنے والی رانی اس قدر گہری نیند سوئی ہے کہ اُس کے کانوں کے حساسی پردے تک نیند کی آغوش میں ہیں۔ دیکھوں تو سہی بات کیاہے؟ رانی کے کمرے پر دستک دی لیکن کوئی جواب نہیں…. پھر خیال آیا شاید بیت الخلاءمیں ہے اگر وہاں گئی ہےت و دروازہ کھلا ہونا چاہئے۔ تھوڑا سا دروازے کو دھکا دیاتو دروازہ کھلا، اندر رانی موجود نہ تھی وہ بیت الخلاءکے اندر جھانک کے اور پریشان ہو گئی وہاں بھی نہیھ تھی۔ رانی کے ابا…. رانی گھر میں نہیں ہے…. وہ ہڑبڑا کے اٹھا اور بیوی کو ساتھ لے کر سیدھا گیا دلیر خان کے گھر کی جانب۔ وہاں بھی کچھ نہ ملا۔ نمازی واپس گھروں کو لوٹ رہے تھے دلیر خان اپنے والد کے ہمراہ گھر کی دہلیز پر رانی کے والدین کو دیکھ کر پریشان ہو گیا۔ رانی غائب ہے پر دلیر خان کے اوسان خطا ہو گئے۔ ملگجی اندھیروں میں ہر سو کہرام مچ گیا۔ گاوں کے تمام لوگ رانی کے ہاں اکٹھے ہو گئے۔ بابا کھوجی بھی آن پہنچا۔ رانی کے کمرے سے کھوج لگاتے لگاتے جونہی وہ بیت الخلاءکے سامنے بھیگی زمین پر جھانک رہا تھا تو اسے کسی درندے کے پاوں کا نشان نظر آ گیا وہ فوراً دوسرے قدموں کے نشانات کے پیچھے بھاگا ، دیوار کے دوسری جانب بھی وہی پاوں کے نشانات سے مکمل طور پر واضح ہو گیا کہ ریچھ کے پاوں کی نشاندہی ہے۔ تو اس کا مطلب ہے رانی کو ریچھ اٹھا کے لے گیاہے
دلیر خان کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ دیوانگی طاری ہو گئی۔ دیوار پہ آویزاں دادا کی تھری ناٹ تھری اور ڈھیروں پکی گولیاں ساتھ لئے وہ پاگلوں کی طرح فائر کرتا گیا۔ کھوجی کے قدم غاز کی جانب نشاندہی کر رہے تھے۔ اب اُسے کسی کی ضرورت نہیں تھی وہ سرپٹ غار کی جانب دوڑے جا رہا تھا۔ دوست و احباب اُسے آوازیں دے رہے تھے لیکن وہ سنی اَن سنی کئے رانی کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا تھا۔ بھوتوں والی غار اب قریب آ چکی تھی۔ ایک دوست کی آواز نے اسے متنبہ کیا کہ غار کی طرف مت جاو وہاں سے واپسی ناممکن ہے۔ اتنے میں ریچھ غار سے باہر نکلا اور کھڑے ہوتے ہوئے بیرونی شوروغل کا جائزہ لینے لگا۔ دلیر خان نے بھی بھانپ لیا کہ ہو ناں ہو یہی وہ درندہ ہے جس نے ہم سب کا سکون تباہ کر رکھا ہے۔ نزد ہی ایک درخت پر وہ چڑھ گیا اور اسی تاک میں رہا کہ ریچھ مزید غار سے باہر آ جائے۔ ریچھ بھی اندازہ کرنے کے لئے اور کھل کے باہر آ گیا اور دلیر خان کا نشانہ اُس کے جسم پر لگا۔ جس سے ریچھ لڑکھڑاتے ہوئے درخت کی جانب دوڑنے لگا۔ وہ نشانہ باز پر حملہ آور ہونا چاہتا تھا۔ درخت پر چڑھنے کی کوشش میں دوسری گولی اُس کے سر میں لگی ، وہ درخت کے تنے سے زمین پر آ گرا اور تیسری گولی پیٹ پر لگی۔ پھر لگاتار گولیوں کی بوچھاڑ اُس کو ساکت کر گئی۔ ریچھ کی کھلی آنکھوں میں وحشت صاف دکھائی دے رہی تھی۔ دلیر خان سرپٹ غار کی طرف دوڑ رہا تھا۔ بندوق ہاتھ میں تھامے غار کے دھانے پر پہنچا تو اندر ہلکی سی روشنی میں اُس نے عورت کے بدن پر لباس کے برائے نام چیتھڑوں میں سے چہرہ کی جھلک میں رانی کا تقد س لٹادکھا۔بہت بری حالت کر دی تھی درندے نے۔ دلیر خان نے اپنی چادر رانی کے جسم پر ڈال کر پردہ پوشی کی اور نحیف آواز پر کان دھر دیئے…. بولو رانی….
دلیر خان میں تمہاری امانت تھی لیکن اب زندہ نہ رہ پاوں گی۔ مجھے روشنی میں مت لے جانا۔ انہی اندھیروں میں مجھے رہنے دینا میں روشنی برداشت نہ کر پاوں گی۔ اس غار تک آ کے راہیں مسدود ہو جاتی ہیں اور مزید درندوں کا سامنا نہ کر سکوں گی ، کے ساتھ ہی جسم ِ فانی سے روح پرواز کر گئی۔وہ وحشی ریچھ کی جانب پھر لپکا اور جسم کے پرخچے اڑا دیئے ، یہاں تک کہ گولیاں ختم ہو گئیں۔ لوگ غار میں سے رانی کے جسم کو ڈھانپ کر گاوں کی جانب لے جا رہے تھے اور دلیر خان کا باپ اس کے ہاتھ سے بندوق لے کر سنبھالا دیئے واپس گاوں کی جانب لے گیا۔قبرستان میں رانی کو دفن کر کے وہ ساری رات لکڑی کی رائفل بناتا رہا۔ رائفل مکمل کر کے وہ ٹھس ٹھس کی آوازیں منہ سے نکالتا ، منہ اٹھائے گھر سے غائب ہو چکا تھا۔ ہر کوئی اُسے ڈھونڈ رہا تھا اور وہ جنگلوں میں بھٹکتا درندوں کو تلاش کرتے کرتے میدانی علاقوں میں نکل آیا۔ کسی نے کچھ کاھنے کو دے دیاتو کھا لیا لیکن زیادہ تر وقت اُس کا جیب میں اپنی تحریر کردہ ڈائری کو سنبھالنے میں صرف ہوتا اور ایک ہلکی سی آہٹ پر وہ چوکنا ہو کر ٹھس ٹھس کی آوازیں نکالے رائفل کو تانے رکھتا۔آج وہ بھی منوں مٹی تلے دفن ہو چکا تھا اور باقی ماندہ داستان اُس کے گاوں والے اپنی نئی پود کو سنا سنا کر محتاط کرتے رہتے تھے کہ درندوں سے ہمیشہ محتاط رہنا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں