ناولٹ ،، قید باقلم ،، بشیر شاد

افسانہ ،، قید با قلم ،،
تحریر : چوہدری محمد بشیر شاد ایتھنز یونان

میری آنکھونںپہ کالی پٹی باندھ کر نجانے کس طرف لے جایا جا رہا تھا ۔ وقت کا تعین بھی کیسے ہوتا ، آنکھوں پہ پٹی جو بندھی تھی ۔جیپ کی رفتار سے اندازہ ہو رہا تھا کہ سو کلو میٹر فی گھنٹہ کے لگ بھگ ہے ۔ اب یہ جیپ کس جانب جا رہی ہے اس کا کچھ پتہ نہیں تھا ۔ میری آنکھوں کے سامنے ایک ہی رنگ نمایاںتھا ، سیاہ بالکل سیاہ ، ایسے رنگ میںرات کا گھمبیر گھپ اندھیرا شامل ہوتا ہے ۔
اب گاڑی کی رفتار پہلے سے قدرے کم ہو گئی اور نزدیک سے گذرنے والی کسی اور گاڑی کی آواز کبھی کبھار آتی ، پھر ایک موڑ اور آ گیا جہاں ڈھلوان کا احساس ہوا ، شائد جیپ کسی کچی سڑک پہ چل نکلی تھی۔ ٹائروں کے ساتھ مس کرنے والی پتھریلی کنکریاں جیپ کی چادر سے ٹکرا کر کھڑ کھڑ کی کھردری آواز پیدا کر رہی تھیں۔ کھڈوں میں لگے جھٹکوں نے پسلیاں ہلا کے رکھ دیں ۔ فور ویل ڈرائیو جیپ کا وہ گیئر لگا دیا گیا جو پہاڑی راستوں کی چڑھائی کا کام دیتا ہے۔ یہ سب کچھ میرا خیال تھا ، مجھے سوال کرنے کی ممانعت تھی اور اگر میں سوال کرتا بھی تو اس کا جواب کوئی نہ دیتا۔مجھے اس سے بھی بے خبر رکھا گیاتھا کہ سیاہ پٹی باندھ کر کہاں پہنچایا جا رہا ہے ۔عجیب کشمکش تھی۔ میں سوچوں کے تانے بانے میں بری طرح پھنسا ہوا تھا کہ جیپ نے ایک دم بریک لگائے ۔
مجھے دونوں بازووں سے پکڑ کر نیچے اتارا گیا ۔ پکڑنے والوں کے ہاتھوں کی گرفت مردانہ نہیں تھی ، صنف نازک کے نرم و نازک ہاتھ لگ رہے تھے ، پتلی پتلی سی مخروطی انگلیاں میرے بدن میں ارتعاش برپا کر رہی تھیں۔ یہ عجیب قید ہے جہاںمجھے لے جایا جا رہا ہے ۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ میری آنکھون سے سیاہ پٹی کھول دی جائے اور میں محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ دیکھ سکوں کہ میرے ساتھ کون چل رہے ہیں۔ اتنے میں ایک آواز ہیلی کاپٹر جیسی کانوں کی حساس پتلیوں سے ٹکرائی اور کچھ ہی دیر میں ہیلی کاپٹر نے زمیں پہ پہیئے لگا دیئے ۔ مجھے بڑی احتیاط سے اس میں بٹھایا گیا اور پھڑ پھڑ پھر پھڑ کی آواز تیز تر ہو گئی ۔اس کا مطلب ہے زمیں سے اوپر اٹھنے والا ہیلی کاپٹر اب ہواوں کے دوش بدوش بلندیوں مین سفر کرنے لگا ہے ۔
عجیب بکواس ہے ، آخر یہ سب ۔۔۔ یہ سب کیا ہو رہا ہے ۔ میںنے بولنا چاہا لیکن ،، شی شی ۔۔ کے ساتھ ہی پستول کی نالی میری کنپٹیوں کے ساتھ ٹکرائی ، میں خاموش ہو گیا، بول کر کیا فائدہ ۔۔۔ !!
پھر سے خاموش سفر ، نہ منزل نہ راہ ، نہ جرم نہ سزا ، کچھ بھی پتہ نہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور مزید لمحہ بھر میں کیا ہونے والا ہے ۔
میں نے اپنی پچھلی زندگی کے بارے سوچنا شروع کر دیا کہ کون سا گناہ ایسا سرزد ہو گیا ہے جس کی پاداش میں مجھے سزا سنائی جانے والی ہے۔ کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں کیا ، کوئی چوری چکاری نہ کی اور کسی چور کا ساتھ بھی نہیں دیا ، قتل نہ کیا اور قاتلوں کے ساتھ ایک قدم چلا بھی نہیں ،۔ بدمعاشی مجھے آتی نہیں ، گالی زباں پہ چڑھتی نہیں ، بڑوں کا ادب، چھوٹوں سے پیار کرتا ہوں۔ رہا سوال صنف نازک کا ، اس سے مجھے قطعی انکار نہیں کہ میں نے ہمیشہ عورت کی قدر کرتے ہوئے اللہ پاک کے اس شاہکار کو سراہا ہے، وہ بھی شائد اس لیئے کہ میں بذات خود ایک مرد تھا ۔۔۔ لیکن یہ کوئی غلطی تو تھی نہیں ، یہ حقیقت ہے اور حقیقت کو جھٹلانامیرے بس کی بات نہ تھی ۔ ہیلی کاپٹر کافی اونچائی پر بادلوں کے سنگ اڑتا جا رہا تھا ، میںنے کہا ناں میرے خیال ہیں اور اگر یہ خیال درست ہے کہ بادلوں کے سنگ جا رہا ہوںتو مجھے سب سے بڑا افسوس بھی یہی ہے کہ میری دیرینہ خواہش تھی کہ بادلوںمیں اڑ کر دیکھوںتو سہی ان کی رنگت کیسی ہے ، ان کی اڑان میں کیسی دلکشی ہے ، ان میںشامل نمی کی لذت کو محسوس کر سکوں ۔ روئی کے گالوں میں اپنا وجود سمو کر نرمی اور ملائمیت کا مزا لوںلیکن بدقسمتی سے میری آنکھوں پہ پڑی دبیز سیاہ پٹی کو کون ہٹائے ۔ بڑے افسوس کی بات ہے میری یہ خواہش بھی ادھوری ہی رہی ۔ اتنی اونچائی پہ جا کے زمین اور زمیں پر بسنے والی ہر ذی روح کی حرکات و سکنات کیا اشکال اختیار کرتی ہیں یہ حسرت بھی پوری ہونے سے قاصر رہی ۔ واہ ری قسمت کن کے قبضے میں آ گیا ہوں، وہ لوگ جو میری حسرتون کے ادوار سے مجھے گذار بھی رہے ہیں لیکن آنکھوں کی روشنی چھین کر یہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں ۔
اگر میری خواہشات ، میرے سپنے ادھورے رہ گئے ہیں تو ان کی مرضی بھی پائیہ تکمیل تک رسائی حاصل نہ کر سکے گی۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے ہیلی کاپٹر پہ ہوا کا دباو کچھ زیادہ اثر انداز ہو رہا ہے اوراس کی اڑان اوپر کی بجائے نچلی سطحوں کی جانب راغب ہو چکی ہے ۔بہتر ہے اس کا ایندھن ہی ختم ہو جائے تا کہ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری ۔
آنکھوں کے نور کا احساس شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ خدا ئے بزرگ و برترکی اس نعمت سے بڑھ کے اور کیا نعمت ہو گی ، اگر اغوا کندگان میری آنکھیں کھول دیں اور آنکھوں کی بجائے میری ٹانگوں پہ بیڑیاں باندھ دیتے تو بہتر تھا ۔۔۔ ارے یہ کیا ہو رہا ہے ، ہیلی کاپٹر کہاں اتر آیا ہے ۔ میری سماعت سے جو آوازیں ٹکرا رہی ہیں وہ سمندر کی آزاد موجوں کی ہیں۔ لہروں سے لہر ایک دوجے میں مدغم ہو کر شور برپا کر رہی ہیں ۔ کس بحر بیکراں میں لے آئے ہیں مجھے ؟ ا ے کا ش میری آنکھیں کھلی ہوتیں تو بہتر تھا ۔
پھر سے دو نرم و نازک ہاتھوں نے مجھے سہارا دیا اور چند قدم باہم چلے تو آگے سیڑھیوں کا احساس ہوا ۔ میرے پاوں لکڑی کی بنی سیڑھیوں پر قالین کے ساتھ مس ہوئے تو معلوم ہوا کہ نیچے کہیں اتارا جا رہا ہوں ۔ جن ہاتھوں کی نازک گرفت میں نیچے اتر رہا تھا ان کی سانسوں کا لمس میں اپنی گردن پر برابر محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔ یہ کیا معمہ ہے ؟ ایک جگہ مجھے لے جا کر بٹھایا گیا ۔ نرم نرم گدے پر بیٹھتے ہی مجھے محسوس ہوا کہ یہ ایک بڑی آرام دہ کرسی ہے ۔ کرسی کا خیال آتے ہی پورے جسم میں خوف کی لہر کوند گئی کیونکہ ، ، کرسی پہ بیٹھ کر بڑے بڑے تباہ ہو جاتے ہیں ،، کرسی کی لذتوں سے نا آشنا لوگ زیادہ آرام و سکون کی بہتر زندگی گذار سکتے ہیں ۔
وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا ، میری ٹانگوں اور بازووں کو کرسی کے ساتھ کس کے باندھ دیا گیا ۔ شائد یہ لوگ اب میری آنکھوں پہ بندھی سیاہ پٹی کو کھول دیں گے لیکن ایسا ہرگز نہ ہوا ۔ پابگل ہونے کی آرزو پوری ہوگئی لیکن اس کے عوض آنکھوں کی سیا ہ پٹی نہ کھل سکی ، آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا کے مصداق میرے ساتھ ہو رہا تھا ، پہلے پھر بھی ہاتھ پاوں ہلا کر زندگی کے محرکات کا پتہ چل رہا تھا اس نعمت سے بھی محروم ہو گیا ۔آنکھیں ہی نہیں تو کیا نظر آئے گا ۔ بدن کا رواں رواں آزاد ہو تو زندگی کی رعنائیوں کا پتہ چلتا ہے ۔ اللہ پاک کی عطا کردہ ہر نعمت اپنی جگہ اٹل اور اعلی حیثیت کی حامل ہے ۔ کسی بھی نعمت سے محرومیت اس کی افادیت کا پتہ دیتی ہے۔
وہ ہاتھ جو لکھنا جانتے تھے ، قلم کی نوک سے صفحہ قرطاس پر بے شمار الفاظ کو سنوارتے تھے، کرسی کے ساتھ کس کر باندھ دیئے گئے، وہ قدم جو راہوںپر آزادانہ چلتے تھے اور سارا سارا دن رزق حلال کما کر واپس گھر لوٹتے تھے ایک جگہ جامد کر دیئے گئے ۔ کھانا تو یہاں بھی کھلایا جا رہا ہے ، میرے منہ میں لقمے دیئے جا رہے ہیں لیکن لقمے دینے والی انگلیوں کو اٹھتے دیکھ نہیں پا رہا ۔ لقمہ دیتے وقت لقمہ دینے والے کا چہرہ پڑھنے سے قاصر ہوں اس لیئے کس زبان سے کس کا شکریہ ادا کروں ۔مجھے یہ تک خبر نہیں کہ یہ لقمے مجھے رحم کھا کر دیئے جا رہے ہیں یا اس کے پس پشت کوئی غرض ہے ۔ آخر یہ سب کچھ کیوں کیا جا رہا ہے۔
لو بحری بیڑا لنگر انداز ہو گیا ہے اور مجھے کھولنے کی بجائے میری کرسی کو اوپر اٹھایا جا رہا ہے ، ٹک ٹک کرتی کوئی چیز مجھے اوپر لے جا رہی ہے ، شائد کرین کا مضبوط آہنی کنڈا میری کرسی کی پشت پر آن لگا ہے اور بڑی آہستگی سے کسی اور جگہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ ہلکے سے جھٹکے کے ساتھ کرسی آن لگی ہے ۔ یہ فرش نہیں ہے بلکہ لکڑی کا کوئی تختہ ہے ، آہنی کنڈا ہٹا لیا گیااور موٹر اسٹارٹ کرنے کی آواز میرے کان میں سنائی دی ۔ ایک اور جھٹکا لگا اور پانی کی لہروں کو چیرتے ہوئے جو چیز سفر پہ گامزن ہوئی ایک کشتی تھی، جو چپووں سے نہیں بلکہ موٹر سے چل رہی تھی ۔
یہ کرسی مجھے لے ڈوبے گی ، میں بھت پیچھے چلا گیا ، سوچتا رہا ، سوچتا رہا،کیا کرسی کا خیال مجھے کبھی آیا تھا ؟ زندگی کے سارے صفحات الٹ ڈالے لیکن ہلکی سی بھنک بھی کرسی کی چاہت کی نہ مل سکی، پھر یہ کرسی میرے نصیبوں میں کہاں سے آ گئی ۔یہ لو کشتی بھی دھیرے دھیرے ایک جگہ پہ آن لگی۔اب کیا ہونے والا ہے ؟ ارے یہ نرم و نازک ہاتھ ابھی تک میرے ساتھ ہیں ۔ میرے بازووں اور ٹانگوں کو آزاد کیا جا رہا تھا، مجھے گوناں گوں خوشی محسوس ہو رہی تھی ، لیکن اس کے ساتھ یہ افسوس بھی رہا کہ میری آنکھوں سے سیاہ دبیز پٹی کیوں نہیں ہٹاتے ۔کشتی کے چلنے کی آواز آئی اور یہ آواز آہستہ آہستہ مدھم سے مدھم تر ہو کر اختتام پذیر ہوئی ۔میں اونچائی پر اپنے قدم جمائے چلا جا رہا تھا کہ میرے پاوں کے ساتھ دہلیز کا ٹکراو ہوا ۔ مجھے ایک کرسی پہ بٹھایا گیا ، میرے بازو سامنے پڑے میز پر رکھے گئے ۔میں نے محسوس کیا کہ ایک کرسی پہ بیٹھا ہوں لیکن یہ وہ کرسی نہیں جس پر میں نے سفر کیا ۔ یہ قدرے کھردری کرسی ہے اور سامنے جو میز ہے وہ نجانے کتنی بڑی ہے ۔ اس وقت جس کرسی پہ میں موجود تھا اس کی ڈھیل ڈھال میری شعوری تہہوں میں کہیں بسی ہوئی تھی ۔ میں نے میز پر سے ہاتھ ہٹا لیئے اور کرسی کو ٹٹولتا رہا ۔ یہ کرسی کہاں سے آئی ہے ؟ اسی اثنا میں کسی کے جانے کی آواز آرہی تھی ۔ زنانہ جوتے کی ایڑی زمین پر آواز برپا کرکے یہ احساس دلا گئی کہ میرے پاس اب صرف اور صرف کوئی ایک رہ گیا ہے ۔ یہ کون ہے اور کیا کرنا چاہتا ہے ، میری سمجھ سے بالا تر تھا ۔ کچھ لمحے گزرے اور میں ایسے محسوس کرنے لگا کہ قبر کے اندھیروںمیں اکیلا رہ گیا ہوں ۔ پہلے کوئی نہ کوئی ساتھ تو چل رہا ےھا ، پھر خیال آیا کہ جب میرے پاس کوئی نہیں رہا پھر آنکھوں پہ سیاہ پٹی کیسی ؟ کیوں نہ اسے کھول دوں ۔ میں پٹی کی گرہ کھولتا گیا ، کھولتا گیا اور جونہی پٹی کی سیاہی میری آنکھوں سے دور ہوئی تو میز پر پڑے کاغذ پر نظر جم گئی ۔
،، گواہوں کی موجودگی میں تمہاری تحاریر کی بدولت یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ تم ایک ادیب ہو اور قلم جیسا ہتھیار بھی تم سے برآمد ہو چکا ہے ، لہہذا قلمکار ہونے کا فرد جرم تم پہ صادر کرتے ہوئے عدالت عالیہ تمہیں سو گھنٹے کی سزا دیتی ہے ۔ اس دورانیے میں تمہیں ایک کمرے میں تمام سہولیات کے ساتھ مقید کیا جاتا ہے ، ، تم جو کچھ لکھنا چاہو لکھ سکتے ہو ،،
میں فورا دروازے تک گیا لیکن وہ بھی باہر سے بند کر دیا گیا تھا ۔ ایک اور دروازے پر نظر پڑی ، جونہی اسے کھولا تو ڈبل بیڈ موجود تھا ، سونے کے لیئے انتہائی آرام دہ بیڈ ، صاف ستھری چادریں ، تکیے اور کمبل لحاف کے علاوہ کپڑوں کی الماری بھی موجود تھی۔بیڈ روم میں ایک کھڑکی تھی جو اندر کی جانب کھلتی تھی ۔ اسے کھولا تو باہر لوہے کی مضبوط سلاخیں لگی ہوئی تھیں ، مجبورا ڈرائنگ روم میں آ گیا ۔اس کی کھڑکی کے پٹ بھی اندر کو کھلتے تھے اور باہر وہی لوہے کی سلاخیں میرا منہ چڑا رہی تھیں ۔ ڈرائنگ روم کی ایک طرف باورچی خانہ تھا ۔ اور دوسری جانب ایک اور دروازے پر میری نظر پڑی ، اسے کھولا تو غسل خانہ بھی نظر آ گیا ۔ اب سب کچھ موجود تھا ۔ کھانا ، تازہ پھل ،اور سردی سے محفوظ رہنے کے لیئے ڈرائنگ روم میں انگیٹھی ، جس کے قریب ہی خشک لکڑیوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے موجود تھے ۔ گھر میں سلیقے اور قرینے کا بے حد خیال رکھا ہوا تھا ۔
ہر کھڑکی کو کھول کر دور دور تک نظر دوڑائی لیکن دور و نزدیک نہ آدم نہ آدم زاد ۔بیڈ روم کی کھڑکی کے پٹ کھولے تو دور تک سمندر دکھائی دیا ، حد نگاہ نیلگوں پانی اور اوپر نیلا آسماں ۔ ڈرائنگ روم کی کھڑکی کھولتے ہی پہاڑی سلسلہ اورجنگل دکھائی دیتا ہے ۔ پرندے درختوں کی چوٹیوں پر کیا چہچہاتے ، ہر جانب برفیلی تہہوں نے قبضہ جما رکھا تھا ۔ یہ کیسی بستی ہے جہاں صرف ایک گھر ہو اسے بستی کہتے ہوئے بھی شرم آرہی تھی ۔ ایک گھر سے بستی تھوڑی بن جاتی ہے ۔ میں دونوں ہاتھوں سے اپنا سر دبائے سوچتا جا رہا تھا اور میز پہ پڑاکاغذ میرا منہ چڑھا رہا تھا ۔
میں نے دل و دماغ سے بہت کہا کہ تمہیں تنہائی چاہیئے تھی ناں لکھنے کے لیئے ، اب لکھو ، کیوں نہیں لکھتے ، لکھو نا ںدل کھول کر ، کرو کوئی تخیل طاری خود پر ، اب یہاںتمہیں تنگ کرنے والا کوئی نہیں ، صرف تم ہو اور تمہارا قلم ، کاغذ وافر مقدار میں موجود ہیں ، جی بھر کے لکھو ،،،،، لیکن لکھوں کیا ؟ پہلے دماغ کا معمہ تو حل ہو جائے کہ میں کہاں ہوں ؟
تم کہاں ہو ، لکھنے والے کے لیئے اس بات سے کیا تعلق ؟ ۔۔۔۔۔۔ تعلق ہے کیوں نہیں ، تم آو میرے روبرو ، میں تمہیں بتاوں گا کہ ایک تخلیق کار کا ماحول سے کیا تعلق بنتا ہے ۔
لو میں تمہارے سامنے ہوں جو سوالات کرنا چاہو کر سکتے ہو۔
مجھے پہلے اپنا تعارف کراو ۔۔۔۔۔۔ جی مجھے تنہائی کہتے ہیں ۔۔۔۔ مجھے یہاں کیوں لایا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔ کیونکہ تم ایک ادیب ہو اور ۔۔۔۔۔ اور ادیب کو اس طرح حبس بے جا میں مقید کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اچھا تنہائی کو آپ اب حبس بے جا کا نام دے رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ جی ہاں بغیر جرم بتائے کسی کو قید کر دینا اچھی بات تو نہیں ۔۔۔۔۔۔ آپ بھول گئے پیارے قلمکار ، کتنی بار آپ چھپ چھپ کر تنہائی میں لکھنا چاہتے تھے ۔۔۔۔۔ وہ میری مرضی پہ موقوف تھا ۔۔۔۔۔ اس میں آپ کی امنگوں کو سامنے رکھا گیا ہے اور ادبی عدالت سے یہ فیصلہ بھی ہو چکا ہے کہ آپ کو تنہائی میں رکھا جائے ۔۔۔۔ چلیئے اتنا بتا دیں کہ میں کہاں ہوں ؟ ۔۔۔۔۔ روئے زمین پر ۔۔۔۔ !! یہ تو مجھے بھی علم ہے کہ کرہ ارض پر ہوں لیکن اس جگہ کا محل وقوع کیا ہے ؟ ۔۔۔۔۔ محترم ادیب ۔۔۔۔ مشرق کی جانب پہاڑی سلسلہ ، اور جنگل ہیں ، مغرب کی جانب گہرا نیلگوں سمندر ، شمال کی جانب دلدلی مہلک راستے اور جنوب کی جانب چٹیل میدان ۔۔۔۔۔۔ !! میرا پوچھنے کا مقصد یہ ہے کہ یہاں سے دور و نزد کوئی مشہور سڑک یا شہر ہے ۔۔۔۔۔ شور شرابے سے تو آپ کی جان جاتی تھی پھر ایسا سوال کیوں کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔ بس ویسے ہی پوچھ رہا ہوں ۔۔۔ !! ویسے ہی جسطرح ، قدرتی نظاروں کو لب لباب بنا کر آپ لکھتے چلے آ رہے ہیں پھر شہروں اور سڑکوں کی ہنگامہ آرائی میں آپ کیوں دھنسنا چاہتے ہیں ، آپ کھڑکیوں کے پٹ کھول کر دیکھیئے ، قدرتی نظاروں کی ہزاروں مثالیں آپ کے سامنے موجود ہیں ، اٹھئے بنایئے ماحول ، سوکھی لکڑیوں کے ٹکڑے انگیٹھی میں رکھ کردیجیئے آنچ اپنے ہاتھوں سے ، اور پھر مچلتی آگ میں اپنے محبوب کا سرخ سرخ چہرہ دیکھ کر ایک آدھ غزل صفحہ قرطاس پر دل کی گہرایوں سے تحریر فرمایئے۔ میں آج آپ کو پوری پوری تنہائی کا موقع فراہم کر رہی ہوں ، صرف اس لیئے کہ آپ کو ہر وقت مجھ سے شکوہ رہتا تھا ۔آپ کا گلہ دور کرنے کے لیئے مجھے کہاں سے کہاںتک کا سفر کرنا پڑا ہے ، پھر بھی آپ مجھ سے ناراض ہیں تو آپ کی مرضی۔۔۔۔۔ !!
ہاں آگ جلانا ضروری ہے بدن میں حرارت آ جائے گی
آپ کو بھوک تو نہیں لگ رہی محترم ادیب ۔۔۔۔۔ نہیں تو ابھی تک میرا پیٹ بھرا ہوا ہے ۔۔۔۔ بہرحال بھوک لگے ناں کھانا کھا لینا ، وہ سامنے میز پر پڑا ہے ۔۔۔ میں کون سی کہانی تخلیق کروں ۔۔۔ بڑے افسوس کی بات ہے محترم ادیب ، پہلے جتنی تحاریر آپ لکھ چکے ہیں وہ مجھ سے پوچھ کر لکھیں تھیں کیا ؟ ۔۔۔۔۔ ایک بات میں بھی تمہیں بتا دوں تمہارا رویہ آج مجھ سے کچھ اچھا نہیں ، ظالمانہ لگتا ہے ۔۔۔۔چلیئے کوئی موضوع تو آپ کو میسر آیا ، اسی پہ لکھ دیں ۔ ۔۔۔۔۔ لیکن یہ کیسے میں لکھ سکتا ہوں ، تنہائی کو ہمیشہ میںنے مونس ہجراں کا رتبہ دے کر بیان کیا ہے ، پھر آج ا پنے الفاط کی نفی کیسے کر دوں ۔۔۔۔۔۔ ہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔ ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔ شاعر بھی عجیب ہوتے ہیں اور آج تنہائی ے گھبراہٹ کیسی ، ادیب ہو کھل کے لکھو ۔۔۔۔ !!
سنو ۔۔ اور بڑے غور سے سنو شاعروں کو کیا سمجھ رکھا ہے آپ نے ؟ تمہاری قدر کرتے ہیں اس لیئے !! تمہین ہم نے سر پہ چڑھا رکھا ہے ، یہی ناں ۔ کیا شاعر دنیا کا حصہ نہیں ہوتے ؟ کیا شاعروں کا دل نہیں ہوتا ؟ کیا شاعر و ادیب دنیا کی ایک الگ مخلوق ہیں ؟ تم اگر تنہائی ہو تو ہم تیری تنہایوں میں بسنے والے حساس لوگ ، تیرا وجود ہم سے ہے ، اگر ہم تم میں آ کر بسیرا نہ کریں تو کون پچھے گا تمہین ؟ کیا ہو تم ؟ بتاو ناں ۔۔۔۔۔ ،، صحرا میں تپتی ریت سے تھپیڑے کھاتا ہوا سوکھا پیڑ ہو تم ۔ جاو ، ہم تم میں آکے بسیرا نہیں کرتے ، پھر دیکھتا ہوں تم کیسے طنزیہ ہنسو گی ہم پر ۔۔۔ !!
دیکھو ناراضگی تھوک دو ، تم نے خوامخواہ غصہ کر لیا ، جاو بستر پر لیٹ جاو ، گرم گرم لحاف میں تھوڑی دیر سستا لو ،ممکن ہے تمہاری ذہنی کوفت دور ہو جائے ۔ گذرا وقت ہاتھ نہیں آتا اور ہر روز عید نیست کہ حلوہ خورد والی بات بھی مد نظر رکھنا ۔ میرا مقصد تمہیں تنگ کرنا یا ھبس بے جا میں رکھنا ہرگز نہین ، میں تو آپ کو پورا پورا وقت مہیا کرنا چاہتی تھی تاکہ آپ کوئی بہترین تخلیق کر سکو ۔
یہ ہوئی ناں بات ۔ اب وہ مقام آ گیا ہے جہاں تم میرا ساتھ دو تو کئی نہ کوئی تخلیق نو ہو سکتی ہے ۔۔ ۔۔۔ ہاں اسی لیئے میں آپ کو اس کونے میں لے آئی ہوں ۔
بس سمجھ گیا ، سب کچھ سمجھ گیا ، اصل میں ہم لکھنے والے پیار کے بھوکے ہوتے ہیں ، جس کسی نے تھوڑا پیار دیا ، اسی کے ہو لیئے ۔ دنیا سے کٹ کر ہم کیا لکھ سکیں گے ،ہم لکھتے بھی دنیا میں رہ کے ہیں اور لکھتے بھی دنیا کے لئے ہیں۔ ہمارا محور دنیا ہے ۔ دنیا سے سب کچھ اخذ کرکے تمہارا سہارا لیتے ہیں ۔ آج چونکہ میری آنکھیں بازو پا وں سب مقید تھے پھر کیا دیکھتے دنیا سے ، میرا مطلب ہے جب کچھ دیکھا ہی نہیں وہ دماغ میں کیسے جائے ، اور جب نظر میں نہیں آیا تو دل کو کیسے بھائے ، دل تک جب کوئی چیز رسائی نہیں کر سکی تو پسند والی بات رہ گئی ناں ۔۔ جب پسند کچھ نہ آ سکا تو خون گردش کیسے کرئے گا ۔ خون کی گردش تیز نہ ہوئی تو ہاتھ کی انگلیوں میں جنبش نہ آسکے گی اور بغیر جنبش کے قلم چلتا نہیں ۔اب تم ہی کوئی موضوع ڈھونڈ نکالو تو بات بنے گی ۔لاو کوئی نقش سامنے جس کے نقوش تیکھے تیکھے ہوں ، غزل خود بخود بنے ۔ چشم آہو کی غزالی آنکھوں کی دلکش رنگت ، بناو ناں آگ کے دہکتے ہوئے شعلوں میں ، پھر دیکھنا الفاط کا تسلسل اور انکی ان میں روانگی کی رنگت ۔
بہتر ہے اس وقت تھوڑا آرام کر لو ۔تمہاری سارے دن کی تھکاوٹ دور ہو جائے گی ۔ جہاں لکھنے کے لیئے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے وہاں ذہن کو تیار کرنے کے لیئے آرام کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !! نرم و گداز صاف ستھرے بستر پر دراز ہوا ہی تھا کہ آنکھیں بند ہونا شروع ہو گئیں ۔کچھ ہی دیر میں نیند کی دیوی نے اپنی آغوش میں لے کر ایسی لوریاں سنائیں کہ رات دس بجے کے قریب آنکھ کھلی۔ بستر کے قریب تپائی پر لائٹر موجود تھا ۔اس کی روشنی میں لالٹین تک جانا چاہتا تھا ۔ دیوار کے ساتھ چلتے چلتے اچانک ہاتھ ایک بٹن پہ لگ گیا اور بجلی کا قمقمہ روشن ہو گیا ۔ میری سانسیں اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئیں ۔میرے بستر پہ دراز ہوتے ہی بجلی کی رو کہاں سے آ گئی ؟ حالانکہ دوپہر میں نے کئی بار بٹن اوپر نیچے دبا کر دیکھے تھے ۔ یقینا میں کسی جادوائی مقام پر پہنچ چکا ہوں ،ڈرائنگ روم میں بٹن آن کیا وہ بھی چل رہا تھا ۔ غسل خانے میں بھی تجربہ کرکے دیکھ لیا حتکہ گرم پانی کرنے والا گیزر تک سرخ نشان کی نشاندہی کر رہا تھا ۔ یا الہی یہ ماجرا کیا ہے ، باورچی خانے میں فریج تک جھینگر جیسی آواز نکالے میرے خیالات کو مزید مشکوک بنا رہی تھی ۔ میز پر نظر پڑی تو کھڑکی کے راستے چھلانگ لگانے کو دل چاہا ۔ گرما گرم کھانے کی سوندھی سوندھی سی خوشبو نتھنوں میں رچی بسی جا رہی تھی ۔دروازے کو بار بار چیک کیا لیکن وہ برابر بند تھا ۔ آخر یہاں کون آیا ہے ؟ کب آیا اور کب گیا ؟ کھانا ابھی تک گرم ہے ۔کہیں من و سلوی کا حکم پھر سے چالو تو نہیں ہو گیا ۔ مجھے اس چاردیواری سے باہر نکلنا ہے ۔
ہاں سنایئے ادیب محترم ، تھکاوٹ اتری یا نہیں ؟
یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے ، میں ایسے ماحول میں کیسے لکھ سکتا ہوں جو میرے لئے معمہ بنا ہوا ہے ۔ تم ہی انصاف کرو کوئی رہ سکتا ہے ایسی جگہ پر جو اس کے لئے سوہان روح بنی ہوئی ہو ۔ میں باز آیا ایسی تنہائی سے جو میرے دماغ پر ہتھوڑے برسا کر میرے خیالات کو منتشر کرئے ۔
دیکھو کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے ، پہلے اپنی بھوک مٹاو ، سچ بتاو تمہارے پیٹ میں چوہے نہیں ناچ رہے ۔۔۔۔ ہاں یہ بات درست ہے ، بھوک مجھے ضرور لگی ہوئی ہے لیکن ۔۔۔۔ پھر کیا سوچ رہے ہو ، ہاتھ منہ دھو کر ٹوٹ پڑو کھانے پر ، تھوڑی بہت سوکھی لکڑیوں کے ٹکڑے اس بجھتی راکھ پر اور جوڑ دوتاکہ سردی سے محفوظ رہو ۔۔۔۔ یہ لو رکھ دیں لکڑیاں ، دھو چکا ہاتھ منہ اور تمہارے کہنے پر پیٹ کا دوزخ بھی میں نے اچھی طرح بھر لیا ہے۔ اب بتاو اور کیا کروں ۔ مجھے علم ہے تم یہاں لا کر مجھ پر حکومت کرنا چاہتی ہو ۔، حکم چلا کر ضرور مجھ سے کوئی ایسی تحریر نوک قلم سے اخذ کرا لو گی جو دنیا کو دکھا کر یہ باور کروا سکو کہ تنہائی میں لکھی ہر کہانی انوکھی ہوا کرتی ہے ، لیکن یہ تمہاری مرضی کی کہانی ہو گی ، میری آزادانہ سوچ کا اس میں کوئی عمل دخل نہ ہو گا ۔ پہلے میں یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ میں کہاں ہوں ، پھر برقی رو کہاں سے آ گئی ، اب گرما گرم کھانا کس راستے یہاںتک پہنچا ہے ، یہ سب کچھ معمہ بنا ہوا ہے میرے لیئے ۔ ہر معاملہ میری سوچ سے باہر ہے ۔ میں مفلوج ہونا نہیں چاہتا ۔ حقیقت سے قریب تر کہانیوں کو جنم دینے والے ڈراونی کہانیاں کیسے لکھ سکتے ہیں ۔ قلم میں پختگی کی بجائے ارتعاش برپا ہو جائے یہ کہاں کا انصاف ہے ۔
اپنے سامنے دیکھو ، ہاں ہاں سامنے انگیٹھی میں دہکتے ہوئے انگاروں پہ نظر دوڑاو ، تمہارا محبوب تمہارے پاس نہیں اور تم تن تنہا اس جگہ پر آج اکیلے ہو ۔ محبوب کی یاد ستانے لگتی ہے دماغ میں ایک ہلچل سی مچ گئی ہے ، تمہارے دماغی خلیوں میں مدھم سی تصویرکا خاکہ ابھرتا ہے ، کہو خاکہ بنا یا نہیں ، ہاں ہاں بتاو ، شرم کی کیا بات ہے ۔۔۔۔۔۔ ہاں ہلکا سا عکس دکھائی دے رہا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس عکس کو منعکس کرکے قدرے اور پھیلاو ، سناو کیسے رنگ دکھائی دے رہے ہیں ۔
ہاں سب رنگ اپنی جگہ بنتے جا رہے ہیں ، قوس قزح جیسے ۔۔ !! بس یہی بات تھی ، تم بالکل ٹھیک کہتی ہو ، باہر بارش شروع ہو چکی ہے ، گردوں پر بادل منڈھلاتے پھر رہے ہیں ، دور دراز کی مسافت طے کرکے آئے بادل ایک دوسرے کے گلے مل رہے ہیں ۔ ان کے ملنے کا والہانہ انداز گن گرج پیدا کر رہا ہے ، بغلگیر ہوتے ہی ان کی آنکھوں سے انمول موتیوں کی جھڑی بہنا شروع ہو جاتی ہے اور زمین تک آتے آتے جو آواز یہ پیدا کرتے ہیں اس میں کھو کر میرا قلم محرک ہونے لگا ہے ، آمد نے اپنا قبضہ جما لیا ہے ، اب تم بھی چپکے سے سنتی جاو ، غزل مکمل ہونے تک کچھ بھی مجھ سے پوچھنا نہیں ۔۔۔۔ !!
اک انتہا سی کی ہے ، ہم نے پیار میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ داستاں لکھی ہے ، خزاں کی بہار میں
پتوں پہ نام لکھ کر نذر خزاں کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہاں ڈھونڈھتے ہو مژدا دل داغدار میں
برسوں سے جی رہے ہیں ہم اس امید پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شائد کوئی لے چلے گا کوئے یار میں
نقش پا مٹے ہیں راہوں کی دھول میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رستے بھی کھو گئے ہیں اجڑے دیار میں
سزائیں مل رہی ہیں ، اپنی ہی بھول پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاد ارزاں ہو گیا ، ہر اک بازار میں
واہ کیا کہنے ، یہ ہوئی ناں بات ، دیکھا باہر کی آگ سے اندر کی آگ کے شعلوں کی تپش کتنی زیادہ تھی ۔ خوامخواہ ڈر رہے تھے ، سب کچھ تمہارے پاس تھا ۔ چھیڑو ایک آدھ اور داستان ۔۔۔
نہیں اب نہیں ، رات بہت بیت چکی ہے ، تمہیں سب خبر ہے کہ ایک شعر کے بدلے کتنی بار خون جگر کی حرکات و سکنات اوپر نیچے ہوتی ہیں تب جا کے غزل تیار ہوتی ہے ۔ اب مجھے نیند آ جائے گی ۔ میں نے اپنی تڑپ غزل میں سمو دی ہے اور دل کے نہاں خانے میں اک سکون اور ٹھراو پیدا ہو گیا ہے ۔ ہاں سکون مل گیا ہے مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ !!
لو دیکھ لو ادیب و شاعر کی حالت، ہاتھ میں قلم تھامے، میز پر گردن ٹکائے لمبی تان گیا ہے ، جب بھی اس کی آنکھ کھلے گی پھر سے لکھنا شروع کر دے گا ، آزاد پرندے کو زنداں میں مقید کر دیا جائے تو اس کے ابتدائی لمحات بڑے جان لیوا ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے پروں کو پھیلا کر اڑنے کی کوشش میں اپنا سر تک زخمی کر لیتا ہے لیکن جب ساری تدابیر کارگر نہیں ہو پاتیں پھر کہیں جا کے وہ خود کو اس ماحول میں ڈھالتا ہے ۔اب اسے سونے دو ۔ نیند کی دیوی جب مہربان ہوتی ہے تو یہ کانٹوں پہ بھی آ جاتی ہے ۔ جو تخلیق کار ہوتے ہیں وہ اپنی تخلیق کی مہکار میں کھو کر سکون پاتے ہیں ۔ ان کے اندر سمندر کی طوفانی لہروں سے بڑھ کر تلاطم بپا ہوتا ہے ۔ جب تک وہ سب لہروں کو ساحل تک لا کریکجا نہ کر لیں نیند نہیں آتی ۔ دیکھا کس شان سے سو رہا ہے ، سونے دیں ۔ لو اور دیکھ لو ، کروٹ بدلتے ہی وہ پھر اٹھ گیا ہے اور نپے تلے قدموں سے بستر کی جانب چل دیا ہے، اب ساری رات بسترپہ کروٹیں بدلتے گذر جائے گی ۔ خوابوں میں بھی اشعار کا وزن کرتا رہے گا ۔ الفاظ کے تانے بانے بنتا رہے گا ۔ ایک لمبی آہ بھری اس نے اور بر لب زبان کچھ کہا بھی لیکن سنائی نہیں دیا ، شائد کسی مشاعرے میں پنا کلام سنا رہا ہے اور لوگوں نے خاصا دھیان نہیں دیا اس لیئے لمبی آہ بھری ہے یا یہ بھی ممکن کہ لوگوں نے واہ واہ کہہ کے مکرر مکرر کی آواز لگائی ہو اور شاعر شکریہ شکریہ کہہ کر پھر سے شعر دھرا رہا ہو ۔ آپ دیکھتے جایئے کیا ہو رہا ہے اور مزید کیا ہونے والا ہے ´ اس ہلکی پھلکی محفل کے بعد اب یہ خود کو لکھنو کے مشاعرے کے لیئے تیار کر رہا ہے ۔ چوڑی دار پاجامہ صاف ستھرا دودھ کی سپیدی جیسا ، کھلے گلے کا کرتہ پاوں میں سلیم شاہی اور ہلکے بادامی رنگ کی شیروانی تن زیب کیئے چلے جا رہے ہیں ۔ کونے والی دکان سے پان لے کر منہ میں رکھ لیا ہے اور گلوری کے مزے لیتے ہوئے ابھی دو قدم چلے ہی تھے کہ نیند نے ساتھ چھوڑ دیا ۔ آنکھیں بہت بھینچیں لیکن مشاعرے کے نظارے ختم ہو چکے تھے ۔
یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے ، میںپھر سے تنہا ہوں ، اتنی تنہائی ، کیا کروں گا اس تنہائی کا جو میرے ہی گلے آن لگی ہے ۔پانی کا قطرہ قطرہ ایک ہی ڈگر پر گرتا جا رہا تھا ، یہ آواز اگرچہ اسے اچھی نہیں لگتی پھر بھی تنہائی کو توڑنے کے لیئے کافی تھی ۔ رات دیر تک میں لکھتا رہا ہوں پانی کے قطرے گرنے کی آواز تک نہیں اائی پھر یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے ۔ میں نے پانی کے نل کو ہاتھ تک نہیں لگایا ، دیکھوں تو یہ کیسے ہو گیا ہے سب کچھ ۔ ڈرائنگ روم کی میز ناشتے کے تمام لوازمات سے بھری پڑی تھی ۔ ہر ایک دروازہ کھول کے جھانکا ، جائزہ لیا لیکن کوئی بھی نظر نہیں آیا ۔پانی کے نل کو بند کیا تو قطرے گرنے کی ااواز ساکت ہو گئی ۔ انڈہ فرائی ، چائے گرما گرم ، ہلکے ہلکے سرخ توس پانی کا گلاس ۔۔۔۔۔ ہاں چوری پکڑی گئی ، تازہ پانی کا گلاس کوئی نل کھول کے ادھر رکھ گیا ہے ۔ بیرونی دروازے کو کھولنا چاہا لیکن اسے بند پا کر اپنا ماتھا پھوڑنے کو دل چاہا۔ با دل نخواستہ ناشتہ زہر مار کیا ۔ ناشتے کی بناوٹ اور سجاوٹ سب کچھ مشرقی اسلوب تھا ۔چائے کا زائقہ تک جیسا جانا پہچانا تھا۔ ٹی وی آن کیا تو پروگرام دھڑا دھڑ چل رہے تھے ، پھر سے آف کر دیا ۔ سب کچھ مہیا تھا لیکن کل سے کسی نے فون تک نہیں کیا ۔ ہر طرف فون کو تلاش کیا لیکن ندارد ۔ ایک دیوار میں فون کے کنکشن کا شو ضرور لگا ہوا تھا لیکن ریسیور کہاں ہے ؟ گھر کا کونہ کونہ چھان مارا لیکن فون ہوتا تو ملتا ناں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !! کیا سوچ رہے ہو شاعر محترم ؟
اچھا تو یہ تم ہو ، آج الفاظ بھی بدل لیئے ، پہلے ادیب محترم کہہ کے پکارا اور ابھی شاعر محترم ۔۔۔
اس جگہ پہ تمہاری پہلی تخلیق ایک غزل ہے ، شاعر محترم نہ کہوں تو اور کیا کہوں ۔ اگر ادیب محترم کے خواہاں ہو تو اس نام کی لاج رکھنے کے لیئے اس شعبے میں بھی کارہائے نمایاں دکھا دو ۔
ویسے بہتری اسی میں ہے کہ اب تم میرا پیچھا چھوڑ دو اور مجھے اپنے چنگل سے آزاد کر دو ۔
تمہیں خبر ہے آزادی کب ملتی ہے ۔ کبھی بھی نہیں، انسان پیدا ہوتے ہی خواہشات کا غلام بن جاتا ہے ، ایک کے بعد ایک خواہش جنم لیتی ہے اور انسان ان میں کھو جاتا ہے ۔ اس دنیا میں آزادی نام کی کوئی چیز نہیں ۔ لوگ انتخابات میں حصہ لے کر خود کو آزادی کے علمبردار ظاہر کرتے ہیں ، سب دکھاوا ہے ، ووٹ دے کر جن کا چناو کیا وہی ان سب پہ حکومت کرتے ہیں ۔ آزادی ہے کہاں ؟ تم بتاو آخر پڑھے لکھے ہو ، ہر اونچ نیچ کو بہتر سمجھتے ہو ۔ خواتین پردے سے باہر آ کر خود کو آزاد محسوس کر رہی ہیں ، کیا یہ آزاد ہیں ؟ ہرگز نہیں بلکہ انہوں نے اپنے پاوں پہ خود کلہاڑی کے مہلک وار کر لیئے ہیں ، دفتروں میں کام ، گھر میں کام ۔ ان پہ حکم چلانے والے اب ہر طرف ہیں ، آزادی کہاں ملی ۔ بچہ پیدا کیا تو اس کی پرورش ، پھر جوان ہوا تو اس کی شادی ، پھر اولاد کے ہاں اولاد ہوئی تو اس کو پھر سے سنبھالو ، تم خود سوچو کون آزاد ہے یہاں پر ؟ حالات اتنی تیزی سے بدل چکے ہیں کہ ایک لمحہ جس نے ضائع کیا اسے دنیا بہت پیچھے چھوڑ جاتی ہے ۔ ہے نان ہمارے سروں پہ مسلط دنیا کی ترقی کا پہیہ اور یہ پہیہ ہمیشہ چلتا رہتا ہے ، رات دن کسی لمحے اسے آرام نہیں ، دنیا کے شور شرابے سے بالکل الگ ےھلگ تن تنہا جس مقام پر تم بیٹھے ہو ، یہاں سکون ہے ، آزادی ہے ، جو کچھ تم کہنا چاہو کہہ سکتے ہو ، تمہاری زبان بند کرنے والا کوئی نہ ہو گا ، جو کچھ تم لکھنا چاہو لکھ سکتے ہو،تمہارا قلم کوئی نہیں توڑے گا، چلو کرو ناشتہ ورنہ ٹھنڈا ہو جائے گا ۔
میں ناشتہ کرنے لگا ہوں توس پہ چھری سے مکھن لگا کر ، یہ مکھن لگانا آج میں نے پہلی بار ادھر ہی سے سیکھا ہے ۔ مکھن کے اوپر شہد بھی پھیلایا تو اس کی لذت میں اور اضافہ ہو چکا تھا ۔ چائے کی چسکی لیتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ ذہن میں جو کوفت ابھری تھی دھیرے دھیرے اختتام پذیر ہو رہی ہے ۔
آپ نے بہت اچھا ناشتہ بنایا ہے تنہائی صاحبہ !!
بڑے افسوس کی بات ہے تمہارے فقرے میں اپنائیت سرے سے مفقود تھی ، ذرا آپ کی بجائے تم کہہ دیتے تو فراخدلی اور بیباکی کا ثبوت دیتے اور یہ تنہائی صاحبہ کہہ کے کیوں پکارا ، بیگمات تنہائی میں بسر اوقات تھوڑی کرتی ہیں ، آئندہ مجھے ،، مس تنہائی ،، کہہ کے پکارو گے تو بہت خوشی ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھئی تمہاری خوشی میں ہماری خوشی ہے ہے ،، مس تنہائی ،، ۔۔۔۔۔ اچھا یہ بات ہے تو کھولو ذرا ڈرائنگ روم کی کھڑکی کے پٹ اور بیٹھ جاو نزدیکی صوفے پر ، کہو برف باری کیسی لگ رہی ہے ، اور وہ دیکھو برفیلی راہوں پہ چلتے ہوئی نازک اندام سی پرکشش حسین نظر آئی ۔۔۔۔۔ کہاں ہے ؟ مجھے دکھائی نہیں دی ۔۔۔ دیکھا تم ابھی تک خود کو تنہائی میں سمو نہیں سکے ۔۔ آخر ہو نان مر ذات ،، کبوتر با کبوتر باز با باز ،، ۔۔۔۔ اوہو تم بہت باتونی ہو ۔۔۔ یہ ڈھیر ساری باتیں مین اس لیئے بھی کر رہی ہوں کہ تمہاری اکیلے پن کی سوچ ختم ہو سکے ۔۔۔۔ اگر پہار کی چوٹی سے تمہیں کوئی ملنے آ جائے تو کھڑکی سے کے آنے کا انتظار نہیں کرو گے ۔ ۔۔۔۔۔۔ ہاں کیوں نہیں بلکہ میری نظریں ہر طرف اسے تلاش کر رہی ہیں ۔۔۔ واہ کیا بات ہے مس تنہائی تم تو بڑے کام کی چیز ہو ۔ برفیلی تہہوں پہ کوئی متحرک ہے ، نیچے کی جانب اٹھتے قدم ، میں دیکھ رہا ہوں ۔ یہ اس نے قلابیں بھرنی شروع کر دیں ، ۔۔ آہستہ ،، ۔۔ کہیں گر کر چوٹ نہ لگ جائے ۔ یہ کیا ایک جگہ کولھوں پہ ہاتھ رکھے جامد کیوں ہو گئی ہو ، چلتی رہو ، میں مجبور ہوں باہر سے دروازہ بند ہے ورنہ میں خود بڑی سرعت سے تمہاری جانب آ جاتا ۔۔۔ تمہارا دبلا پتلا شریرہ بدن مجے نظر آ رہا ہے ، ذرا چہرہ اوپر کرنا ، ماشا اللہ شم بد دور ،کیا حسن پایا ہے ۔ اس حسن پہکون نہ مر جائے گا ۔ اتنی پیاری غزالی آنکھیں ، جو ایک بار اٹھ جائیں تو غزل خود بخود تیار ہو جائے ، اس پہ ستم مژگاں کا اٹھتا ابھار بڑا ہی قاتلانہ ہے ، تم اٹھاو پلکوں کو تھوڑا اوپر ، وار کرو تیغ مژگاں سے ، میں قتل ہونا چاہتا ہوں ، تم پہ کوئی الزام نہیں آئے گا ، میں لکھ کے دینے کو تیار ہوں ، ہنسنا ذرا ، بس تھوڑا سا ، تبسم ہی بکھرا دو ، میں اصل میں تمہارے گالون کے ننھے منے سے گڑھوں میں بسنے کی تمنا کر بیٹھا ہوں ، تھرکتے گلابی ہونٹوں کی مسکان میں تھوڑی دیر کے لیئے مجھے چھپا لو کونج جیسی لمبی صراحی دار گردن پہ کالے تل کو چھو لوں تو برا مت منانا ۔ مجھے قرب لمس کی قربت کھائے جا رہی ہے ، کبھی ایسا موقع نہیں ملا کہ تم جیسے شاہکار سے قربت حاصل ہو سکے ۔ تمہارے لمبے بالوں کی خوبصورتی میں سورج کی کرنیں اضافہ کر سکتی ہیں ، ذرا انہیں شانوں پہ بکھرا کے دکھاو ۔ بہت پیارے ہیں تمہارے لمبے لمبے گھٹاوں جیسے بال ، اسی لیئے سورج نے اپنا منہ چھپا لیا ہے ۔ ہر طرف اندھیرا کیوں چھانے لگا ہے ، شائد تمہارے گھنے بالوں کا سایہ ہر سو پھیل گیا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاباش ادیب محترم ۔۔ تم نے تکیلاتی طور پر جو ڈھانچہ تشکیل دیا ہے ، اس پر میں بہت خوش ہوں ، تمہارا رات کا کھانا باورچی خانے مین موجود ہے ، تمہیں خبر ہے کہ سارا دن تم اس کھرکی میں گزار چکے ہو ۔
یعنی میری دوسری رات بھی یہاں گذرنے والی ہے ، اچھا لگ رہا تھا ، بلکہ بہت اچھا لگ رہا تھا اگر وقت ایک جگہ تھم جاتا ، بالکل جامد ہو جاتا ۔۔۔۔۔ !!
نہیں یہ تمہارے بس کی بات نہیں ، وقت چلتا رہتا ہے ، اس میں تغیر نا ممکن ہے ، اگر وقت رک جائے تو تمام حساب کتاب ایکدم بند ہو جائین گے ، قانون قدرت میں دخل اندازی کبھی نہ کرنا ، تم ایسے کرو آگ جلاو تا کہ یخ بستہ سردی سے بچاو ہو جائے ۔ کھانا جلدی جلدی کھا لو اور بیرونی دروازے پہ نطر رکھنا کوئی تمہیں ملنے آئے گا ، سنو دروازے پہ ہلکی سی آہٹ پہ بھی اپنی سماعت کے دریچوں کو وا رکھنا کیونکہ اگر تم استقبالیہ بروقت نہ دے سکے تو آنے والے کا دل ٹوٹ جائے گا ۔
سچ کوئی مجھے ملنے آ رہا ہے ۔بڑی اچھی بات ہے مس تنہائی ، یہ لو میں نے آگ جلا دی ہے ، رہا کھانا تو وہ بھی کھا رہا ہوں ۔ میں نے ابھی سے دروازے کی جانب اپنی نظریں مرکوز کر دی ہیں اور اسی لگن مین ایک لقمہ میرے منہ کی بجائے تھوڑی سے مس ہو گیاہے ، کوئی فرق نہین پڑتا ، میں نے اسے ہاتھ سے ہی صاف کر لیا ہے ۔میں پورے طور پر تیار ہوں ، آنے والا مہمان اللہ کی رحمت ہوتی ہے ، میں بے حد خوش ہوں ، میں ساری رات اسی لگن میںبارگائے الہی میں دعائین مانگتا رہوں گا کیونکہ صدق دل سے مانگی دعائیں قبول ہو جاتی ہیں ۔ رب کریم بہت قریب ہو کر اپنے بندے کی آواز سنتا ہے میرے لیئے شب برات ہے ، کوئی آئے اور میں سو جاوں یہ آنے والے کی کماحقہ عزت نہ ہوئی ۔ میں اس شرمندگی سے بچنا چاہتا ہوں ، لو میں نے دعائین مانگنی شروع کر دی ہیں، ایک کے بعد دوسری اور اسی طرح سب کی سب دعائیں میں پڑھ چکا ہوں لیکن ۔۔۔۔۔۔
لیکن کیا آنکھیں تو کھولو ، جب رحمت کا وقت قریب تھا تم سو چکے تھے ، تمہارے عشق میں ابھی تک پختگی نہیں آئی ۔ حقیقی عشق جذت دنیا اور نفس پہ قابوپاکر کیا جاتا ہے ، تم نے لذت دنیا کے انمول تحفے نہ صرف چکھے ، بلکہ خوب پیٹ بھر کر تناول کیئے ، جب لذت دنیا تم سے ترک نہیں ہو سکی پھر نیند تم سے جدا کےسے رہ سکتی ےھی ۔ یہ موقع تم نے ہاتھ سے گنوا دیا ، ابھی زندگی رہی تو اگلے سال پھر یہ وقت آئے گا۔ دیکھا وقت کو تم روک نہیں سکتے یہ قانون قدرت ہے ۔تمہارا ناشتہ تمہارے سامنے موجود ہے تناول کرو ۔ ۔۔۔۔۔۔ نہین مجھے کچھ نہیں کھانا ، مجھے بھوک نہین ۔۔۔۔ !!
اللہ پاک کی نعمتوں کو تم جھٹلا نہین سکتے ، بھوک ہرتال کرکے مر جانا خود کشی ہے اور خود کشی حرام ہے ، اللہ تعالی نے بدن دیا ، جان دی ، سانسین دین اور زنددگی کی رمق تمہارے بدن میں محرک ہے ۔ وہ سب سے بڑا تخلیق کار ہے ، اس نے انسانی تخلیق کی اور فرشتوں کو حکم ہوا کہ سجدہ کریں لیکن ابلیس نے انکار کر دیا اور وہ راندھا گیا درگاہے الہی سے ، اللہ پاک کی تخلیق سے انکار کرنے پر اتنی سزا اگر ملتی ہے تو اللہ تعالی کی تخلیق کو مٹانے والے کی سزا کیا ہو گی اور وہ بھی اپنے ہاتھوں سے۔ ذرا سوچو ، غور کرو ، کیا کہہ رہے تھے تم ؟ کرو ناشتہ اور اپنے بیڈ روم کی کھڑکی تو کھولو ، دیکھو تو وہاں کیا نظارے ہیں ۔
اچھا یہ بات ہے ، لو کر لیا ناشتہ ۔ اب میں نے کھڑکی بھی کھول لی ہے ۔ سمندر ہی سمندر حد نگاہ نظر آ رہا ہے ، اور کیا نظر آئے نیلا آسمان ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر ہر بار مجھے ہی بتانا ہے تو سن لو اس دنیا میں تین ھصے پانی ہے یعنی سمندر اور ایک حصہ کرہ ارض ہے ۔ بحر بیکراں کی وسعت سے کیسے انکار ہو سکتا ہے ۔ اس کی گہرائی مین چھپے انمول موتی بے شمار ہیں ، لامتناہی آبی مخلوق مین رنگینیاں شامل ہیں ، دیکھو رنگ برنگی مچھلیوں میں ایک جل پری بھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جل پری ۔۔۔ ہان ہاں نام توسنا ہے لیکن ابھی تک دیکھ نہیں پایا ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ اپنی اانکھوں کو وا رکھنا ، یہ چند لمحوں کے لیئے پانی سے باہر آتی ہے اور پھر اپنی دنیا میں واپس چلی جاتی ہے ۔ اب تم یہ بھی پوچھو گے کہ یہ کیوں آتی ہے تو سن لو ، اس بات میں کہیں جھول نہ رہ جائے ، اس کے مرد کو کسی نے ساحل پہ عین اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا جب وہ چاندنی رات میں ایک دوسرے سے پیار کر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑے افسوس کی بات ہے اکیلی رہ گئی ہے بے چاری ۔۔۔۔۔ اپنی یاد تازہ کرنے اسی مقام پہ آتی ہے اور جب کچھ مل نہیں پاتا تو اس کی مایوسی بڑھ جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ واپسی جانے کی رنگت مجھے دیکھنی ہے ۔ آج ہے بھی چودحویں کا چاند ، میں آنکھ تک نہیں جھپکوں گا ۔ ۔۔۔۔ لہریں آتی رہیں موج در موج ایک دوسرے کے گلے مل کر ساحل سے ٹکراتی رہیں اور شور بپا ہوتا رہا ، اس شور کی سر تان انتہائی خوابیدہ تھی ۔ کیا مجال کوئی سر ٹوٹ جائے ۔۔ میں سمندر کی فراخدلی میں مکمل طور پر اپنے آپ کو گم کر چکا تھا ۔ جوں جوں نچلی سطح پہ گیا ، میں نے رنگ برنگی مچھلیان دیکھیں ۔۔ ہر طرف اچھلتی کودتی چھوٹی بڑی آبی مخلوق کی مصروفیات عجب تھیں ، جس طرح کی رنگت ویسا ہی مسکن ، ہر کوئی محرک تھا ۔ بند سیپیاں اپنے اندر انمول موتی چھپائے پانی کی گہرائی میں خوش و خرم تھیں ۔ مجھے انتہائی خوشی محسوس ہو رہی تھی کہ تنہائی کا بندھن توڑ کر مین اس حصار سے نکل آیا تھا ۔مجھے بھی پر لگ گئے تھے ، میں اپنی اس تبدیلی پر شادمانی محسوس کر رہا تھا ، پورا سمندر چھان ماروں گا لیکن جل پری دیکھے بغیر نہ جاوں گا ۔ میں بڑی پھرتی دکھا رہا تھا اور سامنے جو دیکھا ایک شارک مچھلی اپنا جبڑا کھولے میری ہی جانب آ رہی تھی ، بڑی مشکل سے جان بچائی ۔
۔۔۔۔۔ جان تو بچ گئی لیکن میرا ایک پر شدید زخمی ہو گیا ۔ میں نے اسی میں بہتری جانی کہ باہر ساحل پہ انتظار کرتا ہوں ۔ جونہی باہر آیا تو چاند کی چاندنی جوبن پر تھی ۔ میری تخیلاتی مہم کا تاج محل مسمار ہو کے رہ گیا جب مجھے یہ محسوس ہوا کہ میرے بازو میں سردی کی بنا پر شدید درد ہو رہا ہے جو رات بھر کھلی کھڑکیسے باہر رہا ، میں نے آنکھیں ملتے ملتے کھڑکی سے ہٹنا چاہا تو آواز ابھری ۔۔۔۔۔۔۔ بس اتنی ہی ہمت تھی ، بھول گئے ناں سب کچھ ، تم شارک سے برسر پیکار تھے اور جل پری ساحل پہ آ کے واپس چلی گئی ۔اگر تیر اندازاوں کو کسی درے کی حفاظت پہ مامور کیا جائے تو ان کو وہیں کھڑا رہنا چاہیئے ۔ نہ من مانی تم کرتے اور نہ ہی ایسا ہوتا ۔ ۔ لو آج کا وقت بھی تمہارے ہاتھ سے نکل گیا ، اب کل تک کے لیئے پھر سے انتظار کی اذیت جھیلو شائد کچھ حصل ہو جائے ، اس زندگی کا کیا بھروسہ ، کل تک وفا کرئے نہ کرئے ،، وقت کے ساتھ ساتھ چلنے والے کے لیئے بھلائی ہے ،، مبارک ہو تم بہتر گھنٹے پورے کر چکے ہو ۔ سبح کاذب ہو چکی ، تھوڑا آرام کر لو ۔ تم جل پری دیکھنے میں اتنے محو ہو چکے تھے کہ دوپہر اور رات کا کھانا تک بھول گئے ۔ اللہ تعالی کی بنائی ہوئی چیزوں سے اگر تمہیں اتنا لگاو ہے تو پھر عشق حقیقی کو بھی صرف ایک بار دل سے لگا کے دیکھو ۔ دنیاوی عشق میں اگر لذت ملتی ہےتو حقیقی عشق میں اس سے کئی گنا زیادہ نظارے ہیں ، افادیت و بقا ہے ۔
میرے اندر ایک روشنی کا مدھم سا چراغ جل اٹھا ۔ گھپ اندھیروں کے لیئے ہلکی سی روشنی کافی ہوتی ہے ۔ اندھیروں میں کیا نظر آتا ہے سوائے اندھیروں کے لیکن روشنی میں ان گنت رنگ نظر آنے لگتے ہیں ۔ پھل لگنے سے پہلے شاخوں پہ رنگ برنگے پھول نکل آتے ہیں اور پھول خود کو پھلوں میں ڈھال لیتے ہیں ، ایک کا وجود ختم ہوا تو دوسرا معرض وجود میںآ گیا ۔ دوسرے وجود نے شاخوں سے خوراک لی اور شاخیں تنے سے طاقت مانگنے لگیں ۔ تنے نے زمین میںپیوست جڑوں سے خوراک لے کر پھلوں کو پالا ، جوں جوں پھل جوان ہوتے گئےان کا وزن بڑھتا گیا ۔ وزن بڑھنے سے شجر جھکتا گیا ۔ درخت کا جھکنا اس کی عاجزی ہے اور جو جھک جائے وہ ٹوٹتا نہیں ، اس میں لچک آ جاتی ہے ۔ اکڑے ہوئے درخت ہواوں کے تیز جھونکوں سے ٹوٹ جاتے ہیں جھک جانا سب سے افضل ہے ، بنا جھکے سجدہ بھی کہاں ہوتا ہے اور جو سجدہ نہین کر سکتا اس کا عشق حقیقی سے کیا تعلق ۔ دنیاوی عشق میں اگر کھانا بھول جاتا ہے تو عشق حقیقی میں شائد بدن تک کی خبر نہ رہے ۔دیوانہ وار صحرا میں گھومنے والے کا عشق کیا تھا ۔ انا الحق کہہ کر سولی چڑھ جانے والے منصور کی داستان عشق حقیقت میں داخل ہو چکی تھی اسی لیئے اسے دنیا کی کوئی پرواہ نہ تھی ۔ وہ انا الحق پکارتا رہا اور دنیا والے کچھ اور سمجھتے رہئے ۔ حقیقت تک پہنچنے کے لیئے طریقت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ، جب تک طریقہ اور سلیقہ نہ آ جائے حقیقت میں داخل ہونا مشکل ہو جاتا ہے ۔ طریقہ و سلیقہ قادر مطلق کی بنائی ہوئی ہر چیز سے مل جاتا ہے ۔ چیونٹی کو ہی دیکھ لیں وہ بھی قطار اندر قطار اپنی بساط کے مطابق خوراک لے کر ساری زندگی کے سفر پر رہتی ہے ۔ قطار بنانے کا سلیقہ اے حضرت انسان چیونٹی سے ہی سیکھ لے ۔ قطار سبر سے بنتی ہے اور جس نے صبر کرنا سیکھلیا اس نے صبر کا طریقہ سیکھ لیا ۔ کیا اتنا کافی نہیں کہ کسی ایک چیز سے سیکھ لیا جائے ۔ بار بار ہر چیز کو آزمانے والا خسارے میں رہتا ہے ۔ اس کا وقت ضائع ہو جاتا ہے اور وقت کی ایک ایک گھڑی ہر لمحہ منزل کی امانت ہوتا ہے ، منزل تک پہنچنا ہے تو وقت ضائع مت کریں ۔
بہت اچھی سوچ ہے تمہاری اب اٹھ جاو ، دوپہر کا کھانا تیار ہے ۔تم سوچتے کم ہو اور سوتے زیادہ ہو ، تمہین نیند بہت پیاری ہے ۔ ۔۔۔۔۔ میں سویا کب ہوں ،، مس تنہائی ،، ۔۔۔۔۔۔۔ بستر سے اٹھیں گے پھر پتہ چلے گا ااپ کہاں تھے ؟ ۔۔۔۔۔ اوہ میرے خدایا ،سارا بدن درد کر رہا ہے ۔ ۔۔۔۔ اسی لیئے کہہ رہی ہون اٹھ جاو ۔ شیو بناو ، خوب گرم پانی سے غسل کرو ، کپڑے نئے تن زیب کرکے خوشبو لگاو ۔ تمہاری تنہائیاں ختم ہونے کو ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔ لیکن میں اب خوش ہوں اس تنہائی میں ۔۔۔ تم خوش نہیں ہو ، مجھے سب پتہ ہے ، ااو مین تنہائی میں رہنے والون کے چہرے دکھاوں ۔ یہ دیکھو مجنون ۔ ہاں ہاں وہی قیس جو آج مجنوں ہے، دیکھ رہے ہو لق و دق صحراوں میں گھومتا پھرتا تن تنہا ، پھٹے کپڑے ، دنیا و مافیہا سے بالکل بے خبر اپنی ہی لگن میں چلا جا رہا ہے ۔ لو اس نے کسی نمازی کی نماز میں خلل ڈال دیا ، وہ طریقوں اور سلیقوں سے کہیں اگلی منزل میں جا چکا ہے ۔ نمازی نے سلام پھیر کر اس سے سوال کیا ہے کہ اسے کیوں نظر نہیں آیا کہ کوئی نماز ادا کر رہا ہے ۔ مجنوں کیا جواب دے رہا تھا ،،، معاف کرنا میں خدا کی بنائی مخلوق کے عشق میں اتنا محو تھا کہ مجھے کچھ نظر نہیں آیا اور ایک آپ ہیں کہ خدا کی مناز میں مصروف ہیں آپ کو میں کیسے نظر آ گیا ۔۔۔۔۔ آو اور آگے یہ سب ہڈیوں کے ڈھانچے خدا کی یاد میں مست ہیں ، جنہیں کھانا پینا یاد نہیں ۔ ان ہستیوں نے تنہائی سے پورا پورا فائدہ اٹھایا ہے ۔ تم تنہائی میں کیسے رہ سکتے ہو جس کے دنیا میں ہزار دھندے ہیں ۔۔۔۔۔ !!
تمہارا مطلب ہے دنیا سے کٹ جاوں ، کوئی اور کام نہ کروں ، بس ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھ جاوں دھرنا مار کر، یہ بات بھی درست نہیں لگتی ۔ دنیا میں رہ کر جو اللہ اور اس کے رسول کے احکامات جبا لایا وہی انسانیت کے راستے پر چل سکتا ہے ۔ خود کو جنگلوں میں تنہا رکھ کر انسانیت کی خدمت کہاں ہو سکتی ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔ تم نے بالکل درست کہا، اسی لیئے میں کہتی ہوں کہ تنہائی میں رہنے والوں سے سبق لو اور رات کے اس حصے میں اللہ تعالی کو یاد ضرور کرنا جب تمہیں تنہائی میسر ہو ۔۔۔۔۔۔ یہاں ۰۸ گھنٹے تمہارے ساتھ میں نے گذار دیئے ہیں ، اب جا کے تمہیں خیال آیا کہ میں اپنی دنیا میں لوٹ جاوں ۔۔ مس تنہائی اب میرا وجود تمہیں برداشت کرنے لگا ہے ۔۔۔۔۔۔ چلو اٹھو کھانا کھا لو پھر تمہارے ساتھ مزید گفت و شنید ہو گی ۔۔۔۔ لو کھانا میں کھا چکا ، بہت لذیذ تھا ۔۔ یہ بتاو کھانا یہاں کون رکھ جاتا ہے ۔۔۔۔۔ دیکھا گندم کا رنگ ، پیٹ میں گئی نہیں اور نظارے روبرو ۔۔ تمہیں یاد ہے حضرت آدم جنت سے کیوں نکالے گئے ۔ یہ گندم موجب بنی تھی ، اسے کھاتے ہی بدنی قوت تیز ہو جاتی ہے ، خون کی گردش حرکت کرنے لگتی ہے ، وہ لوگ جو تنہائی میں عبادت کرنا چاہتے ہیں کم کھاتے ہیں اور شب بیداری میں بہت کچھ پا لیتے ہیں ۔
میں بھی شب بیداری کروں گا ۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے تمہاری اگر یہی خواہش ہے تو یہ بھی پوری کر لو ، لیکن فورا غسل کرو ، کپڑے نئے بدلو ، خوشبو لگاو اور بیٹھ جاو کسی جگہ پر اللہ کی یاد میں ۔۔۔۔ میں نے غسل خانے میں قدم رکھا ، غسل کرتے وقت غسل خانے کی خوبصورتی اور مختلف اقسام کے شمپو نظر آئے ۔ یہ سب سامان تعیش خواہشات کا منہ بولتا ثبوت ہی تو ہیں ۔ مختلف اقسام کے عطر ، ھیئر ڈریسرز ، سپرے ، غازے ، رنگ برنگی نیل پالش ، لپ اسٹکس ، سب بناوٹ ہی بناوٹ تھی ۔ ان تمام اشیا میں قدرتی رنگ نہیں تھا ۔ میں نے جلدی سے نئے کپڑے بدلے اور باہر آ گیا ۔ اپنے سراپے پہ نظر پڑی تو گذرے وقت کا خیال آ گیا ۔ خوامخواہ اتنا وقت ضائع کر بیٹھا ۔ ایک کونے میں آنکھیں بند کئے پڑھتا رہا ، خدا کو یاد کرتا رہا ۔ نصف شب کے لمحات میں میرے کانوں میں دروازہ کھلنے کی سرسراہٹ ہوئی ، سب کچھ بکھر گیا ۔ یہ کیا ہو رہا ہے ، کون ہے اس وقت جو میری تنہائی میں مخل ہونا چاہتا ہے ۔ قدموں کی آہٹ ڈرائنگ روم میں لگے میز کی جانب تھی ، کچھ برتن رکھنے کی آوازیں بھی سماعت سے ٹکرائیں ، میرے کان بجنے لگے ۔ ہاں کوئی ہے پکڑی گئی نا چوری ، میں نے بڑی سرعت سے ایک ہی جست میں جونہی بیڈ روم کا دروازہ کھولا تو ایک خوبصورت صنف نازک سےٹکراو ہو گیا ، سب کچھ چکنا چور ہو گیا ۔ چند ثانیئے ہم ایک دوسرے کو دیکھتے رہے ، پھر مین نے خاموشی توڑی ۔۔۔۔ جی آپ کون ہیں اور یہاں کیسے ؟ ۔۔۔۔۔ ڈنر میز پر لگ چکا ہے نوش فرما لیجیئے ۔۔۔۔ اس سے پہلے تین دن تک آپ میرے لیئے کھانا لاتی رہی ہیں ۔۔۔۔ اس وقت کی بات کرئیں ، ماضی میں کیا ہوا بھول جائیں ۔ ۔۔۔۔ آیئے پھر مل کر کھاتے ہیں ۔
جی میں کھا چکی ہوں البتہ جب تک آپ کھانا کھا نہیں لیتے میں آپ کے پاس ہوں ۔ ۔۔۔۔۔ مین کھانا کھاتا رہا اور وہ سوفے پر تشریف فرما تھی ۔ میری حالت غیر ہو رہی تھی ۔۔ یہ سب کیا ہو رہا ہے ۔ کیا مین کسی شیطانی ٹولے کے قبضے میں ہوں ۔ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ، لقمہ وہیں کا وہیں رہ گیا ، میرا بدن تھر تھر کانپنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔ سردی لگ رہی ہے ۔۔ میرا خیال ہے میں تمہیں جائے بنا دیتی ہوں ۔۔۔۔۔۔ وہ جائے بنانے میں مصروف ہو گئی اور میں نے مس تنہائی کو بہت آوازیں دیں ، لیکن اس کا دور دور تک کوئی پتہ نہ چل سکا ۔آجا کے میرے پاس جو کچھ تھا وہ سامنے تھا ۔ چائے کا گرم گرم کپ میز پرمیرے سامنے آ گیا اور پہلی چسکی میں ہی وہی لذت ۔ ہاں یہی ہے وہ جو پچھلے نوے گھنٹوں سے میری مہمانداری کر رہی ہیں ۔ میں مزید سوالات کرنا نہیں چاہتا تھا بلکہ اپنے کمرے میں جا کر یاد الہی میں مصروف ہونا چاہتا تھا ۔ میں نے معافی چاہتے ہوئے اپنے بیڈ روم تک جانے کی اجازت چاہی ۔۔۔۔۔ جی ہاں کیوں نہیں ضرور جایئے آپ کا اپنا گھر ہے ۔
بیڈ روم میں جا کر میں نے دروازہ بند کر لیا لیکن اندر سے چٹخنی نہیں لگائی اور پھر اپنے خیالات کو مجتمع کرکے یاد الہی میں گم ہو گیا لیکن وہ بات نہیں بن رہی تھی ، رہ رہ کے ایک سوال ذہن میں ابھرتا رہا کہ ،، یہ کون ہے ،، جو ابھی تک گئی نہیں ۔ میں نے دروازے کے سوراخ سے ڈرائنگ روم جھانکا تو وہ غسل خانے کی طرف جا رہی تھی ۔ میرا تجسس بتدریج بڑھتا چلا گیا کہ اب کیا ہونے والا ہے ۔ کچھ ہی لمحوں بعد وہ شب خوابی کے لباس میں غسل خانے سے گھٹاوں جیسے ریشمی بال جھٹکتے ہوئے باہر آ گئی ۔ میری پشیمانگی میں اضافہ ہونے لگا ۔ یہ سب کہیں خواب تو نہیں ۔۔ میں نے اپنے بدن پر چٹکی لی تو درد محسوس ہوا ۔ نہیں خواب نہیں سب حقیقت ہے ۔ برفیلی چوٹیوں سے اترنے والی وہی لڑکی تھی جو میں نے تنہائی کے کہنے پر ڈرائنگ روم کی کھڑکی کے پٹ کھول کر دیکھی تھی ۔ کیا اسے بھی میری طرح یہاں مقید کر دیا گیا ہے اور اگر یہ قیدی ہوتی پھر اتنی ہشاش بشاش نہ ہوتی ۔ وہ اپنے ساتھ لائے ہوئے بیگ کو کھول کر اس میں کچھ تلاش کر رہی تھی ۔ میں دیکھتا رہا اپنی سانسوں پہ کنٹرول کیئے ، آنکھ جھپکے بغیر میں اس نازک اندام کی حرکات و سکنات دیکھتا رہا کہ اور کیا ہونے والا ہے ۔ بیگ سے کریم کی ڈبیا اس نے نکالی اور ہاتھوں کو اچھی طرح ملنے لگی ، پھر اس نے ٹی وی آن کیا اور ہلکی آواز میں کوئی پروگرام دیکھتی جا رہی تھی ۔ کبھی کبھار اس کی ہنسی نکلتی تو اس کے گالوں میں ننھے منے گڑھے نمایاں ہو جاتے ۔ ہاں یہ وہی لڑکی ہے ۔ ۔۔۔ صبح کے تین بج چکے تھے ، اس نے ٹی وی بند کیا ، سونے کے لیئے سرخ قمقمہ جلایا اور صوفہ کم بیڈ پر دراز ہو گئی ۔ میں نے دروازے کے سوراخ کی جان چھوڑی اور اپنے بستر پہ آ گیا ۔ دونوں ہاتھوں کو سر کی پچھلی جانب رکھے چھت کو گھورے جا رہا تھا ۔ مکڑی کے جال کی مانند سوچیں اور الجھتی جا رہی تھیں ۔ ہر طرف خاموشی طاری ےجی ، اس لمحے مجھے ،، مس تنہائی ،، کی یاد ستائی تو اس کا چہرہ نظر آ گیا ۔
میں نے اسے آواز دی ، ادھر آو کا اشارہ بھی کیا ، مس تنہائی میری بات سنو ۔۔۔ لیکن وہ ہاتھ کے اشارے سے ناں ناں کرتی ہوئی مجھ سے دور جا رہی ےھی ۔ میں نے پھر سے درخواست کی کہ صرف ایک لمحے کے لئے میرے قریب آو ، اس نے جواب دیا کہ میں وہاں جاتی ہوں جہاں کوئی اور نہ ہو ۔ میں نے بہت کہا کہ وہ محترمہ دوسری کمرے میں ہے ، آ جاو ۔۔۔۔ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔ تم ایسے کرو اپنے بیڈ روم کی کھڑکی کھولو ، میں وہاں آ جاتی ہوں ۔۔ جو کچھ تم نے پوچھنا ہے پوچھ لینا ۔۔۔ میں نے فورا کھڑکی کے پٹ کھول دیئے اور پھر ہماری تکرار شروع ہو گئی ۔
مس تنہائی میں تمہیں پیار کر میٹھا ہوں ۔۔۔۔۔ ممکن ہے ایسا ہو ۔۔۔۔ ممکن نہیں بلکہ ایسا ہے اور میری درخوست ہے کہ مجھے وہان لے چلو جہاں کسی اور کا آنا جانا نہ ہو ۔۔
مجھے از حد افسوس ہے محترم شاعر و ادیب ،، تم تنہائی کے امتحان میں فیل ہو چکے ہو ،، تمہیں دنیا اور اس میں بسنے والے کردار زیادہ پسند ہیں اور تمہاری زیادہ تر تحاریر دنیا کی عکاسی کرتی ہیں ، جوں ہی تمہارے ظاہر اور باطن کا رنگ ایک جیسا ہوا تو میں خودبخود تمہارے پاس آ جاوں گی اور تمہارے لیئے کسی اچھی جگہ کا انتخاب بھی کر لوں گی ۔۔۔ قید با قلم کے لیئے تمہارے سو گھنٹے پورے ہو چکے ہیں ۔۔!! اللہ نگہبان ۔۔۔ میری آنکھیں کھل گئیں تو کھڑی کھلی تھی اور ساری رات کھلی رہنے کی وجہ سے زکام اور بخار نے گھیر لیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!
چوہدری محمد بشیر شاد ایتھنز یونان

ناولٹ ،، قید باقلم ،، بشیر شاد” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں