عبدالحمید قیصر

عادل فراز

آپ کا پورا نام ؟
والدین نے میرا نام عبدالحمید رکھا تھا. ماں جی بچپن میں پیار سے کوثر پکارا کرتی تھیں. سکول میں ساتویں آٹھویں میں پہنچ کر قیصر اچھا لگا تو نام کا حصہ بنا لیا. یعنی عبدالحمید قیصر. جب آگے چل کر بچوں کے لئے باضابطہ لکھنا شروع کیا تو قلمی نام حمید قیصر کے نام سے مقبول ہوا.

تعلیم ؟
میں دریائے سندھ کے کنارے خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے درمیان واقع الف لیلوی قصبہ کالاباغ میں 7 مارچ 1960ء کو پیدا ہوا. میرا تعلق بلوچوں کے رند قبیلے سے ھے.
گورنمنٹ ہائی سکول کالاباغ سے 1976ء میں میٹرک کرنے کے بعد کالاباغ سے 40 کلومیٹر دور گورنمنٹ کالج میانوالی میں 1977ء داخلہ لیا تھا مگر 6-7 ماہ بعد 1977ء کے عام انتخابات کے بعد سیاسی حالات کی خرابی نے ملک کے تعلیمی ادارے بند کرا دئیے. یوں میرا باضابطہ تعلیمی سلسلہ منقطع ہوگیا. بعد ازاں کالاباغ سے میرے خاندان نے راولپنڈی ہجرت کرلی. میں نے وہیں سے ایف اےاورپھر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے گریجویشن کیا.
میری غیرنصابی سرگرمیوں اور مشاغل کا سلسلہ سکول سے شروع ہوا. جس میں تیراکی. سکاوٹنگ. ماوءٹینرنگ. ہاکی. فٹبال. فری ہینڈ سکیچ اور کہانیاں لکھنا ہمارے ابتدائی مشاغل میں شامل تھےجو تنگئ اوقات کی وجہ سے گھٹ کر تیراکی اور پڑھنے لکھنے اور کیمپنگ تک محدور ہوکر رہ گئے.

میرا پسندیدہ رنگ ؟؟؟
زندگی کے سارے دھنک رنگ جو روز مرہ کی رکھی پھیکی زندگی کو خوش رنگ بناتے ہیں.
پھول ؟
“ہر پھول کی قسمت میں کہاں ناز عروساں
کچھ پھول تو کھلتے ہیں مزاروں کے لئے بھی”
خوشبو ؟
انسان کی خوشبو…کہہ ہر انسان کی خوشبو جدا ھے….
موسم ؟
وہ جو فلم “موسم” میں محسوس ہوتا ھے…
تہوار ؟
بچپن میں ساری عہدوں اچھی لگتی تھیں…سویوں والی عید کی تیاریاں مہینہ بھر رہتی تھیں. چاند رات سے کالاباغ کا مین بازار کھانے پینے اور مٹھائی کی دکانیں دلہنوں کی مانند سج جایا کرتی تھیں. عید کے بعد بھی ہفتوں رونق لگی رہتی….مگر وہ زمانے جانے کہاں لدھ گئے…خوشی کے ہر موقع پر گہری اداسی چاروں اور چھا جاتی ھے.
ساری عیدیں
پسندیدہ رشتہ ؟
ویسے تو سارے ہی رشتے آپکی ذاتی کوششوں کے مرہون منٹ ہوتے ہیں.اور ایک طرح کی ریاکاری پر مبنی ہیں. مگر والدین کا رشتہ ان غلاظتوں سے پاک وہ عظیم رشتہ ھے جس کا اس جہاں میں کوئی بدل نہیں….اور اگر والدین میں سے کوئی ایک وقت سے پہلے ساٹھ چھوڑ جائے تو باقی ماندہ زندگی یوں گزرتی ھے جیسے کوئی قیمتی شئے چھن گئی ہو….”ماں پیاری ماں
شادی ؟
والدہ کی 1974ء میں وفات کے بعد 19 سال کی عمر میں 1979 میں میری شادی کزن عنبرین سے کر دی گئی. اللہ نے مجھے دو بیٹیاں سعدیہ حمید. صائمہ حمید اور دو بیٹے عدنان حمید اور فرحان حمید سے نوازا. میں نے بچوں کی تعلیم و تربیت پر زیادہ توجہ دی. میرے کسی بھی بچےکی تعلیم ایم.اے سےکم نہیں.
خوشی اور حیرت اس بات پر ھے کہ میرے مشاغل بچوں نے ایک ایک کرکے اپنا لئے. بیٹی صائمہ کو فائن آرٹ کا شوق ھے. اسکی شادی ہوگئی اور وہ اپنے میاں اور دو بچوں کے ساتھ قطر میں مقیم ہیں. سعدیہ حمید لکھنے کا شوق ھے. بیٹا عدنان نیشنل مانومنٹ میوزیم اسلام آباد میں انٹرپریٹر ھے اور فرحان حمید ایک معروف ٹی وی چینل پر گرافکس ڈیزائنر ھے. میری مادری زبان سرائیکی ھے مگر میٹرک میں نصابی کتب مرقع اردو اور موقع ادب میں شامل اردو کہانیوں نے اردو زبان کی ایسی گھٹی پلائی کہ اردو سے جیون بھر کا رشتہ قائم ہوگیا. تاہم سب بچوں کو سرائیکی کے ساتھ ساتھ اردو اور انگریزی پر عبور ھے.

پسندیدہ گلوکار اور گانا ؟
پاکستان میں مہدی حسن اور میڈم نورجہاں….اور انکے سارے دوگانے مجھے بہت پسند ہیں..
پی ٹی وی کا پروگرام “الف اور نون” اور “ففٹی ففٹی” جیسا پروگرام پھر نہ نشر ہوسکتا…

کتابیں ؟
مجھے فکشن کی سبھی کتابیں بہت پسند ہیں…مگر وقت کی تنگ دامانی آج کل کتاب پڑھنے کا موقع کم کم دیتی ھے.

کھانا؟
کھانے میں بیف پلاو پسند ھے جبکہ ہوٹلوں کا کوئی بھی کھانا پسند نہیں..

میری پسندیدہ عادت؟
دوسروں کی مدد کرنا اور داد رسی کرنا مجھ میں inbuilt ھے اور میں اس پر اللہ کا شکرگزار ہوں…

اپنی بری عادت ؟
دوسروں کے ہر سچ و جھوٹ کا فوری یقین کر لینا بہت برا لگتا ھے…

محبت ؟
انسان کی محبت کسی ایک خانے میں نہیں رکھی جاسکتی. میری زندگی میں جتنے رشتے ہیں … میری محبت ان میں بٹی ھے. ایک ادیب اور فنکار کی زندگی احساسات و محسوسات سے عبارت ھے. وہ حسن پرست .. موسیقی .. شاعری اور دیگر فنون لطیفہ کا رسیا ہوتا ھے. وہ دل پھینک واقع ہوتا ھے…وہ تو ایک تتلی کی مانند ادھر سے ادھر اڑتا پڑھتا ھے…انواع و اقسام کی کہانیاں دھنیں اور تصویریں تراشتا پھرتا ھے…اس کی محبتیں بھی وقت کے ساتھ بدلتی اور تقسیم ہوتی رہتی ہیں…اسے کسی ایک کھونٹے سے باندھنے کی کوشش کرنا اسکے فن کو محدود کرنا اور اسکے ساتھ زیادتی ہوگا.اگر کسی انسان یا کسی گھرانے کو فنون لطیفہ سے متعلق کوئی شخصیت خوش نصیبی سے مل جائے تو اس کا ساتھ غنیمت جان کر انجوائے کرے… لیکن اسکے آگے رکاوٹیں کھڑی کرنے سے زندگی کے مسائل جنم لیتے ہیں…ہم دیکھتے ہیں منفی انسانی رویئے تمام مسائل کے پیچھے کارفرما ہوتے ہیں…میں جو اپنے آپ کو سمجھ پایا ہوں وہی بیان کر دیا ھے… ہاں میں نے بھی محبت کی ھے اور یہ جذبہ بھی میرے اندر inbuilt ھےم

ایک دن کی حکومت مل جائے تو ؟

ہاہاہاہا…بہت عمدہ سوال ھے…اگر ایسا ہوگیا تو سب سے پہلے میں قانون سازی کرکے ہر خاندان کو ایک گھر دوں گا. اور ہر بچے کے لئے تعلیم مفت اور لازمی ہوگی. ہر فرد کی صلاحیت کے مطابق اسے روزگار دونگا.کوئی فارغ نہیں رہے گا. زراعت کو مزید ترقی دینے کے لئے ہر فرد یا خاندان کو سرکاری غیر آباد زمینیں الاٹ کروں گا تاکہ ہر شخض ملکی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے. ملک میں مکمل مردم شماری کرکے تمام نظام حکومت اور ڈیٹا کمپیوٹرائیزڈ کردوں گا. پاکستان کی تمام سرحدوں کو سیل کرکے پڑوسی و دیگر ممالک کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کی بنیاد پر دوستانہ اور تجارتی تعلقات استوار کروں گا…. پتہ نہیں یہ ایک دن میں ہو سکےگا کہ نہیں…؟؟؟ یہ بالکل ایسا ہی ھے کہ جیسے میں ملک کا صدر نہیں بن سکتا اسی طرح یہ سب بھی نہیں ہو پا رہا…البتہ میں یہ سب کرنے کے لئے صدر ممنون حسین سے تو درخواست کرسکتا ہوں ناں…؟؟؟

فورم پر پسندیدہ شخصیت ؟
فورم پر پسندیدہ سینئر شخصیت جناب خاور نذیر قیصر ہیں اور ناپسندیدہ شخصیت وہ ہے…. جس نے ہماری دوستی کا جواب ہی نہیں دیا….اسی طرح نوجوان شخصیات میں سید تحسین گیلانی صاحب اچھے لگتے ہیں…اور نا پسند وہ خواتین و حضرات ہیں جو طالبعلم کے بجائے استاد بننے کی جستجو میں مگن ہیں اور اندر سے غبار کی مانند خالی….

فورم کا پسندیدہ سیکشن؟
صرف افسانہ فورم…باقی ثانوی ہیں…اچھے اور دلچسپ ہیں…انسان بور نہیں ہوتا….
فورم پر آمد کیسے ہوئی ؟
فورم کے حوالے سے پہلے پہل تفصیلات فیس بک پر دیکھیں..اور خود ہی شامل ہوگیا…بعدمیں ازاں….سب اچھے دوست بن گئے….میر وسیم صاحب اور انکے بھائی قیس علی سے دیرینہ دوستی ھے. میر وسیم صاحب بہت مددگار ہیں.

آپ کی نظر میں اپنی خوبی ؟
میری نظر میں اپنی خوبی یہ ھے کہ میں اپنے اللہ پر کامل یقین رکھتا ہوں اور زندگی کے ہر پل سے لطف اندوز ہوتا ہوں… یہی مجھے خوبی نظر آتی ھے…

خامی ؟
میری نظر میں میری خامی میرا جذباتی پن ھے….مجھے کسی بھی غلط بات پر جلد غصہ آجاتا ھے…

میرا بچپن ؟
بہت خوبصورت تھا میرا بچپن…بہت پرسکون اور بھلے دن تھے…جس دلفریب قصبے میں میں نے آنکھ کھولی اس کا نقشہ کھینچنا بھی بہت ضروری ھے. کالاباغ…. صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے درمیان بہتے دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر صدیوں سے آباد چلا آرہا ھے…جس کی تاریخ سولہویں اور سترہویں صدی تک معلوم دکھتی ھے. میرے والد بتاتے ہیں کہ سندھ کے سوتے تبت سے بہت بالا پہاڑوں اور گلیشیئرز سے بننے والی جھیل من سرور سے پھوٹتے ہیں جو مشرقی سمت سے کالاباغ میں داخل ہوتا ھے. کالاباغ کے شمال میں کوہستان نمک کے سلسلے کا پہاڑ سلاگر علاقے کی الف لیلوی تاریخ کا شاہد و امین ھے. کالاباغ کے جنوب میں دریا کے دوسرے کنارے پر سامنے ریلوے جنکشن ماڑی انڈس واقع سے .. اسی سمت ایک سڑک اسکندرآباد کے کارخانوں کو چھوتے ہوئے ضلع میانوالی اور پھر پنجاب کے دیگر علاقوں سے ملاتی ھے. مغرب میں میرے بچپن میں ایک سڑک اور چھوٹی ریلوے لائین سرحدی علاقوں سے ملاتی ھے. کالاباغ میں ایک ہی میں بازار ھے اور اس بازار سے شمالی پہاڑی پر گلیاں دائیں بائیں واقع گھروں کو جاتی ہیں. ان میں سے ایک گلی مسجد ٹاہلی والی مشہور ھے جس میں اونچائی پر میرا آبائی گھر واقع تھا. گرمیوں میں وسیع چھت پر سوتے تو صبح پرندوں کی سریلی آوازوں سے آنکھ کھلا کرتی تھی. اٹھتے ہی دریا میں چھلانگ لگانا … نہا دھو کر دریا کے کنارے واقع مسجد عید گاہ میں نماز کی ادائیگی کے بعد گھر پہنچ کر ناشتہ کرنا اور سکول کی راہ لینا روز کا معمول ہوا کرتا تھا. سکول کی زندگی میں ہر طرح کی نصابی سرگرمیوں میں اور بزم ادب میں بھرپور حصہ لیا. نفاست اور خوش خطی کے بڑے چرچے ہوئے. فارغ اوقات میں کالاباغ کے خداداد صلاحیتوں کے مالک استاد شیرخان سے کوئلے کے ساتھ خطاطی سیکھی…انہی سے فری ہینڈ پینسل سکیچ بنانا سیکھا. میں نے اپنے اس استاد کا خاکہ بھی لکھا ھے جسے فورم پر کبھی شیئر کروں گا. اس کے علاوہ سکول لائیف میں ہاکی فٹ بال بھی کھیلا. سکول سے واپس آکر کھانا کھاکر پھر دریا کا رخ کیا جاتا. گھنٹہ دو گھنٹے تیراکی کرتے اور عیدگاہ اور دھرم شالہ کے درمیان میں اگے بڑ کے وسیع و عریض درخت پر چڑھ کر دریا میں چھلانگیں لگاتے اور درخت کی دریا کے پانی کو چھوٹی شاخوں کو پکڑ کر دیر تک پانی میں تیرتے رہنا ہماری اولین ورزشوں میں شمار ہوتا ھے. اس کے بعد عید گاہ میں حافظ خدابخش سے درس قرآن حکیم لیتے اور شام کی چائے کے بعد ہاکی کی کٹ پہن کر سائیکل سنبھالے مغرب میں واقع کالاباغ ریلوے اسٹیشن کے سامنے بڑے گراونڈ پر ہاکی کھیلتے….سکول لائیف میں ہی مجھے بچوں کے اخبارات میں لکھنے کا شوق چرایا. اور سکول لائیف ہی میں سکاوٹنگ میں حصہ لینے کا موقع ملا. پہلی بار ہمارے پی ٹی ماسٹر غلام قادر خان صاحب ہمیں 1972 میں دس دنوں کے لئے گھوڑا گلی مری میں منعقدہ سکاوٹس جمہوری میں شراکت کے لئے لے گئے جہاں ہمیں پہلی بار پتہ جلا کہ سردی کیا ہوتی ھے…وہیں ہمیں پہلی بار اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کو آزمانے کا موقع ملا. دوستوں کے دھکے سے ہم بھی پینٹنگ کے مقابلے میں شریک ہوئے اور پورے پاکستان سے سینکڑوں سکاوٹس میں سے ہماری پینٹنگ کو سیکنڈ انعام کا حقدار قرار دیا گیا. پھر شاید میری ہنستی بستی زندگی کو نظر لگ گئی. 1974 میں میری ماں گردن توڑ بخار میں ایک ہی رات گزار کے چل بسیں….اور اسکے بعد میں دنوں میں بچپن کی سرحد عبور کرکے بڑا ہوگیا.

زمانہء طالب علمی کا واقعہ ؟
یہ غا لبا 1965ء کا زمانہ ھے…میرے والد صاحب کی زندگی کا زیادہ عرصہ دوبئی میں گزار. وہ سال بعد وطن واپس آتے تو انکو دو ماہ کی رخصت بھی ملتی. ایک بار آئے تو ہمیں بھی ہمراہ لے گئے. والدہ بڑے بھائی میں اور مجھ سے چھوٹی بہن پر مشتمل ہمارا کنبہ چند سال کے لئے دوبئی جا پہنچا. اس قیام کے دوران مجھے اور بڑے بھائی جان کو پار دوبئی پاکستان ایمبیسی کے سکول میں داخل کرا دیا گیا. ان دنوں پرانے دوبئی کی صورتحال کافی دگرگوں تھی. ہماری رہائش ابو دوبئی تھی جبکہ سکول جانے کے لئے ہمیں سٹیمر میں بیٹھ کر پار دوبئی جانا پڑتا تھا. سخت گرمیوں کے دن تھے… ہم دونوں بھائی سکول سے آتے ہی کھانا کھا کر ہوا بھری ٹیوبز اٹھاتے اور سمندر میں نہانے نکل جاتے. ہمارے لکڑی کے بنے گھروں کے قریب ہی سمندر کا پانی آیا ہوا تھا. وہ شاید مچھلی بندر یابندرگاہ
تھی جس کے لئے سمندر کے بڑے حصے کا پانی روک دیا گیا تھا. جہاں ہم نہاتے اور ٹیوبوں کے ذریعے تیرتے تھے وہاں ایک سکول کا عقبی حصہ پانی میں ڈوبنا ہوا تھا. وہیں پانی میں ڈوبا ہوا ایک پلیٹ فارم تھا جس پر چڑھ کر لڑکے بالے سمندر میں چھلانگیں لگا رہے تھے..اس روز گرمی کی وجہ سے سخت رش تھا. بھائی جان بھی وہاں چھلانگیں لگا رہے تھے. میں اپنی ٹیوب لئے کنارے کنارے تیررہا تھا. ھر پتہ نہیں مجھےکیا سوجھی
میں بھی چپکے چپکے ٹیوب پر توڑتے ہوئے اس پلیٹ فارم پر ٹانگیں لٹکا کے بیٹھ گیا. بڑے بڑے لڑکے اپنی میں چھلانگیں لگا رہے تھے اور اٹکھیلیاں کر رہے تھے کہ اچانک کسی نے چھلانگ لگائی اور مجھے بھی ساتھ لیتا ہوا پانی کے اندر…. اس وقت تک مجھے بغیر سہارے کے تیرنا نہیں آتا تھا مگر دوبئی آنے سے پہلے دریاۓ سندھ سے نیا نیا تعارف ہوچکا تھا. اب میں اپنی میں گرتے ہی نیچے ہی نیچے جا رہا ہوں میرے پاوں نہیں لگ رہے… مجھے اپنے اوپر چھلانگیں لگانے والوں کا شور شرابہ سنائی دے رہاہے. میں آنکھیں کھول کر اوپر دیکھتا ہوں تو چمکتے سورج کی روشنی نظر آرہی تھی. اب میں نے سوچ لیا کہ مجھے کسی نے پانی میں گرتے ہوئے نہیں دیکھا اور بھائی جان کو تو پتہ بھی نہیں کہ میں بھی اتنے گہرے پانی میں آگیا ہوں…
اور زندگی موت کی کشمکش میں ہوں. اس دوران مجھے محسوس ہوا کہ اپنی آہستہ آہستہ مجھے اوپر اٹھا رہا ھے..مجھے اوپر ہونے والا شور و غل صاف سنائی دے رہا تھا مگر میری سننے والا اللہ کے سوا کوئی نہ تھا. میری سانسیں اکھڑ رہی تھیں اور سمندر کا بہت سا کھارا پانی میرے اندر جا چکا تھا…قبل اس کے کہ میں بے ہوش ہوتا معا کسی نے مجھے بالوں سے پکڑا اور اوپر کھینچ لیا… یہ وہی لڑکا تھا جسکے ٹکرانے کے نتیجے میں، میں اپنی میں گرا تھا. جب میں تھوڑی دیر میں بارہ نہ آیا تو اس نے میری تلاش شروع کر دی تھی…اگر وہ ایسا نہ کرتا تو شاید میں یہ واقعہ نہ سنا رہا ہوتا…زندگی تھی تو بچ گیا….بعد ازاں نہ صرف میں نے تیرنا سیکھ لیا بلکہ اب تک اپنی سے بہت دوستی ھے…اور سٹار بھی “حوت” ھے.

کس کو شدت سے یاد کرتے ہیں ؟
میں جانے والوں کو شدت سے یاد کرتا ہوں…..

جاسوسی کرنے والے پر انکشاف ہوگا کہ
میں جیسا نظر آتا ہوں ویسا ہوں نہیں….
میں اجنبی محفل میں دوستوں کے بغیر اپنے آپ کو اجنبی اور تنہا محسوس کرتا ھوں….دوستوں کے ساتھ خوب چہکتا ہوں….اور خوش نصیب ہوں کہ میرے دوستوں کا حلقہ بہت وسیع ھے……طبعا تنہائی پسند ہوں… اگر میسر آجائے تو پڑھنے یا لکھنے کو اولیت دیتا ہوں….

غصے میں کیا کرتے ہیں ؟
چھوٹے موٹے غصے کو تو برداشت کرنے کی کوشش کرتا ہوں. لیکن اگر کسی انتہائی ناپسندیدہ اور خراب بات پر خوب بکتا جھٹکتا ہوں. ایک دفعہ تو اچھی طرح سے جس کی بھی کلاس لینی ہو لیتا ہوں….تھوڑی ہی دیر میں نارمل ہوجاتا ہوں….

پہلی ملاقات پر کیا کرتے ہیں؟
پہلی ملاقات پر کوشش ہوتی ھے کہ ملنے والے کے ساتھ اسکے پسندیدہ موضوعات پر بات ہو….زیادہ سے زیادہ دوسرے کو سنتا ہوں تو اس سے نہ صرف دوسروں کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ھے بلکہ آپس کی اجنبیت بھی دور ہوجاتی ھے…

سونے سے پہلے اور جاگنے پر کیا کرتے ہیں ؟
میں سونے سے پہلے موبائل پر اور فیس بک پر ضرور نظر ڈالتا ہوں. پھر WiFi آف کرکے سراہنے رکھ اللہ میاں سے رابطہ جوڑ لیتا ہوں….
آنکھ کھلتے ہی اور ہوش میں آتے ہی WiFi آن کر لیتا ہوں ….

دوست جو آپکے زیادہ قریب ہیں ؟
جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ دوستوں کا حلقہ بہت وسیع ھے تاہم جو دوست دل کے قریب ہیں ان میں زیادہ تر شاعر ادیب ہی ہیں. چند ایک کے نام گنوا دیتا ہوں. سید محمد علی. قیس علی. میر وسیم. میجر ثناء اللہ خان. تزئین اختر. خالد محمود. محمد حامد سراج. اے.بی.ملک. مالک اشتر اور شیر خان.
میری کوئی ویب سائیٹ اور پیج نہیں ھے…جو کچھ ھے یہی فیس بک ھے..

مستقبل کے کیا ارادے ہیں ؟
مستقبل میں جتنا وقت میسر آئے گا اس میں اپنے علاقے کالاباغ کے تاریخی و سماجی پس منظر میں شروع کئے گئے ناول کو مکمل کرنے کی کوشش ہوگی. ناول کا نام ” ایک تھا کالاباغ ” تجویز ہوا ھے…

کوئی پیغام..؟
ہم نے کیا پیغام دینا ھے ہم خود طالب علم اور سیکھنے کر مراحل میں ہیں. تاہم اپنے جونئیر اور نوجوان ساتھیوں کو اتنا ضرور کہنا ھے کہ ہمیشہ اپنی سوچ اور عمل کو مثبت رکھیں . کسی بھی چیز کے حصول میں جلدی نہ کریں. اپنی محنت تگ و دو اور جستجو جاری رکھیں. اللہ پر کامل بھروسہ رکھیں . مطالعہ مشاہدہ اور تجربے سے اپنی شخصیت کی تعمیر و ترقی جاری رکھیں. ہر کام کا اللہ کے ہاں وقت مقرر ھے. جلد یا بدیر انسان کی دعائیں اور مرادیں ضرور پوری ہوتی ہیں… لگے رہو منا بھائی !

عبدالحمید قیصر” ایک تبصرہ

  1. Hameed Qaiser نے کہا:

    Dear Sir / Respected Madam,
    I am surprised to know about my interview that it can be seen here. Thanks very much.
    Hameed Qaiser
    0300-5302080

اپنا تبصرہ بھیجیں