خدا اور خدائی

بھائی کچھ خوفِ خدا کرو کیوں زبان چلائے جا رہے ہو ، اب بس کرو اور منہ بند کردو ورنہ اینٹوں سے مارے جائو گے ۔۔
آفاق میاں نے بابا بخشو کو جھنجھوڑا ، بابا بخشو ندامت کے سجدوں میں سرجھکائے آہستہ آہستہ بول رہا تھا جیسے شکوئوں شکایتوں کے سوزیافتہ کلمات میں ڈوبے انگارے اُس کے لہجوں میں کڑواہٹ بھر رہے ہوں ،، اور منہ سے نکلتے الفاظ حقارت زدہ لہجوں کی خاک و خستر تصویر ہوں ۔۔۔
یہ خدا میرے سامنے آئے تو میں اس سے پوچھوں ۔۔ میرا قصور کیا تھا ؟؟
میں نے اس کا کیا بگاڑا تھا ۔۔ بچپن سے لے کر آخری عمر رسیدہ زندگی کے دورتک کیا صبح کیا شام میں نے کبھی اس کے حکم کی بجاآوری میں سسُتی نہ کی ۔ میرے لب ہمیشہ اس کی حمد و ستائش سے تر رہے ۔۔۔ میرا قلب اس کی یاد سے غافل نہ رہا ،، کبھی ناشکری کی آہیں نہ بھریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر بھی اس خدا نے عمر کے اس حصے میں میرے تمام اعمال کی کیا جزا دی ۔۔۔ ایک ہی سانس میں میرا گھر ، میری چھت ، میرا کھیت سب باڑ کی نظر کر دیا ۔۔۔۔ میرے بچے سڑک پر آ گئے ۔۔
میں کل تک صبر و شکر سے زندگی کے حلال آسیر دن گزار رہا تھا آج در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہوں ۔۔
کہتے ہیں کہ اُس کی مرضی سے پتہ نہیں ہلتا ،،، پھر میرا مجرم اور کون ہے سوائے اس خدا کے ؟؟؟
جواب دو مجھے ، میرا نقصان کون پورا کرے گا ،، یہ سیلاب نہ تھا میرے کرموں کا پھل تھا جو مجھے مل گیا ہے ۔ میری ساری عمر کی سفید پوشی خاک میں مل گئی ہے ۔ میں ننگ و بھوک میں متبلا ہوں ۔۔۔ بخشو نیم پاگل حالت میں تھا اُس کے منہ میں جو آ رہا تھا وہ کہتا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا چہرہ زرد آنکھیں سرُخ ہو
گئی تھیں ۔
اسی اثنا میں علاقے کی مسجد سے مولوی نے اعلان کیا ۔۔۔
حضرات علاقے کی مرکزی مسجد بارش کی وجہ سے خستہ ہو گئی ہے ۔۔۔ چھت کی مرمت کے لئے زور و شور سے چندہ ڈالتے جائیں اور جنت میں گھر بناتے جائیں ۔۔۔۔۔۔
جنت میں گھر ۔۔۔۔۔ بخشو کو اپنا ٹوٹا گھروندہ یاد آیا ۔ اعلان کیا ہوا بخشو چیخنے چلانے لگ گیا ۔۔
اے لوگو!!
میرا گھر بھی مسجد بنالو ۔۔ میرے گھر کی دیواروں کو بھی کھڑا کر دو ۔۔ میری عزت نفس میری چاردیواری کو بھی تحفظ دے دو ۔۔۔ میرے بچے اس سردی سے مر جائیں گے ۔۔ بھوک سے اُن کی صورت پہچانی نہیں جا رہی ۔۔ لوگو مجھ پر رحم کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا گھر مسجد بنالو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صدمے کی اندوناک حالت میں بخشو زمین پر گر گیا ،، اُس کا منہ پر جگہ جگہ کیچڑ لگ گئی ، پھر بھی اُس کے منہ سے بمشکل الفاظ نکل رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اے خدا تو نےمیرے ساتھ اچھا نہیں کیا ، میرے بچوں کی چھت چھین کر اچھا نہیں کیا ۔۔۔ اُس کے لہجے میں سوز ایسا تھا کہ عرش ہل جائے اور زمین شک ہو جائے ۔۔ اس کی آواز میں بے بسی و لاچارگی ایسی تھی کہ روح کانپ اُٹھے جسم شل ہو جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی حالت میں اُس کی روح پرواز کر گئی ۔ پتھرائی آنکھیں اپنے ٹوٹے گھروندے کی سمت میں کھُلی کی کھُلی رہ گئی۔۔۔۔
چند لوگ جو اس کے حواس باختہ انداز کو دور سے تمسخرانہ انداز میں دیکھ رہے
تھے ۔۔ قریب آئے اور لعن طعن کرنے لگ گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک بولا ۔ ““ پاگل ہو گیا تھا بابا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا انجام ایسا ہی ہونا تھا ۔۔۔۔ نعوزباللہ خدا کو کوس رہا تھا ۔۔۔۔ اُس نے بدلا تو لینا ہی تھا ۔۔ کفر بک رہا تھا ۔۔ زبان بند تو ہونی ہی تھی ۔۔۔
““ صبر شکر کر لیتا تو بچ جاتا پاگل نے اپنی آخرت خراب کر لی ““
بخشو کے بعد از جنازہ کے بعد آفاق ایک گہری سوچ لئے گھر کی جانب ہوا ۔۔۔۔۔ آخر بخشو کی باتوں سے دھیان کیوں نہیں ہٹ رہا ۔۔۔ ۔ ایک عمر بخشو کے ساتھ گزاری ہے انتہائی تعبیدار مذہبی آدمی تھا ۔سچائی اُس کےلہجے سے عیاں تھی ۔ پھر بھی جس کو پوجتا رہا اُس نے بربادی میں ایک لمحہ بھی خیال نہ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
بچہ چاہے ناجائز ہو ماں پھر بھی بلکتا سسکتا نہیں دیکھ سکتی ، خدا تو ستر مائوں کے برابر شفیق ہے پھر اُس نے ایسی سفاکی کیوں دکھائی ۔۔۔
خدا کا یہ تصور کبھی آنکھ میں سمایا نہ تھا ، کبھی دل نے گواہی نہ دی تھی ، کبھی کان نے ایسی حقیقت زدہ سماعت نہ کی تھی جیسا آج بخشو میرے زہن
کی بند کھڑکیوں میں لگے تالوں کو کھول گیا ہے ۔۔
کس کے پاس جائوں کہاں سے چین پائوں ۔۔ میرا ایمان میرا ساتھ نہیں دے رہا ۔۔۔۔۔ مولوی کے پاس گیا تو وہ جھٹ کہہ دے گا ۔ ““ اللہ نے اپنے حبیب بندے سے آزمائش لی ہے ““ اُس کی مرضی وہ جو چاہے سو کرے ہم اُس کی مشعیت میں
خلل نہیں ڈال سکتے ۔۔۔
گویا اس قدر برگزیدہ رہنے کے باوجود بھی اُس کی الرحیم صفت پر اعتبار نہیں کہ کب جلال میں آجائے ؟؟؟
منکر کے پاس جائوں تو وہ کہہ دے گا ““ میں نے کہا تھا نہ خدا ودا کچھ نہیں ہوتا ۔۔ اگر ہوتا تو تمہاری مدد کو آن پہنچتا ““
گویا بخشو کی میت پر کھڑے لعن طعن کرنے والے لوگ منکر کے رویئے کی عکاسی کر رہے ہوں
اسی کشمش میں اشفاق کو راستے میں پڑے اخبار کے ٹکڑے میں چھوٹا سا مضمون ملا جس کے حقائق زدہ خدوخال کچھ یوں تھے ۔۔۔
““ قرآن کہتا کہ اُس کا ضابطہ حیات روئے زمین پر نافذالعمل ہو چکا ۔۔ اب ہر کوئی مساوات کے دھارے میں ایک ہے۔۔ خدا نے ربوبیت کی ذمہ داری کے لئے بندوں میں سے ہی ایک رہبر چُنا اور اُس کو ضابطہ ہدایت عطا کیا جنہوں نے رہتی دنیا تک ایک مثال عظیم ریاست کی بنیاد رکھی ۔ جس نے آگے چل کر دنیا کو مساوات ، اخلاقیات ، سماجیات ، معاشیات کا درس عظیم دیا ۔۔ جس کا نظام کسی بھی ارض کے ٹکڑے پر نافذ ہو گا وہاں سے بھوک اور خوف ختم ہو جائے گا ۔۔۔ اللہ براہ راست آ کر ہمیں من و سلویٰ نہیں کھلائے گا ، اُس کی مشعیت ہے کہ وہ نظام کی بھاگ دوڑ انسانوں کے ہاتھوں میں دے کر انسان کو انسان کے برابر کھڑا کرتا ہے ۔۔۔
اس قدر کھلی حقیقت پڑھ کر آفاق کی آنکھیں ندامت سے بھیگ گئیں ۔۔ اُسے مُلائیت کے سفاک صبر و شکر اور ملحد کے ““ میں نہ مانوں ““ میں لپٹی خرافات سمجھ آ گئیں ۔۔۔ آنسو پونچھتےہوئے خود سے ہم کلام ہوا
““ یہ انسان اپنی نالائقی کس ڈھڈائی سے خدا کے سر تھوپ کر بری الزمہ ہو جاتا ہے۔۔ اگر بخشو آفت میں ہے تو اس کی ذمہ داری امیر وقت پر ہے خدا پر نہیں ۔۔۔ ““
تحریر : سید شاکر حسین رضوی

اپنا تبصرہ بھیجیں