افسانہ انتہا تحریر لینا ہمدانی

(افسانہ برائے تنقید و تبصرہ ) ( تخلیقِ نو)
افسانہ انتہا
تحریر لینا ہمدانی
اماوس کی رات تھی ۔ چاند نےمکھڑا تاروں کے آنچل میں چھپا لیا تھا ۔ اب ہر تار ے کی کوشش تھی کہ وہ چمکنے میں دوسرے سے بازی لے جاۓ۔زمین پر بھی اُن کے چھوٹے چھوٹے نمایندے اپنے وجود پر لالٹین اٹھا ۓ ادھر اُدھر گھوم رھے تھے۔
سرسراتی ہوا درختوں سے اٹھکیلیاں کرہی تھی۔اچانک ایک جگنو نے اس کے کان میں سر گوشی کی ,” تو اس کائینات میں اکیلی تو نہیں۔ ہمیشہ سے بنت حوا نے ایسے ہی مردوں کے ظلم سہے ہیں۔”
گہری سوچ میں گم زینب نے چونک کر کروٹ بدلی اور کان کا بالا جھول گیا۔
جما لدین حقہ گڑگڑاتے ہوۓ ہوا میں دھوئیں کے مرغولے چھوڑ رہا تھا۔وہ اٹھ کر اس کی چارپائی کی طرف آنے لگا تو اسے یوں محسوس ہوا کہ ایک مال گاڑی کا انجن اُسے روند نے آرھا ہے ۔
آج صبح سے ہی اس کی ساس نے اسے صلواتیں سنانا شروع کر دی تھی، ” جنم جلی تو نے پھر بیٹی پیدا کر دی ۔میرا جمالا تو عمر بھر ان کے جہیز پورے کرتا رہے گا ۔
یہ جونکیں تو میرے بیٹے کا خون پی جائیں گی اور تو ایک بیٹی کی جگہ بیٹا پیدا نہیں کرسکتی تھی۔ کوئی تو میرے بیٹے کا بازو ہوتا۔ “,
“تو عورت نہیں ڈاین یے ڈاین ! …
اپنے ہی خاوند کی کی دشمن اوپر سے ماں باپ نے جہیز کے نام پر دو لیرے پکڑا دیے ۔ ایک ھی میرا ہیرے جیسا بیٹا جس کے در پر جاتی ٹرک بھر کر جہیز لدتی ۔ میری عقل پر تو پتھر پر گۓ تھے اس وقت۔ میری تو مت ہی ماری گئی تھی ۔ پانچ بہنوں کے گھر سے بہو بیا لائی۔ یہ نہ سوچا کہ جسکی ماں بیٹا نہیں پیدا کیا اسکی بیٹی کیا کمال کر ے گی۔کسی بھائیوں والی کو لاتی تو میرے گھر بھی آج بیٹوں کی لائن لگی ہوتی اور جہیز کے ٹرک الگ سے لدے ہوئےملتے۔”
جب بول بول کر دل بھر گیا تو جمالے کو بلا لیا،”
او جمالے ! دیکھ اسکو سورج سوا نیزے پر آگیا ہے پر ابھی تک اس سے گھر گےکام ختم نہیں ہوئے۔کونسا کوئی اتنا کام ہے ۔ تیین ھماری بھینسیں ھیں اور دو گائیں اور اِکواِک بکری! اور ہم بڈھا بڈھی اور نہ کوئی بیٹی اور نہ کوئی آگے نہ کوئی پیچھے۔ اور تو اسکا مجازی خدا ھے اور تیری خدمت تو اسکا فرض ہے”۔ پھر حقارت سے بولی,”اور یہ بیٹیاں تو اسکی اپنی ہیں ۔”
جمالے نے لال انگارہ آنکھوں سے شعلے اگلتے ہوئے بیوی کو دیکھا,”کیوں ری؟! اماں کی باتیں سن رہی ہے نا؟”..وہ پھنکارتے ہوئے بولا۔
ذینب نے دبک کر خاوند کی طرف دیکھا اور اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہا کہ ساس فوراً بولی,” دیکھا ! اب آگے سے زبان بھی چلاتی ہے۔”
جمال دین نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ۔ جھپٹ کر زینب کے ہاتھ سے بانس کا جھاڑو چھینا اور اُسی سےاس کی مرمت کر دی۔جھاڑو تنکا تنکا ہو گیا ۔ زینب جھاڑو کے ساتھ ساتھ اپنی روح کے تنکے سمیٹتی رہی اور اس نے پاؤں سے جوتا اتار لیا ۔ بچیاں بھاگ کر چارپائی کے نیچے چھپ گئیں ۔ جوتا زینب کے منہ پر پڑا تو اسکا منہ لہو لہان ہو گیا ۔ اس کا سر بھی دو جگہ سے پھٹ گیا ۔ساتھ ساتھ غلیظ گالیاں بھی بکنے لگا اور بولا, “تو پاؤں کی جوتی ہے پاؤں میں ہی رہ ۔۔۔سر کا تاج بننے کی کوشش نہ کر !”
دربے میں قید مرغیاں کٹ کٹ کر کے خوف سے اڑنے لگیں ۔ پرات میں پڑا کھانا اور قولی میں پڑا پانی دونوں الٹ گۓ۔۔۔بالکل زینب کی قسمت کی لکیروں کی طرح !
جمالا مارتے مارتے ہانپنے لگا تو بڑی بیٹی کلثوم کو آواز دیی,”اوے ! پانی لا کر دے مجھے۔ کوئی تو مجھے سکون آۓ ۔”
کلثوم بھاگی بھاگی پانی کا گلاس لایٔ ۔وہ ایک ہی سانس میں گٹاگٹ پی گیا۔اور پھر زینب کو پاؤں سے ایک ٹھوکر لگا کر بولا ,”اُٹھ اب کسی چیزکا ماتم کر رہی ہے اور کون مر گیا تیرا ؟! جا اور اب مجھے روٹی لا کر دے ۔ بھوک اور تھکاوٹ سے میرا برا حال ہوگیا ہے ۔ تُو تو پوری ڈنگر ہے سدھرنا نہیں .”
بچیوں نے کبوتر کی طرح سہم کر آنکھیں بند کر لیں ۔ زینب نے اٹھ کر اوڑھنی سر پر رکھی۔اپنے آنسو اسی کے پلو میں جذب کیے اور کچن کو چل دی ۔ بڑی بیٹی بھاگ کر ماں کے پاس گئی ۔ چھوٹی بھی ماں سے لپٹ گئی ۔ مگر باقی تین ڈر کر چارپائی کے نیچے ہی دبکی رہیں۔
اس نے آہیں بھرتے ہوئے خاوند کو کھانا کھلایا اور پھر بچیوں کو کھلایا۔۔۔خود اس ک بھوک مر گئی تھی۔ وہ دوبارہ سے کام کاج میں مصروف ہو گئی۔ اسے اپنی سوچ پر بھی اختیار نہ رہا۔
رات کھردری چارپائی پر لیٹی تو نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔آنسو آنکھوں سے بے اختیار جاری تھے۔وہ اس سیل رواں پر بند باندھنے سے قاصر تھی۔کبھی کبھی کوئی سسکی اس کے منہ سے نکل جاتی۔
اچانک جمالے کواپنی تھکاوٹ کا احساس ہوا۔اس نے اپنی زینب کو آواز دی اور لہجہ ذرا نرم رکھا۔
” ارے او میری رانی ذرا میری ٹانگیں تو دبا دے ۔ دیکھ کتنا تھک گیا ہوں۔”
زینب اس کی پیار بھری ہوئی آواز پر اٹھ کھڑی ہوئی ۔ اس نے اپنے تن کا سارا درد من میں اتار لیا۔وہ جمالے کے پاس جا کر بیٹھی تو اس نے زینب کو پیار بھری نگاہ سے دیکھا ۔ وہ بھول گئی کہ تھوڑی دیر پہلے اس مرد نے اس کی جان ناتواں کے ساتھ کیا کیا۔اسے لگا کہ اس کی اماوس کی رات تاروں میں روشن ہو گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں