افسانہ ،، کفیل ،، فیصل قریشی

سخنور تخلیق نو افسانہ بیٹھک سیزن 1 افسانہ نمبر : 67
عنوان : کفیل
تحریر : فیصل قریشی
بینر : سید عبدللہ حیدر۔
نوٹ ۔ ( سیزن 1 کی آخری تحریر ہے جو معمولی سی ترمیم کے ساتھ احباب کی نذر کی جارہی ہے۔)
صائمہ حسب معمول ٹریفک سگنل پر بظاہر بھیک مانگنے کھڑا تھا۔
وہ آج کام پر تو آگیا مگر طبیعت میں کسلمندی تھی‛ وجہ گذشتہ رات شادی کی تقریب میں کافی مقدار میں ٹھرا پی کر ناچنا اور بعد میں شوقین مردوں کے لیےاضافی ذمہ داری پوری کرنا تھا‛
ناچتے وقت وارنے کے بعد ملنے والی غیر موقع مگر یقینی اجرت خلوت کی کارکردگی کی بنیاد پر ملتی ہے۔
جتنا مرد خوش ہوگا اتنا زیادہ پیسہ‛
تھکن لازمی تھی‛
آج من چاہا کہ واپس جاکر آرام کرے کہ اسی دوران ایک پک اپ اشارہ سرخ ہونے پر اس کے قریب رکی ڈرائیور جانا پہچانا تھا جو اکثر صائمہ کی خدمات سے لطف اندوز ہوتا رہا تھا ‛
اس نے لال سے کالے پڑجانے والے دانتوں کی نمائش کرتے ہوے آنکھوں ہی آنکھوں میں صائمہ کو اپنے جذبات سے آگاہ کیا‛
بتی سبز ہونے سے پہلے صائمہ کو فیصلہ لینا ضروری تھا اس نے دو (نوٹ) کا اشارہ کیا‛ چھٹی کا ارادہ منسوخ کرکے پک اپ کا پسینجر سائیڈ گیٹ کھولا اور بیٹھ کر سر اثبات میں ہلا دیا۔
صائمہ ایک ہیجڑا تھا‛
جس کا نام پیدائش کے وقت ماں باپ نے بڑے چاو کے ساتھ رضا رکھا۔
رضا کا باپ اسکے علاوہ آٹھ بہن بھائیوں کو پیدا کرنے کے بعد بھی آبادی میں دن دگنی رات چوگنی اضافہ کا زبردست حامی اور چرس وبھنگ کا دلدادہ تھا‛ اسے نہ جانے کس نے سمجھایا تھا کہ پتر ‛کم جوان دی موت اے‛ وہ اس نصیحت پر آج تک سختی سے کاربند رہا۔
دن بھر نشے میں دھت رہنا‛
رات گئے گھر واپس آکر رضا کی ماں کو روئی کی طرح دھنک کر لیٹ جانا ‛
پھر آدھی رات کو تھکی ہاری ہاجرہ جو دن بھر بنگلوں میں نوکرانی کا کام کرتی ‛بدن چور چور کرنے کے بعد گہری نیند سے جگا کہ کسی بات پر منانا‛ تقریباً روز کا معمول تھا‛
رضا کی سمجھ میں یہ نہیں آتا تھا کہ آخر باپ اس کی ماں کو مناتا کس بات پر تھا ‛
ایک دن یہ خیال بھی آیا کہ معاملہ کچھ بھی ہو اگر ماں کو منانا اتنا ضروری ٹھہرتا ہے تو وہ اسے مارتا ہی کیوں تھا؟
وہ اکثر اس طرح کے جملے سنا کرتا جو سرگوشیوں میں ہی سنائی دیتے جیسے کہ!
دیکھ بیویاں منع نہیں کرتیں!
ارے جو آے گا اپنا رزق لے کہ آے گا۔
جواب میں ماں نے کیا کہا؟
نہ معلوم ‛
مگر باپ کے جواب سے ماں کا سوال سمجھنے کی کوشش کرتا اور اکثر ناکام رہتا‛
تو جہنم میں جلے گی‛
شوہر کو منع کرو تو فرشتے ساری رات اس عورت پر لعنت بھیجتے ہیں‛
نذیراں کے دس بچے ہیں ‛
مر گئی کیا؟
رضا ایسی نا سمجھ میں آنے والی باتیں سن سن کر بڑا ہورہا تھا۔
اس کی ماں نے محنت مزدوری کر کے جیسے تیسے اسے پانچ جماعتیں پڑھوا دیں‛
مگر اب اس میں دم خم نہ رہا اور
وہ اصل عمر سے دس سال بڑی نظر آتی تھی ‛
آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے ‛مدقوق چہرہ‛ جسم گردن کے نیچے ایسا سپاٹ کے کسی زیر جامہ کی ضرورت نہیں پڑتی تھی‛
ہر بار امیدسے ہونے پر ‛نرس باجی‛ اسے بچہ پیدا کرنے سے باز رہنے کی نصیحت ٰخون بڑھانے کے کیپسول کی پرچی‛
اور کچھ وٹامن کی گولیاں تھما کر تیس روپے وصول کرلیتی ‛
رضا کی ماں گھر آتی وٹامن کی گولی قہوہ سے نگل لیتی‛
کیوں کہ دودھ خریدنے کے پیسے نہ ہونے پر قہوہ جو رضا کا باپ اپنا نشہ دوبالا کرنے کے بنواتا تھا سے نگل کر کام پر نکل جاتی‛
اور دوا کی پرچی کا بچے جہاز بنا کر اڑا دیتے !
رضا اب اتنا بڑا ہوچکا تھا کہ بہن بھائیوں کو کھانے کی جھوٹی تسلی دے کر ماں کے آنے تک بہلا لیتا تھا ‛
مگر جیسے جیسے رضا بڑا ہورہا تھا اسکے بہن بھائی بھی قد نکال رہے تھے ‛
رضا کی جھوٹی تسلیوں کو وہ اب کچھ کچھ سمجھنے لگے تھے۔
رضا کا ننھا سا دماغ قدرت کی ناانصافی کا گلہ تو کر ہی نہیں سکتا تھا البتہ وہ یہ ضرور سوچتا تھا‛
کہ زیادہ تر بچوں کے باپ تو صبح کہیں چلے جاتے ہیں ‛
اور دن ڈھلنے پر گھر واپس آتے ہیں تو کسی کے ہاتھ میں آموں کی تھیلی‛
تو کسی کے ہاتھ آٹے کا کٹا ہوتا ‛
مگر میرا باپ دن کے کسی بھی حصے میں گالیاں بکتا ہوا نشے کی توڑ میں گھر سے نکلتا اور کچھ دیر بعد جھومتا جھامتا واپس آکر اسی جھلنگا چارپائی پر ڈھے جاتا‛ جہاں سے اٹھ کر گیا تھا ‛اور پھر بے سری آواز میں پرانے گانے گانے لگتا‛
مجال ہے جو کوئی بچہ اسے یہ بتادے کہ اسے بھوک لگی ہے‛
وہ پہلے اس کی ماں بہن ایک کرتا ‛
پھر اسے یاد دلاتا کہ اس نے کل رات کو ہی تو کھانا کھایا تھا ‛ جو اس کی ماں لائی اور اگلی بات یہ ہوتی کہ میں بھی تو تمہارے ساتھ بھوکا بیٹھا ہوں تھوڑی دیر میں مر تو نہیں جاو گے؟
بے غیرت کہیں کے۔
ماں کے آنے کے اس کی لائی ہوئی روٹی کھاتے ہوے رضا نے ماں کی طرف دیکھا ‛
جو آج کچھ زیادہ ہی مدقوق نظر آرہی تھی ‛
کم روشنی میں بھی اسکے چہرے کی پیلاہٹ نمایاں تھی‛
میں کام پر جانا چاہتا ہوں ‛ اس نے ماں سے کہا‛
ماں نے اس کے معصوم سے چہرے کو دیکھا‛ اور ایک زخمی مسکراہٹ کے ساتھ اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوے بولی‛
ارے تجھے کون کام پر رکھے گا؟
اتنا بڑا نہیں ہوا تو۔
نہیں ماں پاس کے ہوٹل میں کام بھی ملتا ہے اور کھانا بھی‛ تو بس گھر میں رہا کر‛
اب مجھ سے ہر بہن بھائی کے سوالوں کے جواب نہیں دیے جاتے ‛
تو خود تو کام پر چلی جاتی ہے‛
ابا باہر چلا جاتا ہے‛
میں روتے بہن بھائیوں کو بہلا بہلا کر تنگ آگیا ہوں‛
بس میں کام پر جاوں گا۔
ٹھیک ہے بیٹا تیری مرضی۔ ماں نے ٹھنڈے چولہے پر دیگچی رکھتے ہوے کہا‛
اسی دوران باپ گھر میں داخل ہوا جو ان کے۔درمیان ہونے والی گفتگو سن چکا تھا‛ خوشی سے چیخ پڑا ‛
او میرا شیر پتر شاواشے ‛
پتر باپ کا بازو ہوتے ہیں سیانڑے۔خامخا نیں کہہ گئے ‛
ہاہاہاہااہا۔
رضا کا پہلا دن ہوٹل پر برتن دھونے میں صرف ہوا ‛
ایک پلیٹ صحیح صاف نہ کرنے پر گدی پر مالک سے ایک ہتھڑ کھا چکا تھا ‛
جس سے ایک لمحہ کے لیے تو اسکی آنکھوں کے آگے تارے ناچنے لگے تھے ‛
آنسووں کو بار بار گیلے ہاتھوں سے صاف کرنے کی وجہ سے برتن دھونے والے صابن کی جھاگ آنکھوں کو جلا رہی تھی‛
اسکی آنکھیں سرخ ہوکر خون چھلکانے کا منظر پیش کرنے لگیں ایک ٹیبل مین نے اس صورتحال کو بھانپتے ہوے مالک سے سفارش کی‛
کہ رضا کو برتنوں کی بجاے ٹیبل صاف کرنے اور پانی رکھنے کا کام دے دیا جاے اس کے ننھے ہاتھ ابھی برتن دھونے کے قابل نہیں ٹیبل صاف کرنا برتن دھونے نسبتاًآرام دہ لگا ۔
اب روزانہ رات چھٹی کے وقت رضا کو بچا ہوا کھانا مل جاتا ‛
جسے وہ گھر لے جاتا ‛
جہاں اس وقت تک اسکی ماں بھی کھانا لے آتی‛
گزر بسر قدرے بہتر ہوچکا تھا‛
وہ ماں کے جسم میں ہونے والی تبدیلی کو محسوس کر رہا تھا اسے یاد تھا کہ جب جب اس کی ماں کا پیٹ پھولتا تھا ‛
اس کے کچھ عرصہ کے بعد اس کا کوئی نہ کوئی بھائی بہن دنیا میں وارد ہوجایا کرتا ہے‛
ہوٹل پر کام کرنے سے اسے صرف یہ فائدہ ہوا‛ کہ کھانا وقت پر ملتا تھا ‛
ورنہ دیہاڑی کے پچاس روپے ہمیشہ اسکا باپ خود ہوٹل مالک سے یہ کہہ کر وصول کرلیتا ‛
کہ اسے اسی دن کے لیے تو پیدا کیا تھا کہ بڑا ہوکر باپ کا سہارہ بنے۔
رضا کو ہوٹل پر کام کرتے ہوے دو ماہ ہوچکے تھے‛
اس کی ماں کی اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے اف ٰ ہاےٰ مرگئی کی آوازوں میں بھی اضافہ ہوچکا تھا‛
نرس باجی نے صاف کہہ دیا تھا‛ خون کی بہت کمی ہے نہ تم کچھ کھاتی ہو‛ اور نہ باز آتی ہو اس بار تمہارے لیے بہت خطرہ ہے‛
کم از کم ایک گلاس دودھ لازمی ہے تمہارے لیے‛
رضا ٹیبل صاف کرتے ہوے سوچ رہا تھا کہ اگر ابا پیسے نہ لیا کرے تو کم از کم ماں کے لیے دودھ ہی لے جایا کروں‛
مگر ابا تو جیسے اس کی ماں کی کسی ضرورت کو خاطر میں ہی نہ لاتا‛
کیا کروں ؟
اب ایک صورت ہے یا تو آمدنی میں اضافہ ہو یا پھر ابا مان جاے‛
دوسری بات ناممکن تھی یہ سوچ کر دماغ سے جھٹک دی۔
چھوٹے تین نمبر ٹیبل پر پانی رکھ ‛
ویٹر نے کہا ‛
لایا استاد ‛
رضا ٹیبل پر پانی رکھ کر جیسے ہی واپس پلٹا اسے اپنی کمر سے نیچے ایک ہاتھ کا لمس محسوس ہوا‛
اس نے پلٹ کر دیکھا تو ایک گاہگ جس کی گھنی بڑی موچھیں اور تمباکو نوشی کی زیادتی سے سیاہ پڑ جانے والے ہونٹ رال ٹپکا رہے تھے اوباش نظروں سے رضا کی طرف دیکھتے ہوے شیطانی انداز میں مسکرا رہا تھا‛ رضا کو یہ بات کچھ عجیب سی لگی۔
وہ گاہک ایک ٹرک ڈرائیور تھا‛
جو کسی لمبے سفر کے دوران کھانے اور سستانے کے لیے اس ہوٹل آیا تھا‛
کھانا کھانے کے بعد اس نے چاے کا آرڈر دیا اور فرمائش کی کہ میں گاڑی میں سونے جا رہا ہوں میری چاے اس بچے کے ہاتھ ٹرک میں بھجوادو۔
ابھی آجاتی ہے چاے وہیں‛
ویٹر نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ کہا
اور فوراً رضا کے ہاتھ چاے بھجوادی‛
وہ چاے لے کر ٹرک میں داخل ہوا ‛
جہاں وہ ڈرائیور قمیض اتارے ٹرک کی سیٹ پر لیٹا ہوا تھا رضا ایک ہاتھ میں چینک پکڑے اور اسی ہاتھ آخری انگلی میں کپ پھنساے ٹرک میں داخل ہوا ڈرائیور بھوکے درندے کی طرح پنجوں میں پھنسے ہرن کو دیکھ کر آنکھیں بھی سیر کر رہا تھا۔
چاے کپ میں ڈال بچے ‛
ڈرائیور نے حکم دیا رضا نے چاے کپ میں ڈال کر اسے دی تو ڈرائیور نے اس کا ہاتھ پکڑ کر قریب کرلیا اور کہا‛
کہ بہت تھک گیا ہوں میری ٹانگیں دبا تجھے خرچہ پانی دوں گا ‛
رضا کے ذہن نے کام کیا یہ آمدنی ہوٹل کی دیہاڑی کے علاوہ ہوگی‛
باپ کو پتہ نہیں چلے گا اور میں ماں کی خون بڑھانے کی گولیاں لے لوں گا یا پھر اسکے لیے دودھ!
یہ سوچ کر وہ فوراً تیار ہوگیا‛
ڈرائیور کی ٹانگیں دباتے وقت اسے احساس ہوا کہ وہ اسے ساری ٹانگیں نہیں دبانے دے رہا بس اسکا ہاتھ پکڑ کر بار بار مخصوص جگہ رکھ دیتا کہ یہاں سے دبا۔
رضا کو عجیب سا لگا ‛
مگر اسے کیا اعتراض ہو سکتا تھا؟
وہ کچھ دیر بعد ملنے والی رقم کا سوچ رہا تھا ‛
اچانک ڈرائیور اپنی جگہ سے اٹھا اور رضا کو دبوچ لیا ‛
رضا حیران تھا ‛
کہ یہ تقریباً وہی حرکت تھی جو اسکا باپ اس کی ماں کے ساتھ کیا کرتا تھا فرق صرف یہ تھا کہ ابا اور اماں دونوں کے چہرے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوتے‛
یکدم اسے ایک ناقابل برداشت درد کا احساس ہوا‛
اس نے چیخ کر رونے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ ڈرائیور کے سخت ہاتھ نے اس کا منہہ بند کردیا ‛
تکلیف سے اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آے‛
نہ جانے کتنی دیر تک ڈرائیور مشغول رہا‛
اور جب ہانپتا ہوا ایک طرف ڈھے گیا تو رضا اس کے چنگل سے نکل کر الاسٹک والی شلوار اوپر چڑھاتا روتا ہواٹرک سے باہر جانے کو تھا کہ ڈرائیور نے وعدے کے مطابق ایک نوٹ تھما دیا۔
وہ نوٹ تھامے باہر نکلا تو خجالت اس کے ننھے چہرے پر راج کر رہی تھی ‛
وہ کسی احساس کے تحت بار بار قمیض کو کمر سے برابر کرتا تو کبھی تکلیف کم کرنے کے لیے دیوار سے لگ کر کھڑا ہوجاتا ‛
اسے اپنی ٹانگوں پر کسی مایع شے کا احساس ہوا ‛
شلوار کا ایک پائنچہ اٹھا کر دیکھا تو خون کی ایک لکیر ٹخنے تک پہنچی ہوئی نظر آئی۔
وہ گھر آتے وقت تکلیف کے باوجود خوش تھا‛
پورا آدھا لیٹر دودھ لیا اور انڈا بھی جو اسکی ماں کو بہت پسند تھا‛
جب اس نے گھر میں داخل ہو کہ کھانے کی چیزیں ماں کو دیں جس میں دودھ اور انڈا بھی تھا ماں کے چہرے پر خوشی کے آثار نمایاں تھے ‛ ایک احساس مند بیٹا اس کے لئے صحت کا سامان کر رہا تھا‛ ماں کی خوشی دوچند ہوگئی جب رضا نے کہا کہ یہ میں تیرے لیے لایا ہوں اماں کھا اور جان بنا۔
اگلے دن درد میں کافی حد تک کمی آچکی تھی ‛
وہ سارا دن کام کرتا رہا مگر آج اضافی آمدنی کی کوئی صورت نہیں تھی ‛
درد تقریباً رخصت ہوچکا تھا‛
وہ سوچ رہا تھا کہ اگر وہ ڈرائیور آج بھی آجاے تو کچھ تکلیف سہہ کر سہی اضافی آمدن تو ہو۔
مگر آج وہ ڈرائیور نہیں آیا۔
ایک دو دن گزرجانے کے بعد وہ ڈرائیور پھر آیا تو رضا بھاگ کر پانی کا جگ لے آیا‛
ٹیبل پر جگ رکھنے کے بعد دانستہ ڈرائیور کی طرف پشت کر کے کھڑا ہوگیا‛
اس کا خیال تھا کہ بات یہیں سے شروع ہوئی تھی‛
اس کا خیال صحیح ثابت ہوا ‛
لیکن اس بار اسے عجیب سا محسوس نہیں ہوا بلکہ وہ ڈرائیور کو دیکھ مسکرایا۔
چاے تو ٹرک میں جا کے پیو گے نا استاد؟
ڈرائیور مکروہ مسکراہٹ ہونٹوں پر سجاے بولا ‛
ہاں وہیں ‛
اور آج میرا دوست بھی ہے ‛
وہ بھی اپنا ٹرک لے کر آتا ہی ہوگا ‛
وہ مجھ سے بھی زیادہ تھکا ہوتا ہے
اکثر!
لو وہ بھی آگیا۔
رضا نے دونوں کی تھکن اتاری اور خوشی خوشی شام کو گھر روانہ ہو گیا۔
آج وہ دودھ اور انڈے کے علاوہ ایک درجن کیلے بھی لے جارہا تھا گھر پہنچنے پر جو استقبال ہوا اس نے رضا کا دل بے پایاں مسرت سے لبریز کردیا۔
اب اس نے اسی خدمت کو عام کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا ‛
اب اسے کسی بھی ڈرائیور کے آنے سے بے حد خوشی محسوس ہوتی تھی‛‛
وہ ہر آنے والے ڈرائیور سے خدمت کا ضرور پوچھتا چاہے وہ آمادہ ہو یا نہ ہو‛
رضا نے اب تہیہ کرچکا تھا کہ اب اسے یہی کرنا ہے‛
یوں لگتا تھا جیسے اسےاپنے کام سے لگاو ہوگیا ہے۔
وہ آہستہ آہستہ تمام ڈرائیوروں میں مشہور ہوچلا تھا اسکی کارکردگی سےخدمت لینے والے ڈرائیور خوش تھے۔
رضا اب اپنی کمائی میں اضافے کے لیے نئی ترکیب پر کام کرنا چاہتا تھا ‛
گھر کے حالات کافی حد تک بہتر ہوچکے تھے ماں اب آرام سے اس کے بہن بھائیوں کی تعداد میں اضافہ کررہی تھی‛
باپ بات بات پر سینہ ٹھوک کر رضا کی مثال اپنے دوستوں کو دیا کرتا کہ دیکھو‛
اسے کہتے ہیں کماو پوت اور یہ ہے میری تربیت‛
مرد پیدا کیا ہے میں نے مرد۔
رضا کے ذہن میں صرف یہی چل رہا تھا‛
کہ اسے اب اپنا دائرہ کار بڑھانا چاہیے‛ اس کی یہ امید بھی چند دنوں میں بر آئی‛ ہوٹل پر کچھ ہیجڑے کھانا کھانے آے اور کھانا کھاتے وقت رضا سے بے تکلف ہوگئیے۔
ایک ہیجڑے نے رضا سے بیت الخلا کا معلوم کیا رضا نے ایک طرف اشارہ کیا اس نے رضا کو اپنے پیچھے آنے کہا کیا رضا اسکے پیچھے ہولیا ‛
بیت الخلا پہنچ کر ہیجڑے نے رضا کو اندر کھینچ لیا رضا کی کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ اب ہوگا کیا؟
اتنا تو وہ پہلے سے جانتا تھا کے ہیجڑے کسی کام کے نہیں ہوتے مگر یہ سب؟
باہر آنے پر اس کا نظریہ بدل چکا تھا ‛
کہ اپنے چہرے پر میک اپ کی تہہ در تہہ چڑھانے والے دراصل مرد ہی ہوتے ہیں۔ بچپن میں جنسی تشدد بدکردار کی صحبت اور کسی حد تک غربت انھیں شروع میں مجروح کرتی ہے‛
مگر کچھ عرصے تک متواتر اس عمل سے گزرنے کے بعد یہ کام انھیں سکون اور روپیہ بخشنے لگتا ہے۔
اس نئے خیال کے ساتھ اب وہ باقاعدہ میک اپ کر کے ٹریفک سگنل پر بظاہر بھیک مگر دراصل جنسی خدمات کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔
آج کل وہ ہیحڑوں کا گرو مانا جاتا ہے سینئر جو ہوگیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں