افسانہ ،، کسک ،، علی نثار

سخنور تخلیق نو افسانہ بیٹھک سیزن 1
افسانہ نمبر : 61
عنوان : کسک
تحریر : علی نثار کناڈا
بینر ڈاکٹر لبنی زبیر عالم
وہ ایک ایسی ماں کی بیٹی تھی جسے اس کے باپ نے سماج سے چھپ کر رکھیل بنا کر رکھا
ہوا تھا۔
’’رکھیل‘‘ جس کا کوئی مقام نہیں ہوتا۔نہ گھر میں نہ سماج میں۔اسکی کوکھ سے جنمی اولاد کو
بھی سزا بھگتنی پڑتی ہے۔
’’ماں‘‘ایک ایسا پیارا خوشبو بھرا لفظ ہے جسے سنتے ہی ممتا بھری ایک پاکیزہ ہستی کا تصور
ذہن میں ابھرتا ہے۔مگر اس کی ماں اختری نہ پاکیزہ تھی اور نہ ہی ممتا بھری۔ماجد نے
اختری سے اگرچہ بعد میں نکاح کر لیا تھا مگر اس نکاح کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ماجد کے
بیوی بیٹے اور خاندان والے اس نئے رشتے کو قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔
شمع کو باپ کی شفقت بھی حاصل نہ تھی۔کبھی کبھار ماجد چوری چھپے آتا تو سر پر ہاتھ پھیر کر
اس کی ننھی ہتھیلی پر چند روپے رکھ دیتا۔شمع کا دل کرتا وہ اپنے باپ سے لپٹ جائے۔گود
میں چڑھ کر گردن میں باہیں ڈال کر لاڈ کرے۔اسکی روح چھٹپٹاتی رہتی۔
پھر کبھی کبھار کا آنا بھی بند ہو گیا۔اس کے سوتیلے بھایؤں کو گوارانہ تھاکہ ان کا باپ ایک
ایسی عورت سے تعلق رکھے جو بازارو اور طوائف کہلاتی ہو۔
دھیرے دھیرے بچپن نے اپنا دامن چھڑایا اور شمع نے جوانی میں قدم رکھ دیا۔گھر کے ماحول سے اسے عجب گھٹن کا احساس ہوتا۔ہر روز کوئی نہ کوئی نیا چہرہ ماں کے بے باک
قہقہے اور بناؤ سنگھار۔
وہ گھنٹوں سر جھکائے چولہے کی راکھ کریدتی رہتی۔دھوئیں کے بہانے آنسو بہانے لگتی۔
گھر اسے گھر نہیں قید خانہ محسوس ہوتا۔اب تو کئی نگاہیں بے باکی سے اسے گھورنے
لگی تھیں۔آئنہ اسے خوبصورت کہنے لگا تھا۔جسم بھی ہر زاوئے سے دلکش دکھائی دینے
لگا تھا۔
اور وہ اپنی خوبصورتی دیکھ کر خوف زدہ ہو جاتی۔ہر آہٹ پر ہرنی سی چونک اُٹھتی۔خود کو
غیر محفوظ تصور کرتی۔وہ چھت پر چڑھ کر کبھی کبھی آدی باسی عورتوں کو حسرت سے دیکھتی رہتی۔اُن کے چہرے پر ایک مطمعین گھریلو زندگی کی چمک ہوتی۔۔
اسے بھی ایک گھر کی خواہش تھی۔
جہاں ایک پیار کرنے والا شوہر ہو اور پیارے پیارے بچے۔
وہ کھلی آنکھوں سے خود کو گھر گرہستی میں مشغول دیکھتی۔شوہر کی خدمت کرتے اور
بچوں کے نخرے اُٹھاتے ہوئے خود کو دیکھتی۔۔
پڑوس میں اس کی واحد سہیلی راشدہ کا گھر تھا۔وہ اکثر و بیشتر وہاں چلی جاتی۔اپنی تشنہ
خواہشات اپنی ادھوری آرزوئیں اپنے دل کی باتیں بیان کرکے خود کو ہلکا محسوس کرتی۔
راشدہ کے بابا مولوی غیاث اس کے ساتھ شفقت سے پیش آتے۔وہ اکثر گاؤں اس کے باپ کے پاس جاتے رہتے تھے۔سوتیلے بھائیوں کی سخاوت اورصلہ رحمی کی بے حد
تعریف کرتے۔وہ بہت شوق سے بھائیوں کی باتیں سنتی۔
جو خدشہ اسے کئی دنوں سے پریشان کر رہا تھا بلاآخر سچ ہو گیا۔
رات میں پانی پینے کے لئے اُٹھی تو اختری کے کمرے سے آتی آوازوں میں اپنا نام سن کر ٹھٹھک گئی۔ماں کسی سے اسکا مول بھاؤ کر رہی تھی۔
اسے لگا وہ منڈی میں فروخت کے لئے رکھی ہوئی چیز ہے۔اسے اپنے وجود سے گھن آنے لگی۔کیا خدا نے اس لئے اسکوعورت بنایا کہ وہ مختلف بستروں پر روندی جائے۔کیا اس کی
کوئی خواہش نہیں کوئی ارمان نہیں؟کیا وہ متاعِ بازار ہے جو اسے یوں بیچا جائے؟اس نے جو ایک گھر کا خواب بننا شروع کیا تھا اس کا کیا ہوگا؟کیا وہ بھی کسی کی رکھیل بن کر زندگی گزارے گی؟اسکی ذات تو ایک ٹشو پیپر جیسی ہو کر رہ جائے گی۔استعمال کیا اور مسل کر
پھینک دیا۔
کیا اس کے خوابوں اور خواہشات کی یوں بولی لگائی جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔
کئی سوال بھنور کی مانند اس کے گرد چکر کاٹنے لگے۔
وہ ساری رات سوچتی رہی روتی رہی۔
بستر کانٹوں کی مانند محسوس ہو رہا تھا۔۔۔رات بہت بھیانک اور لمبی لگی۔
صبح وہ موقع دیکھ کر راشدہ کے گھر گئی اور مولوی صاحب کوساری بات بتائی۔وہ اسکی بات سن کرآبدیدہ ہو گئے۔
’’بیٹی فکر نہ کرآج رات کی گاڑی سے میں تجھے گاؤں پہنچا دیتا ہوں۔۔تجھے تیرے بھایؤں کے حوالے کر دوں گا۔وہ بڑے اللہ والے ہیں۔۔۔وہاں تیری زندگی سنور جائے گی۔۔۔وہ کوئی بھلا لڑکا دیکھ کر تیرا نکاح ضرور کر دیں گے‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔
رات میں وہ خاموشی سے مولوی صاحب کے ساتھ نکل گئی۔چلتے وقت راشدہ نے ایک
سرخ زرتار ڈوپٹہ اسے دیا۔۔۔
’’ جب تیری شادی ہوگی شمع اور تو دلہن بنے گی تب اس ڈوپٹہ کو میرا پیار سمجھ کر اُوڑھنا‘‘۔۔
راشدہ نے نم آنکھوں سے اسے گلے لگا کر کہا۔
وہ مولوی صاحب کے ہمراہ گاؤں پہنچی اور اپنے باپ کی شاندار حویلی دیکھ کر حیران رہ گئی۔
باپ بستر علالت پر پڑا تھا۔مولوی صاحب کی زبانی اسکے حالات سن کر اس کی آنکھوں میں پشیمانی لہرائی اور بوڑھا ہاتھ سر پر کانپ کر رہ گیا۔
بھائیوں نے سرسری سا دلاسہ دیا۔بھابھیوں کے رویئے میں سرد مہری تھی۔اُسے حویلی کے
آخری سرے پر ایک کمرہ رہنے کے لئے دے دیا گیا۔
سوتیلی ماں نورانی چہرے والی بڑی مشفق خاتون تھیں۔
انہوں نے کھلے دل سے اسے قبول کیا اور حقیقت میں ماں کی ممتا اسے بانو بیگم سے ہی
حاصل ہوئی۔
اس کے سلگتے دل پر وہ اپنی دعاؤں اور شفقت کے ٹھنڈے پھاہے رکھتیں۔
اس کی ٹوٹی بکھری ذات رفتہ رفتہ جڑنے لگی۔
اس نے جی جان سے ان دونوں کی خدمت کرنی شروع کر دی۔
باپ چونکہ بستر علالت پر تھا۔اس لئے جلد ہی مر گیا۔اس کو باپ کے مرنے کا زیادہ غم
محسوس نہیں ہوا۔
بانو بیگم کی صحت بھی ٹھیک نہیں رہتی تھی۔وہ انکی خدمت گزاری میں لگی رہتی۔وہ بھی تنہائی
سے اکتائی ہوئی تھیں۔شمع کی صورت میں انہیں ایک غم گسار میسر ہو گیا۔دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزم ہو گئیں۔
ایک دن بانو بیگم بھی اللہ کو پیاری ہو گئیں۔انکے جنازے پر وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی اسے
لگا وہ ایک ننھی بچی ہے اور زندگی کے میلے میں گم ہو گئی ہے۔وہ آندھیوں کی زد پر تنہا ہے۔
مرنے والے کے ساتھ مرا نہیں جاتا دھیرے دھیرے صبر آ ہی جاتا ہے۔مگر شمع کو ایسا محسوس ہوتا اسکی ٹھنڈی چھاؤں کہیں گم ہو گئی ہے اور سورج اسکے سر پر کھڑا ہے۔بانو بیگم کے بعدرفتہ رفتہ گھر کی تمام ذمہ داریاں اس کے نازک کاندھوں پر آ پڑیں۔گھر میں نئے نئے بچوں کی پیدائش ہوتی رہی اور وہ انہیں پالتی رہی۔وہ کولہو کے بیل کی مانند صبح سے شام تک جتی رہتی۔
اس کے کئی رشتے آئے مگر بھابیوں نے سو سو نقص نکالے اور بھائیوں کو بھی پسند نہیں آئے۔
وقت دبے پاؤں گزر گیا۔سر پہ ٹھہرا سوا نیزے پہ سورج اب ڈھلنے لگا تھا ۔ زندگی ٹھہر سی گئی تھی اس کے بالوں میں چاندی کے تار چمکنے لگے تھے ۔اسکے سامنے پیدا ہونے والے بچے جو اسکی گود میں پلے بڑھے تھے جوان ہو چکے تھے ان کی شادیاں ہو رہی تھیں ۔ان کے ننھے منے بچوں کی کلکاریوں سے گھر کا آنگن گونجتا رہتا ۔اسکی مصروفیت وہی تھیں ۔ عمر ڈھل رہی تھیں جوڑوں میں درد رہنے لگا تھا ۔
آج چھوٹے بھائی کے بیٹے کا ولیمہ تھا ۔ دلہن بہت حسین تھی وہ بار بار جاکر اسکی بلائیں لے رہی تھی ۔ کام نپٹاتے نپٹاتے رات گہری ہو گئی وہ کمر پہ ہاتھ رکھ کر بمشکل کھڑی ہوئی اور دھیرے دھیرے اپنی کوٹھری کی طرف بڑھی ۔
کمرے کی لائٹ جلائی تو ملگجا سا اندھیرا چاروں طرف پھیل گیا کھڑکی کھلی ہوئی تھی ۔ ہوا کا تیز جھونکا آیا تو میز پر دھرا اخبار پھڑ پھڑانے لگا اس نے ہاتھ بڑھا کر اخبار پر پیپر ویٹ رکھا تو ایک نئے شادی شدہ جوڑے کی شادی کی تصویر پر نظر پڑی وہ اخبار اٹھا کر بہت دیر تک دیکھتی رہی ۔ پھر مڑی اور پلنگ کے نیچے رکھے ایک سال خوردہ بکس کو کھینچ کر نکالا اسے کھولا ۔اوپر ہی میں راشدہ کا دیا سرخ زرتار ڈوپٹہ رکھا ہوا تھا ۔ اسنے بہت احتیاط سے اسے نکالا اور پلنگ پر گھونگھت نکال کر بیٹھ گئی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں