افسانہ ،، ڈپریشن ،، گلِ رانا

سخنور تخلیق نو افسانہ بیٹھک سیزن 1
افسانہ نمبر : 63
عنوان : ڈپریشن
تحریر : گل رانا
بینر : ڈاکٹر لبنی زبیر عالم
نرم و ملائم گھاس میرے پاؤں کو چھو رہی ہے.اس کے چھونے سے مجھے فرحت کا احساس ہو رہا ہے.
کیا واقعی مجھے احساس ہو رہا ہے.سگریٹ کا کش لگاتے سامنے کھیلتے معصوم سے بچے کو دیکھتے ہوئے سوچتا ہوں.
اس کی ماں اسے گیند سے کھیلنا سکھا رہی ہے.اور وہ ہر بار ناکام ہو جاتا ہے.ماں مسکراتی ہے اور پھر سے سکھاتی ہے.ہلکی سی مسکراہٹ میرے لبوں پہ آ ٹھہرتی ہے.اپنے بیٹے کو بھی میں ایسے ہی سکھایا کرتا تھا.
گھر کے قریب بنے اس پارک میں صبح و شام ایک گھنٹہ گزارنا میرا معمول بن چکا ہے.آپ ٹھیک سمجھے، میں عمر کی اس دہائی میں ہوں جہاں اپنی ذمہ داریوں سے چھٹکارا پا کر لوگ بیتے دنوں کو سوچتے ہیں.خود ہی ہنستے خود ہی روتے ہیں.
مجھے وہ یاد آتی ہے.ہاں وہ..جو اکثر یاد آتی ہے ..ناکام محبت ..پر ایک منٹ.ناکام محبت تھی یا میں..! لو بھلا یہ کیا بات ہوئی .محبت کب ناکام ہوتی ہے.نکما تو بندہ ہوتا ہے.جانے زندہ بھی ہو گی کہ نھیں.میں تو زندہ چھوڑ کر آیا تھا اس کے دل میں.پر شاید میرے جاتے ہی مر گئی ہو گی.
افف یہ میں کیا سوچ رہا ہوں.اس عمر میں قبر میں پاؤں لٹکائے ایسے خیال…! نھیں نھیں…!
مجھے اپنی بیوی بچے یاد آتے ہیں. بیوی تو کب کی دنیا سے چلی گئی.بچے سب بہت اچھے ہیں اپنے اپنے گھروں میں.سیٹل ہو گئے ہیں نا.
مجھے پھر سے وہ یاد آ رہی ہے..محبت…جانے کیوں ہر موڑ پر آ کر کھڑی ہو جاتی ہے.جب شادی کی ،تب بھی آنکھیں پھاڑے دیکھتی رہی.جب جب اپنے گھر ،بچوں کی خواہشیں پوری کیں چپکے سے آ کھڑی ہوتی.مجھے دیکھتی رہتی .پھر کہتی..
” ہر مرد ناکام محبت کرتا ہے اور پھر اسے سچا عشق سمجھتا ہے.”
پارک آہستہ آہستہ خالی ہوتا جا رہا ہے.رات کا اندھیرا پھیلنے کو ہے.میرے دل کو اگر پینٹ کیا جاتا تو یہی منظر کینوس پر ابھرتا.
سگریٹ جلتے جلتے میری انگلیوں تک اپنی چنگاری لیے پہنچ چکی ہے.میں اسے زمین پر گرا کر پاؤں تلے مسل دیتا ہوں.
جیب سے اک اور سگریٹ نکال کر جلانے ہی لگتا ہوں کہ اپنے پاس بینچ پر کسی کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے.
کوئی ہیولہ سا ہے جس کی شکل صاف دکھائی نھیں دے رہی.آنکھیں چکمدار جیسے بس دو نقطے سے ہوِں.
میں اسے اپنا وہم سمجھتا ہوں اور پھر سے سگریٹ جلانے لگتا ہوں.
سگریٹ میرے ہاتھوں سے نکل جاتا ہے.میں چونکتا ہوں.مجھے اپنے ہاتھ پر کسی کی گرفت محسوس ہوتی ہے.گھبرا کر ہاتھ دیکھتا ہوں تو خالی ہیں.
مجھے اپنا دم گھٹتا محسوس ہوتا ہے.میں جلدی سے اٹھتا ہوں.لڑکھڑاتا ہوں.سایہ میرے پیچھے ہی آرہا ہے.
شاید یہ مجھے مارنا چاہتا ہے.پر نھیں ابھی نھیں.ابھی میرے بچوں نے آنا ہے.میں اسے آسانی سے مارنے نھیں دوں گا.میں بھاگتا ہوِں.پارک سے نکل کر سڑک پار کرنے ہی لگتا ہوں کہ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے .تیز روشنی میرے حواسوں کو اپنے قابو میں کرتی ہے.سایہ ابھی بھی میرے پیچھے ہے.اور……!
شدید تکلیف کے احساس سے میری آہ نکلتی ہے.فورا ہی سفید کپڑوں میں ملبوس اک لڑکا میری طرف لپکتا ہے.میں مر چکا ہوں مجھے یقین ہونے لگتا ہے.
پر وہ شخص مجھ پہ جھک کر مجھ سے کچھ پوچھ رہا ہے.مجھے ہلکی سی آواز سنائی دیتی ہے.
“کیا آپ بہتر محسوس کر رہے ہیں.”؟
میرا سر ہلتا ہے اور وہ بتانے لگتا ہے کہ آپ کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا.آپ شدید ڈپریشن کا شکار ہیں.آپ کو ذہنی سکون کی ضرورت ہے.”
اور اس کے ساتھ ہی مجھے انجکشن لگتا ہے.بے ہوشی کے اثر میں ڈوبنے سے پہلے مجھے ساتھ والے بیڈ پہ موجود لڑکے کی آواز سنائی دیتی ہے جو اپنے ساتھی سے کہہ رہا ہوتا ہے.
” ساری عمر اپنی مرضی کر کے ، آخر میں پچھتاؤوں کا شکار ہو کر یہاں آ جاتے ہیں.بیچارے ڈپریشن کے مریض.”

اپنا تبصرہ بھیجیں