افسانہ ،، ڈاک بنگلہ ،، احسان قاسمی

سخنور تخلیق نو افسانہ بیٹھک۔ سیزن 1
افسانہ : 19
عنوان : ڈاک بنگلہ
تحریر : احسان قاسمی
بینر : سید عبداللہ حیدر
بیل منڈی بٹیل ، تین کنوا تیل
الکو بھتار ، پھوڑکو کپار ۔۔۔۔۔۔۔
اور بیل منڈی سمیا دانت کچکچاتی ہم سب کے پیچھے دوڑ پڑتی ۔ ڈر کر ہم ادھر ادھر بھاگ کھڑے ہوتے ۔ سارے میدان میں آگے پیچھے چکراتے پھرتے اور ساتھ ہی اولذکر کلمہ کا ورد بھی جاری رہتا ۔ آخر کار وہ تھک کر بیدم سی گھاس پر بیٹھ جاتی ۔ اپنی ناکامی پر اسکی کیج سے سنی آنکھیں بھر آتیں اور زیادہ پریشان کرنے پر وہ وہیں زمین پر بیٹھی بیٹھی چاروں ہاتھ پاوءں پٹخ پٹخ کر اور بھاڑ سا منھ کھول کر بھیں بھیں کرنے لگتی ۔ روتے روتے اسکی ناک بہنے لگتی جسے سلیقے سے صاف کرنے کے بجائے وہ منھ پر ایسے الٹے سیدھے ہاتھ پھیرتی کہ ساری پوٹ ہاتھوں اور گالوں پر لسر جاتی اور اس کا بدنما چہرہ انتہائ غلیظ نظر آنے لگتا ۔ ہم اسے وہیں روتا چلاتا چھوڑ کر دوسری جانب بھاگ کھڑے ہوتے ۔ پھر چھوٹے بھیا کی لیڈر شپ میں ڈھونڈ ڈھانڈ کر اسکی چھوٹی بہن چمیا کو میدان میں کھینچ لاتے ۔ اسے چھیڑنے کیلئے ہم نے دوسرا کلمہ ایجاد کر رکھا تھا ۔
جانے کیا بات تھی کہ ان دونوں کو پریشان کرنے اور چھیڑ چھیڑ کر رلانے میں ایک خاص لطف حاصل ہوتا تھا ۔ دونوں بہنیں بالکل ایک جیسی تھیں ، ایکدم سر جھاڑ منھ پھاڑ ۔۔۔۔۔۔۔ ! ہمیں تو دونوں آدمی کے بچوں سے بالکل الگ بندر یا کسی عجیب الخلقت جانور کے بچے زیادہ نظر آتے تھے ۔ ان کا باپ بھینگی آنکھوں والا بلٹ ( Billat ) ذات کا مسہر(Mushar) تھا اور ٹین کی جھلائ وغیرہ کا کام کرتا تھا ، لیکن اس کا دلچسپ ترین مشغلہ چوہوں کا شکار تھا ۔ وہ روزانہ تقریبا” دس بجے ایک گھنٹہ کیلئے شکار کو نکلتا اور جب واپس لوٹتا تو ہاتھوں میں کئ چوہے ہوتے جنہیں وہ انکی لمبی لمبی دم پکڑے لٹکائے ہوتا ۔ منظر تو کراہیت آمیز ہوتا لیکن کوئی خفیہ سی کشش ضرور تھی جو ہمیں اسکے آنگن میں لئے چلتی ۔ وہاں بیچ آنگن میں آلتی پالتی مارے بلٹ چوہوں کی صفائی میں مصروف ہوتا ۔ اس وقت اسکی آنکھوں میں عجیب سی چمک ہوتی ۔ ہزاروں سال قدیم کسی کامیاب شکاری کی آنکھوں کی چمک ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اسکے ہونٹوں پر ہلکی سی گنگناہٹ ہوتی ۔ وہ اپنے کام میں اس قدر منہمک ہوتا کہ اسے گرد و پیش کی قطعی کچھ خبر نہ رہتی ۔ پہلے چوہوں کی کھال ادھیڑی جاتی پھر انکے پیٹ پھاڑ کر آلودگی نکالی جاتی ، حصے بخرے کئے جاتے ۔ اسی درمیان سمیا اور چمیا میں کسی خوب موٹے تگڑے چوہے کو لےکر جھگڑا کھڑا ہوجاتا ۔ خیر ! بڑی مشکل سے فیصلہ ہوتا ۔ پھر سالن کی ہانڈی چڑھ جاتی اور سب جنے مل کر خوب مزے سے چپڑ چپڑ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آخ تھو !
ہمارا کوارٹر ڈاک بنگلہ کے خوبصورت سے احاطہ میں تھا ۔ ڈاک بنگلہ ڈسٹرکٹ بورڈ کا تھا اور اسکی نگہداشت کی ذمہ داری والد صاحب کی تھی ۔ سامنے ہائی وے اور بالکل پیچھے ہمارے کوارٹر کے آنگن کی دیوار اور چھوٹی ریلوے لائن ۔ بائیں جانب بازار کی طرف جانے والی سڑک اور ریلوے کراسنگ اور دائیں جانب ڈاک بنگلہ کی پرشکوہ عمارت ۔۔۔۔۔۔۔ علی الصبح جسکے بام پر سے شمال کی جانب آسمان کو بغور دیکھنے سے ہمالہ کی برفانی چوٹیوں کی جھلک ایک سفید چمکدار لکیر سی نظر آتی تھی جیسے رادھا کے دوپٹہ کا گوٹ لگا چمچماتا کنارہ ۔ رادھا ڈاک بنگلہ کے چوکیدار سری لال کی سانولی سی لڑکی تھی ۔ نازک ، شرمیلی اور پیاری سی جیسے سامنے باغیچہ میں کھلنے والے پپی کے پھول ۔ لیکن پپی کے پھولوں میں وہ ہلکی سی آنچ نہیں ہوتی جو رادھا کے قرب میں تھا ۔ جنوری کے کھلے آسمان میں پھیلی ہلکی خوشگوار دھوپ کی طرح جسکی کرنوں میں ریشم کی ملائمیت ہوتی ہے اور پڑھتے پڑھتے میز پر سر رکھ کر سو جانے کو دل چاہنے لگتا ہے ۔ رادھا کا قرب ایسا ہی نرم ، گرم اور فرحت بخش تھا اور ہم دونوں ہمیشہ ساتھ کھیلا کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دولہا دلہن کا کھیل ، جسمیں وہ مجھے لوہے کے اونچے سے رولر پر بٹھا دیتی اور آرتی اتارنے لگتی جیسے سچ مچ کوئی رادھا اپنے کرشن کی آرتی اتارتی ہو ۔ میں اینٹ کا ایک ٹکڑا لے کر اسکی سرخی بناتا اور اسکی مانگ میں سیندور بھر دیتا اور جب شفق کی ساری سرخی اسکی مانگ میں بھر جاتی اور اسکی نگاہوں میں ستارے سے جھلملانے لگتے تو وہ ایک انوکھے انداز میں مسکرا کر میری جانب دیکھتی اور مجھے کچھ یوں محسوس ہوتا جیسے آسمان پر چودھویں رات کا ایک بھرپور چاند روشن ہو اور ساگر کی کانپتی لہروں پر سینکڑوں چاند جھلملانے لگے ہوں ۔
میرے ہونٹ کانپ کر رہ جاتے ۔ لیکن وہ ساری باتیں بچپن کی تھیں ۔ اب تو رادھا شادی شدہ ہے اور پھر ہم نادان بھی تو نہ رہے۔
ڈاک بنگلہ کا سارا عملہ ہملوگوں کیلئے بڑا مشفق اور محبت کرنے والا تھا ۔ بہادر خانساماں جو باورچی خانہ میں بٹھا کر روز اچھی اچھی چیزیں کھلایا کرتا ۔ بوڑھا مالی ۔۔۔۔۔۔۔ پھول توڑنے کے جرم میں جسکی ڈانٹ ڈپٹ اتنی پیاری ہوتی جیسے پھولوں کی کیاریوں میں ہنستا ، کھلکھلاتا ، دوڑتا ٹھنڈا پانی اور چوکیدار سری لال ۔۔۔۔۔ جسکی تھالی میں سوائے روکھے چاولوں کے کبھی کچھ نظر نہ آیا ۔ ہاں ! کبھی کبھار پودینے یا اول کی چٹنی تھالی کے کسی کنارے نظر آجاتی لیکن وہ بھی کافی قلیل مقدار میں ۔ چوکیدار کا سارا کھانا ختم ہو جاتا اور چٹنی پھر بھی اپنی پہلی شکل و صورت میں موجود رہتی ۔ آخر ایک انگلی سے چھو چھو کر بہت دیر تک چٹنی چاٹتا رہتا اور دوسرا ہاتھ باہر نکل آئے پیٹ پر پھیرتے ہوئے لمبی لمبی ڈکاروں کے درمیان چٹنی کی شان میں قصیدہ خوانی کرتا رہتا جیسے وہ اول کی چٹنی نہ ہو بہادر شاہ ظفر کے بھیجے آم یا بیسنی روٹیاں ہوں ۔ جس دن اسکی تھالی میں خدا کے فضل و کرم سے چٹنی کا ظہور ہوتا اس دن کھانے کے گھنٹوں بعد تک وہ بار بار اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتا رہتا اور جان بوجھ کر ڈکاریں لیتا تاکہ چٹنی کا مزہ دیر تک منہ میں قائم رہے ۔
ہم بچوں کیلئے ساری دنیا سمٹ کر ڈاک بنگلہ کے احاطہ میں ہی آگئی تھی ۔ عمر اور عقل کے ساتھ دنیا کی لمبائی اور چوڑائی بڑھتی ہے ۔ مجھے یاد ہے ۔۔۔۔۔۔ خاردار داروں سے گھرے احاطہ کے باہر کی دنیا کتنی اجنبی سی تھی ۔ ہائ وے پر دوڑتی کاروں ، بسوں ، تانگوں اور رکشوں سے ہمیں کوئ لگاوء نہ تھا ۔ ہمیں تو پیار تھا صرف اپنی دنیا سے ۔ ہماری دنیا میں ڈاک بنگلہ کا کشادہ برآمدہ تھا ، وسیع و عریض میدان تھا ، ساگوان کا وہ عظیم الشان درخت تھا جس پر سینکڑوں طوطے دن بھر ٹائیں ٹائیں ٹیں ٹیں کرتے رہتے ۔ سامنے کا دلکش باغ جہاں کیاریوں میں پانی بچوں کی ہنسی کی طرح مچل مچل کر اور چمک چمک کر بہتا ۔ بچوں کی ہنسی میں زندگی ہوتی ہے تبھی تو باغیچہ کے پودے اتنے ہرے بھرے تھے ۔ ہماری دلچسپی کا سامان لوہے کا بیکار پڑا رولر تھااور دو چکوں والی ایک مشین تھی جسکے دانت دار چکوں کے درمیان پتھر کا چھوٹا سا ٹکڑا رکھ کر پوری قوت سے ہینڈل گھمانے پر پتھر چور چور ہوجاتا تھا ۔ ہماری دلچسپی کا مرکز احاطہ کے پیچھے سے گذرنے والی ریل گاڑیاں تھیں ۔ اٹھتے دھوئیں ، لچکتی ٹرین اور گرجتے انجن میں ایک عجیب سی رومان آمیز کشش تھی ۔ ٹرین گذرتی تو ہم جاگتی آنکھوں سے ایک خواب سا دیکھتے رہتے ۔ ریل گاڑیوں سے محبت کی یہ کشش ہی تھی کہ ہم نے ریلوے لائین کے پاس شریفہ کے پیڑ پر جھولا ڈالا تھا ۔ ٹرین کی لمبی سی سیٹی سنتے ہی دوڑ کر ہم وہاں جمع ہوجاتے ۔ ہنستے مسکراتے چہرے ایک ایک کر سامنے سے گذرتے اور ہم خوشی میں چیخنے چلانے اور تالیاں بجانے لگتے ۔ کبھی کبھی مسافروں کو انگوٹھا دکھانا اور منھ چڑانا بھی بہت مزہ دیتا ۔ لیکن آدمی کی مسرت کب پائیدار ہوتی ہے ؟ بڑی لائین بچھنے والی تھی ۔ ریلوے نے ڈاک بنگلہ کے عقبی حصے کی کافی زمین اور وہ کوارٹر لے لیا ۔ گھر توڑ ڈالا گیا ۔ چند دن ہمارا قیام دوسرے محلے میں بطور کرایہ دار رہا ۔ اسی درمیان ابو جان کا تبادلہ ہو گیا اور ہم یہاں آگئے ۔
پچھلے دنوں تقریبا” پندرہ سالوں بعد کشن گنج گیا ۔ ان پندرہ سالوں میں کتنا کچھ بدل چکا ہے ۔ ساری اپنائیت جیسے ختم ہو چکی ہے ۔ ٹوٹے مکان کی ایک اینٹ تک باقی نہیں ۔ بیتے لمحوں کا کوئ نشان نہیں ، بچپن کی خوشبو ہوا ہو چکی ۔۔۔۔۔ میں سمجھتا تھا کسی کو پہچان نہیں پاوءنگا لیکن ڈاک بنگلہ کے کچن کے برآمدہ پر ایک جانا پہچانا چہرہ نظر آگیا ۔
وہ خانساماں بہادر تھا ۔ وقت کے ہاتھوں اسکے چہرے کی خاصی مرمت ہوچکی تھی ۔ اسے میری نظروں نے نہیں پہچانا مگر میرے دل نے پہچان لیا ۔ ایک لمحہ کیلئے بہادر ٹھٹکا پھر چیختا ہوا سا مجھے اپنی بانہوں میں بھر لیا ۔ بچوں کا دل بڑا ملائم ہوتا ہے ، انکے دل میں محبت اور نفرت کے جذبات بہت جلد اور بہت شدت کے ساتھ جگہ بنا لیتے ہیں ۔ میری آنکھوں میں تو بچپن کی محبت آنسوءں کی شکل میں امڈ آئی تھی ، لیکن بہادر تو کوئی بچہ نہ تھا ۔ بہادر سے الگ ہوا تو چوکیدار لپٹ پڑا ۔ جانے کتنی دیر تک ہم یونہی ایک دوسرے سے لپٹ لپٹ کر روتے رہے ۔ بوڑھا مالی ریٹائر ہو کر اپنے دیس جا چکا تھا اور بلٹ کو کہیں کوئی سرکاری زمین حاصل ہو گئ تھی جہاں اسنے اپنی جھونپڑی بنا لی تھی ۔
دوپہر میں ڈاک بنگلہ کے آرامدہ بستر پر لیٹا خیالات کے تانے بانے بنتا رہا ۔ کتنے دنوں بعد آج یہاں آیا ہوں ۔ کس قدر دھوم مچایا ہے اس چھت کے نیچے لیکن وقت کتنی تیزرفتاری سے سب کچھ پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ گیا جیسے ہوا کا ایک جھونکا ڈاک بنگلہ کی ایک کھڑکی سے اندر داخل ہوکر دوسری کھڑکی سے باہر نکل گیا ہو ۔ صرف کھڑکیوں کے پردے ابتک ہلکے ہلکے کانپ رہے ہیں ۔ سب کچھ اسی چھت کے تلے ۔۔۔۔۔ اور چھت کے اوپر ؟ ——- ہمالہ کی چمکتی چوٹیاں اور ۔۔۔۔۔۔۔۔ رادھا کا دوپٹہ ، اسکی شوخ چمکتی آنکھیں اور معصومیت سے لبریز ہنسی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پتہ نہیں رادھا کہاں ہوگی ؟ ۔۔۔ میں سوچتا رہا —— رادھا نے جو سپنے دیکھے تھے شاید پورے ہو گئے ہوں ۔ شاید وہ اپنے شوہر کی اسی طرح پوجا کرتی ہو جیسا کہ مجھے رولر پر بٹھا کر کیا کرتی تھی اور شاید اس وقت اسکا شوہر خود کو کرشن مراری سمجھنے لگتا ہو ۔ شاید رادھا وہ تمام باتیں بھول چکی ہو یا نہ بھولی ہو ۔۔۔۔۔۔ کیا اسے معلوم ہے کہ اسکا کرشن زندگی کی شاہراہ پر بالکل یکہ و تنہا آج تک بھٹک رہا ہے ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں عالم بیچینی میں اٹھ بیٹھا ۔ سامنے ایک ضعیف اور مکروہ صورت عورت موجود تھی ۔ کھچڑی بال ، غلیظ بے نور آنکھیں ، دھنسے گال ، میلا بدبودار چیتھڑا لٹکائے —— ارے ! یہ کون عورت ہے ؟ یہ بھیک منگی یہاں کیسے آگئ ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” کون ہو تم ؟ ۔۔۔۔ کیا بات ہے ؟؟
” ہم رادھا ہیں بابوجی ۔۔۔۔۔۔ رادھا ”
” رادھا ؟ ——
میں جیسے ڈاک بنگلہ کی چھت پر سے سنگلاخ دھرتی پر آگرا ۔
” کیا کریں بابوجی ۔۔۔۔۔ سب تقدیر کا کھیل ہے ۔ د و برس سے ٹی بی دھرلیا ۔ اسپتال کا پانی پی پی کے جیتے ہیں ۔ مہینہ بھر سے یہاں پڑے ہیں ۔۔۔۔۔۔
” رادھا ——- !
” یہیں پر کون سا سکھ ہے بابوجی ؟ مہنگائی بڑھ کے ہوگئ سو گنا اور بابا کا مساہرہ کیا بڑھا ؟ اب اتنا کم مساہرہ میں آدمی کھائے کہ علاج کروائے ؟ ۔۔۔۔۔۔ اور روگ بھی راج روگ ۔ پانچ دن ہوا گوپال بابو نے رحم کھاکے ایک سو روپیہ دیا تھا ۔ اسمیں سے تین جکسن آیا اور کچھ گولی ، دو دن سے نہ جکسن ہے نہ گولی ۔ دو ٹھو بچہ ہے سرکار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”
میری قوت فیصلہ جواب دے گئ ۔ پاکٹ میں ہاتھ ڈالا ، پانچ سو کا ایک نوٹ ہاتھ میں آگیا جسے میں نے اسکی جانب بڑھا دیا ۔ اس نے لرزتے ہاتھ سے نوٹ لے کر اپنی مٹھی میں جکڑ لیا ۔ مجھے اپنی سانسیں گھٹتی ہوئ محسوس ہوئیں جیسے کسی نے میرا دل مٹھی میں جکڑ لیا ہو ۔ پھر وہ نیچے فرش پر سے اٹھی اور خاموشی سے دروازے سے باہر چلی گئ جیسے ہوا کا ایک جھونکا ڈاک بنگلہ کے ایک دروازہ سے اندر آئے اور اندر رکھی چیزوں کو چھیڑ کر دوسرے دروازے سے باہر نکل جائے ۔ میرا دل دروازے اور کھڑکیوں کے پردوں کی مانند ہلکے ہلکے کانپتا رہا ۔ !!

اپنا تبصرہ بھیجیں