افسانہ ،، نوٹ ،، انعم خان

سخنور تخلیق نو افسانہ بیٹھک سیزن 1
افسانہ نمبر : 65
عنوان : نوٹ
تحریر : انعم خان
بینر نوشی قیصر
دن بھر کڑکڑاتی دھوپ و تپتی دوپہر اس کے ناتواں اعصاب پر کڑا امتحان ثابت ہوئی ،کھردرے پیروں میں گھسی چپلیں الگ آزمائش بنی تھیں ۔میلے کچیلے کپڑوں کو پسینے نے مزید بدبو دار بنایا توگندے بکھرے بالوں نے رہی سہی کسر پوری کرکے کسی کی نظروں میں ہمدردی کے آثار نمایاں کیے تو کسی نے کراہیت آمیز نظروں سے اسے دیکھا۔کسی نے دوچار روپے ہتھیلی پر رکھے تو کسی نے بڑھے ہوئے ہاتھ کو بے دردی سے پرے دھکیلا، دھتکارا، کسی نے اپنی مجبوری کا رونا رویا تو کسی نے اسے مجبوری کا رونا رونے پر بہت کچھ سنایا، ساتھ ہی تضحیک کا نشانہ بنائے مصنوعی فکر کی لفظی برسات کی۔ کسی نے پڑھائی کے نادر و مفید مگر مفت مشورے سے نوازا تو کسی نے کسی دکان پر کام کرنے کی صلاح دی۔
وہ منہ بسورےآگے بڑھتا رہا۔
اللہ پاک نے اسے بھی دو کان دیے تھے۔جن کا وہ روزانہ بخوبی استعمال کرتا۔ دو چار سکوں پر رٹی رٹائی دعاؤں کو لفظی مالا پہناتا۔مفت نصیحت ہربار بے شمار حسرتوں تلے دب جاتی ۔ہشاش بشاش چہرے ، بھری تھیلیاں ، موسمی پھل ، مشروبات دیکھنے سے حلق میں گرہ سی لگتی تو ایک ہاتھ جیب تک جاتا تو دوسرا ہاتھ لپک کر پہلے ہاتھ کو پیچھے کھینچتا ۔کبھی بھوک مٹانے کے لیے بیکری کے شیشوں کو چاٹنا پڑتا۔ شفاف شیشوں کو زبان سے دھندلا کرتا پکڑا جاتا تو ایک دو تھپڑ کے ساتھ گالیاں بھی کھانے کو ملتیں۔
بارہ سالہ اسکی حسرتوں کو آٹھ سالہ تجربے نے بے بسی میں رُلتے دیکھا۔دھتکار ملتی یا گالیاں مگر اس نے آگے بڑھنا سیکھا لیا،اٹھتے قدم تھک بھی جاتے لیکن رکنا محال تھا۔ اسے ایک سکہ بھی سو صلواتوں کے ساتھ منظور تھا۔یہی اس کی زندگی کے لیے بچھا جال تھا۔
آج کا دن باقی دنوں سے زیادہ کڑا تھا۔
باپ بیمار تھا۔ ماں چوتھے بچے کی پیدائش کے سبب گھر میں تھی۔ آج کی کمائی اور روٹی کا ذمہ اس کے سر تھا۔ صبح چائے کے ساتھ باسی روٹی کھا کر گھر سے نکلا، ابتداء اچھی ہوئی ، سکوں کی بھرمار ہوئی۔ دس ، بیس روپے کے نوٹ بھی ملے۔ نوٹ ملنے پر اس کی عید ہو گئی۔خوشی دیدنی تھی۔ دوپہر ہوئی، بھوک کا احساس بھی جاگا۔ ایک ہوٹل کے سامنے رکا ، جیب بھری تھی۔ بنا سوچے پیسے نکالے، شان سے ہوٹل کے اندر داخل ہوا ، ایک نان اور چھولے کی پلیٹ کا آڈر دیا ۔ہر نوالے کے ساتھ گرما گرم بھاپ کے ساتھ مزے دار خوشبو لذت بڑھاتی رہی۔اس کا دل گواہ تھا ۔ آج سے ہہلے کھانے کا اتنا مزہ کبھی نہیں آیا تھا۔مسکراھٹ اتنی گہری تھی کہ گویا سالوں کی تھکن آج اتر گئی ہو۔
کھانے کے بعد چال میں پھرتی تھی۔ جیب میں جمع سکوں کی آواز پر دیوانہ سا بنا گھر کی طرف بڑھنے لگا جبھی اچانک افتاد پر وہ زمین بوس ہوا مگر ستم تو تب ٹوٹا جب ایک لڑکےنے اسے گرفت میں لیا تو دوسرے نے اس کی بھری جیب کو خالی کرنا چاھا۔ وہ دونوں ہوٹل میں اس کے جانے اور باہر آنے تک اس پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ویرانے تک دونوں نے اس کا تعاقب کیا۔اب تینوں کے حلیے ایک جیسے تھے۔ ایک پیشہ تھا۔مگر صرف ایک واضح فرق تھا۔۔۔ بھری جیب کا۔۔۔۔ وہ چیخ چیخ کر انہیں روکنے لگا، مگر وہ بہرے بنےجیب خالی ہوتے ہی سر پٹ بھاگے۔ وہ روتا ہوا اٹھا گالیاں دیتا رہا مگر بیکار۔۔۔ وہ منظر سے غائب ہو چکے تھے۔ چند لمحوں میں خوشی عرش سے فرش پر اوندھی گری تھی۔نہ جیب میں سکے تھے نہ بھرے پیٹ کی خوشی باقی رہی تھی۔ ساری محنت ضائع ہو چکی تھی۔
باپ کا ڈر اور متوقع مار کا خوف بھی چہرے پر بکھرا ۔ہوا کے گرم تپتے تھپیڑوں نے گال بھی سرخ کر دیئے۔
۔دل ابھی ہوئی واردات بھولنے کا تیار نہیں تھا مگر ناچار ۔۔۔ ملال اپنی جگہ اس نے پھر سے قدم بازار کی جانب بڑھائے۔ ایک ایک کے سامنے ہاتھ پھیلایا مگر شاید گرمی نے سب کا پارہ ہائی کیا ہوا تھا۔ دھتکار کے سوا کچھ نہ ملا۔۔۔ شام تک اعصاب جواب دینے لگے۔ جیب بھی ہنوز خالی تھی۔ باپ کا خوف ناک ردعمل بھی زہنی اذیت میں مبتلا کرنے لگا، اسے گھر جانا تھا مگر خالی ہاتھ نہیں۔۔۔
ٹانگیں چلنے سے تھکنے لگیں۔ تو کراکری سٹور کے باہر کچھ پل کے لیے بیٹھ گیا۔ جب ہی ایک گاڑی وہاں رکی۔ اس نے گاڑی کو دیکھا۔ ایک عورت باہر نکلی ۔ وہ لپک کر آگے بڑھا۔ رٹے رٹائے جملے دہرائے، ہاتھ آگے بڑھایا۔ عورت نے ایک ناگوار سی نظر اس پر ڈالی۔ساتھ ہی پرس ٹٹولنے لگی۔ اس کی سوئی امید جاگی ، نظریں پرس پر گاڑیں ۔۔عورت کو شاید کوئی سکہ نہ ملا ، دینے کا ارادہ ترک کرتی آگے بڑھی۔ جب ہی اس کا موبائل بجا، اس نے موبائل کان سے لگایا۔
“جی بیٹا۔۔۔ میں تھوڑی دیر میں آتی ہوں۔۔۔ ہاں ہاں ۔۔ مجھے یاد ہے۔ آئسکریم بھی لاؤں گی۔۔۔ بس تھوڑا سا سامان لے لوں۔۔۔ پھر آتی ہوں۔۔۔!”
وہ اسی عورت کی طرف متوجہ تھا۔ اس عورت نے توقف بعد کال بند کی۔ اور کراکری سٹور میں چیزیں پسند کرنے لگی۔ چیزیں پسند کرنے کے بعد عورت نے پرس پھر سے کھولا۔ اور اس بار کئی ہزار ہزار کے نوٹ باہر نکالے۔۔۔ ساتھ دکاندار کا انتظار کرنے لگی جو دوسرے گاہک کے ساتھ مصروف تھا۔لیکن اس دوران عورت کے ہاتھ میں پکڑے نوٹ للچائی آنکھوں کے گھیرے میں تھے۔ آنکھیں لہو رنگ ہونے لگیں، عورت کے باہر آنے تک انتظار و پھر سے سکوں کی مانگ کا خیال ذہن میں ابھرا،اسی دوران اپنے ساتھ ہوئی سفاک واردات نے دماغی پردے پر فلمی روپ دھارا۔ وہ جیسے بے بس ہوا، غم و ضبط پر بے تابی کڑا وار کرنے لگی تو کئی سوچیں ایک ساتھ ذہن و اعصاب پر بوجھ بنیں ۔ اس نے سکے گنوائے تھے۔ گھر جانے سے پہلے اب ازالہ لازم تھا۔۔۔ اور وہ ازالہ اسے نوٹوں سے کرنا تھا۔اب چند سکوں کے ساتھ واپسی پر باپ کا قہر اسے قطعاً منظور نہیں تھا۔یک دم اس نے فیصلہ بھی کر لیا۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھا۔ مگر اٹھتے ہی پہلے قدم ہوا میں معلق رہ گیا۔
“تم چور نہیں ہو۔۔۔تم غلط نہیں ہو پھر غلط کام کیسے کر سکتے ہو !!!”
کہیں اندر سے آواز ابھری تھی۔
آج تک اپنا رزق اس نے چھینا نہیں بلکہ اللہ کے بندوں سے اللہ کے نام پر مانگا تھا۔ غربت میں بھی وہ اللہ کی رضا میں راضی اپنی حسرتوں کو کچلے آگے بڑھا تھا۔ اسے اب بھی ویسے ہی آگے بڑھنا تھا.اس آزمائش میں کھرا اترنا تھامگر اگلے ہی لمحے اس نے پاؤں زمین پر جمائے۔ ہر سوچ و اندرونی آواز بے صبری کی دبیز تہہ تلے دبی ۔ اس نے سر جھٹکا ، فیصلہ اٹل تھا۔ اپنے ساتھ ہوئی ناانصافی کو اب اس نے انصاف دلانا تھا۔ اور وہ ایک ہی صورت ممکن تھا۔
کراکری سٹور میں داخل ہوتے ہی اس نے توقف بھر کو آنکھیں میچیں ، بے تاب دل کو ڈھارس دی، بند آنکھوں کے سامنے منظر واضح تھا۔ اس نے آنکھیں وا کیں اور ہمیشہ اللہ کے نام پر سِکوں کے لیے لوگوں کے سامنے بڑھانے والا ہاتھ اپنی پوری طاقت و چِیل کی سی پھرتی کے ساتھ عورت کے ہاتھ میں پکڑے نوٹوں پر جھپٹا اور وہاں سے بھاگ نکلا!!!’

اپنا تبصرہ بھیجیں