افسانہ ،، معصوم ،، سارا احمد

سخنور تخلیق نو افسانہ بیٹھک۔ سیزن 1
افسانہ : 22
عنوان : معصوم
تحریر : سارہ احمد
بینر : سید عبدللہ حیدر
فرید نے دروازے کو ایک ٹھوکر لگائی_دروازہ بھی اس ضرب کا عادی تھا_ احتجاجی چرچراہٹ کے ساتھ اسے اندر آنے کا راستہ دے کر پھر اپنی جگہ پر ٹِک گیا_
اسکول کا میلا یونیفارم اتار کر اس نےصحن میں چارپائی پر ہی پھینک دیا_کپڑے بدلنے کی بھی اسے زحمت نہیں اٹھانا پڑی_ گھر کے کپڑے یونیفارم کے نیچے ہی پہنے ہوئے تھے_ صرف اسکول کے جوتوں کی جگہ گھر کی قینچی چپل نے لے لی_ربڑ کی چپل کی تنیاں اس نے کھینچ کر تسلی کی کہ کہیں سے نکل تو نہیں جائیں گی_ بائیں پاؤں کی چپل کے انگوٹھے والی جگہ میں اس نے صحن سے ایک ٹاکی ڈھونڈ کر اڑس لی_اس کا ڈر تھا کہ ٹوٹی ہوئی جگہ سے تنی نہ نکل آئے_
راحت مشین کا کام چھوڑ کر باورچی خانے سے پرات اُٹھا لائی اور بڑی احتیاط سے فرید کے سَر پر رکھ کر اس کی گال پر پیار کیا_فرید کے نتھنے بڑے پن کے احساس سے ذرا سے پھولے اور چھاتی باہر کو نکل آئی_
ابھی انگلش میڈیم اسکول کی چھٹی میں کچھ وقت رہتا تھا_ فرید ایک کونے میں اسٹول پر اپنی پرات رکھ کر بچوں کا انتظار کرنے لگا_ راحت صاف ستھرے کپڑے سے سامان ڈھک کر فرید کو دیتی تھی_ جب تک بچے اس کے پاس نہ آتے وہ کپڑے پر کاڑھے ہوئے پھولوں کی پتیوں کو گنتا رہتا_کبھی بھی وہ سارے پھولوں کی پتیاں نہ گن پایا_ ہزار سے اوپر تو ہوں گی_وہ سوچتا کبھی تو اتنے روپے بھی وہ اپنی ماں کو کما کر دے سکے گا_گھنٹہ بھر کی یہ مشقت اسے ایک نئی امنگ دیتی_اپنے حصے کے پیسے وہ الگ رکھتا_ اسے نہیں معلوم کیونکر وہ اپنی معصوم خواہشوں کو نکیل ڈالنے کا عادی ہو گیا تھا_
شام میں شیشوں کے پار اس کی نگاہیں گاڑی کے اندر بیٹھے چہروں کو بھانپتی اس کے چھوٹے چھوٹے قدموں کو ان کی طرف بھگائے پھرتیں_بانس میں پروے گجروں کی قطار کے ایک سرے پر اس کی تھکن ہوتی اور دوسرے پر امید_
رات کبھی نامہربان رہتی اور کبھی مہربان ہو کر اس کی جیب میں اپنی من پسند اجرت کے ساتھ کھنکتی گھر واپسی کے سفر میں انوکھی اڑان بھر دیتی_
گجرے خوبصورت تھے_سفید اور سرخ پھولوں میں گندھے گیلے گیلے ٹھنڈک لئے_ ماں کے بالوں کو چوم کر وہ اس کے سینے میں چھپ گیا_ آخری گجرے کی خوشبو گھر کے واحد اس کمرے سے سنبھالی نہ جاتی_ راحت عمر کے ابھی اس حصے میں تھی جہاں رنگین چُنری اُڑھ کر خود کو آئینے میں دیکھنا اچھا لگتا ہے_ماجد کی آنکھیں کہیں گم ہو گئیں تھیں جو ہر پل محبت کے دھنک رنگ سجائے اس کے ہر انگ کو چھوتی تھیں اوراس کی حیا بار پلکوں کو شبنمی کرتی تھیں_ اب یہی راحت کی دنیا تھی_یہی خاندان تھا_ ایک سپنا تھا جیسے پال پوس کر ماجد جیسا بنانا تھا_ اس کا سہاگ کسی سڑک پر کسی انجان گاڑی کے نیچے کچلا گیا_ زندگی نے وقت کی پٹڑی پر ٹھہرنا چاہامگر پیٹ کی آگ نے مرنے والے کے غم کو سَرد کر دیا_سانسیں چلنے لگیں اور جینے کی عادی ہوتی گئیں_
رات دیر تک کمرے کی بتی جلتی رہی_فرید اسکول کا کام کرتا رہا اور وہ اپنا سلائی کا کام_ زندگی کے خواب پورے کرنے کے لئے نیندیں تیاگ کر عُمریں شائد دوگنی کرنی کی کوشش کی جاتی ہے_
صبح کی انگڑائی ایسی تھی کہ آدم زاد اپنی سوئی ہوئی ساری فکریں جگا کر ان کے آگے جُت گیا_فرید دھلا ہوا یونیفارم پہن کر اپنے سرکاری اسکول چلا گیا اور راحت نے آلو ابالنے کے لئے چولھے پر چڑھا دیئے_
دستک مانوس تھی مگر انداز میں اضطرار اسے کھٹکا_ دروازے کی درز سے اس نے دیکھا سبزی والا چاچا بیقراری سے دروازے پر ہاتھ مار رہا تھا_
” کیا ہے چاچا”؟
” پتر اپنا فرید اسکول سے آئے تو دس نان ٹکی کے رول ریاض کی بیٹھک پر بھی بجھوا دینا”_
بات اتنی سی تھی اور اس کا دل دہلا کر چاچا اپنی پولیو زدہ ٹانگ گھسیٹتا ہوا چلا گیا_
سلائی اور گھر کےدیگر کاموں سے ضروری اب یہ کام تھا_اس نے ابلے ہوئے آلوؤں کا کنستر خالی کر کے کچھ اور آلو ابالنے کے لئے رکھ دیئے_
ایک کمرے والے اس گھر کا صحن بڑا تھا_اس کے اوپر جتنا آسمان تھا وہی بس اس کا تھا_وہ کام کرتے ہوئے کبھی اوپر بدلیوں کے رنگ بدلتے دیکھتی اور کبھی سامنے دیوار کے ساتھ کھڑی سٹیل کی پرات میں اپنا ہلتا ہوا دھندلا عکس_
سلاد ، چٹنی اور آلوؤں کی ٹکیاں اس نے تیار کر کے ململ کے دوپٹے سے ڈھانپ دیں_کمر دوہری ہو گئی تھی_ابھی خود کو چارپائی پر گرایا ہی تھا کہ دروازہ فرید کے جوتوں کی ٹھوکر سےکھل گیا_
“ماں خان نے دس نان زیادہ دئیے ہیں_”
فرید تیز تیز چل کر آیا تھا_ سانس پھولی ہوئی تھی اور راحت کو دَم لینے کی بھی فرصت نہ ملی_ فوراً اٹھ کر بیٹھ گئی_دس کے علاوہ باقی کے نان آدھے آدھے تھے_آج چاچا سبزی والے نے تندور والے خان کو کہہ دیا تھا کہ راحت نہیں آ سکے گی_ فرید کو ہی چھٹی کے وقت گزرتے ہوئے آواز دے کر نان پکڑا دینا_
جب تک فرید نے کپڑے بدلے راحت نے نان ٹکی کے رول بنا کر پرات تیار کر دی اور دس رول علیحدہ بڑے لفافے میں ڈال کر اس کے ہاتھ میں پکڑا دیئے_ خلافِ معمول فرید نے آج اپنا چہرہ خوشبو والے صابن کی چھوٹی سی چِپر سے خوب رگڑ کر دھویا تھا_ بال بھی کنگھی کر کے اچھی طرح جما لئے تھے_
” میرا سوہنا پتر”_
راحت نے دعائیں دیتے ہوئے اسے دروازے تک چھوڑا اور پھر تھکن سے چور بدن لئے دوبارہ بستر پر ڈھے گئی_
ریاض نے اس علاقے میں اپنی سیاسی و سماجی حیثیت کی ایک دھاک بٹھائی ہوئی تھی_ چاچا سبزی والا محلے داروں کی خیر خواہی میں کوئی نہ کوئی درخواست ریاض کے گوش گزار کرتا رہتا تھا_اسے یقین تھا ریاض فرید کے تعلیمی اخراجات اٹھانے کے لئے کمیٹی والوں سے ضرور بات کرے گا_راحت نے بھی اس امید پر دعا کے لئے اپنے ہاتھ اٹھا دیئے کہ شائد ریاض ہی اس کی زندگی میں تھوڑی سی راحت لانے کا سبب بن جائے_
فرید زندگی کی بازی جیتنے چلا تھا_اس نے اپنی کتابوں کی ان کہانیوں کو ذہن نشین کر لیا تھا جس میں غیبی ہاتھ کمزور انسانوں کو کبھی گرنے نہیں دیتے_ریاض کی بیٹھک میں پہلا قدم رکھتے ہی ایک ناگوار بُو اس کے نتھنوں سے ٹکرائی_اس کی طرف ریاض کا بڑھا ہوا ہاتھ اسے کسی دیو کا معلوم ہوا_ وہ سہم کر دیوار سے لگ گیا_ بید کی کرسیوں میں دھنسے ہوئے اس کےتینوں ساتھیوں کے پیٹ مکروہ ہنسی سے اچھلنے لگے_ ناتواں لرزیدہ بدن نے اپنے سَر پر ڈولتی پرات گرنے نہیں دی اور ساری قوت مجتمع کر کے پاؤں میں بجلیاں بھر دیں_دیو کے بڑھے ہاتھوں کے ناخن دیوار کی قلعی کھرچ کر رہ گئے_
سردیوں کی دھند کے بعد کی چمکیلی دھوپ ہڈیوں کو طمانیت بخش رہی تھی_فرید کپڑے پر کڑھے پھولوں کے برعکس مرجھایا ہوا لگ رہا تھا_دونوں پھول ہی راحت نے اپنی محنت سے سینچے تھے_سودا بک چکا تھا اور وہ ابھی تک اسکول کے سامنے کھڑا تھا_خاموش تھا مگر ہارا ہوا نہیں_مسلسل دھوپ بھی اب تو چبھنے لگی تھی اور وہ سوچوں میں مستغرق تھا_ کوئی غیبی ہاتھ ہی کیوں اس کی مدد کو آئے_اس کے اپنے ہاتھ کیوں نہیں اپنی من چاہی قسمت لکھ سکتے_
“زمین اور آسمان جب دونوں سب کے لئے ایک جیسے ہیں تو پھر قسمت کیوں سب کی ایک جیسی نہیں…..ماں”؟
وہ سمجھتا راحت کے پاس ہر سوال کا جواب ہوگا_جبکہ وہ تو خود چاچا سبزی والے کے سوال میں الجھی ہوئی تھی_ کمزور کے آگے بھی کیسے کیسے سوال رکھے جاتے ہیں_ وہ بھی طاقت وروں کی ضرورتیں پوری کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں_اپنی عزت اور عزتِ نفس دونوں داؤ پر لگا کر_دن میں سورج بجھا کر جگنو تلاش کرنا اور رات خواب جلا کر اپنی بچی کھچی انا سینکنا ہی شائد غریب کی متاع ہے_
کمرے میں تازہ پھولوں کی مہک سکوت میں ڈھل کر ماں بیٹے کے درمیان اونگھنے لگی تھی_
” ماں ہم یہ شہر چھوڑ چلیں”_
فرید خوفزدہ نہیں تھا صرف برے لوگوں سے فاصلہ بڑھا کر زندگی آسان کرنے کا خیال تھا_
” نہیں پتر فرید ، تو میری دنیا ہے اور یہ گھر چھت ، ایک دن یہ کندھے مضبوط ہو جائیں گے اور یہ ہاتھ بھی”_
راحت نے فرید کے ہاتھوں کو چوم کر اس کے کمزور کندھوں کو ایسا اعتبار بخشا کہ مردانگی کے احساس سے اس کی رگیں تن گئیں_
دیئے کی لو سے زندگی شروع کرنے والے کے بنگلے میں برقی قمقموں نے ایک کونا بھی تاریک نہ رہنے دیا_روشنی ہی روشنی اور ہر طرف مسرتوں کی کلکاریاں_چاچا سبزی والا ویل چیئر پر استقبالیے پر موجود مہمانوں کو الوداعیہ کلمات کہہ کر پلٹنے لگا تو فرید نے آگے بڑھ کر اس کے کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھ دیئے_تشکر آمیز آنکھیں نم بھی تھیں اور احسان مند بھی_
“چاچا اگر اس رات تم میری ماں کی عزت نہ بچاتے اور میرے آنسو نہ پونچھتےتو آج میں بھی ریاض بن چکا ہوتا”_
یاد بھیانک تھی مگر زندگی کا حصہ تھی_اسے اپنی ماں کے خواب پورا کرنے کے لئے زیادہ محنت کرنا تھی_انگلش میڈیم اسکول کی میڈم نے چھٹی کلاس میں فیس میں رعایت کی بنا پر اس کے داخلے کا راحت سے وعدہ کیا تھا_ آکسفورڈ کا کورس مہنگا تھا اور یونیفار بھی_ راحت نے تو میڈم سےکہا کہ وہ یونیفارم گھر پر سی دے گی مگر اس کی شنوائی نہیں ہوئی_
دن رات تعبیر کی وصولی میں اس کا پسینہ کتنا بہنے لگا اسے پرواہ نہیں رہی تھی_ اخبار پڑھنا اسے آگیا تھا اور شام کا اخبار بیچتے ہوئے ہر خبر اس کی لگن کو جوالامکھی بنا دیتی_ جان گیا تھا تعلیم ہی غریب کا ہتھیار ہے_عمر چھوٹی تھی پر سڑکوں پر اس نے اتنی آنکھیں دیکھیں تھیں کہ غربت سے گندا رنگ اسے کوئی اور نہ دکھتا_
اس رات بھی آسمان اسے خاموشی سے تک رہا تھا جب آخری گجرے کے ساتھ اس نے گھر واپسی کی راہ لی_ٹھوکر کیا لگاتا دروازے کو ماں کی بانہوں کی طرح وہ بغیر کسی ضرب اور چرچراہٹ کے آنگن تک اور آنگن سے کمرے تک چپ چاپ راستہ دیتا گیا_ہر چیز چاول کے دانوں کی طرح بکھری پڑی تھی_جنہیں سمیٹنے کے لئے ایک اور طوفان کی ضرورت تھی_
چاچا اور پھر ماں کے گھٹے گھٹے الفاظ اس کے حلق سے نکلے جو اس کی سماعتوں نے نہیں صرف سانسوں نے سنے_
ماں کا دوپٹہ اس کی گردن میں کتنے ہی بل دے کر کسا ہوا تھا اور کھلیں آنکھیں اسے ہی تکتی تھیں_ اس نے پھولوں سے ماں کا سینہ ڈھانپ دیا_کاش آج کوئی گجرہ نہ بکتا_ پھولوں کی چادر میں چھپا کر وہ اپنی ماں کو سب کی نظروں سے اوجھل کر دیتا_
“ریاض اس گھر کا خرچہ اٹھانے کو تیار تھا مگر تیری ماں نہیں مانی”_
چاچا اپنے ماتھے پر ہاتھ مار کر بولا_
اس کے ہاتھ اتنے چھوٹے اور کندھے اتنے کمزور تھے کہ وہ اپنی ماں کو کاندھا بھی نہ دے سکا_ماں کی آنکھیں بند کرنے سے پہلے اس کے سارے خواب لے کر اس نے اپنی مٹھی میں بند کر لیے_
ریاض نے مایوس ہونے اور چاچا کی بیجا مداخلت پر راحت پر اس کی ناموس کا گھیرا اتنا تنگ کر دیا کہ وہ اپنی رنگین ریشمی چنری کے دائروں میں دم توڑ گئی_
ہر بچہ فرید کی طرح معصوم نہیں ہوتا جو چاچا سبزی والے کی کہانی پر یقین کرنے بعد اس کے سینے میں منہ چھپا کر روئے اور ریاض سے انتقام اور نفرت کے جذبات کو اپنی ماں کے خوابوں پر قربان کر دے_ اخبارات میں آئے دن ایسی خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں اور یہ بھی ایک خبر ہی تھی کہ غربت اور حالات سے ستائی ہوئی ایک عورت نے اپنی جان دے دی_

اپنا تبصرہ بھیجیں