افسانہ ،، سودا ،، معصومہ ارشاد سولنگی

سخنور تخلیق نو افسانہ بیٹھک سیزن 1
افسانہ نمبر : 56
عنوان : سودا
تحریر :معصومہ ارشاد سولنگی
بینر : نوشی قیصر
آسماں سے قہر برساتی دھوپ اس کے معصوم سے ادھ کھلے مھرجائے پھول سے چہرے کو پسینے کی بوندوں سے آبدیدہ کیئے ہوئے تھی ۔مگر وہ اس کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کسی مشین کی مانند اپنے کام میں مگن تھی۔اس کے ننھے منھے ہاتھ ہیند پمپ کو چلاتے چلاتے شل ہو گئے تھے۔ مگر وہ اکھڑتی سانسوں اور شدت_غم سے بغیر رکے ان ہاتھوں کو اپنی پوری قوت سے ہینڈ پمپ پر جمائے ہوئے چلا رہی تھی ۔(جو پورے محلے کی کے لیئے واحد ذریعہ تھا پانی کی قلت کو پورا کرنے کا)۔۔۔۔۔۔
” بانو پتر! بالٹی بھر چکی ہے”اپنی باری کا انتظار کرتی حمیداں بوا کی آواز پر اسے اپنے ہاتھوں کے دکھنے کا احساس ہوا ۔وہ بالٹی اٹھا کر چھوٹے چھوٹے قدموں سے کبھی گرتی کبھی سنبھلتی، بالٹی میں موجود پانی سے پوری گلی کو سیراب کرتی جب اپنے ایک کمرے ،نام کے برآمدےو صحن پر مشتمل چھوٹے سے گھر میں پہنچی تو پانی کی مقدار آدھے سے بھی کم رہ گئی تھی وہ بڑی حیرت سے بالٹی میں موجود پانی کو دیکھ رہی تھی
“کیا دیکھ رہی ہو میری بچی؟”ماں نے بیٹی کو اس طرح حیران کھڑے دیکھا تو پیار سے پچکارتے ہوئے پوچھا
“اماں میں نے بالٹی پوری بھری تھی مگر سارا پانی راستے میں ہی بہہ گیا”اس کا چہرہ بلکل ہی اتر گیا
“خیر ہے اماں کی جان ! اتنا بھی کافی ہے تم یہ پانی مٹکےمیں ڈال دو۔”اتنا کہتے ہی اس کو پھر کھانسی کا دورہ پڑا۔بانو پانی کا ایک گلاس بھر کے اپنی ماں کے پاس پہنچی ۔
“اماں پانی پی لو “اس نے اپنے ننھے وجود سے ماں کے بیمار وجود کو سہارہ دے کر اٹھایا اور پانی پلانے لگی ماں نے پانی پینے کے بعد خود کو واپس تکیئے پر گرا دیااور اپنی پھول سی آٹھ سالہ بچی کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر دیکھنے لگی۔ اس کے ننھے ننھے ہاتھوں پرچھالے پڑ چکے تھے۔یہ وہ ہی ہاتھ تھے جنہوں نے ابھی ٹھیک سے قلم پکڑنا سیکھا ہی تھا کے قسمت کا قلم اپنی الگ ہی تحریر رقم کر گیا اس کی زندگی میں۔ لکھنے پڑھنے کی عمر میں کھیل کود کے میدان سے اٹھا کر محنت و مشقت کی دہکتی بٹھی میں جھونک دی گئی تھی اس کی معصوم سی بچی۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے آج بھی جب وہ دن یاد آتے تھے جب ننھی سی بانو ہاتھوں میں بستہ لیئے اپنے بابا کے ساتھ سکول جایا کرتی تھی،تو بے اختیار اس کی انکھیں چھلک پڑتی۔۔۔بانو کا باپ سکول میں ماسٹر تھا۔حسب الحال وہ بہت خوشحال زندگی گذار رہے تھے۔ماسٹر جی دل کے بہت اچھے انسان تھے۔ اپنی جوانی کے زمانے سے لے کر ہی مستقبل کے معماروں کے لیئے شعور کے دروازے کھولنے اور تعلیم کو عام کرنے کے لیئے انہوں نے جی توڑ محنت کی تھی۔گلی محلے کے ان سارے بچوں کو جو سکول کی فیس نہیں بھر سکتے تھے فی سبیل اللہ پڑھانا شروع کر دیا تھا۔جب اس کے گھر میں ننھی سی بانو نے جنم لیا تو وہ پھولے نہیں سمائے۔ علم و شعور کو عام انسان کی پہنچ کے بلکل قریب کرنے کے اپنے دیرینہ خواب کو اس نے اپنی بیٹی سے منسوب کردیا اور لگا اس کی تعبیر کے تانے بانے بننے۔ مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس سے پہلے کے وہ اپنی خوابوں کی ڈور اپنی بیٹی کے ہاتھ میں تھماتا ۔اچانک ایک حادثے میں اس کی موت واقع ہوگئی۔ جس کے بعد بانو اور اس کی ماں پر زندگی نے تو جیسے خوشیوں کے سارے دروازے ہی بند کر دیئے تھے۔ماں نے کپڑے بنانے کی ایک مل میں کام کرنا شروع کردیا ۔جس کی آمدنی سے پیٹ کی بھوک تو مٹ رہی تھی۔ مگر ماسٹر جی کے دیکھے سپنوں کو پورا کرنے کی گنجائش نظر نہیں آرہی تھی ۔اور یہ ہی بات اس کو اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی ۔جس وجہ سے اس نے بہت جلد بستر پکڑ لیا۔اور چھوٹے موٹے سارے کاموں کی ذمیداری بانو پر آن پڑی۔ اس کا سکول چھوٹ چکا، کھیل کود کی جگہ کام نے لے لی، بچپن کی مستی اپنی گم شدہ ہستی کھوجنے میں مگن ہوگئی۔۔۔۔۔
“بانو! میری بچی تجھے خوشخبری سنائوں” ماں نے اپنی آنکھوں کی نمی کو مسکان میں چھپا لیا
“اماں کیا سیٹھ جی نے آپ کے علاج کے لیئے پیسے دے دیئے؟”بانو نے بڑی حسرت سے پوچھا
“علاج بھی ہوجائے گا میری بچی پر خوشخبری کچھ اور ہے آج بشیراں خالہ آئی تھی۔ اس کا بیٹا خیر سے ڈاکٹر بن گیا ہے۔اس نے بڑے سکول میں تیرا نام ڈال دیا ہے اور تیری پڑھائی کا سارا خرچہ اس نے اپنے ذمے لیا ہے۔ میری بچی اب کل سے تو سکول جائے گی تیرے بابا کا خواب اب ضرور پورا ہوگا میری بچی”مسکاتی نم انکھوں سے وہ بیٹی کو یہ خوشخبری سناتی گئی اور معصوم سی بانو خوشی سے کھل اٹھی اس بات سے بے خبر کہ ماں نے اپنی زندگی کو گروی رکھ کر بیٹی کے خوشحال مستقبل کا سودا کیا تھا ۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں