افسانہ ،، سایہ میرا مسیحا بنا ،، کوثر بیگ

سخنور تخلیق نو افسانہ بیٹھک سیزن 1
افسانہ نمبر : 62
عنوان : سایہ مرا مسیحا بنا
تحریر :کوثر بیگ(دکن) مقیم جدہ
بینر : ڈاکٹر لبنی زبیر عالم
کمرے میں ہر سو موت کی سی خاموشی اور ناراضگی کی فضا چھائی تھی ۔ عرشیہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیسے اس ماحول کو سازگار کرے ایک طرح سے وہ خود کو مورد الزام سمجھ رہی تھی
سنیے جانے بھی دیں انسان ہے انسان ہی سے غلطی ہوتی ہے ۔ پھر وہ تو آپ کےبچپن کےدوست ہیں ۔
اسی بات کا تو افسوس ہے عرشیہ وہ لنگوٹیا یار ہوکر میرے سامنے تمہاری تعریف کررہا ہے ؟ اسے لحاظ رکھنا چاہئے ، ادب سے پیش آنا چاہئے تھا ۔ عامر شعلہ اگلتی آنکھوں سے گھورتے ہوئے کہنے لگے
اور وہ دل ہی دل میں سوچنے لگی کہ میرے سلیقہ خوش لباسی اور خوبصورتی کی تعریف کرتے ہوئے وہ بھابی بھی تو کہہ رہے تھے آخر عامر اتنا غصہ سے بے قابو کیوں ہورہے ہیں ۔ سخت سست سنکردوست نے تو گھر سے باہر جانے میں ہی عافیت جانی اورآسمان سے باتیں کرتا غصہ عرشیہ کو جھیلنا پڑا۔
آپ کہیں تو کھانا لگادوں ۔عرشیہ نے بات کو ٹالتے ہوئے کہا تو عامر نےاثبات میں سر ہلا دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عرشیہ دیکھو تو میں آج کسے لایا ہوں
تمہارے کزن صاحب جاب ویزہ پر نئے نئے آئے ہیں ۔ فون کئے تھے۔ تم سے ملانے گھر لے آیا ۔ تم ڈرائنگ روم میں لے جا کر بیٹھو میں ابھی تازہ دم ہوکر آتا ہوں۔
عامر کے پیچھے ارشد بھائی کھڑے تھے جسے دیکھتے ہی دل زور سے دھڑکا خود کو پرسکون ظاہر کرتے اس نے ڈرائنگ روم کی طرف قدم بڑھائے پیچھے ارشد بھائی چل رہے تھے ۔
آرام سے تشریف رکھیں ،عامر ابھی آتے ہونگے ۔
خود بھی کرسی پر بیٹھتے ہوئے تجسس کے مارے بے اختیار سوال اس کے ہونٹوں پر آگئے
کیسے آنے کا ارادہ کرلیا ، آپ تو بڑے وطن پرست تھے۔
اب بھی ہوں مگر قسمت آزمانے کا شوق چڑھا ہے۔
سب کیسے ہیں گھر پر ؟
اچھے ہیں مجھے نہیں پوچھو گی ؟
دیکھ تو رہی ہوں ۔ کیسے اتنی دور آنے دیا گھر والوں نے۔۔۔ آپ کو تو دوسرے محلہ تک اکیلےجانے نہیں دیا جاتا تھا ۔
ہاں ! سب کو بہت منانا پڑا ۔ کیا کروں وہاں رہنا دشوار ہوگیا تھا
تم کیسی ہو ؟
اچھی ہوں بہت اچھی
یہ تو ہم بہت پہلے سے جانتے ہیں
عامر کو نہیں پوچھیں گے؟
تمہارا ساتھ ہو تو پھر پوچھنے کی ضرورت نہیں رہتی
نظریں چرا کر اس کے بنا پوچھے عامر کے بارے میں بتانے لگی عامر بہت ہی اچھے انسان ہیں میرا بہت خیال رکھتے ہیں ۔ عامر نے کبھی محسوس ہی نہیں ہونے دیا کہ میں پردیس میں ہوں
لو شیطان کو یاد کیا اور شیطان حاضر عامر ڈرئینگ روم میں داخل ہوتے مسکراتے ہوئے کہنےلگے
ارے شیطان نہیں آپ توفرشتہ ہیں ۔ عرشیہ فوراً جواب میں کہنے لگی
دیکھا ارشد صاحب یہ ہمیں پتہ نہیں کیا سمجھتی ہیں مگر ہم تو ایک عام آدمی تھے جب سے ان کا ساتھ ملا ہے ہم خاص ضرور ہوگئے ہیں ۔
باتوں کا سلسلہ چل نکلا عرشیہ کچھ کھانے کے لئے لانے کے بہانے وہاں سے اٹھ گئی ۔ اسےبہت دیر تک سرگوشیوں کی آوازیں آتی رہیں
پھر تو یہ سلسلہ چل نکلا ہر چھٹی کے دن عامر ارشد بھائی کو جاکر گھر لے آتے عرشیہ خریداری یا کسی کے پاس مہمان جانے کے بہانے آنے سے روکنا چاہتی تو عامر بیچلرز سے ہمدردی کا اظہار کرتے ارشد بھائی کو چھوڑتے ہوئے چلے جائنگے کہہ دیتے اور لے کربھی جاتے ۔
ایک ایسے ہی چھٹی کے دن عامر اور ارشد بھائی باتوں میں محو تھے کہ عامر کی زور سے عرشیہ کو بلانے کی آواز پر وہ دوڑتی ہوئی گئی ۔ عامر نے اسےاپنے بازو میں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور کہنے لگے ۔ آپ نے مجھے بتایا نہیں آپ لوگوں کے گھر ہماری شادی سے ایک سال قبل تک متصل ہوا کرتے تھے عرشیہ سےدریافت کرنے لگے۔۔ ہاں ! مگر یہ بات نکلی کیسے ؟ پھراس کے دماغ میں تیزی کے ساتھ تمام باتیں گردش کرنے لگیں کالج کی تکمیلِ تعلیم کے ساتھ ہی میری شادی کی باتیں گھر میں ہونے لگیں ۔ جیسے ہی یہ بات ارشد بھائی اور خالہ تک پنہچی وہ میرا ہاتھ مانگنے آگئے ۔ بابا نے بات ٹالتے ہوئے کہدیا ارشد میاں ابھی زیر تعلیم ہیں ۔ ہم ملازمت تک نہیں ٹھہر سکتے ، آپ کے با با کےبزنس اور جائداد کے بھروسہ پر بھی ہم نہیں دینا چاہتے بابا نے بڑی آسانی سےفیصلہ سنا دیا اور ساتھ ہی امی کو گھر کی تبدیلی کا حکم بھی صادر کر دیا ۔میں خود بھی ارشد بھائی اور خالہ کے اس ارادے سے نا واقف تھی ۔ حیرانی ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ ہمارا گھر بدل گیا۔فاصلے بڑھ گئے پابندیاں لگ گئیں ۔۔۔۔
“بس ایسے ہی ہم اپنے بچپن کی یادیں تازہ کررہے تھے “عامر نے وضاحت دی
ارشد صاحب اب آپ عرشیہ کے بارے میں بتائیں وہ کیسی تھی اور کیا کرتی تھی ؟
ارشد نے عرشیہ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا اس کی آنکھوں میں یادوں کے دیے روشن تھے بند ہونٹوں پر دبی مسکراہٹ سےچہرہ کی رونق مزید بڑھ رہی تھی
ارشد صاحب آپ انہیں کیوں دیکھ رہے ہیں اجازت چاہئے کیا؟ ارے یہ کچھ نہیں کہے گی آپ بتائیں بھئی ہم ہمہ تن گوش ہیں ۔
جی عامر میاں ! یہ کھیل میں ہمیشہ ہار جاتی اور سفید جھوٹ بول کر جیتنے پر اڑجاتی زور زور سے بحث کرنے لگتی پھر اماں آتیں وہ الٹا ہمیں سمجھاتیں سب میں چھوٹی ہے ایک بار اسے بھی جیتنا چاہئے ۔بچو، یہ کوئی زندگی کی بازی تو نہیں معصوم کادل توڑ کر تمہیں کیا ملے گا ۔ ہم سب سر جھکا لیتے اور یہ ہمارا منہ چڑھاتی ارشد نے سانس لیے بغیر ایک سانس میں سب بیان کردیا
میری باجی ، ارشد بھائی انکے بڑے بھائی اور بہن عزرا باجی یہ سب آپس میں کھیلا کرتے تھے میں چھوٹی تھی اسی لئے مجھے اپنی ٹیم میں شامل نہیں کرتے تھے کبھی شامل ہوتی تو جھگڑ کربھگا دیتے ۔میں کبھی ان کےساتھ کھیلی ہی نہیں ۔۔ ارشد یہ بات سنکر حیران سا عرشیہ کی جانب دیکھنے لگا ۔ اس کی آنکھوں بجھ گئی تھی خوف اور یاس کے سائے لہرا رہے تھے ۔اسے رحم آنے لگا ارشد پہلی بار اس کے جھوٹ میں شامل ہوکر اقرار میں کہنے لگے “ہاں یہ بات بھی ٹھیک ہے ” ۔۔۔ عرشیہ پہلو بدل کر عامر کی طرف تھوڑا سا سرک گئی پشت کے پیچھے صوفہ پراپنا ہاتھ رکھنے لگی ۔ارشد کو یاد آیا کہ سفید جھوٹ کے بعد خالہ کہہ کر عرشیہ اماں سے لپٹ جاتی تھی اگر عامر کے ساتھ وہ ایسا کرے تو میں دیکھنے کی تاب نہ لا سکوں گا ۔ اس خیال کے آتے ہی وہ اٹھ کر جانے کی اجازت طلب کرنے لگے
اچانک جانے کیوں لگے ارشد صاحب؟
ہاں کسی کا خیال آگیا ۔ مجھےابھی جانا ہوگا ۔ ارشد نے اپنے خیالوں میں ڈوبے ہوئے ہی جواب دئے
کون خوش نصیب ہے وہ جس کے خیال نے بچپن کی دلچسپ باتیں ادھوری چھوڑ کر اٹھا دیا ؟
ہم پھر کبھی تسلسل جوڑ لیں گے ۔ بولتے ہوئے لانبے لانبے ڈگ بھرتے ارشد باہر جانے لگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کال بیل بج رہی تھی عرشیہ تیز تیز قدموں سے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے پوچھ رہی تھی کون ہے ؟ کون ہے؟ ۔
میں ارشد ہوں
اس وقت وہ منہ ہی منہ میں بڑ بڑانے لگی
پھر بیل بجنے کی آواز آئی
عرشیہ پکار کر کہنے لگی عامر گھر پر موجود نہیں ہیں ، وہ پانچ بجے تک آجائنگے ۔ وہ کہنے کو تو کہہ گئی مگر اسے لگا جیسے اس کا کلیجہ اندر ہی اندرکوئی کچل رہا ہے ۔۔ اچھا میں ایک گھنٹہ بعد آتا ہوں ۔ آج جلدی آنے کا مجھے کہا تھا۔ اس لئے چلا آیا وہ واپس جانے لگے ۔ عرشیہ مجبوری اور کوفت میں دروازے سے پشت لگائے بہت دیر تک اداس کھڑی سوچتی رہی کبھی سوچا تک نہیں تھا اپنے گھر کے دروازے سے ایک دن انہیں بے رنگ بھیج دونگی شاید میں نے یہ بہت غلط کیا پھر دوسرے ہی لمحے اسے خیال آیا کہ نہیں مجھے ایسا ہی کرنا چاہئے ۔میں نے بالکل ٹھیک کیا ۔ وہ میرے کزن تھے اور ہیں میں نے تو انہیں کبھی الگ نظر سے دیکھا تک نہیں مگر مجھے برا کیوں لگ رہا ہے ؟وہ اسی شش و پنچ میں تھی کہ پھر کال بیل بجنے لگی اب کی بار عامرتھے جو ارشد بھائی کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے ۔
پھر کئی دن گزر گئے نہ عامر ارشد بھائی کو لانے کے لئے گئے اور نہ وہ خود آئے کئی بار نہ آنے کی وجہ پوچھنے کے لئے ہونٹ وا ہوئے مگر خود کو عرشیہ روکتی رہی پندرہ دنوں بعد آج رات کے کھانے پر عامر نے بتایا کہ انہیں ائیر پورٹ ارشد بھائی کو لانے کے لئے جانا ہوگا ۔ جو خالہ کی طبعیت خراب ہونے کی وجہ سے دس دن کےلئے ایمرجنسی لیو پر وطن گئے ہوئے تھے ۔ ارشد بھائی کو لانے کے بعد عامر اور عرشیہ بیٹھے خالہ کی خیریت دریافت کررہے تھے ۔ ارشد بھائی کہنے لگے اب اماں بالکل ٹھیک ہیں ۔ اکیلی رہنا مناسب نہیں اس لئے اس سال کنٹریکٹ ختم ہوتے ہی واپس چلے جانے کا خیال ہے ۔ پھر انہوں نے کچھ توقف کے بعد سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ اماں کے خیال سے میں نے شادی کرلی ہے ۔
عامر خوشی سے مبارک باد دیکر پوچھنے لگے لو میرج یا ارینج میرج ؟ ارشد بھائی مسکراتے کہنے لگے آدھی لو میرج اور آدھی ارینج پھر خود ہی وضاحت کرتے کہنے لگے بچپن سے فاطمہ کو مجھ سے محبت ہے اور اماں نے بھی مجھے اپنی بیماری میں قسم دے کر شادی کے لئے راضی کرلیا کہنے لگی “چاہنےسے زیادہ چاہے جانے کا خوشگوار احساس زندگی کو بہتر بناتا ہے” ۔ خواب کو چھوڑ کر حقیقت کو اپنانا ہی سچائی ہے ۔جب دور دور تک تاریکی پھیلی ہوتو اندھیروں میں سایہ سے ہم نے دوستی کرلی ۔اسےبھی غنیمت جان لیا ۔ ایک سایہ میرا مسحا بنا۔۔ پھر اپنی اوٹ پٹانگ باتوں کا احساس ہوتے ہی اس نے بناوٹی جملے کہنے شروع کردیے ۔ عامر میاں آپ بھی مل کر خوش ہونگے ۔ وہ میرے لئے انشاءاللہ اچھی جیون ساتھی ثابت ہوگی ۔وہ بیگ سے تصاویر نکالنے کے لئے جھکے ۔ پھر اپنی دلہن کی تصویر کا رخ ہماری طرف کرکےدکھانے لگے تو عرشیہ کی آنکھوں میں بچپن کے مناظر گھوم گئے جب وہ فاطمہ کے ساتھ خالہ کے گھر جاتی تو ارشد بھائی اس سے چڑ کر باہر چلے جاتے ۔ کبھی ناراضگی ظاہر کرتے کہ یہ کیوں تمہارے ساتھ سایہ کی طرح چپکی رہتی ہے ۔ بار بار یہ جملہ کہتے ہوئے فاطمہ کا نام ہی عرشیہ کا سایہ ہوگیا تھا ۔
کیا آپ نے نہیں پہچانا اپنی سہیلی کو ؟ ارشد بھائی کے سوال نے اسے چونکا دیا۔
ہاں، ہاں، کیسے نہیں ، بہت اچھے سے سب یاد ہے وہ خود کو سمیٹتے ہوئے رک رک کر جواب دینے لگی
عامر کھڑے ہوکر ارشد بھائی کو ہاتھ پھیلا کر بفگیر ہونے کی دعوت دینے لگے۔ دونوں گلے مل رہے تھے ۔ عرشیہ کو لگ رہا تھا جیسےبند ہاتھ سے ریت کی طرح اس کی زندگی پھسل رہی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں