افسانہ ،، زہر ،، صالحہ مرزا

سُخنور تخلیقِ نو افسانہ بیٹھک سیزن 1
افسانہ نمبر 59
“زہر ”
از صالحہ مرزا
بینر نوشی قیصر
مجھے اعتراف کرنا ہے
مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھے آپ سے کوئی انصاف چاہیئے ، یا کوئی فیصلہ کروانا ہے -اپنے لیے فیصلہ تو میں کر ہی چکی ہوں -اب تو صرف اتنا چاہتی ہوں، کہ اپنا بوجھ آپ سے بانٹ لوں – بوجھ بانٹنے سے بھلا کبھی کم ہوئے ہیں ؟ مگر پھر ایسا کیوں لگتا ہے کہ یہ حبس بڑھتا گیا تو میرا دم گھٹ جائے گا ؟ مجھے کہہ لینے دیں !
میں جانتی ہوں یہ سب سن کر آپ کا جواب یہی ہوگا کہ آپ اس سلسلے میں کیا کرسکتے ہیں -آپ کو کچھ کرنا بھی نہیں -اتنا ہی کافی ہے کہ مجھے سننے کے لیے کوئی میسر آجائے -جن کاندھوں پر سر رکھ کر رو سکتی تھی ان کو تو میں نے خود ہی کھو دیا –
ہم تین تھے میں رابعہ اور “وہ”سب جگہ ساتھ ہر سرد وگرم کے ساتھی ایک دوسرے کی ہر بات سے باخبر ہماری دوستی ایسی تھی کہ سب دیکھ کر رشک کرتے -مجھے کبھی کبھی خوف آجاتا تھا کہ اس دوستی کو کسی کی نظر نہ لگ جائے اور پھر میری ہی نظر لگ گئی –
ہمیں محبت ہوگئی !
یوں تو ہم تینوں ہی ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے -مگر اس بار کی محبت ذرا الگ تھی-دوستی سے ہٹ کر! ایک دوسرے کی چاہت ،ایک دوسرے کو پا لینے کی چاہت !
پہلے محبت کس کو کس سے ہوئی تھی یہ کوئی نہیں جانتا تھا -مگر شاید میں جانتی ہوں اور اس کا اعتراف بھی آج آپ کے سامنے کر رہی ہوں -مجھے آج بھی وہ لمحہ یاد ہے جب مجھے وقاص سے محبت ہوئی تھی -یہ وہ لمحہ تھا جب وہ میرے سامنے رابعہ سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے اس کا ساتھ دینے کے لیے میری منت کر رہا تھا -چھن سے کچھ اندر ٹوٹا تھا -اور اس چھناکے میں میری محبت کی چیخ اتنی گونج دار تھی کہ میرے وجود کے سناٹوں کو چیرتی چلی گئی -اب ہر طرف اس محبت کی بازگشت تھی -میں کانوں میں انگلیاں دے کر اس بازگشت کو نہیں روک سکتی تھی-اس آواز سے جتنا ہیچھا چھڑانے کی کوشش کرتی تھی ، وہ پیچھاکرتی ہوئی میری سماعتوں کو پاش پاش کرتی تھی -ہاں میں اس لمحے میں بے بس ہوگئی تھی -رابعہ ان دنوں اپنے گاﺅں گئی ہوئی تھی -وہ میرے چچا کی بیٹی تھی -اور وقاص چاہتا تھا میں اس تک اس کا پیغام پہنچاﺅں مگر کچھ اس طرح کہ ہماری دوستی پر کوئی آنچ نہ آئے -وہ اگر انکار بھی کردے تو کسی کے دل میں کوئی بات نہ رہے -وہ کوئی براہ راست پیغام اس تک پہنچانے کی بجائے میرے ذریعہ اس کی ایماء پوچھنا چاہ رہا تھا-
ہاں میں مانتی ہوں میں اس لمحے میں خود غرض ہوگئی تھی -میں نہیں جانتی تھی وہ ایک لمحہ میری آئیندہ زندگی پر کتنا بھاری پڑنے والا ہے -میں تو بس اس بازگشت سے پیچھا چھڑانا چاہ رہی تھی جو میرے دل کی سماعتوں میں کسی زخمی کونج کی طرح کرلاتی رہتی تھی-
اور میں نے کہہ دیا -وہ تمہیں نہیں تایا کے بیٹے کو چاہتی ہے -وہ تو اس بات سے بے خبر ہی رہی کہ وقاص کیا چاہتا ہے -مگر میں جانتی تھی کہ رابعہ کی ہر دھڑکن پر وقاص کانام ہی لکھا ہے -تایا کے بیٹے سے تو چچی محض اس کی نسبت طے کرنے کاسوچ رہی تھیں کیونکہ تایا ،تائی نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا- ایسے میں وقاص کا پیغام اگر رابعہ کو مل جاتا تو سب طے ہونا اتنا مشکل نہیں تھا – مگر میں____میں کیا کرتی کہ مجھے رابعہ کے وقاص کو چاہنے سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا مگر جس لمحے وقاص نے رابعہ سے محبت کا اظہار میرے سامنے کیا میں خود پر اپنا ہی اختیار کھو بیٹھی-
“جسے ہم چاہتے ہیں ___وہ نہ ملے تو اسے اپنا لینا چاہیئے جو ہمیں چاہتا ہے -“وقاص کے الفاظ میرے لیے مژدہ جاں فزا ثابت ہوئے -میں جو کہ سمجھتی تھی وہ میری دلی کیفیات سے بے خبر ہے تو ایسا نہیں تھا – اس میں میری شعوری کوشش کا بھی عمل دخل تھا ورنہ آنکھوں کی زبان اگر وہ پڑھ سکتاتو رابعہ کی آنکھوں کی تحریر بھی پڑھ چکا ہوتا -جہاں میں نے وقاص کو اپنی محبت کا یقین دلانے کی کوشش کی تھی وہیں ایسے حالات بھی پیدا کیے تھے کہ کیمپس میں اب وقاص سے کم سے کم سامنا ہو -میں اور رابعہ ایک ہی کلاس میں تھے پہلے کلاس ختم ہوتے ہی ہم وقاص کے سیکشن کی طرف دوڑ لگاتے تھے -مگر اب میری کوشش ہوتی تھی کہ میں رابعہ کو لےکر دوسری طرف نکل جاﺅں –
صرف تین ماہ کی تو بات تھی -کب گزرے کیسے گزرے پتہ بھی نہیں چلا -وقاص کو جاب ملتے ہی ہماری شادی ہوگئی -رابعہ کی منگنی ہوچکی تھی -میں دلہن بنی اس پر ہی نظریں جمائے بیٹھی تھی -وہ ایک کونے میں کھڑی وقاص کی نگاہوں سے اوجھل رہنے کی کوشش کرتے ہوئے ٹکٹکی باندھے اسے ہی دیکھے جارہی تھی -اس لمحے نفرت کی کتنی تیز لہر تھی جو اپنی کزن اور بچپن کی دوست کے لیے میرے دل میں اٹھی تھی – وہ جتنی بار سامنے آئی میں نے وقاص کے چہرے کا بغور مشاہدہ کیا مگر ماضی کی محبت کی کوئی پرچھائیں وہاں نہ پاکر مطمئن ہوگئی تھی –
برسہابرس بیت گئے ، وقاص بہت اچھا شوہر ثابت ہوا اور میں نے اپنی بھرپور محبت سے اس کے دل پر سے پرانی محبت کا ہر عکس مٹانے کی سعی کی – ویسے بھی ڈیڑھ سالہ محبت کی چھاپ کتنی گہری ہوتی ؟ ۔ مگر یہ میری بھول تھی –
ٹھکرائی ہوئی محبت مرتی کہاں ہے وہ تو کنڈلی مار کر سینے میں بیٹھ جاتی ہے نس نس میں زہر بھر دیتی ہے ہر سانس کسی پھنکار کی طرح محسوس ہوتی ہے ہر دھڑکن کسی ڈنک کی طرح !
اور وقاص کے دل میں وہ محبت اسی طرح زندہ تھی -اس بات نے مجھے مار دیا ختم کر دیا –
میں آج آپ کے سامنے اپنی ہر منافقت کا ، ہر خود غرضی کا اعتراف کرتی ہوں -اور یہ بھی کہ میری محبت محض ملمع زدہ تھی – کندن ہوتی تو وقاص کے دل کو سونا بنا چکی ہوتی -مگر میرے ملمع کا رنگ اترا تو وقاص کے دل پر رابعہ کی محبت کا سونا نمایاں نظر آنے لگا- رابعہ کی بیوگی نے وقاص کو جس طرح بے چین کیا تھا -اس کے رتجگے آنکھوں کے سرخ ڈورے مجھ سے چھپے نہ رہ سکے تھے – اس کی محبت کہیں سکون میں تھی تو وہ بھی مطمئن تھا – وہ مشکل میں آئی تو وہ بے چین ہواٹھا -اور میرے لیے یہ ادراک کیسا جان لیوا تھا-
وہ یہ بھی جان گیا تھا کہ اس کا پیغام میں نے رابعہ تک پہنچنے ہی نہیں دیا-وہ مجھے نہ چاہتا میں سہہ سکتی تھی مگر اس کی نفرت کیسے برداشت کروں ؟
میں اپنا فیصلہ کر چکی ہوں – اب اپنی خود غرضی اور فریب کی سزا خود کو دوں گی -میری محبت بھی ٹھکرائی
جاچکی ہے اور
ٹھکرائی ہوئی محبت مرتی کہاں ہے وہ تو کنڈلی مار کر سینے میں بیٹھ جاتی ہے نس نس میں زہر بھر دیتی ہے ہر سانس کسی پھنکار کی طرح محسوس ہوتی ہے ہر دھڑکن کسی ڈنک کی طرح !
اور اب مجھے یہ زہر تمام عمر پینا ہے-جس نے ہماری دوستی اورمحبت کو زیریلا کر دیا -#

اپنا تبصرہ بھیجیں