افسانہ ،، زرد پھول ،، کشف بلوچ

سخنور افسانہ بیٹھک سیزن 1
1
افسانہ نمبر :64
عنوان : “زرد پھول “
تحریر : کشف بلوچ
بینر : ڈاکٹر لبنی زبیر عالم
رنگوں کا انتخاب بھی انسانی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر حقیقی زندگی کا کینوس خوبصورت رنگوں سے سجا ہو تو اسکے اثرات انسان کے ارگرد کی ہر چیز میں نظر آتے ہیں یا یوں کہہ کہہ لیں کہ اگر انسان کے اندر خوشی ہو تو اسے باہر کی ہر چیز میں بھی خوبصورتی دکھائی دیتی ہے ۔اکثرافسردہ اور گم صم رہنے والی ثمینہ کا چہرہ آج بہت کھلا کھلا تھا۔آج سلائی سینٹر میں کپڑوں پر کڑھائی کرتے وقت سفید جارجٹ کی قمیض پہ اسنے سرخ رنگ کے دھاگوں سے بہت خوبصورت پھول کاڑھے ، سوئی ہاتھ میں پکڑے وہ دھیرے دھیرے گنگناتی ، مسکراتی پھر کسی خیال میں کھو سی جاتی ، تھوڑی سی شرماتی اور پھر سے پھول کاڑھتے ہوۓ رنگوں سے کھیلنے لگ جاتی آج گھنٹوں کا کام اس نے جیسے منٹوں میں کرلیا ۔ویسے تو ثمینہ کے ہاتھوں میں بہت نفاست تھی مگر آج جو اس نے سرخ پھول کاڑھے انکی چھب ہی نرالی تھی اور سفید قمیض پہ سرخ پھول بہت جچ رہے تھے .میں کیا سینٹر کی ساری لڑکیاں ہی سراہے بنا نا رہ سکیں ۔
“خیر تو ہے جناب ” ؟
میں جونہی کام سے فارغ ہوئی ثمینہ کے پاس آکر سرگوشی میں پوچھا جسے سن کر وہ چونکی اور دھیرے سے مسکرادی ۔ سانولی سلونی ثمینہ سے میری ملاقات اسی سلائی سینٹر میں ہوئی۔ ابتدائی گفتگو کے بعد ہی ہماری دوستی ہوگئی وجہ شاید ہمارے ایک جیسے حالات تھے۔ ثمینہ بھی میری طرح غریب گھر سے تھی ثمینہ نے میٹرک کے بعد گھر کے خراب حالات کی وجہ سے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دی اور اب کسی اچھے رشتے کے انتظار میں بیٹھی تھی۔ سلائی سینٹر میں کام کرنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ ایک تو ہنر ہاتھ آجاتا اور دوسرا یہاں آکر وقت بھی اچھا گزر جاتا تھا ورنہ گھر میں تو رشتے کے انتظار میں بیٹھی لڑکیاں اکثر نفسیاتی مریضہ بن جاتی ہیں ۔
“ہاں بس کل کچھ خاص مہمان آرہے ہیں ” میرے اصرار کرنے پہ ثمینہ نے شرماتے ہوۓ کہا۔ ” اوہ اچھا اس لئے گال گلابی گلابی ہورہے ہیں ” ۔
میں نے پیار سے اسکے گالوں پہ چٹکی کاٹی تو وہ ہنس دی۔ تھوڑی دیر بعد ہی کام شروع ہوا تو ہم دونوں ہی مصروف ہوگئیں ۔
چھٹی والا دن بھی ہم جیسی غریب لڑکیوں کی زندگی میں کچھ خاص نہیں لے کر آتا سو اس دن بھی معمول کے کام نبٹاتی رہی ۔ کام کرنے کے دوران جونہی دھیان ثمینہ کی طرف گیا میں نے فورا اسکے اچھے نصیب کی دعا کر ڈالی ۔
آہ ! میں سینٹر میں اپنی سیٹ پہ بیٹھی کڑھائی کرنے میں مشغول تھی جبھی اک ہلکی سی سسکی نے مجھے چونکا دیا ۔میں نے سر اٹھا کر دیکھا ثمینہ اپنی انگلی دانتوں میں دباۓ بیٹھی تھی ۔آج صبح سے سینٹر میں اتنا کام تھا کہ مجھے سر اٹھانے کی فرصت تک نہیں ملی۔ میں نے قمیض سائیڈ پہ رکھی اور ثمینہ کی طرف چلی آئی سوجی آنکھیں اور بے رونق چہرہ جیسے وہ ساری رات روتی رہی ہو ۔
ثمینہ کی ایسی حالت دیکھ کر میں پوچھے بنا نا رہ سکی ۔
‏” پھر انکار کردیا ان لوگوں ” ثمینہ نے افسردگی سے کہا اور سرجھکا لیا اور میں نے اسکے چہرے سے نظر ہٹا کر اس سفید قمیض کی طرف دیکھا جہاں وہ بھدے سے ٹیرھے میڑھے پھولوں میں زرد رنگ کے دھاگوں سے کڑھائی کررہی تھی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں