افسانہ ،، تخلیقکار ،، شبینہ فرشوری

سخنور تخلیق نو افسانہ بیٹھک سیزن 1
افسانہ نمبر : 66
عنوان : تخلیق کار
تحریر : شبینہ فرشوری
بینر :ڈاکٹر لبنی زبیر عالم
عائشہ کی پہلی کہانی میگزین میں چھپتے ہی ہر طرف اُس کے نام کی دھوم مچ گئی۔
وہ نہیں چاہتی تھی کہ ایڈیٹر کہانی کے ساتھ اُس کا پتہ بھی چھاپے۔
پتہ تو اُس نے اس لیے لکھا تھا کہ اگر ایڈیٹر کو کہانی پسند نہیں آئی تو اس پتہ پرواپس آ جائے۔
ایک دن گھرمیں ڈاکیہ نے کئی خط لا کر دئے جس میں عائشہ کی لکھی کہانی جس میگزین میں چھپی تھی اس کی تعریف کے لئے کئی خطوط تھے۔ عائشہ نے جلدی سے ان خطوط کو چھپایا۔ اُس نے سوچا اگر اماں کو پتہ چلا تو کیا ہوگا۔ وہ تو یہ برداشت نہ کر پائے گی کہ میرے نام سے غیر مردوں کے خطوط آئیں اور وہ بھی کہانی کی تعریف میں۔
ایک صاحب نے تو فوری ملاقات کے لئے وقت مانگا تھا۔ کسی نے انٹرویو کے لئے لکھا تھا۔ کسی نے اپنے میگزین کے لئے نئی کہانی کی فرمائش کی تھی۔ اس نے جلدی سے خطوط کو الماری میں بند کر دیا کہ کسی کی نظر نہ پڑ جائے۔۔۔
عائشہ کی پہلی کہانی نے ہی اس کی پہچان بنا دی تھی۔ عائشہ کے ماں باپ یہ برداشت نہ کر سکتے تھے کہ ان کی بیٹی پر کوئی انگلی اُٹھائے۔
غریبی تو خود ہی ایک مصیبت ہوتی ہے۔
اُس پر یہ طعنے انھیں زندہ نہیں رہنے دیتے۔
عائشہ نے طے کیا کہ اب میں نہ کسی سے ملوں گی نہ کہیں انٹرویو دوں گی۔
مگر ایک بات ہے لکھنے کے شوق کو ختم نہ کروں گی۔ چاہے کچھ ہو۔
بنگلور سے نکلنے والا ایک رسالہ تخلیق نکلتا تھا جس میں ایک گوشہ خواتین کے لئے وقت تھا۔ اس کے لئے عائشہ پاباندی سے کہانی بھجانے لگی۔
ایک دن وہ گھر کے کام سے نبٹ کر اپنے دیوان خانے میں اخبار اور میگزین سلیقے سے جما رہی تھی کہ ایک نظر اشتہار پر پڑتے ہی وہ اُچھل پڑی۔ جس میں بہترین کہانی پر 2000 کا انعام ملنے والا تھا۔ اس نے فوری پتہ اور تاریخ کہانی بھجانے کے لئے نوٹ کر لی۔ اُس کے والدین کہیں خاندان میں پرسہ دینے گئے تھے۔ اُس نے موقع غنیمت جانا اور ایک نئی کہانی لکھنے بیٹھ گئی۔ کہانی کا نام رکھا “شہرت کا سفر” اس کہانی میں وہ سب تحریر کیا جو اُس کے ساتھ ہوا تھا اور ہو رہا تھا۔ دراصل دنیا میں دو ہی طاقتیں ہیں ایک قلم کی دوسرے خنجرکی۔ لیکن عورت کی طاقت ان دونوں سے بھی طاقت ور ہے۔ عورت کی اِس چھپی ہوئی طاقت کو عائشہ نے نئی کہانی میں پیش کیا۔ کہانی پوسٹ کر دی گئی اور وہ بھول گئی۔ مگر جب اگلے مہینے تخلیق رسالہ کی اخبار کے ذریعے اشاعت اور اُس میں چھپی بہترین کہانی پر انعام کی لسٹ بھی تھی۔ عائشہ نے اُس لسٹ میں اپنا نام دیکھا تو خوشی سے پاگل ہو گئی اور ماں کے سینے سے لپٹ گئی۔ ماں کے پوچھنے پر عائشہ نے یہ کہہ سنایا اور بتایا آج گھر پر اُس کا انٹرویو لینے پرویز بلگرامی صاحب خود آرہے ہیں۔ ماں میں بہت خوش ہوں۔ یہ سن کر گھر والے حیران رہ گئے اور بیتی کی خوشی سے خوش ہو گئے۔ تھوڑی دیر میں مختصر سے کمرے کو سجانے کی تیاری شروع ہوگئی۔ میز پوش اور کشن کورتبدیل کئے گئے۔ ناشتہ کے لئے پالک کی پکوڑی تیار کی۔ ایک گھنٹہ کی مشقت کے بعد وہ تیار ہوئی کہ دروازے پر گھنٹی بجی۔ ایک وجیہہ شخصیت دروازے پر موجود تھی۔ عائشہ کے لئے یہ پہلا موقع تھا کہ کسی غیر مرد کے ساتھ بیٹھنے اس سے بات چیت کرنے کا۔ وہ اپنی سانسوں کے اُتار چڑھاؤ کو قابومیں کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ اپنی گھبراہٹ کو کم کرنے کے لئے اُس نے اشارے سے ماں کوبلا کر اپنے قریب بٹھا لیا۔ تاکہ وہ انٹرویو سکون سے دے سکے۔ پرویز بلگرامی کے ہر سوال کا جواب وہ بڑے فلسفیانہ انداز میں بڑی سچائی کے ساتھ دے رہی تھی۔ آج عائشہ کو دو خوشیاں اچانک ملیں کہانی پر بہترین انعام کے دوہزار روپئے اور انٹرویو جو زندگی میں پہلی بار دیا تھا۔ اتنی خوشیاں وہ کہاں سمیٹے۔ وہ گُن گُنا کر اپنی خوشی کا اظہارکر رہی تھی آج میں اوپر آسمان نیچے آج میں آگے زمانہ ہے پیچھے۔ انٹرویو چھپا تو ہر طرف اُس کے نام کی شہرت ہو گئی۔ پرویز صاحب بھی وقت بے وقت اس کو فون کرتے ان کے ساتھ عائشہ کی جھجھک مت چکی تھی۔ ایک دن عائشہ کے گھر پرویز بلگرامی صاحب اچانک آگئے۔ آج عائشہ کا دل چاہ رہا تھا کہ آج صرف وہ ہو اور پرویزصاحب اور کوئی نہ ہو۔ یہ اسے کیا ہو رہا ہے سمجھ سے باہر تھا۔ اُس نے دل میں گُن گُناتے ہوئے گا رہی تھی
زندگی کو وہم سے تعبیر کر لینے کے بعد
جی اٹھی ہوں خاک کو اکثیر کر لینے کے بعد
میری شاخوں پر اُتر آئے نئے موسم کے رنگ
ایک دعا کو حاصلِ تدبیر کر لینے کے بعد
وہ اپنی کہانیاں اپنے ماں باپ سے ڈسکس نہیں کر سکتی تھی اور کوئی ساتھی تھا نہیں اس کی ہم عمر کا جنھیں سناتی۔ اس کے پڑھنے والے جو اس کے دلدادہ تھے۔ اس کی تحریروں کا انتظار کرتے رہتے۔ مگر اب وہ پرویز کے بارے میں ہی سوچتی تھی۔ اُس کے آگے کوئی اور منزل نہیں تھی۔ پرویز بلگرامی نے بھی عائشہ کے لئے وہی کیا جو ایک کہانی کار کے لئے کرنا چاہیئے تھا۔ وہ صرف احسان مند نظروں سے اُن کی طرف دیکھتی رہ جاتی، اور جاتے وقت اس کا شکریہ ادا کرنا نہ بھولتی۔
ایک دن پرویز اپنی ماں کے ساتھ عائشہ کے گھرعائشہ کا ہاتھ مانگنے اچانک آگئے۔ جو بات کافی عرصہ سے دل میں تھی سب کے گوش گزار کر دی۔ ہر کوئی اس رشتے سے خوش تھا۔ سیدھی سادی ایک تقریب میں دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ عائشہ اپنی دینا میں مگن تھی۔ اور پرویز اپنے گھر گرہستی کو چلانے اور بڑھانے کے لئے سرگرداں تھا۔ کچھ ہی دنوں میں ترقی کرتے ہوئے اُسے سعودی میگزین میں کام مل گیا۔ جو اُردو، عربی اور انگلش تین زبانوں میں شائع ہوتا۔ ہر مسلم ملک میں اُردو کے چاہنے والے شوق سے پڑھتے تھے۔ اس کی مانگ کافی بڑھ گئی تھی۔ پرویز سعودی عرب آکر بہت خوش تھا۔ اُسے اپنی مرضی کے مطابق کام مل گیا تھا۔ اس عرصے میں اپنی بیوی عائشہ سے بات نہیں کر پایاتھا۔ جو کہ ایک کہانی کار کے روپ میں ہر جگہ جانی جاتی تھی۔ پرویز چاہتا تھا کہ یہ میگزین جو برصغیر میں ہر جگہ پڑھا جاتا ہے اس میں عائشہ کی کہانی بھی چھپے مگر اس شرط کو وہ پڑھنا بھول گیا تھا کہ اس میگزین سے جڑے جتنے لوگ ہیں اُن کے قریبی لوگ اس میں نہ حصہ لے سکتے ہیں نہ اپنی غزلیں یا کہانیاں شایع کراسکتے ہیں۔ نہ کسی مقابلے میں حصہ لے سکتے ہیں۔ پرویز نے سوچا اس نوکری کو لات مارے اور واپس آجائے۔ جہاں بیوی سے دور رہ کراس کے لئے کچھ کر بھی نہیں سکتا۔ مگر عائشہ اس مقصد میں اس کو کامیاب نہ ہونے دیتی۔ شاید اُس کے احساسات میں دریاؤوں کی سی روانی تھم گئی تھی۔ اندر سردی کا موسم پوری شدت سے حملہ آور ہو گیا تھا۔ سوچ اور فکر کی گھاٹیوں پر برف کی سفیدی چھا گئی تھی۔ نئے خیالات کے دریچوں سے آنے والی ہوا کے راستے بند ہو گئے تھے۔ تخلیق کے چشمے سردی سے تھٹھر کر جم گئے تھے۔ وہ قلم ہاتھ میں تھامے نہ جانے کتنی دیر بیٹھی رہ جاتی۔ اس سے کچھ لکھا ہی نہ جاتا۔ یہ وہی عائشہ تھی کی جس کے اردگرد کبھی کہانیاں تتلی کے پروں کی طرح رنگ بدل بدل کر لہراتی تھیں۔ ذہن پر الفاظ کی بارش برستی رہتی تھی۔ پرویز مصروفیت کی بنا سے کئی دن فون نہیں کر پاتا۔ ادھر عائشہ نے بھی اپنے اندر ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر اس سے نہیں کیا تھا وہ اچانک سرپرائز دینے والی تھی۔
ایک دن اچانک وہ درد کی تاب نہ لاکر چیخنے لگی تو اسے ہاسپٹل لے جایا گیا۔ وہاں اُس نے ایک ساتھ دو خوبصورت بچوں کو جنم دیا۔ وہ چاہتی تھی کہ اس وقت اُس کا شوہر کے پاس رہے مگر مجبور تھی وہ اپنے کام کو چھوڑ کر نہیں آ سکتا تھا اور نہ وہ اُسے بلا سکتی تھی۔ یہی سوچتے ہوئے وہ رونے لگی۔ ماں سے کہا پرویز کو فون لگائے۔ مگر کئی بارفون ملانے پر بھی وہاں سے کوئی بات نہ ہوسکی تو عائشہ نے کروٹ لے کر آنسوؤں کو پونچھنے کی ناکام کوشش کی۔ اچانک اسے لگا کہ کوئی اُس پر جھکا ہوا ہے اورماتھے سے بالوں کی لٹوں کو ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ غم ناک آنکھوں نے جو منظر دیکھا وہ چونکا دینے والا تھا، کیونکہ اُس کا شوہر تھوڑی دیر پہلے ہی گھر پہونچا تھا وہاں تالا دیکھ کر پڑوسیوں سے معلوم ہوا کہ ہاسپٹل میں ہے تو سیدھا یہاں آگیا۔ فرط جذبات سے وہ کچھ نہ کہ سکی صرف آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ انتے دن کی جدائی اور دوری اُس نے کیسے برداشت کی وہی جانتی تھی۔ نرس نے جب پرویز کے سانے دو گول مٹول بچوں کو دکھایا اور کہا کہ یہ آپ کے ہی ہیں تو پرویز یقین نہیں کر پایا، اور اُس کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ ارے بھئی یہ ہے تمہاری سب سے بہترین تخلیق۔ ہم جس بہترین تخلیق کار کو جانتے تھے اُس نے یہ تحفہ دے کر ہمیں تمہارا اور گرویدہ کر دیا ہے۔ اور وہ دونوں اپنی اس نئی تخلیق کو پاکر پیار کی نئی دنیا میں کھو گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں