افسانہ ،، بوڑھا برگد ،، معظم شاہ

سخنور تخلیق نو افسانہ بیٹھک۔ سیزن 1
افسانہ : 29
عنوان : بوڑھا برگد
تحریر : معظم شاہ
بینر: : سید عبدللہ حیدر
برگد بوڑھا ہو چکا تھا لیکن اس کی ہوس جوان تھی ۔ اپنی جٹاؤں میں ریاکاری اور بدنیتی کے جالے باندھے وہ پھیلتا جا رہا تھا، پھیلتا جا رہا تھا اور یہ سلسلہ کہیں رکتا نظر نہیں آتا تھا، گربہ مسکینی اس کی فطرت تھی، اپنے مالک کو گھنی چھاؤں تلے ہر طرح کی عیاشی سے ہمکنار کرتے اسے زرا شرم نہ آتی مالک اس کی چھاؤں میں آتا تو وہ مارے خوشامد کے جھوم جھوم جاتا ۔ لیکن اسی چھاؤں تلے کتنے آزاد طبع پودے مرجھا گئے، کتنے پھول مسلے گئے اس کا حساب کسی کے پاس نہیں تھا، آخر کوئی پودا یہ جرات کیوں کرتا ہے کہ میرے حصے کی زمین میں جڑیں گہری کرے اور اس کے ارد گرد کی وسیع تر زمین اسے اپنا حصہ ہی محسوس ہوتی ۔ زیادہ سے زیادہ زمین گھیر لینے کا لالچ اسے زیادہ سے زیادہ خوشامد اور سہولت کاری پر اکساتا اور وہ اپنے ڈکیٹ مالک کی خدمت میں بچھ بچھ جاتا، اسے اس وقت بہت خوشی ہوتی جب کوئی پھول اس کے سائے میں اگ آتا وہ اپنی پوری آن بان اور طنطنے سے اس کی جانب مسکرا کر دیکھتا اور اس کی پر شباب خوبصورتی کو نگل لیتا، پھول مرجھا جانے کے بعد بھی سمجھ نہ پاتا کہ اس کی زندگی چھیننے والا کون ہے ۔ اقتدار برگد کو ورثے میں نہیں ملا تھا، اس نے اپنے تدبر اور حکمت سے چاپلوسی کا پانی پئیے اپنی جڑیں خود دور دور تک پھیلائی تھیں، اتنی گہری کہ مجنون طوفانوں کی شدت بھی چاہنے کے باوجود اسے اکھیڑ نہ پائے ۔ یہ نہیں کہ اس نے ہمیشہ نشاط ہی دیکھی تھی ۔ اس پر بڑے بڑے مشکل وقت بھی آئے تھے جب ساری بستی کو لگتا کہ اب وہ اپنی جڑوں سے اب اکھڑا کہ تب اکھڑا لیکن ایسے میں اس کی قد آور شاخیں جھک کر طوفانی ہواؤں کو راستہ دے دیتیں اور طوفان گزر جانے کے بعد وہ پھر اسی آن بان سے کھڑا ہوتا ۔ اس کی جڑیں چھوٹے چھوٹے سیکڑوں پودوں کے حصے کا پانی یوں جزب کرتیں کہ کوئی ثبوت نہیں چھوڑتی تھیں اس کی چھاؤں ایسے زندگی افروز کرنوں کا راستہ روکتی کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی اور اس کے نیچے آئے پودے اپنی زندگی ہار جاتے ۔
تم تو برگد نامہ لے بیٹھے سنانے والے، ہم نے تو کہانی کی فرمائش کی تھی ۔ سننے والوں میں سے ایک نے الاؤ میں کچھ اور لکڑیاں ڈالتے ہوئے سوال کیا
یہ کہانی ہی ہے، زرا صبر سے سنو تو ۔
اسی برگد کے قریب ایک گلاب کا پھول کھلا یہ انوکھا گلاب تھا بہت خوبصورت اور بہت خوشبودار، ہوا کے ایک جھونکے کو یہ گلاب اتنا بھایا کہ اس نے گود لے لیا ۔ گلاب بھی اس نرم گرم لمس سے کھل کھل جاتا ۔ ہوا کا یہ جھونکا آتا چپکے سے اپنے گلاب کو چومتا اور اپنے مشام جاں میں اسے کی خوشبو بسائے جھومتا، ناچتا کہاں سے کہاں نکل جاتا، پھر اپنے گلاب کی طرف پلٹتا اور اسے چوم لیتا، برگد کو یہ آنکھ مچولی ایک آنکھ نہ بھائی، اس نے گلاب کو تاکا اور اپنا حق سمجھتے ہوئے اسے اپنے سائے میں لے لیا ۔ گلاب مرجھانے لگا ۔ ہوا کا جھونکا جلتے پیروں اپنے گلاب کے گرد چکراتا پھرتا لیکن اسے بچا نہ پاتا ۔ وہ برگد کے موٹے ٹہنوں سے سر پٹختا لیکن اس کا کچھ بگاڑ نہ پاتا ۔ برگد کی استہزاء بھری سائں سائں اسے اور طیش دلا دیتی، اس کی نگاہوں کے سامنے جب اس کا گلاب مرجھا کر سوکھنے لگا تو اسے ہوش آیا ۔ وہ بستی میں پھیل گیا اور لوگوں کے کانوں میں میں سرگوشیاں کرنے لگا ۔
آخر تم یہ ظلم کب تک سہو گے ۔ اسی برگد کی چھتر چھاؤں میں تمہیں چھتر لگائے جاتے ہیں، کوڑے مارے جاتے ہیں اور اسی برگد کے موٹے ٹہنوں سے رسے باندھ کر تمہیں پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ہے، تمہاری زندگی کی رونق تو یہ چھوٹے چھوٹے پودے ہیں جو تمہیں زندگی کی ساری خوشیاں دیتے ہیں ۔ اس برگد نے تمہیں دکھوں کے سوا دیا کیا ہے؟
سرگوشیاں نعروں میں بدلیں اور بستی کے سیکڑوں لوگ کلہاڑے لے کر برگد پر پل پڑے ۔ درجنوں ہاتھ اس کی جڑوں پر وار کر رہے تھے، درجنوں اس کے تنے پر، کئی لوگوں نے ایک سمت پکڑ کر اسے کے ٹہنوں پر رسے ڈالے اور اسے کھینچنے لگے دیکھتے ہی دیکھتے بوڑھا برگد گرنے لگا ۔ یہ انتقام میں ڈوبے فولادی ہاتھ تھے کسی طوفان کی لہر نہیں جسے اس کی شاخیں جھک کر گزار دیتی تھیں
ہوا کا جھونکا خوشی سے ناچتا پھر رہا تھا ۔۔۔ برگد گرا تو وہ اپنے وجود میں اپنے گمگشتہ گلاب کی خوشبو بسائے مشقت زدہ چہروں سے ٹکرایا اور ان کی روح کو معطر کرتا ایک سمت چل دیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں