افسانہ ،، بولو کہاں گئے تھے ،، ڈاکٹر لبنی زبیر

سخنور تخلیقِ نو افسانہ بیٹھک سیزن 1
افسانہ نمبر60
افسانہ : ” بولو کہا ں گئے تھے ”
ڈاکٹر لبنیٰ زبیر
بینر لُبنیٰ زبیر
.
بانوری چکوری کرے دنیا سے چوری چوری، چندا سے پیار …
ریڈیو پربجنے والے مدھر گیت کی دھن میں ڈوبی ” رشنہ ، خیالوں میں کھوئی ہوئی کبھی چٹلا گھماتے شرمانے لگتی اور کبھی ہنستے ہنستے گھٹنوں میں منہ دے لیتی .
انسانی جسم کی بھی اپنی اک زبان ہوتی ہے، اسکا اک خاص لب و لہجہ بھی ہوا کرتا ہے جس کے ا ظہار کا تعلق موقعہ محل اور اس کے مقابل پر منحصر ہوتا ہے. اک روایتی مشرقی لڑکی کی ان خاص الخاص اداؤں کے پیچھے من سے تن پہ پھوٹتے سپنوں کو دلہن کی صورت تعبیر ملتی ہے .ایسی عورت کو تو محبت کا اک یہی طریقہ ممکن دکھائی دیتا ہے اور شوہر کی صورت میں محبوب ..
اس سے پہلے کہ معراج الدین، جو بڑی دیرسے بھنوئیں اور منه سکوڑے ، ماتھے پر بل ڈالے ،یہ عجیب منظر دیکھ رہے تھے رشنہ پر قنوطیت کا الزام لگا تے ،اماں بی کی آواز پر رشنہ کو ہوش میں آنا پڑا . بہت دیر دھڑکنیں بے ترتیب رہیں کہ شرم اور شرمندگی دونوں میں کانٹے کا مقابلہ ہو چلا تھا .
رشنا اور چھوٹی حسنہ دونوں بہنوں کو ان کے ابا کے دوست نے اپنے بیٹوں معراج الدین اور سراج الدین کے لئے بلترتیب مانگا تھا .دونوں خاندان چونکہ اتر پردیش ( بھارت ) سے لاہور منتقل ہویے تھے اسلیۓ روایات اور ماحول میں حدد رجے مماثلت تھی. ان کے اپنے خاندان میں نہ سہی خاندان سے باہر ہی اتنے پڑھے لکھے ، برسر روزگار اور شریف لڑکوں کا ملنا اک تحفہ خداوندی تھا، انکار کا جواز ہی نہیں بنتا تھا، سوتاریخ طے پائی .
رشنہ قبول صورت لیکن بلا کی ذہین اور حساس دوشیزہ تھی جبکہ چھوٹی حسنہ کے تمام عیب اسکی گوری چمڑی نے ڈھانپ لئے تھے . پھر بھی ان کی ماں کو اپنی حسین بیٹی سے زیادہ ذہین بیٹی کی فکر کھائے رہتی کہ وہ سوچتی بہت تھی اور ان کے خیال میں روایت پسند گھرانوں میں سوچنے والی عورت کو ویسی محبت نہیں ملتی جیسی معصوم دکھنے والی عورت کو .
بابل سے پیا دیس سدھار کر دونوں دلہنیں کافی خوش اور مطمئن لگ رہی تھیں .
پہلی نظر میں ہی معراج الدین رشنہ کی آنکھوں سے دل میں اتر کر گویا اس کی دھڑکن بن گیۓ تھے.اک بردبار ، خوبرو ، خوش لباس اور خوش گفتار مرد .ان کی وضح قطع اک سیاسی جماعت کے رہنما ہونے کی وجہ سے بھی حسنہ کے لئے بے حد پرکشش تھی . رشنہ کا من کرتا کہ ان کی ستائش میں غز لوں کے دیوان لکھ ڈالے جس سے اس کے دل کی کیفیت اور وارفتگی ان پر عیاں ہو جاۓ اور معراج الدین بھی خود کو کائنات کا خوش قسمت ترین شخص سمجھیں .
سراج الدین اپنے بڑے بھائی کے برعکس چپٹی ناک اور چھوٹی آنکھو ں وا لے سیدھی سادھی طبیعت کے مالک تھے ، حسنہ کی طرح سپید رنگت ان کے حسنہ سے رشتے کی وجہ بنی تھی . حسنہ بیاہ کر آئ تو ان کی صورت اور حالت دیدنی تھی . اک ماہ پہلے سے ہی جب اماں بی کہتی تھیں ” دلہن آوے گی ” تو ان کی کھلی ہوئی باچھیں چہرے پر سب سے زیادہ نما یاں ہو تیں. اس وقت شرماتے ، مسکراتے وہ بالکل جاپا نی گڈے لگتے. اماں صدقے واری جاتیں .
” دلہن آوے گی ” جملہ کانوں میں گھنٹیاں بجا کر من میں گدگدی کرتا تو چہرہ شرم سے اب بھی گلگوں ہوجاتا حالانکہ اب دلہن آچکی تھی اور خوشی سے انہیں اپنا آپ نہیں سنبھالا جارہا تھا. حسنہ بھی خوشی سے سرشار تھی جبکہ رشنہ کو تین دن گزرنے کے بعد بھی ابھی تک شوہر سے گفت و شنید تک کا موقع میسر نہیں آیا تھا . خیالات کی حد تک وہ ان کی سراپے سے محو گفگو رہتی اور اس وقت کا انتظار کرتی جب وہ آنکھ بھر کر اسے اور اس کی چا ہت کو دیکھ سکیں .
اماں بی کی دونوں دلہنوں کوخاص ہدایت تھی کہ(بیٹھک) مردان خانے میں بیبیوں کا جانا منع ہے اور اپنے مردوں کے سب کام بیبیاں خود کریں گی ، بانو ( ملازمہ ) نہیں. حسنہ تو نہ لیپنے کی تھیں نہ پوتنے کی بس اماں بی کے لئے پان کی گلوریاں بناکر ٹاٹ میں رکھتی رہتی ساتھ جہیز میں ملے نان نول کے سروتے سے سپاری کترتی خود بھی کام دکھا جاتی. دیگر اوقات میں صرف آرام کرتی یا ہار سنگھار کرکےمیاں کے سنگ چونچلوں میں مصروف رہتی .
امور خانہ داری میں ماہررشنہ نے ا ماں بی کا من موہ لیا تھا . اماں بی بھی اسےمیاں کے معدے سے دل میں اترنے کے تمام گر بتاتی رہتیں ..
کبھی کہتیں ا ے بی بی ! آج نرگسی کوفتے اور ساتھ میں دھلی ماش بنا ڈال ، بھیۓ کو( بیٹے کو ) بہت پسند ہیں .
کبھی ٹھوڑی میں ہاتھ ڈال کر کہتیں ، اے بنو! مسکراوے نہ ہے ؟ مرد کو اچھی نہ لگے ہیں اتنی سنجیدہ صورتیں ” اماں اسکی نقل میں صورت بسور کر دکھاتیں . ہنسا بولا کر اپنی بہن سے نہ سیکھا کچھ ؟ کیسے چھوٹے بھیۓ کو مٹھی میں کر لیا .(اب وہ کیا بتاتی کہ یہ سب کرتی تو ہے لیکن محظ تخیل میں ، مٹھی میں لینا تو دور وہ ان کی توجہ پا لے یہی بہت ہے )
اماں بی کو معاملے کی پیچیدگی کا مکمل علم نہیں تھا لیکن زندگی گھر میں ہی گزری تھی. زبان کم لیکن آنکھیں اور کان پورے کھول کر. اسلیۓ بہو بیٹے کی نجی زندگی سے مکمل لا علم بھی نہ تھیں . بانچھوں سے پان کی پیک سنبھالتیں اماں بی اس کے کان میں جھک جھک، شرما شرما کر سولہ سالہ دوشیزاؤں کے اندازمیں کھسر پھسر میں اسےشوھر کو مٹھی میں کرلینے کے گر بتاتیں .اس وقت حسنہ کو وہ اتنی پیاری لگتیں کہ ان کی ہر بات پر لبیک کہنے کو جی کرتا .
معراج الدین روز اول کی طرح رشنہ کے سلیقے اور محبت سے بے نیاز ویسے ہی لئے دئیے رہ رہے تھے. سنا تھا شادی سے پہلے بھی گھر میں کم ہی ٹکتے تھے لیکن شادی کے بعد بھی ان کی روش میں تبدیلی نہیں آئ تھی.بقول بانو اب وہ پہلے سے زیادہ وقت باہر گزارتے ہیں .
کھانے کے وقت کسی دن قسمت سے گھر میں ہوتے تو رشنہ حسرت اور فرط جذبات میں انہیں تکے جاتی ا ور پکڑ ے جانے پر جھینپ سی جاتی . معراج الدین کیا کھاتے ہیں ، کیسے برتتتے ہیں ان کی پسند نا پسند وہ اپنی سوچوں میں درج کرکے محفوظ کرتی رہتی، جبکہ انہیں اسکی وارفتگی اور چاہت تو دور.. رشنہ ہی نہیں دکھتی تھی. دیور صاحب اسی سمے اپنی حڈ حرام لیکن حسین بیوی کی نینوں ہی نینوں میں میں آرتی اتارتے دکھائی دیتے .
اک بھری دوپہر رشنہ اچار کے لئے امبیاں کاٹ کر ململ پر پھیلاتی اماں بی سے کچھ پوچھنےآئ تو کمرے کے اندر سے باہر رستی اماں بی کی لاغر اور ملتجی آواز نے اس کے قدم وہیں روک لئے.
اے بھیے! وقت دیا کر دلہن کو. بیچاری کملا سی گئی ہے .ایسے گھٹا جسے گیسو اس کے، ایک کے نہ ہیں خاندان بھر میں . کیسا نمک ہے چہرے پر آنکھ بھر دیکھا کبھی؟ . بہن تو اس کے آگے پھیکا شلجم لگے ہے اور میں تو سگھڑاپے پر مروں ہوں، تجھے ہی نہ دکھے ہے کچھ ، کیسے مزے مزے کے پکوان بناوے ہے ، دیہان کر ذرا . نو بیاہتا ایسے ہووے ہیں؟ تین ماہ ہونے کو آئے سراج کے ہاں تو خوشخبری بھی ہوگئی .
بس اماں بی اب ہمارا منہ نہ کھلوایۓ . اچانک اماں بی کی بات کاٹتی ہوئی معراج الدین کی قدرے تیز اور بیزاریت سے بھری آوا آئ .
“کیا لے آئیں یہ آپ ہمارے لئے اماں .. .
اک افلاطون ؟
ہر وقت ہم پر نظر رکھنا ، غور غور سے دیکھنا .سب سے ہماری بابت پوچھتے رہنے کے علاوہ ان کو کوئی کوئی کام ہی نہیں.
سن رکھیے آپ ! کہ اک تو ہمیں ان میں قطعی د لچسپی نہیں اس پر جب وہ محبوبہ بننے کی پوری کوششیں کرتیں ہیں تو بخدا بہت خار چڑھتی ہے ہمیں.
زبردستی پلے باندھ دیا ہمارے ، ماں ہوکر بھی آپ ہماری پسند نہ پسند سے نا وا قف ہیں حیرت ہے. ہونہہ ! .. پر مجبوری .. آپ کی اور اپنی زبان اور عزت کا پاس رکھنے کے سوا اب کوئی چارہ بھی نہیں .
اماں بی کے جواب سے بے نیاز ، آگے کچھ بھی سنے بغیر ، ٹوٹے دل کی کرچیوں کی ” چھن ن ن” کو محسوس کرتی رشنہ نے دیوار کا سہارا لیکر بمشکل وہاں سے اپنے کمرے تک کا سفر طے کیا تھا .
نظر اب اور تیز ہوگئی تھی ، ہر طرح کی حساسیت اپنی انتہا پر تھی ، کبھی سروتے میں انگلی آجاتی، کبھی سبزی کاٹتے وقت پریشاں خیالی میں اپنی انگلی ہی کاٹ بیٹھتی. آئے دن با ورچی خانے میں ہاتھ جلا بیٹھتی تھی . اماں بی اس کے چیخنے کی آواز پر اپنا سر پکڑنے لگتیں ، وہ کر کچھ نہ سکتیں تھیں لیکن سمجھ سب سکتی تھیں کہ کیوں رشنہ اتنی پریشان اور ہونق رہنے لگی ہے .
معراج الدین ہر روز رات گئے ہی گھر میں داخل ہوتے تھے .اپنے کمرے میں آتے ہی بستر پر دراز ہو کر بتی گل کردیتے اور رخ موڑ کر کروٹ لے لیتے ، تھوڑی ہی دیر میں سو تے بنتے . رشنہ اپنی جانب میں سلام جواب اور بات نکالنے میں پہل کرتی لیکن جواب میں ” ہوں، ہاں ” یا سرد لہجے میں ایسے چنندہ جملے ملتے جو گفتگو میں فل اسٹاپ کی حیثیت رکھتے ہیں .جس دن معراج الدین کے ساتھ ان کے یار دوست ہوتے تب تو رات گیۓتک محفل جمتی اور سیاسی و غیر سیاسی گفتگو کے ساتھ چایے کے دو ر چلتے .
بانو ایسے میں مہمان نوازی کے فرائض انجام دیتی جبکہ رشنہ حسب معمول اپنے حتی المقدور بناؤ سنگھار اور شوہر کی قربت کے لئے کی گئی منصوبہ بندی سمیت انتظار کرتے کرتے بالاخر تھک ہار کے سو جاتی .
اک ہی چھت کے نیچے ، قد رے شرمیلے اور بزدل دکھنے والے سراج الدین چھپ چھپا کر اپنی بیوی کو سنیما بھی لے جاتے اور چھت پر لے جا کر ریڈیو بھی سنواتے. رات پورے ٨ بجتے نہیں تھے کہ دوڑے دوڑے گھر کی جانب لپکتے. وزن سے لٹکی ہوئی کرتے کی جیبیں چغلی کھاتیں کہ ان میں کبھی مٹھائی ہوتی کبھی تکے ، جیسا بھی حسنہ کا جی ہوتا کبھی کچا کبھی . ویسے بھی دونوں بہنوں میں کوئی رازداری نہ ہونے کے سبب رشنہ کو ان کے کمرے کی بہت سی کار روائیوں کا علم تھا، حسنہ اپنی زندگی میں مگن اور سرشار تھی اسلیۓ بہن کی زندگی کی طرف سے اس نے یکسر آنکھیں بند کرلیں تھیں .
بہت دنوں بعد ریڈیو پر نشر ہوتیں خبروں کی آواز سن کر رشنہ بے ساختہ آواز کی سمت چلتی چلی آئ. خبرنامے کی آواز کے ساتھ ہلکی ہلکی گفتگو کی آوازیں اس کا دیہان کھینچنے لگیں . معراج الدین کا دوست ” فخرو ” ساتھ تھا تھا . بیٹھک میں سب سے زیادہ اسی کا آنا جانا تھا. اسی کے ساتھ ان کا بچپن گزرا تھا اور پڑھائی کی غرض سے جتنے عرصے وہ امریکہ میں رہے فخرو ان کے ساتھ ہی رہا . حسنہ ازراہ تجسس ان کی باتیں سننے کی غرض سے دروازے سے تقریبا چپک کر، کان لگا کر کھڑی ہوگئی ..
انگریزی اخبارات کی زینت بننے والی گوری میموں کے حسن اور اداؤں کے تذکروں نے رشنہ کے دل کو جیسے جلتے انگارے سےد اغ دیا .شریک گفتگو تو وہ دونوں دوست تھے لیکن اپنے محبوب کے منہ سے کسی اور عورت کا تذکرہ سننا کیسا لگتا ہے، یہ اسکا پہلا تجربہ تھا .
من کے بھیتر اب اپنی کم مائیگی اور محرومی کا احساس سر اٹھا نے لگا تھا .
سنگھار کے نام پر جہیز میں انہیں جو سہاگ پڑا ملا تھا اس میں مسی کے سوا ہر چیز کا استمعال گھر میں جائز تھا ، لے دے کر اب اسمیں میں بھی صرف کاجل ، چٹلے اور اک پاؤڈر کا ڈ بہ بچا تھا جس پر عورت بنی ہوتی .
ان تین سنگھار سے وہ باہر والی عورتوں کا کیسے مقابلہ کرے؟ وہ پریشان حال بیٹھی سوچتی ہی رہتی .. کہ جس گھر میں میاں کے پہلو میں بیٹھنا ، سرخی لگانا معیوب سمجھا جاتا ہو وہاں ایسے جہاں دیدہ مرد کو کیسے اپنی طرف متوجہ کیا جاۓ. کیسے لبھایا اور رجھایا جاۓ .
اندر اندر کڑھتی رشنہ رب سے کسی ترکیب ، کسی سرے یا کسی معجزے کی طلبگار تھی .
پھر اک دن بانو کا بیمار پڑنا تھا کہ رشنہ کو چاۓ پانی پکڑا آنے کے بہانے میاں کی باتیں سننے کا موقع مل گیا . اسے اک غائبانہ رقیبہ یا سوتن کی تلاش تھی.
چاۓ بناکر لائی تو کھٹکھٹانے کے بجایے دروازے کے ساتھ کان لگا کر کھڑی ہو گئی.
شوہر کو جاننے کا اشتیاق تھا. سوچا شاید مردانہ گفتگو سے ہی ان کے ذوق اور شوق کی بابت ان کا کوئی من پسند موضوع یا کمزوری ہاتھ آجائے .
اندر سے دو رنگی قہقہوں کی آوازیں آرہی تھیں ..
“ہا ہا ہا .. ١٣ گھنٹوں کا وزیر اعظم .. ایک دن کا بھی نہیں .. پہلی بار سنا .. معراج الدین بول کر ہنسے جا رہے تھے .
ہاں میاں! اور کمانڈر ان چیف بھی پہلی بار ہی سنا ہے. اب بھلا یہ کس بلا کا نام ہے ” فخرو پوچھ رہا تھا .
میاں اپنے خان صاحب اور کون. ایوب خان صاب .
اوہ اچھا اچھا . ویسے یہ بھی سنا ہے کہ تمام سیاسی جماتوں پر پابندی لگ گئی ہے اور مارشل لا کا قوی امکان ہے .اب ہمارا کیا بنے گا، اور پارٹی کا ؟
ہان سنا تو ہے .. اندر سے ماچس جلانے کی آواز آئ اور معراج الدین کے چبا کر بولنے کی .. “یہ سب اپنے اسکندر مرزا صاحب کے کارنامے ہیں میاں”
.خیر ہے . واپڈا ہاؤس بن گیا ہے اب تو ، بہت سی اسامیاں خالی ہیں . ڈگری اور سفارش دونوں ہیں پاس میں .. نئی نوکری کے توسط سے اک دو پنکھے اور لگوالیں گے گھر میں . ہنستے ہنستے معراج الدین نےاندر سے دروازہ کھول دیا .رشنہ حواس باختہ سی، جھینپ کر جلدی سے گھونگھٹ کاڑھتی چاۓ رکھ کر جانے کو تھی کہ معراج الدین نے ٹوکا “ان سے کاہے کا پردہ بیوی! لنگوٹیا ہیں ہمارے ، بھائی ہی سمجھیں .
“سگے بھائی تو نہیں نہ !” یہ کہتی ہوئی حسنہ فخرو کی حدود اربع جانچتی نظروں سے خود کو بچانے کی خا طر وہاں سے چل پڑی تھی ، معراج االدین کے تن بدن میں جیسے آگ سی لگ گئی تھی ، علم اور شعور کو سلاکر ان کی مردانہ انا جاگ گئی تھی .
رات خوب سنائیں حسنہ کو. ..حسنہ نے بھی صبر کا دامن چھوڑ کر اس دن جھجھک کا روزہ بھی توڑ ڈالا اورپہلی بار ہمت کرکے انہیں اپنے ہونے کا احساس دلانے کی کوشش کی.حوصلہ کرکے اپنے تمام شک و شبہات بھی ان کے سامنے رکھ ڈالے کہ حتی المقدور اپنے رشتے کو بنانا اور دوا م بخشنا پیش نظر تھا. .معراج الدین نے شادی سے اب تک پہلی بار اس سےتقریبا دس منٹ بات کی تھی . ان دس منٹ نے اس کو دس صدیوں کی سرشاری سرشاری دی . جب معراج الدین نے بے دلی سے ہی سہی اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اس کے تمام خدشات دور کردیۓ تھے اور یہ جانتے ہوۓ بھی کہ سر کی قسم تو عزیزوں کی کھائی جاتی ہےرشنہ خود کو دلاسے دیتی ، تھوڑے کو غنیمت جان کر اس رات سکوں سے سوئی تھی .
“سر پر اس ہاتھ کا احساس رشنہ کو سب کچھ لگا تھا ”
یہ حقیقت تھی کہ اک وقت رشنہ کے پڑھنے کے جنون پر دلہن بننے کا شوق سبقت لے گیا تھا لیکن جنوں ابھی مکمل رخصت نہیں ہوا تھا . بانو کی بیماری کی وجہ سے بیٹھک کی صفائی کے دوران رشنہ غیر ملکی اخبارات پڑھنے کے اشتیاق میں اکثر نیو یارک ٹا ئمز پڑھنے کی کوشش کرتی ، کبھی انگریزی میگزینز. اک دن جب رشنہ کے ہاتھ سے معراج الدین نے تمسخر آمیز انداز میں اخبار چھینتے ہویے کہا ” اتنی پڑھی نہیں ہیں آپ بیوی” تو اس کے جواب میں اس نے برملا کہا تھا . “لیکن میں پڑھ سکتی ہوں “.
اسکی یہی باتیں معراج الدین کو آنکھ میں بال کی طرح کھٹکتی تھیں، تین ماہ کے اندر ان کو اندازہ ہو گیا تھا کہ گھر کی دیگر عورتوں کے بر عکس رشنہ بیگم مقابلہ پسند اورمردوں کی طرح علمی بحث کا شوق رکھنے والی ، اک بہت زیادہ سوچنے والی عورت ہےاوراس معاملے میں ان کو اپنے چھوٹے بھائی کی قسمت پر رشک آتا کہ بھا وج اک خالص عورت تھی .
لاہور میں واپڈا ہاوس قائم ہوچکا تھا اور معراج الدین کی نوکری وہاں آسانی سے لگ گئ تھی . اب وہ دن میں دفتر ہوتے اور رات میں فخرو کے ساتھ. رشنہ بدستور میاں کو اپنانے اور اپنا بنانے کے تمام ہتھکنڈے آزما آزما کر ہارتی رہی، لیکن ہمت نہ ہاری . نہ ہی اسکے سوچوں کے براقوں نےاپنی رفتار دھیمی کی .
اپنے کمرے اور بیٹھک کی صفائی کرتی تو چیزیں کھکھولتی سوچا کرتی کہ کہیں سے نا دیدہ سوتن کے دوپٹے کا سر ا ہی ہاتھ آجائے . اسکے خیالی خاکے کو دیکھتی کبھی اسے ختم کر ڈالنے کا سوچتی کبھی خود کو .اچانک قنوطی سی ہو جاتی .
اک رات جب وہ قہوہ دینے کو بیٹھک کا دروازہ بجاتی رہی تو دروازہ نہ کھولے جانے پر خود ہی اندر آگئی، دونوں دوست مدہوش پڑے تھے معراج الدین نشے کی بڑ بڑ ا ہٹ کے ساتھ گنگنا بھی رہے تھے” بولو کہاں گیے تھے ، سیاں کہاں گیے تھے “. ان کی اعلی ا تعلیم اور کار کردگیوں کے اعزاز میں ملنے والی ٹرافیوں کے ڈھکنے اتر گیۓ تھے ( وہ ٹرافیاں جنکو ہاتھ لگانے کی اجازت اماں بی تک کو نہیں تھی ) ان میں سے جھانکتا بچا کچا ، بدبور سیال رشنہ کے لئے ان دیکھا ضرور تھا انجانا نہیں.
آخر وہ دونوں کہاں گیۓ تھے اور کہاں سے آیے تھے؟ سوچتے سوچتے رشنہ کی دماغ کی رگیں پٹھنے لگی تھیں.معراج الدین کے ہوش میں آنے کے بعد و ہ اذیت زدہ سی زخم خوردہ شیرنی کی طرح چنگھاڑ ی تھی . “کون ہے وہ؟ ”
معراج الدین نے خدا رسول کو گواہ بنا کر آئندہ شک نہ کرنے کی تنبیہہ اور درخواست کی تھی …
تلخ تو وہ ہوتی ہی جا ہی رہی تھی . غصے اور چڑچڑا ہٹ میں نرم گندمی کلائیوں میں پہنی ہوئی سرخ کانچ کی چوڑیوں کو کڑک کڑک کی آواز سے توڑ نے لگی ساتھ ساتھ رگڑ رگڑ کر توجہ سے لگاۓ گۓ کاجل کو مٹانے کی کوشش کرتی ہوئی روہانسی آواز میں بڑبڑانے لگی
“سمجھتے کیا ہیں مجھ کو؟ اک سادہ لوح ، خود فریب عورت. .
معراج الدین خواب و خرگوش کے مزے لے رہے تھے یہ دیکھ کر وہ بھی تھک ہار کر زخمی کلائیوں کو ماتھے پر دھرے ،رخساروں تک خوفناک حد تک پھیلے کاجل کے ساتھ نیۓ پنکھے کو تکتے تکتے سو گئی. صبح تک وہ قدرے نارمل ہوئی تو اک شرمساری نے اسے آن گھیرا تھا کہ بلا وجہ کا شک بھی اچھا نہیں ہوتا جس میں انسان خدا رسول کو گواہ بناکراپنے سر عذاب لے لے . “مرد ہیں ، ان کے اپنے شوق اور مشاغل ہیں . اماں بی کو کچھ بتاتی بھی تو بوڑھی ہڈیوں میں اتنا دم تھا نہ قلب کی یہ سکت کہ ان کو اسطرح کے عجیب مسائل میں ڈال کر ان کا عرصہ حیات مزید کم کیا جاتا اور یہی حالت اسکی اپنی اماں کی بھی تھی. کچھ کہتی تو کس سے کہتی. دیو ر میاں تو بڑے بھائی کی آہٹ سے ہی رعب میں آجاتے تھے .
پھر سے خود کو ہمت دے کر بہلا کر اس نے نئی نویلی دلہن کی طرح شوہر کو نیۓ سرے سے جاننے کی اور خود کو بدلنے کی کوششیں شروع کردیں تھیں .. اک خالص عورت بننے کی کوششیں …
اس رات .. معراج الدین خلاف معمول ذرا جلدی گھر لوٹے تو اپنے ہوش میں نہیں تھے . رشنہ نے شکر منایا کہ اماں بی اور سراج سو رہے تھے .
اماں بی کی آنکھ کے نیچے یہ کھیل جاری تھا. ان کو اپنی تربیت پر فخر تھا اور عمر کا تقاضہ بھی اسلیۓ عشاء پڑھتے ہی سو جاتی تھیں . . تلے اوپر پانچ چھ بہن بھائیوں کی وفات کے بعد پیدا ہونے والے معراج الدین نے ماں کی ہتھیلی کا چھاله بن کر خوب من مانیاں کی تھیں سوائے اپنی شادی کے اور اس کو بھی اب وہ اماں بی کے سر ڈال دیتے تھے .
اس بار رشنہ کا صبر جواب دے گیا …
نشے کی حالت میں لغویات بکتے معراج الدین بار بار کسی کا نام لیکر قا بل اعتراض جملے بولتے رہے.. کوشش کے باوجود پورا کان لگاکر بھی رشنہ کسی کا نام نہیں سن نہیں پائی تھی ، لیکن بڑ بڑ بڑا ا ہٹ کا لب لباب ” کسی سے مراسم اور تعلقات کی صورت واضح ہو گیا تھا ” .
اس رات رشنا بنا کوئی سوال کیۓ بے بسی اور بے حسی کی چادر اوڑھ کر سوگئی تھی ، سوال بند ہوگیے تھے…
لیکن ..
سوچ اور احساس کون کس کا روک سکتا ہے .
معراج الدین صبح بنا ناشتہ کیۓ اور بنا کسی سے کچھ کہے سنے روز کی نسبت ذرا جلد دفتر چلے گیۓ تھے . اماں بی کے بھائی کے گھر میلاد کی تقریب تھی . رشنہ کے کمرے کے علاوہ سارے گھر میں ہلکی پھلکی ہلچل سی مچی ہوئی تھی.
بانو جو کہ اب صحتیاب ہو چکی تھی جلدی جلدی تمام کمروں کی صفائی کر رہی تھی تاکہ خود بھی تیار ہو سکے ، حسنہ حسب معمول اماں بی کے لئے پان لگارہی تھی اور اماں بی اپنے کرتے سے ہم رنگ دوپٹہ چننے میں مصروف تھیں کہ اتنے میں بانو تیزی سے دوڑتی ہوئی آئ … اس نے کہا کچھ بھی نہیں.. لیکن اس کا چہرہ بہت کچھ کہہ گیا … حلق میں چیخ اٹکائے ، متواتر بہتے آنسوؤ ں کے ساتھ ہانپتی ہوئی بانو کے پیچھے پیچھے وہ دونوں بھی ہونق زدہ سی ہولیں. ..
کمرے میں پہنچ کر حسنہ کی چیخ کے ساتھ اماں بی کلیجہ پکڑ کر زمین بوس ہو گیں تھیں .
گھر کے تمام افراد اس کمرے میں جمع تھے.
چھت کے پنکھےکے ساتھ لٹکتی رشنہ کو نیچے اتار لیا گیا تھا .
رشنہ کی بھنچی ہوئی مٹھی میں سے بمشکل رقعہ نکالا گیا تھا جو پھٹنے کے قریب تھا . معراج الدین نے رقعے پر اک نظر ڈالی لیکن با آواز بلند نہ پڑھا ، بھائی نے ان کے ہاتھ سے رقعہ چھین لیا تھا .
اماں بی اب ہوش میں آچکی تھیں، ساتھ بیٹھا سراج الدین اپنی بیوی اور ماں کے کان میں دھیمی آواز سے رقعہ پڑھ کر سنا رہا تھا . .
نڈھال سی اماں بی بڑے بیٹے کو یاسیت سے تک رہی تھیں ، بہو کے الفاظ اسے ” بے وفا ” بتا رہے تھے اور” رقیبہ یا سوتن ” کو وجہ خود کشی .
بیٹے کی بے گناہی کی گواہی اپنے رب سے مطلوب تھی. بوجھل قدموں سے وہ قران پاک اٹھا کر لائیں اور کمرے میں اکھٹے ہویے بیٹے، بہو ، بانو اور فخرو کی موجودگی میں معراج الدین کے آگے رکھ کر انہیں اپنی صفائی دینے کا موقع فراہم کیا .ڈاکٹر تو آچکا تھا لیکن پولیس کیس بننے سے پہلے معاملہ رفع دفع کرنا مقصود تھا .
“میں معراج ا لدین اللہ کو حاضر ناظر جان کر قران ضا من کرتا ہوں کہ میں نے اپنی ساری زندگی کسی بھی” .. . فخرو نے بات پوری ہونے سے پہلے ہی تیزی سے دوست کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور نفی میں سر ہلا کر باز رہنے کا اشارہ کیا ..
معراج الدین نے اس کا ہاتھ جھٹک کر پر اعتماد اور سپاٹ لہجے میں اپنی بات مکمل کی..
“کسی عورت کوہاتھ تک نہیں لگا یا ” ..
محلے کے دروازے بجے تو اک گھر میں ریڈیو پر بجتا گیت” بانوری چکوری ” بھی اچانک بند کردیا گیا کہ موت کی تصدیق ہو چکی تھی..
معراج الدین کے کانوں میں گیت کی بازگشت پچھلے مہینوں کے بہت سے مناظر کو زندہ کر رہی تھی…بیک وقت دہشت زدہ و نمناک آنکھوں سے رشنہ کی لاش کو تکتا فخرو منہ ہی منہ میں اس سے معافی مانگ رہا تھا …

اپنا تبصرہ بھیجیں