افسانہ ،، آنکھیں بڑی نعمت ہیں ،، غزل حمیدی

افسانہ نمبر ٣٩
“آنکھیں بڑی نعمت ہیں ”
غزل حمیدی (کراچی)
اللہ کی قسم ھمارا تو کوی قصور ہی نہ تھا قصور سارے کاسارا ھماری صاف گوی کا تھا ،، جسے اماں نے ھماری لبڑ لبڑ کا نام دیا تھا اوروں کی لڑکیوں کے منہ سے تو جیسے پھول جھڑتے تھے مگر اماں کو تو ھمارے سوا دنیا کی ہر لڑکی بھاتی تھی ،،
کان میں بتانے والی بات ھے کہ اماں کو پہلوٹی کا بیٹا چاھیے تھا کیونکہ انکے ساتھ کی جن لڑکیوں کی بھی شادی ھوی تھی ان سب کے یہاں پہلا بیٹا ہی ھوا تھا اور وہ اماں کو جلاتے نہ تھکتی تھیں اور اماں انکا سارا غصہ من و عن ھم پر بڑی فراخدلی سے اتارا کرتی تھیں بھءی ایمانداری کی بات ھے ھم تو جب بھی پٹتے تھے پہلا خیال ھمارے دل مین یہ ہی آتا تھا کہ اللہ میاں کا بدلہ اماں ھم پر اتار رہی ہیں بھلا ھمارا کونسا جی چاھتا تھا کہ لڑکی پیدا ھوتے اپنا عیش کس کو نہیں بھاتا مزے سے مٹھای کا اماں والا حصہ بھی ملتا اور کٔر کٔرا پراٹھا بھی سارا دن جب تک چاھے سو جب جی چاھے جاگو آرڈر پاس کرو اور اماں کی والہانہ محبت بھی بلا شرکت غیرے وصول کرو ،،، ہا ،،، ہاےےےےے،،،کوی پوچھنے والا بھی نہیں اور کسی کے اچانک گھر میں آجانے پر ڈوپٹے کی بے سود تلاش بھی نہ کرنی پڑتی ہاے اللہ میاں کیسی عیش کی زندگی ھوتی ھے یہ لڑکوں کی بھی فکر نہ فاقہ عیش کر کاکا اور سب سے بڑی بات یہ کہ جس سے چاہیں عشق لڑاءیں مجال ھے جو خاندان کے نام پر کوی داغ لگ جاے اماں تو سرف ایکسل کا کام کرتی تھیں کہ داغ تو اچھے ھوتے ہیں ،،،،،،،، خیر اس ناانصافی کی تو دنیا کی کسی عدالت میں سنوای ہی نہ تھی ادھر ھمارا یہ حال تھا کہ اگر بیری کے پیڑ پر چڑھتے یا محلے کے بچوں سے دھینگا مشتی کرتے پاے جاتے تو ھمارا ایک ہی علاج تھا کہ اس کی شادی کردی جاے ھاتھ سے نکلی جارہی ھے ،، اور کبھی کبھی تو اماں اتنی تنگ آجاتیں کہ وہ رشتے والی کو بلوا بھی بھیجتیں اور ھمیں آرڈر پاس کردیتیں
کہ اے بدشکلی آج زرا نہادھولے اور اپنا نیا سوٹ نکال لے ،،اوے ھوے نیا سوٹ ۔۔۔ویسے تو گلی کے چپے چپے پر ھماری سہلیاں بھری پڑی تھیں ھم چاھتے تو ان سے کوی سوٹ مستعاربھی لے سکتے تھے لیکن سچ پوچھیے تو مانگے کی چیز مانگے کی ہی دکھتی ھے چاھے وہ آی ایم ایف کا قرضہ ہی کیوں نہ ھو ،، ہزار بار کا پہنا ایک ہی تو سوٹ تھا ھمارے پاس وہ بھی مسکا ھوا ظاہر ھے ہر تیسرے دن پہنا جایگا تو پناہ تو مانگے گا ناں مگر اپنی بھولی اماں کا کیا کریں انکو تو ھم میں وہ وہ خرابیاں نظر آتی ہیں جو ایک سیاستدان کو دوسرے سیاستدان میں نظر آتی ہیں
خیر تو ھوتا یوں تھا کہ لوگ آتے اور پسند کرجاتے ھمیں مگر جاتے جاتے ارشاد فرما جاتے کہ اے بہن گرمی بہت ھے اب دلہن کے کمرے میں اے سی تو ھونا ہی چاھیے کوی مسکرا کر فرماءش کرتا کہ ھمارے یہاں تو پہلا بچہ میکے میں ھوتا ھے بھلا بتاے کوی کہ ابھی شادی تک تو بات پہنچی نہیں اور بچے کی فرماءش شروع ،،، کسی کا اندازایسا ھوتا گویا کہ کسی کی قسم دے کر انکو ھمیں دیکھنے بلوایا گیا ھو تیار ھو ھو کر ھمارا تو
ٹیپا ہی ھوچلا تھا اب اگر اس صورتحال میں ھم کچھ کہہ دیتے تو مہمانوں کے جانے کے بعد ھماری چٹیا اماں گھسیٹ کر چند انچ تو بڑھا ہی دیتی تھیں اب ھم کیاکریں کہ اللہ میاں نے ھمیں ڈاک بابو کے یہاں بمع نفری اتارا کیا ھمارا جی نہیں چاھتا تھا کہ ھم بھی نواز شریف کے گھر میں پیدا ھوتے اور سونے کے لوٹے سے وضو کرتے مگر ھاےےے ھاےےے اوپر سے اماں کے تیکھے مزاج کی وجہ سے سارا خاندان ان سے ڈرتا تھا تو خاندان کے رشتے تو پہلے ہی معدوم تھے خیر اللہ اللہ کرکے ایک جگہ بات بنی ،، مانا کہ گٹکا ان حضرت کے دانتوں کی قربانی تو لے ہی چکا تھا بات کم کرتے تھے تھوک زیادہ اڑاتے تھے اپنی دانست میں انہوں نے پانی کے بحران پر تو قابو پاہی لیا تھا ایک ان کی ماں تھیں جن کو آنکھوں سے دکھتا ہی نہیں تھا اللہ قسم یہ ہی وجہ تھی اس رشتے کے پکا ھونے کی اگر لڑکے کی ماں اندھی نہ ھوتیں تو ھم تو غچہ دے جاتے مگر پانچوں گھی میں کے مصداق اماں بھی اسی لیے مان گءیں حضرت رشید باورچی کے نام سے جانے جاتے تھے رشید کی اماں کو کچھ دکھای نہ دیتا تھا تو انکو ھمارے جہیز سے بھی کوی دلچسپی نہ تھی چنانچہ اس رشتے کو منظور کرلیا گیا اور ھمیں اس منحوس سوٹ سے نجات ملی جو کمبخت نہ پھٹتا تھا نہ ھماری جان چھوڑتا تھا ویسے یہ تو تھا کہ اس سے اچھے رشتے بھی آے ھمارے لیکن اب اپنی زبان کا کیا کرتے کسی نے ایرکنڈیشنر کا کہا تو ھم نے بس اتنا پوچھا کہ بجلی کا بل تو بہت آءیگا ااپ کیا کے ای ایس سی میں ہیں ؟ جب بچے کی ڈیمانڈ ھوی تو اتنا پوچھنے کے گناہ گار ٹہرے کہ آپ تو اتنی بوڑھی ہیں بچہ اس عمر میں تھوڑی ھوتا اب ھمیں کیا پتہ کہ یہ ھمارے بچے کی بات کر رہی ہیں
انکے پیٹھ پھیرتے ہی اماں نے جوتی پیر سے نکالتیں اور ھم بگٹٹ بھاگتے لیکن اماں کا نشانہ،،، ھمیں شاہد آفریدی کی طرح کیچ پکڑنا ہی پڑتا اب تو ھمیں کیچ پکڑنے کی ایسی مشق ھوگءی تھی کہ ھم باآسانی قومی ٹیم میں سیلیکٹ ھوسکتے تھے مگر یہ کرکٹ سیلیکشن کمیٹی بھی ناں اسکے ماتھے پر بس ایک ہی آنکھ تھی جس سے وہ اپنے بھانجے بھتیجے چن لیتی تھی آوے کا آوا ہی بگڑا ھوا ھے اس ملک کا تو ،، ہاں تو بات ھورہی تھی رشید باورچی کی ،،، کھانے پکانے کا ھمیں کوی مسلہ نہ تھا روز کی روز قورمے اور بریانی کھا کھا کر ھم خوبصورت بھی ھوگءیے تھے یہ بات رشید نے ھمیں خوب دھونے کے بعد بتای تھی گالیوں اور گھونسوں کے عادی تھے تو ایک آدھ بار رونا آیا مگر پھر ھنس کر ٹال گءے رشید کی اماں کا اندھا پن ھماری جنت بن چکا تھا اللہ میاں دینا کی ہر لڑکی کی ساس اندھی ھو قسم سے ایسا محسوس ھوتا تھا جیسے کہ راے ونڈ کا محل ھمارا ہی ھے اب ھوا یوں کہ وہ اماں جو ھمیں گھڑی کی چوتھای میں دفع ھونے کی دعا دیا کرتی تھیں اب ان کو ہر گھڑی کی چوتھای میں ھماری یاد ستانےلگی اور ھم بھی ایک زندگی کا میلہ چھوڑ کر آے تھے وہ بہن بھاءیوں کی چھین جھپٹ یاد آتی تو ھم بھی اماں کا پہلو آباد کرنے جادھمکتے ھماری اماں سے محبت کیا بڑھی رشید تو باورچی سے قصای بن گیا ویسے ھمیں عادت تو تھی مگر اماں کے ھاتھ کی جب بھی رشید کا بھاری ھاتھ ھماری کمر پر پڑتا ھمارے دل سے سدا آتی یہ ہاتھ ھم کو دے ٹھاکر مگر وہ باورچی تھا ٹھاکرنہیں تھا اماں ھمارے گھر مستقل پای جانے لگیں ھماری ساس کو تو وہ گھاس بھی نہ ڈالتیں ویسے ھماری ساس گھاس کھاتی بھی نہیں تھیں بیچاری ،،، اماں کے ھمارے یہاں موجود رھنے سے اماں کے گھریلو نظام کا ٹیپا ھوگیا اور ابا نے اپنے حقوق کا استعمال شروع کردیا سمجھنے والے سمجھ ہی گءیے ھونگے کہ ،،، اماں اپنے گھر کو سدھاریں اور ھمارے گھر کا نظام اور سدھرا ،،،،اور رشید قصای سے واپس باورچی کی جون میں آگیا ،،،، بس ایک نصیحت اپنی ھم عصروں کے لیے کہ شادی چاھے رشید باورچی سے ھو یا نواز شریف کے کسی پوتے نواسے سے ساس اندھی ہی ھونی چاھیے ویسے ھمارا زاتی خیال تو یہ ھے کہ ساری کی ساری سسرال ہی اندھی ھونی چاھیے دور کیوں جاتے ہیں اب اپنی حکومت کو ہی دیکھ لیں آنکھوں سے محروم ھے مگر ھماری ساس کی طرح سب اچھا کا نعرہ لگاتی ھے اور اپنوں اپنوں کو بڑی محبت سے ریوڑیاں بھی بانٹتی ھے ،،، قایم و دایم ھے ،،،، ھے کہ نہیں ،،

اپنا تبصرہ بھیجیں