افسانچہ ،، مورخ ،، فرحانہ صادق

سخنور تخلیق نو افسانہ بیٹھک سیزن 1
افسانہ نمبر : 58
عنوان : مورخ
تحریر : فرحانہ صادق
بینر : سید عبدللہ حیدر
ملک کی تاریخ کے اہم باب رقم کرنے میں میڈیا سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے ۔۔۔
ہم آذاد صحافت کے قائل ہیں اور لکھنے والوں کی دل سے قدر کرتے ہیں ۔۔۔
سیٹھ کاظم کی تقریر کے اختتامی جملوں کے ساتھ ہی فائیو اسٹار ہوٹل کا مرکزی ہال تالیوں اور نعروں سے گونج اٹھا ۔۔۔
سیٹھ کاظم جن کا شمار ملک کے مشہور صنعتی تاجروں میں ہوتا تھا ، ہر بڑے شہر میں انکے کارخانوں کی زنجیر تھی ۔
انہوں نے اس پریس کانفرنس کا اہتمام بد عملی کے مقدمات سے باعزت بری ہوجانے کے عدالتی فیصلے کے فورا بعد کروایا تھا ۔
انکے اسٹیج سے اترتے ہی ایک صحافی بانچھیں پھیلاتے ہوئے تیزی سے قریب آیا اور فدویانہ انداز میں بولا ۔۔۔
کیا بات ہے جناب قلم کی حرمت تو کوئی آپ سے سیکھے بھئی ہم تو قدردان ہوگئے آپکے ۔۔۔ سیٹھ کاظم کے چاروں طرف گھرے غول سے بے شک بےشک کی آواز آنے لگی ۔۔۔
انہوں نے زور دار قہقہہ لگایا اور ہاتھ سے مزید گفتگو ترک کرنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولے ۔۔
اب آپ لوگ کچھ روٹی شوٹی کھاو باقی باتیں بعد میں ہوں گی ۔۔۔
سیٹھ کاظم کی عدالتی احتساب سے گلو خلاصی کے معاملے میں میڈیا نے انکا بھرپور ساتھ دیا تھا
اس لئے انکی ہدایت پر وہاں موجود ملازمین ، ٹی وی چینلز اور اشاعتی اداروں کے مالکان ، اور صحافیوں سے بڑی عزت سے پیش آرہے تھے اور خود ساتھ چل کر کھانوں کی میزوں تک انکی رہنمائی بھی کر رہے تھے ۔۔
جلد ہی سب کی توجہ کھانے کی طرف ہوگئی اور فضا میں برتنوں کی کھڑ کھڑاہٹ گونجنے لگی ۔۔۔
کہیں کہیں کسی کونے سے ہنسی کی آواز بھی آجاتی ۔۔
جلد ہی تقریب اختتام پزیر ہوئی۔۔۔
سیٹھ کاظم تو کسی کاروباری معاملہ میں اشد ضروت کی تحت کب کے جاچکے تھے آہستہ آہستہ سب مہمان بھی رخصت ہوگئے ۔
بعد ازاں ہوٹل کے ایک ملازم نے کھانے کے بچے ہوئے ڈھیر سے ایک پلیٹ بنائی اور ہوٹل کی پچھلے دروازے کے ساتھ بیٹھے خستہ حال بوڑھے کے سامنے رکھ دی، جو بوسیدہ کاغذ پہ قلم سے لائنیں گھسیٹنے میں مشغول تھا ۔
پھر اپنے ساتھی سے بولا
بے چارہ روز کاغذ چن کے لاتا ہے اور پھر انہی پر کچھ الٹا سیدھا لکھتا رہتا ہے، کہتا ہے میں مورخ ہوں اس ملک کی تاریخ لکھ رہا ہوں ۔۔
پاگل ہے بے چارہ ۔ ! !
اسکے ساتھی نے تاسف سے سر ہلایا اور دروازہ بند کردیا ۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں