،، یکجا کلام ،،

برائےیکجا کلام
ڈاکٹر محمد تبسم پرویز
نمبر شمار55
کلام

دشمنی اس طرح نبھاتے ہیں
بھائ کو بھائ سے لڑاتے ہیں

وە کتابوں سے اور کبھی دل سے
نام لکھ کر مرا مٹاتے ہیں

کیوں وہ ہوتا ہے جان کا دشمن ؟
جس کو اپنے گلے لگاتے ہیں

زلم کی انتہا ہے جو کانٹے
میری راہوں میں وە بچھاتے ہیں

زخم دل دیکھتے ہیں جو میرا
ضرب اس پر وهی لگاتے ہیں

دل جلاکر بنایا ہے کاجل
جس کو آنکھوں میں وە لگاتے ہیں

اس لئے تھم گئی مری سانسیں
جب سنا میں نے وہ نہ آتے ہیں

ہم نے مے کو چھوا نہیں پھر بھی
آپ کو دیکھ ڈگمگاتے ہیں

تم نے دیکھا ہے خشک آنکھوں کو
ہم تو آنسو یونہی بہاتے ہیں

جب تبسم رکھا ہے نام تو پھر
غم ہو کیسا بھی ، مسکراتے ہیں

ڈاکٹر محمد تبسم پرویز
انڈیا

اپنا تبصرہ بھیجیں