،، یکجا کلام ،، زید ملک

برائے یکجا کلام
زید ملک
نمیر شمار 60
کلام

چپ چاپ ہی رہتے ہیں بولا نہیں کرتے
آنکھوں سے گرے اشک ہیں رسوا نہیں کرتے

ہاتھوں کی لکیروں میں اسے ڈھونڈتے رہنا
ہاتھوں میں لکیریں ہیں سو ڈھونڈا نہیں کرتے

اب شہر کا سلطان کا بھی یہ سوچ رہا ہے
یہ لوگ عجب لوگ ہیں گریہ نہیں کرتے
وحشت در و دیوار سے یہ پوچھ رہی ہے
اس گھر کے مکیں رات کیوں سویا نہیں کرتے

میں ہوں اسی پرکار میں اور گھوم رہا ہوں
تم روبرو میرے کوئی دنیا نہیں کرتے

اپنا تبصرہ بھیجیں