،، یکجا کلام ،، ذیشان فیصل شانؔ

برائے یکجا کلام
ذیشان فیصل شان
نمیر شمار 62
کلام

میرا بیٹا پاس ہوا ہے
خوش ہوں دل اُداس ہوا ہے
لا کر میں نے اس کو دی ہیں
کچھ برفی ،دو ٹافی ، باجا
بولا بابا
میرا دوست بھی پاس ہوا ہے
لیگا اپنی سا ئیکل راجا
یہ کہہ کر وہ چپ ہو بیٹھا
دل ہی دل میں میں رو بیٹھا
میری آنکھیں کچھ بھیگیں تو
خود ہی آکر مجھ سے بولا
بابا برفی تم بھی کھالو
اور کچھ میرے منہ میں ڈالو
ٹافی باجا بھی اچھے ہیں
آپ کے تحفے سب سچے ہیں
ماں کو بھی دے کر آتا ہوں
بہن کو باجا دکھلاتا ہوں
پھر کچھ سوچیں گھر کر آئیں
پچھلے سال سے پھر کر آئیں
اب مجھ کو پھر لینی ہونگی
نئی کلاس کی نئی کتابیں
بستہ اس نے پھاڑ دیا ہے
یہ پھر سے بستہ مانگے گا
پینسل ،ربر ، فٹا مانگے گا
رکھنے کو ڈبیا مانگے گا
پچھلے سال جو قرض لیا تھا
وہ میں اب تک بھگتاتا ہوں
اپنی تنخواہ کٹواتا ہوں
پھر یہ سب کچھ کیسے ہو گا
مالک سے پیسے مانگے تو
وہ مجھ کو گالی نا دے دے
اپنی بیٹی کے کانوں کے
بندے شاید بیچنے ہوں گے
اس کے پڑھنے کی خاطر اب
اس کے سپنے نوچنے ہوں گے
یا رب سب پر رحمت کر دے
خوشیوں سے ہی دامن بھر دے
تیرے بھید ہیں تو ہی جانے
میرا دل بس اتنا جانے
تیرا بندہ اُداس ہوا ہے
اس کا بیٹا پاس ہوا ہے
اس کا بیٹا پاس ہوا ہے

ذیشان فیصل شانؔ

اپنا تبصرہ بھیجیں