،، یکجا کلام ،،ڈاکٹر ملک محمد ذوالفقار علی دانش

برائےیکجا کلام
ڈاکٹر ملک محمد ذوالفقار علی دانش
نمبر شمار53
کلام
منزلوں کے لئے راستہ کچھ نہیں
کاررواں جب نہ ہو , رہنما کچھ نہیں

یا تو جبرِ مسلسل ہے یا کچھ نہیں
زندگی امتحاں کے سوا کچھ نہیں

عشق میں جان و تن , انجمن , یارِ من !
میرا سب کچھ لُٹا ہے ترا کچھ نہیں

توڑ دے عہد و پیماں سبھی , آج سے
میں ترا کچھ نہیں ، تُو مرا کچھ نہیں

اُس نے پوچھا تھا لہروں سے , “کیا چاہئے ” ؟
ریت پر موج نے لکھ دیا “کچھ نہیں ” !

تم ملے ہو تو احساس مجھ کو ہُوا
زندگی میں تمہارے سوا کچھ نہیں

اب کے گزری شبِ وصل اس ڈھنگ سے
اُس کو دیکھا کئے اور کہا کچھ نہیں

کیسی اقدار ؟ کیسی محبّت ؟ میاں !
اِس زمانے میں مہر و وفا کچھ نہیں

پوچھ سود و زیاں عشق کا اُس سے تُو
عشق میں جس کا دانش بچا کچھ نہیں

از ناچیز
ڈاکٹر ملک محمد ذوالفقار علی دانش

اپنا تبصرہ بھیجیں