،، ہاں میں نے عشق کیا ہے ،، فریدہ انصاری

حقائق افسانوی سلسلہ سیزن-05 ” عشق و محبت”
افسانہ نمبر 48
*** افسانچہ ***
عنوان : ہاں میں نے عشق کیا
تحریر : فریدہ نثار احمد انصاری(دوحہ، قطر)
عشق… ” ع ” جو اپنے وجود کی طرح محبتوں کو سمیٹ لیتا ہے.. ” ش” جو موجوں کی مانند سمندر کی گہرائیوں کا پتہ دیتی ہیں اور ” ق ” جس کی گولائ دنیا جہان کے حسن کو اپنے محبوب کے آگے حسین بنا دیتی ہے.. اگر یہی ” عشق ” ہے تو مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہاں ..
” میں نے بھی عشق کیا ہے ”
اس شام کے شنگرفی آنچل سے جس کی دبیز کوکھ میں آفتاب کا سفر کچھ وقت کے لئے تمام ہوتا ہے.. اس صبح صادق کے سنہری نور سے جو رات کی سیاہی کو امید کی چمک سے روشن کرتی ہے.. ان حسین پھولوں سے جو ایک چھوٹی سی عمر گزار کر دوسروں کو ہنسنے مسکرانے کا فن دے جاتے ہیں.. ان طائروں سے جن کے پنکھ ان کو آسمان کی وسعتوں کا بلاوا دیتے ہیں اور وہیں سے وہ گھوم گھوم کر اپنی ننھی ننھی چونچ سے رزق کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں.. انھیں کل کی فکر نہیں ہوتی ..کیوں کہ وہ دنیا کو توکل کا درس دیتے ہیں.
.ہاں..مجھے عشق ہے ان بلند پہاڑوں کوہساروں سے بھی ہے جو اٹل ہو کر خود کی ذات کا منواتے ہیں.. ان سبزہ زاروں سے بھی ہے جس کی رنگینی شوخ ہواوں کو مد ہوش کر دیتی ہے.. افق پر ابھرتے وہ کالے کالے منوں پانی کا بوجھ اٹھائے بادل..دیکھو کس کس طرح سے اپنے وزن کے بار کو نظر انداز کر فضا کی وسعتوں میں تیرتے رہتے ہیں..
ہاں.. مجھے عشق ہے اس آفاقی آسمان سے جسے پیر فلک کے نام سے نوازا گیا.جو روز اول سے روز آخر تک بغیر کسی ستون کے جم کر اپنی جگہ پر قائم ہے.. یہ زمین جس کے سینے پر ہم بے سوچے سمجھے چلتے پھرتے ہیں.. اپنی من مانی کرتے پھرتے ہیں..ہاں . ..اس سے تو مجھے والہانہ عشق ہے کہ اسی کی گود میں تو مجھے مل جانا ہے..میری آخری دنیاوی
آرام گاہ..
مجھے عشق ہے ان ننھے منے بچوں سے جن کی کلکاری سے گھر گونج اٹھتے ہیں..جو روئیں بھی تو پیارے اور ہنسے بھی تو نیارے ..
ہاں .. مجھے عشق ہے ان الھڑ دوشیزاوں سے جو کسی شہزادے کے آنے کے سپنے دیکھتی ہیں.. ان کی ان دیکھی محبت سے..ان کے خوابو ں سے ..نہ صرف پلکوں تلے کے خواب بلکہ جاگتی آنکھوں کے خوابوں سے بھی..
یہ کیا مجھے تو ہر خوش رنگ چیزوں سے عشق ہے.. نہیں صرف اتنا ہی نہیں مجھے تو شہد کی مکھی سے بھی عشق ہے کہ وہ شہد بنا کر شفاعت کا سبب بنتی ہے اس شمع سے بھی عشق ہے جو جل کر خود فنا تو ہو جاتی ہے پر دوسروں کو روشنی دے جاتی ہے..ان درندوں ‛چرندوں سے جو جنگل کی خوبصورتی کا سبب ہیں..
کائنات کی ہر شے سے عشق ہے کہ یہی تو سر مستی راز ہے اس عظیم ہستی کا کہ جس نے ان سبھی کی تخلیق کی ہے.. وہ جمیل ہے اور حسین چیزوں کو پسند فرماتا ہے..ذرا دیکھئے تو سہی صرف پانی کو ہی لے لیجئے کہ بغیر کسی رنگ کے..اس بے رنگی شے میں کارخانہ حیات کے سارے رنگ سمو دئیے.. اسی میں سبھی کی نمو لکھ دی.. واہ رے میرے رب.. میرے خالق .. میرے مالک..میرے پروردگار.. اب تو ہی بتا جب تیری بنائ تخلیقات سے مجھے عشق .. تو پھر تجھ سے کتنا ہوگا..
بس تھوڑی سی اپنی نرگسی آنکھوں سے میری جانب نظر کرم فرما اور اپنی رحمت کی چادر میں لپیٹ لے..کہ یہ رقیب روسیا.. یہ شیطان اس کے فریب سے بچ جاوں اور جب بھی تیرے حضور آوں تو اپنی اس عاشقی کے نام کے ساتھ آوں.. آمین یا رب العالمین. .. کہ فنا ہو جاوں تب ہی تو روح کی بقا ہو گی…
من تو شدم، تو من شدی، من تن شدم تو جاں شدی
تا کس نہ بوید باز از ایں، من دیگرم ، تو دیگری
………………………………..

اپنا تبصرہ بھیجیں