،، کاغذ کے پھول ،، عائشہ پروین

حقائق افسانوی سلسلہ سیزن-05 ” عشق و محبت”
افسانہ نمبر 44
*** افسانچہ ***
عنوان : کاغذ کے پھول
تحریر : عائشہ پروین ( علیگڑھ -انڈیا )
صبا آپی نا جانے کب سے گھور رہیں تھی
انھیں میں نظر انداز کر کے اپنی ہی دنیا میں کھوئی ہوئی تھی .،،،
“میں بیس منٹ سے تمہیں پکار رہی ہوں کمال ہے اتنی بے خبری؟.
,, ارے میری منگنی دو سال رہی تھی سلمان سے ایک دن بھی ایسا حال نہ ہوا … کچھ ان کہی, ان سنی رہنے دو” آپی نے مجھے گھورتے ہوۓ کہا.!!
پھر امی بول پڑیں “بیٹی تم آئی ہوئی ہو، اسما کو سمجھاؤ چھ ماہ ہوۓ ہیں حمزہ سے منگنی کو، یہ دن رات کا موبائل پر رابطہ اچھا نہیں, کچھ باتیں شادی کے بعد کے لیے بھی رہنے دے”
“اے کہاں ہو ؟”
“آپ کے پاس”
“اور پاس آؤ نا، کوئی دوری نہ رہے”
“آپ تو پاگل ہیں”
“تم نے ہی کیا ہے”
ایک دوسرے کی باتوں میں دونوں کی زندگی حسین ہو گئ تھی. صبح و شام ایک ایک بات ایک دوسرے کو بتاتے دونوں… یونہی رات بھیگتی رہتی ان دنوں کی آئندہ زندگی کے راز و نیاز میں..
جس طرح سوشل میڈیا مطالعے کی خوبصورت عادت کو دیمک کی طرح چاٹ گیا ہے، وہ مطالعے کی آسودگی، یک سوئی نہیں رہی اسی طرح موبائل فون نے جذبے، محبت، کی باتیں ارزاں کر دی ہیں. سب کچھ کہنے کی دھن میں لوگ سرپٹ بھاگ رہے ہیں وہ نازک کومل احساسات جو ابھی دل میں پوری طرح پنپنے بھی پاتے کہ انگلیوں کی پوروں کے ذریعے ان کا جبری اظہار ہو جاتا ہے سوچنے سمجھنے کا کوئی اثاثہ ہی نہیں رکھ رہے ہم لوگ…… ہر نئ چیز کو یوں ساتھ لپٹا لیتے ہیں کہ ماضی سے کٹ کے رہ جاتے ہیں… اپنے عالی شان مشرقی روایتوں کے ماضی سے… تابناک ماضی سے…
شادی کے دن قریب آ رہے تھے
حمزہ نے اسے کمرے کی سجاوٹ سے لے کر اپنے ڈریس تک کا بتا دیا تھا اور وہ بھی اپنی تیاری کا بتاتی رہی، مایوں اور مہندی کی رات بھی وہ اسے چھیڑتا رہا, اسے کے فون، ایس ایم ایس اسے مدہوش کرتے رہے اسے اپنا حجلۂ عروسی بھی مانوس سا لگا حمزہ نے ہر تیاری جو شیئر کی تھی حتی’ کہ اپنے شوریدہ جذبے بھی عیاں کر دیے تھے
اب وہ اتنی نارمل تھی کہ دلھن والے احساسات بھی نہ رہے تھے حمزہ کے آنے کی بھی اتنی چاہ نہ ہو رہی تھی وہ دیر تک خود کو ٹٹولتی رہی مگر جان نہ سکہ کہ وجہ کیا ہے
حمزہ جب آیا تو وہ بھی اتنی شدت سے اس کی طرف نہ بڑھا جس کی ایک نۓ دلھا سے توقع ہوتی ہے نہ ہی اس نے اسکی خوبصورتی کی تعریف کی جیسے وہ اسکی تصویریں بھیجنے پے چھ مہینے تک کرتا رہا تھا . ایک خواب تھا جو لمحوں میں ٹوٹ چکا تھا.
جذبے جیسے کاغذی پھول تھے جن میں مہک نہ تھی
لمس جیسے دہرایا ہوا تھا!!

اپنا تبصرہ بھیجیں