،، چیونٹی کا جھوٹ ،، سندھیہ

نمبر16
عنوان : چیونٹی کا جھوٹ
تحریر : سندھیہ
:::::::::::::::::::::::::::::::
یہ اس وقت کی بات ہے جب ہم چھٹی جماعت میں تھے…گرچہ کچھ کچھ سیانے ہوگئے تھے مگر طبیعت میں بچپنا غالب تھا…
ہمارا گھر اس وقت گراؤنڈ فلور پر تھا…اور نچلی منزل پر ہونے کی وجہ سے اس گھر میں طرح طرح کے حشرات الارض پائے جاتے تھے…چیونٹیوں کی تو بھرمار تھي…مہرون،نارنجی،چھوٹے حجم اور بڑے سر والی ہر قسم کی چیونٹیاں ہمارے صحن میں تھیں…اور ہمارا زیادہ تر وقت ان کے کو دیکھنے میں گذرتا تھا…کبھی ننھی منی چیونٹیوں کو کسي مزدور کي طرح اپنا کھانا ڈھو کر لے جاتے دیکھتے… تو کبھی صحن میں رکھی بالٹیوں میں گری چیونٹیوں کو پانی سے نکال کر ان کی” جان بچاتے” ;)…کبھی اپنے مکان سے بہت دووووور نکل جانے والی(صحن سے دوسرے کمرے جتنا فاصلہ)طے کرجانے والی چیونٹی کو اس کے گھر تک چھوڑ کر آتے…ہمیں چیونٹیوں سے قلبی لگاؤ ہوگیا تھا…مگر بڑے سر والی چیونٹیوں کي ہم کوئی مدد نہیں کرتے تھےکیونکہ یہ ہاتھ میں اٹھانے پر اتني زور سے کاٹتی تھیں کہ ہم رونا شروع کردیتے…ان سے ذرا ہم کنارے کنارے ہي رہے…ایک بار ہم نے بچوں کا اسلام میں ایک ڈاکٹر صاحب کا چیونٹي پر کیا جانے والا تجربہ پڑھا…خلاصہ یہ تھا کہ چیونٹیاں جھوٹ برداشت نہیں کرتیں…ہمیں بڑي حیراني ہوئی…ہائیں یہ تو ہماري برادري کي نکلیں :p (کیونکہ ہم جھوٹ نہیں بولتے تھے)بس پھر کیا تھا ہم نے بھی وہی تجربہ کرنے کي ٹھانی…ٹیوشن سے آئے…بستہ رکھا اور چیونٹیوں کے پاس…ہاتھ میں بھٹہ تھا…دیکھا کہ ایک چیونٹی تلاش رزق میں ادھرادھر خوار ہوتی پھر رہي ہے…ایسی ہی ایک چیونٹي تو ہمارا ہدف تھی…جھٹ سےمکئي کا دانہ نکال کر اس کے سامنے رکھ دیا…چیونٹی بیچاری بڑي خوش ہوئی اور دانہ کے گرد چکر لگانے لگی مگر اس سے نہ اٹھنا تھا نہ اٹھا…پھر وہ ہمارے پلان کے مطابق ساتھی چیونٹیوں سے مدد لینے اپنے بل کي طرف بھاگی…اور اسی دوران ہم نے وہ مکئی کا دانہ “گل” کردیا…پھر ہم نے اس چیونٹی کے ساتھ پانچ چھ چیونٹیاں آتے دیکھیں…جن میں سے دو وہي بڑے سر والیاں تھیں…پھر ہم نے ایک حیران کن منظر دیکھا…مکئ کا دانہ نہ پاکر ایک جھٹکے سے ان موٹے سر والیوں نے اس معصوم کا سر پیر پکڑا اور اسےتین ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہا ہی تھا کہ ہمارا دل کانپ اٹھا…ہم نے جھٹ سے ان کے اوپر ہی وہ دانہ رکھ دیا…دونوں اسے چھوڑ کر دانہ کي طرف متوجہ ہوئیں اور اسے بل کي طرف لے جانے لگیں…چیونٹیاں اپنا رزق لے کر جاچکي تھیں مگر ہمارا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا تھا…یہ ننھا سا وجود رکھنے والي چیونٹیاں اور اس قدر منظم انتظام…کہ صرف جھوٹ بولنے پر قتل کي سزا…!!!!!
مجھے نہیں معلوم یہ کس اصول کے تحت تھی مگر افسوس ہے حضرت انسان پر…جو شریعت کے بنائے اصولوں پر…اللہ کے حکم پر دی جانے والی سزاؤں پر پس و پیش کرتا ہے…اعتراض کرتا ہے…جبکہ یہ انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے ہی ہیں…جرم کی سزا تو ان ننھے وجودوں نے بھی مقرر کر رکھی ہے…وہ بھی انسان کو نظر آنے والا ادنی سا جرم “جھوٹ” ہے_

اپنا تبصرہ بھیجیں