،، چوراہا ،، چوہدری محمد بشیر شاد

،،،، چوراھا ،،، تحریر ۔۔۔ چوہدری محمد بشیر شاد
برگد کا بوڑھا پن اس کے گھنے ریشوں کوگلے کی مالا بنا کر دھرتی تک بچھا چکا تھا۔سرحدی گاﺅں کے اس درخت کو نمایاں حیثیت حاصل تھی کیونکہ یہ عین وسط میں تھا۔کسی کے ہاں مہمان کی آمد ہوتی ،اس برگد والے چوراہے کی نشانی بتا دی جاتی تو اس کو منزلِ مقصود تک پہنچنے میں دقت نہ آتی۔
سرِشام گاﺅں کا چوکیدار چوراہے میں نصب کئے ٹنڈ منڈمصنوعی چھتے پر لالٹین کو آگ دکھا کر روشنی کی ابتدا کرتااور گاﺅں کے سب دیئے ٹمٹمانے لگتے ، چرند پرند اپنے مسکنوں میں گھس جاتے لیکن چاروں طرف کمسن بچے مخصوص آوازیں نکالے اپنے ساتھی اکٹھا کر لیتے۔ ایک طرف بچیاں راگ الاپ رہی ہوتیں تو دوسری طرف” پٹھو گرم “عروج تک پہنچ جاتا۔آنکھ مچولی اور چور سپاہی کے شور و غل میں لڑکیاں بول میری مچھلی کتنا پانی“ اور”کوٹلہ چھپاکی جمعرات آئی اے “شروع کر دیتیں۔ کولاں ان کھیلوں میں نمایاں کردار ادا کرنے کے لیئے فیجاں کو ساتھ ملا لیتی۔ اس کے برعکس فتو ردِعمل دکھانے کے لیئے نیناں سائیں کا سہارا لیتا۔
نیناں سائیں بیچارہ کیا کرتا ،وہ تو بچپن سے سب کو کھیلتے دیکھ کر مسکرانے کا عادی تھا۔لڑکوں کے جمگھٹ اور ان کی کھینچاتانی میں عید پر سلا کڑھائی والا کڑتہ اچھو کی آمد پر تار تار ہو نے سے بچ کیا۔بزرگوں کی آوازیں یکے بعد دیگرے آنی شروع ہو گئیں ۔نہ چاہتے ہوئے بھی دبدبے اور بارعب بلاوے پر قدم گھر کی چوکھٹ پر رکھنے پڑتے اور میدان خالی ہو جاتا۔
مولوی فضل کریم فجر کی اذان کہتا اور بابا چوکیدار ”جاگ بھئی جاگ اوئے “ کی ڈیوٹی ختم کرکے پیتل لگے ساموں والی لاٹھی کسی پتھر پر مار کرآواز پیدا کرنے کی بجائے کندھوں کو اچکاتا ہوا مسجد کی راہ لیتا۔فضا میں خنکی اور ہوا میں معطر خوشبوئیں قدرتی نظاروں کی عکاسی کرتیں۔ہر سو درختوں کے پتوں کی اوٹ میں پرندے چہچہاتے خداوند کریم کی حمد و ثنا میں ہمہ تن مصروف نظر آتے ۔ایک تہائی بچے بھی اپنے بزرگوں کے نقشِق قدم پر چلتے چلتے مسجد کی راہ لیتے ہوئے بابا چوکیدار سے پوچھتے۔۔۔
بابا آپ رات ساری جاگتے رہتے ہیں ؟
ہاں بیٹا تم جو سوتے ہو۔
آپ کو ڈر نہیں لگتا کیا ؟
ڈر،کس بات کا ؟
چور کا ۔۔۔!!
چور کا کیا کام ہمارے گاﺅں میں۔۔
پھر ۔۔پھر بھوت پریت تو ہوتے ہوں گے!!
بابا چوکیدار بچوں کی معصومیت پر ہنس دیتااور کہتا اللہ کا نام لو بیٹا۔چلو نماز پڑھو ،کوئی بد بلا تمہارے قریب نہیں آئے گی۔
نماز کے بعد چاروں طرف کسان ہل پنجالی کندھوں پہ اٹھائے اپنے بیلوں کی جوڑی میں کھو جاتے۔ہر سو گھنٹیاں بج اٹھتیں۔فضا گیت الاپنے لگتی۔پو پھٹ جانے کے لیئے مچلتی نظر آتی۔ہر ایک متحرک،سریلی سروں میں مگن اپنے اپنے کاموں پر چل نکلتا۔چوراہے پر مڈ بھیڑ ہوتی اورخلوص بھرے سلاموں کا تبادلہ ہوتا۔چرواہا اپنے ریورڑ کے ساتھ ہری بھری وادیوں کی راہ لیتا۔ کچھ بڑے حقہ تازہ کیئے گڑ گڑ کرتے ، مخصوص چال چلتے کھیتوں کی راہ ناپتے نظر آتے۔ ہر گھر سے دھواں اٹھتا اور خالص دیسی گھی کے پراٹھے اپنی خوشبو ہل چلانے والے نتھنوں تک پہنچا دیتے۔
مٹی کے برتن یکے بعد دیگرے بجنے لگتے اور مہندی لگے ہاتھ دہی کو بھنور سے نکال کر لسی کی قوت میں بدل دیتے۔ باجرے کی روٹی اور تازہ مکھن سر پر رکھ کر لچکتی مٹکتی کمر بازو کی تکون بنائے جب چوراہے کو پار کرتی تو بوڑھا برگد اپنے پتوں کو حرکت دینے لگتا۔بادِ نسیم پھولوں کی نرم شاخوں کو چھیڑ کر پتیوں تک اپنی رسائی حاصل کر لیتی۔
مشرق سے طلوع ہونے والا شمس اپنی سنہری کرنوں کا جال بچھانے لگتا تو بوڑھا برگد سورج کی پہلی کرن چوٹی پر جذب کرکے دن کی تصدیق کر دیتا۔بہت سی کھڑکیوں کے پٹ کھلتے ۔بچے ادھ کھلی آنکھوں میںمعصوم انگلیاں پھراتے، مژگاں جھپکاتے کن انکھیوں سے بوڑھے برگد کی چوٹی پر دھوپ دیکھ لیتے۔کولاں اور فیجاں گوبر کی ٹوکریاں سر پہ اٹھائے منجھے مداری کی مانندہاتھوں کو بالترتیب حرکت دیتیںاور لفٹ رائٹ، لفٹ رائٹ کی ڈگر پر کولھے مٹکاتی کھلے میدان میں پہنچ جاتیں۔گوبر میں گھاس پھوس باریک کرکے ملا دی جاتی اور مختلف اقسام کے موٹے پتلے اوپلے سجا کرواپس چوراہے سے گذرتیں تو بوڑھا برگدان کی ہر داستان پر اپنے تنے سے قوت اچھال کر ریشوں میں بھر دیتا۔
نیناں سائیں نے ابھی سنِ بلوغت کی پہلی سیڑھی پہ قدم رکھا ہی تھا کہ بابا چوکیدار کی اچانک موت نے لاٹھی کا بوجھ اس کے نازک سے کندھوں پر ڈال دیا۔اپنے باپ کو دفن کرتے وقت اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ پہرہ دینا اس کے بس کی بات نہ تھی۔ وہ تو چھلاوے سے ڈرتا تھا لیکن۔۔۔ایک عرصے سے اس کے باپ کوکچھ نہیں ہوا تھا پھر ۔۔۔ اسے ۔۔۔ اسے بھی کچھ نہیں ہو گا۔لوگ کیا سمجھیں گے میں بزدل ہوں،نہیں،ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔۔تفکرات کی عمیق گہرائیاں مکڑی کے جال کی مانند اور الجھتی گئیں،وہ خیالات میں اتنا کھویا کہ دروازے پر دستک نہ سن سکا۔
نیناں ۔۔۔۔۔۔!!
کو۔۔۔ کک۔۔۔ کون ہے؟ وہ یک دم چونک سا گیا اور یکایک دروازے کی جانب قدم بڑھائے ۔
میں دروازے پر نہیں ادھر دیوار کی منڈیر پر ہوں۔۔۔۔!!
آں ۔۔ ہاں کولاں کیا بات ہے ؟
دیکھو نیناں اندھیروں میں گم ہونا اچھی بات نہیں۔ سرِ شام جلنے والے سب چراغ تمہارے منتظر ہیں۔ ہمت کرو اور چوراہے کی لالٹین جلا دو۔ روشنی کے بغیر گاﺅںویران ہے۔ہم غریبوں کے گھروندوں میں ٹمٹماتے چراغوں کی روشنی ہوتی ہی کتنی ہے ؟ ذرا ہوا چلی اور اندھیرے غالب ۔پھر تم یہ الزام اپنے اوپر کیوں لیتے ہو۔کیا تم چاہتے ہو بھٹکے مسافر اور بھٹک جائیں۔ منزل تو مل ہی جاتی ہے لیکن مشکلات کا سامنا کرنا پڑھتا ہے اور ساتھ ساتھ وقت بھی برباد ہوتا ہے۔۔۔!!
نیناں آنکھیں جھپکائے لاٹھی اٹھا کے چل دیا۔ جب وہ شمع روشن کر رہا تھا تو کولاں کا دل بلیوں اچھل پڑا۔ اس کو جیسے پر لگ گئے۔ وہ فضاﺅں میں اڑتی چلی گئی اور سارے گاﺅں کے دیئے روشن ہو گئے ۔رات کا سناٹا ختم ہو گیا جب سب چوراہے میں اکٹھے ہو گئے۔بلاوے پر آنے والی کولاں خلافِ توقع برگد والے میدان میں سب سے پہلے آ کر مٹی میں پاﺅں دبائے اپنے ہاتھوں کی مخروطی انگلیوں سے ترتیب دے ہی رہی تھی کہ ادھر سے اچھو آ نکلا اور اپنے پاﺅں کی ایک ٹھوکر سے گھروندا برباد کرتا نکل گیا۔کولاں سوالیہ صورت بنائے صرف دیکھتی رہ گئی۔آہستہ آہستہ کھیل کا میدان جمتا گیا۔ہر ایک اپنی بساط کے مطابق کھیل کو دکرکے جاتا رہا۔ دور کہیں سے ” جاگ بھی جاگ اوئے “ ” خبردار “ کی آوازابھرتی اور ڈھلتی رہی۔ کولاں تھکے ہارے جواری کی طرح منوں بھاری قدم اٹھاتی گھر کی چوکھٹ تک پہنچ گئی۔
رات کا تیسرا پہر اپنی تمازت کھو رہا تھا۔ سات ستاروں کا جھرمٹ اپنا راستہ طے کرکے سمت بدلنے کو تھا۔کبھی کبھار کتوں کے بھونکنے کی آوازرات کے سناٹے کا سکوت توڑ دیتی ۔مائیں سائیں کرتے درخت دل میں انجانے خوف بپا کر رہے تھے ۔ کولاں کی آنکھوں سے نیند بہت دور بھاگ گئی۔لاٹھی کی آواز پہ اس نے کان دھر لیئے۔۔”خبردار“کی آواز ابھری اور اس کے دل میں مسرت و شادمانی کے شادیانے بج اٹھے۔نیناں تم کتنے اچھے ہو۔ تم کیا جانو میں تم سے کتنا پیار کرتی ہوں۔کولاں کے قدم خودبخوددروازے کی جانب بڑھتے گئے۔۔!!
جاگ بھئی۔۔۔۔۔ کولاں۔۔۔۔ تم ابھی تک سوئی نہیں ؟
تم خود ہی تو کہہ رہے ہو ، ” جاگ بھئی جاگ اوئے “ پھر میں کیسے سو سکتی ہوں۔تم گاﺅں کا پہرہ دو اور میں تمہارا پہرہ دوں گی۔ جب تک تمہاری آواز ابھرتی رہے گی، میری آنکھیں کھلی رہیں گی۔ادھر تمہاری آواز دبی تو ادھر میری آنکھیں بند۔
یہ۔۔۔ یہ تم کیا کہہ رہی ہوکولاں ؟
سچ ہی تو کہہ رہی ہوں نیناں ۔ رات کو جاگوں گی اور صبح خوب سوﺅں گی۔ ابھی کیا سونا ، وہ دیکھ مولوی فضل کریم اذان دینے جا رہا ہے۔ جا نماز پڑھ کے سو جا نیناں، صبح ہو گئی ہے۔ ارے چوراہے کی شمع بڑھا کے آنا تھا ۔ جا جلدی سے ۔ کل تیل ختم ہو گیا تو رات کیسے بیتے گی۔گھبرانا نہیں نیناں، ابھی کام نیا نیا ہے ناں،کچھ دنوں بعدسب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔
موسمِ گرما شباب پر تھا ،کڑکتی دھوپ ہر ذی روح پر اثر انداز ہو رہی تھی۔ چرند پرند زبان نکالے درختوں کی اوٹ تلے سستانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ چھوٹے بڑے برگد کے سائے میں ڈیرا جمائے رحمت کے منتظر تھے۔ مائی تاجاں کب سے سوکھے کیکر کے کھردرے تنے کے ساتھ اپنی پشت کھجاتے ہوئے خارش مٹانے میں کوشاں تھی۔ بچے برگد کے ریشوں کو جھولا بنائے اپنے اپنے کرتب دکھا رہے تھے۔بابا نتھابائیں کان پہ ہاتھ دھرے ” ہیر آکھیا جوگیا چوٹھ بولیں،تے کون رٹھڑے یار مناوندا ای “ سنانے پر تلا ہوا تھااور لوگ تھے ” سیف الملوک “سننے کی فکر میں تا کہ بارش آئے ، پپیہے کی پی پی بند ہواور کوئل کی کو کو سن سکیں۔مائی تاجاں ببول کی جان چھوڑ ابھی چوپال میں آ کے بیٹھی ہی تھی کہ گارے مٹی اور کیچڑسے بھری بالٹی اس کو سر سے پاﺅں تک نیا روپ دے گئی، پھر مائی تاجاں کے منہ میں جو آیا کہتی چلی گئی۔ سب کے سب ہنس رہے تھے ۔ایک دو بوڑھے آنکھ دبا کر مصنوعی غصہ دکھانے لگے،یہ کیا ہو رہا ہے ، مائی تاجاں سے تمہارا کیا مذاق !! شرم نہیں آتی ایسا کرتے ہوئے ۔ چلو دفع ہو جاﺅ ، کنوئیں سے تازہ پانی نکالو اور مائی کو نہلا دوکہا ہی تھا کہ دوسری بالٹی اسی مقدار میں انڈیلی گئی جو رہی سہی کسر پوری کر گئی۔
مائی تاجاں اندھا دھند پیٹنے لگی اور سب کو بددعائیں دیتے ہوئے سر پہ پاﺅں رکھے وہاں سے رفو چکر ہو گئی۔بس مائی کے الفاظ ابھی سب کے کانوں میںرس گھول رہے تھے کہ آوارہ بادل مغرب کی اوٹ سے نمودار ہوئے ۔ ہلکی سی گن گرج ہوئی ۔سب کے چہرے مسکرا اٹھے۔مائی تاجاں کو کندھوں پہ اٹھایا گیا۔ واہ مائی واہ ، ادھر منہ سے نکلیں صلواتیں،ادھر ہوئی رحمت۔ مان گئے مائی ، یہ ہوئی ناں لگن اللہ میاں سے۔یہ لو نئے کپڑے اور گھر جا کے بدل لینا۔بادل آتے گئے ایک دوسرے سے گلے مل کراور گہرے ہو گئے۔ جب اپنا وجود سنبھالنے سے قاصر ہوئے تو دھڑا دھڑ برس پڑے۔گاﺅں میں جیسے عید تھی،ہر ایک چوراہے والے میدان میں پہنچ کر بدن کو موسلا دھار بارش میں دھونے لگا۔ چرند پرند اپنے جھلسے اجسام کو تقویت دینے لگے۔گاﺅں کی نالیاں صاف ہوتی گئیں ۔ درختوں کے پتے دھل کے مزید نکھر گئے۔گھاس پھوس کی ہریاول میں اور تازگی عود کر آئی۔
بوڑھے برگد نے مدت کی پیاس بجھا کر اپنی کونپلیں مزید نکھار دیں۔ہر کس و ناکس باچھیں بیضوی حد تک پھیلائے بتیسی باہر نکالے خوشی کا اظہار کر رہا تھا۔جب کوئی مستی میں جھوم کر پھسل جاتاتو ھرّے کی آوازکچے مکانوں کی دیواروں تک جا ٹکراتی۔
مستری شریف نے ہینڈل گھما کر انجن کو حرکت دی۔چمنی سے نکلا دھواں گڑوی سے ٹکرایا اور تک تک کرتی آوازسے گاﺅں کے مکینوں کو دعوتِ عام دے دی۔ لوگ جوق در جوق گندم اٹھائے اپنی باری پر گرم گرم آٹا بارش سے بچا کر گھر لے جاتے رہے۔نیناں سائیں وہیں کا وہیں جامد تھا۔مستری صاحب کی نظر پڑی تو پوچھ بیٹھا۔۔۔ نیناں تم کیسے آئے ۔
گندم پسوانے ۔
کس کی ہے یہ گندم ؟
کولاں کی۔
اوہو بابا کھولو ناں گتھی کا منہ، یا میں انجن بند کر دوں۔تمہیں پتہ نہیں تیل کتنا مہنگاہے ۔ گندم پستی رہی اور نیناں چکی کے پاٹوں کو بڑے غور سے دیکھتا رہا۔بجلی کڑکی ، اس کے خیالات کا مد و جذر اور بکھر گیا۔پرانے ٹاٹ کا تکونی چھاتہ آٹے پر ر کھے وہ پانی میں چھپک چھپک ننگے پاﺅں چلتا رہا۔آنکھیں چندیانے والی روشنی کے ساتھ ہی ایک زوردار دھماکہ ہوا۔بجلی کوندی ، برگد کی چند شاخوں سے گذری اور نیچے بندھی کالی بھینس کے سرخ خون میں اپنی پیلاہٹ ہمیشہ کے لئیے چھوڑ گئی۔ نیناں کی آنکھیں اس تابناک منظر کو برداشت نہ کر سکیں ۔وہ سکتے کے سے عالم میں جام ہو کے رہ گیا۔کولاں باہر نکلی ۔ نیناں کے سر سے بوجھ اتار کر پوچھتی رہی۔۔۔ کیا بات ہے نیناں ؟ سردی لگ رہیہےتمہیں یا بجلی سے خوف زدہ ہو۔ ۔۔۔بجلی کا نام سنتے ہی نیناں کو جیسے جھٹکا سا لگا۔ وہ چلا اٹھا۔۔۔
کولاں ۔۔۔ وہ۔۔۔ کولاں ۔۔۔ وہ تو ۔۔۔ تم ۔۔۔ تمہاری کالی بھینس ۔۔۔
کیا ہوا بھینس کو ۔۔۔ ارے کچھ بتاﺅ گے بھی۔۔۔ نیناں بتاﺅ ناں کیاہوا آخر ؟ سنی ان سنی کیئے وہ سرپٹ بھاگ نکلا۔ کولاں بھی اس کی تقلید کر رہی تھی ۔ جب برگد کے نیچے پہنچے تو بھینس کے قریب کالے ناگ کو بھی جھلسے پایا۔بارش کچھ لمحے تھم گئی لیکن آنکھوں کے انمول موتی بارش کی صورت اختیار کر گئے ۔ لوگ اکھٹے ہو کر چہ میگوئیاں کرتے رہے ۔ کچھ صبر و تحمل کا دلاسہ دے کر چلتے بنے۔چکی کے پاٹ رک گئے ۔ چمنی سے نکلی تک تک مدھم سے مدھم تر ہو کر ختم ہو گئی۔ بوجھل بوجھل قدموں سے گھر کی دہلیز تک ابھی پہنچے ہی تھے کہ کولاں کے اندھے باپ نے ٹٹول کر بھینس تک کا راستہ کم کرنا چاہا۔
نہیں بابا نہیں حلق سے نِکلی دلسوز آواز نے سکوت توڑ ڈالا۔۔۔ تو لوگ سچ کہہ رہے ہیں بیٹی ۔۔۔ نہیں بابا تمہاری گائے ڈیوڑھی میں بندھی ہے ۔ بھینس تو میری تھی۔ ۔۔۔۔۔یہی غم تو کھائے جار ہاہے۔
نیناں ۔۔۔۔تم نے دیکھا اندھیرا کتنا چھا گیا ہے ، کالے بادل ہیں ناں اس لیے جا جلدی سے شمع روشن کر دے ۔ وہ نظریں نہ اٹھا سکا ،زمین پر کچھ ڈھونڈھنا چاہتا تھا لیکن گھٹنوں تک پانی اس کے خیالات کو منتشر کر گیا ۔
آج بارش کا پانچواں دن تھا۔ سورج کی کرنوں کا نام ونشان تک مفقود تھا ، چاروں طرف مختلف انواع کے گھنے بادل اپنی سرمستی میں مگن کسِی بڑے طوفان کا پیش خیمہ تھے ۔
سیلاب بڑھتا گیا ، ستلج راوری کے گلے ملاتو نالہ میدانی علاقوں کا پانی لے کر اس کے جوش میں طغیانی برپا کر گیا ، ننھے منے ہاتھ زمین میں تنکے گاڑے سیلاب کی پیمائش کر نے لگے لیکن چند ہی لمحوں بعد پانی اس سطح کو چُھو کر تنکے ساتھ بہالے جاتا ۔
معصوم چہروں کی رنگت سفیدی میں بدلتی گئی ، طویل قامت شجرا پنے تنے پانی میں ڈبوئے سیلاب کی گہرائی ثابت کر رہے تھے ، کچے گھروندے کب تک اپنا وجو دبرقرار رکھتے ، پانی کا تیز ریلا دیواروں کو ہلا کر رکھ دیتا ، اور جب کوئی مکان زمین بوس ہونے لگتا تو پانی اس کو تہہ تک پہنچنے کی مہلت نہ دیتا ، اک خوفناک آواز سناٹے کو توڑ کر دور جاتے جاتے اپنی غم گُساری کی داستان چھوڑ جاتی ۔ ہر جانب اذانوں کی گونج پورے ماحول کو قیامت خیز بنا دیتی ۔ بچے چونک کراٹھتے چھت اور دیواروں کو پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ کر زبردستی منہ چُھپا لیتے ۔
رات بھر مکان گرِتے رہے ۔ گرہستی بکھرتی رہی ، ہر شے پانی کے بھنور میں پھنس کر پستی رہی ،گھمبیرآوازوں سے خیریت پوچھنے والے آنکھیں جھپکا نہ سکے ۔زندہ دل جوانوں کی کاوش شہتیر اکھٹے کر کے بیٹرا تیار کر گئی ۔
نیناں لالٹین ہاتھ میں تھامے اس پر سوار ہو گیا ۔ایک دولمبے بانس ساتھ رکھ لیے جہاں مدد کرو کی آواز ابھری وہیں بیٹرا جوانوں کی انتھک محنت سے پہنچ جاتا ۔ انسانی جانیں محفوظ مقامات تک پہنچائی جانے لگیں ۔
گاﺅں میں ایک ہی کشتی تھی ، پنچائیت والوں کو کیا معلوم کبھی ایسا موقع بھی آئے گا، جب درخت گِرتا ۔پرندے اپنی دلسوز آواز نکالے بے یارومدد گا ر اندھیرے میں اڑنے لگتے ۔ تھک ہار کے چوٹ کھاتے اور پانی میں دم توڑ دیتے ۔اکا دکا سانپ کنارے کی بجائے بیٹرے پر چڑھنے کی کوشش میں مارا جاتا ۔
گھر تباہ ہوتے رہے ۔ اناج بکھرتا رہا ،کسان کی تمام پونجی پانی کی نذر ہوتی رہی ۔ وہ دیکھتا رہا ،کر بھی کیا سکتا تھا ، بڑے شوق سے خریدے بچوں کے کھلونے پانی میں بہتے رہے ، کئی سُرخ جوڑے سہاگ سے قبل پانی میں ڈوبتے ابھرتے رہے ۔ پھولوں والے صندوقوں میں بند نئے کپڑے اور سونے کی بالیاں چاندی والی جھانجھروں سمیت عید سے پہلے سیلاب نے پہن لیں ۔۔۔۔۔!!
فیجاں کو اندھیری رات کے زہریلے سانپ نے ڈس لیا۔ بیٹراوہاں پہنچا لیکن احتیاطی تدابیر کے ناوجود اس کا جسم نیلگوں ہوگیا، اس کی پنڈلی کو بڑی مضبوطی سے باندھ رکھا تھا لیکن وہ ایسی سوئی کہ باوجود سب اٹھانے والوں کے ابدی نیند میں چلی گئی ۔۔۔۔۔!!
اندھیری رات اپنے انجام کی حدود میں داخل ہو چکی تھی ۔ ہر طرف آہ و بکا جاری تھی ، سیلاب پورے علاقے کی ہر چیز کو ہڑپ کر تا جار ہا تھا ۔۔۔
نینا ں نے فیجاں کے چہرے پر نظر دوڑائی تو دم بخود رہ گیا ۔ اسے کولاں کا خیال آگیا ۔ وہ بڑی تیزی سے بیٹرے کا رُ خ موڑ کر چل دیا ، ابھی آدھی مسافت بھی طے نہ کر پایا تھا کہ کولاں کا مکان ایک دھماکے سے پانی میں گرا اور خوف وہراس کے چھینٹے نیناں کی آنکھوں میں تازیانہ بن کے لگے ۔ وہ بانس کی گرفت مضبوط کئے کشتی کواور زور دے کر چلانے لگا ۔
بھنور میں ہچکولے کھاتے دوپٹے پر والہانہ لوٹ پڑا ۔ ڈھلکے وجود کو کندھے پر اٹھائے وہ بیڑے پر پہنچا تو دُور ایک میلی پگڑی کے تمام بل سیدھے تیرتے نظر آئے ۔ نیناں کا دل پھٹ گیا آنکھوں میں اندھیر ا چھانے لگا ۔ سر میں ٹیسیں اٹھنے لگیں ۔ وہ حسرت بھر ی نگاہوں سے ہر طرف دیکھتا رہ گیا لیکن پگڑی اپنی عزت برقرار رکھے ہمیشہ کے لیے اوجھل ہوگئی ۔
نیناں کو لاں کو الٹا لٹا کر پانی اس کے پیٹ سے نکالتا رہا لیکن اجڑی آنکھیں نہ جانے خلاﺅں میں کیوں اٹک کے رہ گئیں ۔ ایک ہیولا سانمودار ہوا۔ بڑھتے بڑھتے اس کے باپ کی شکل اختیار کر گیا۔ اس کے ہاتھ رک گئے ۔ دماغی قوت با پ کے چہرے پر مرکوز ہو کے رہ گئی ۔ معاً دوسری دھندلی تصویر ابھرنے لگی ۔
کولاں کے باپ کو سامنے پا کر ہا تھوں کو پھر جنبش ہوئی ،وہ ایک نظر کولاں کو اور دوسری جانب دو نوں بزرگوں کو یکے بعد دیگرے دیکھتا رہا ۔ اچانک کولاں کی سانسیں سینے کے اُبھار کو نمایاں کر گئیں ۔ بزرگوں کے چہرے دھندلے ہو کر خلاﺅں میں بکھرگئے ۔ وہ ششدر رہ گیا ۔ شاید یہ اس کا خیال تھا ورنہ ۔۔۔۔کولاں کولاں دیکھو ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔۔
کولاں کی اجڑی اجڑی نگاہیں نہ جانے کیا ڈھونڈھنا چاہتی تھیں ۔ بالآ خر مدھم آواز سے اس نے سکوت توڑا ۔نیناں میں کہا ں ہوں ؟
تم میرے ساتھ ہو ۔
لیکن اتنا اندھیرا کیوں ہے ؟تم نے آج چوراہے کی شمع روشن نہیں کی ۔ وہ کچھ جواب نہ دے پایا ۔ غمگین ہو گیا ۔
نیناں تم بولتے کیوں نہیں ؟
ہاں بول تو رہا ہوں اور جب بانس کے آخری سرے کو دونوں ہاتھوں سے وہ پانی میں ڈبو کر زور لگا رہا تھا تو کولاں حقیقت کی طرف لوٹ آئی ۔ وہ ایک دم زور سے چیخی ۔ میرے باباکہاں ہیں ؟ تم نے مجھے ان کے ساتھ جانے نہیں دیا ۔ وہ پانی کی جانب بڑھنے لگی ، چپو ہاتھ سے چھوڑ کولاں کو سنبھالا دیئے وہ کنارے کی جانب رواں دواں ہو گیا ۔ کنارے کھڑے مرد وزن ، بچے بوڑھے سب کی آنکھیں اُمیدو یاس کے انمول موتی بکھیرے ان کا والہانہ استقبال کر رہی تھیں ۔
گاﺅں میں سب سے اونچے مقام پر دو خیمے لگا دیئے گئے جن میں اسی گاﺅں کے تازہ پناہ گزین مقید ہوکے رَہ گئے ۔ ان خیموں کی چھت اس بحری بیڑے کی تھی جو سمندر کی طوفانی لہروں کے رحم و کرم پر آخری ہچکولے کھا رہا ہو ۔ زادِراہ سیلابی پیٹ ہضم کر گیا لیکن بچوں کے پیٹ کا مسئلہ سب کو تڑپا کے رکھ گیا ۔ مقدور بھر گندم ۔ چاول اور چنے جو میّسرآیا کچا پکا بُھون کر بچوں میں تقسیم کر دیا ۔ کیچڑ لگی مڑی تٹری جیبوں میں دانے بھر کے بچے شرارتیں بھول گئے اور سہمے سہمے کونے میں دبکے اپنے پیٹ کی آگ کو ٹھنڈا کرنے لگے ۔
سب ایک جگہ محدود ہو کے رہ گئے ان میں نہ کوئی امیر تھا اور نہ ہی مفلس ،سب کے چہروں پر ایک جیسی اُداسی تھی ، دُور دُور تک پانی ہی پانی نظر آرہا تھا ، شاید اونچائی پر چند گھروندے جزیرے کا سماں پیش کر رہے تھے ،سیلاب کا زور ٹوٹا ضرور لیکن بارش چھٹے دن بھی اپنے کر تب دکھا رہی تھی ، نچلی سطحوں پر جا بجا ریلوے لائن میں بچھے لکڑی کے تختے اپنے وجود کو برقرار نہ رکھ سکے اور کوسوں دُور بہہ گئے ۔ کئی جگہوں پر ایسے لگا جیسے سڑک تھی ہی نہیں ۔
ساتویں دن بارش کم ہوئی اور سورج کی کِرنیں بادلوں کی اوٹ میں تانک جھانک کرنے لگیں ۔ سیلاب اپنی تباہ کاریاں کر کے ان کے نشانات باقی چھوڑ گیا ۔ درختوں پہ لگے تنکے اور جھاگ کی لکیریں اس بات کی غماز تھیں کہ محدود سے چند جزیروں میں پناہ گزین آدھ ایک میٹر کی اونچائی میں اپنی سانسوں کو گِن چکے تھے ۔
بہت سے لوگوں نے تہیہ کر لیا تھا کہ سیلاب سے بچ گئے تو ہمیشہ کے لیے یہ گاﺅں چھوڑ دیں گے لیکن آباﺅ اجداد کی پرانی یادیں چھوڑنا اتنا آسان نہ تھا ۔ مصّمم ارادوںمیں جھول آ گیا ۔ پھر سے کدال چلنے لگے ۔ مٹی گوندھ کر دیواریں پروان چڑھنے لگیں ۔ ایک نیا عزم اور ولولہ عَود کر آیا ، چہل پہل ہونے لگی لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوگئے ۔ زندگی اس ڈگر پر چلنے لگی ۔ چوراہا پھر سے آباد ہو گیا ۔ برگد بہت سی کہانیاں اپنے متین تنے میں چھپائے مہکنے لگا ، فرق صرف اتنا تھا کہ اب کولاں کے ساتھ فیجاں نہیں تھی ، وہ اکیلی اوپلے بنا کر واپس لوٹتی تو برگد اُداس و پریشان اپنی کو نپلوں تک کو ساکت کر دیتا ، جن کے مکان دوبارہ تعمیر ہو گئے وہ خیمے سے سدھارے لیکن کولاں کا دل با با کے بغیر سُونا ساتھا ۔ اچھّو کی ماں کولاں کو دلاسہ دینے آئی اور اپنے گھر چلنے کو کہا ۔ اچھّو نے بھی لاکھ زور لگایا لیکن کولاں نے انکار کر دیا ۔
بس ایک دو روز کی بات ہے نیناں مکان بنار ہا ہے اپنے گھر میں کم ازکم بابا کی یاد تو تازہ رہے گی ۔ وہ ٹوٹی دیواروں کو بابا کو پھسل کر پانی میں گرنے تک بغور دیکھتی رہی ۔ نیناں نے کندھا جھنجھوڑ کر اس کو عمیق گہرائیوں سے نکالا ۔ وہ دن بدن خاموش رہنے لگی ۔
گاﺅں میں پھر دیئے ٹمٹمانے لگے ۔ دُور و نزدیک سب کے رشتہ دار خیر یت پوچھنے آ رہے تھے ۔ اچھو کا ماموں بھی آیا ۔ میدان بچوں سے دوبارہ بھر گیا ، اچھو اپنے ماموں کی بڑائی کرنے میں مصروف رہا ۔ اِدھر اُدھر کی گپیں ہانکنا اور ڈھینگیں مار کر اپنے آپ کو برتر ثابت کر نا اس کی عادت کا لازمی جزو تھا ۔
گھر میں بڑا بیٹاہونے کے ناطے ماں کی آنکھ کا تار ا ضِدی بھی تھا ۔ دیر تک کھیل کود ہوتارہا ۔ آہستہ آہستہ تھک رہا کر سب گھر کی راہ لے چکے ۔ اچھو کو کیا سوجھی ایک دم اچھل کر اپنے دونوں ساتھیوں کو کہنے لگا ، یار کیوں نہ کر آج نیناں کو چھلا وا بن کر ڈرایا جائے۔دوسروں نے ہاں میں ہاں ملائی ، تھے تو بچے ہی ، جومن میں آیا کہہ دیا ، اچھو دونوں کو چھوڑ سیدھا گھر گیا ، ماموں کو رائفل کندھے پر لٹکائے ، ٹخ ٹخ پاﺅں جمائے نپی تلی فوجی چال میں دوستوں کے ساتھ آملا ، سب نے ایک پروگرام بنایا کہ مختلف آوازیں نکال کر نیناں کو ڈرائیں گے ، وہ کھیلنے کو آتا تو نہیں چلو اسی بہانے وہ بھی محفوظ ہو گا ۔
ہواتیز چل رہی تھی ہرطرف گردو غبار مرغولے بنائے آسمان کی سمت اُٹھ رہاتھا ۔۔۔ درختوں کی سائیں سائیں بڑھتی جارہی تھی ، چرند پرند اپنے مسکنوں میں دبکے بیٹھے تھے ۔ بہت سے چراغ تندو تیز ہو ا کے جھونکوں کی تاب نہ لا سکے اور اپنے وجو د سے اٹھتے دھوئیں میں اپنی تمازت کھو بیٹھے ۔ نیناں کی آواز اور نزدیک آتی گئی ، تینوں اوپلوں کی آڑلے کر چھپ گئے ۔ نیناں کی لاٹھی برگد والی اینٹ پر پڑی لیکن آواز طوفانی جھکڑمیں تحلیل ہو کے رَہ گئی ۔ خبردار ۔۔۔۔۔۔!!
تم بھی خبردارہوجاﺅ ۔ اچھوبھاری آواز میں بولا ۔نیناں نے کوئی نوٹس نہ لیا۔
رک جاﺅ نیناں ورنہ بھسم کر دیئے جاﺅ گے خادو اور امجد یکجا ہو کر بولے ۔
ارے جاﺅ ۔ ساری زندگی میرا با پ نہیں ڈرا۔ میں کیوں ڈرنے لگا ۔
میں کہتا ہوں رک جاﺅ ورنہ گولی چلادوں گا ۔
جاگ بھئی جاگ ۔۔۔۔۔پھر گولی چلی اور نیناں کی کھوپٹری میں چھید کر گئی ۔ تیز ہوا کا آخری تھپیڑا چورا ہے کی شمع کو ہمیشہ کے لیے بجھا چکا تھا ۔ تینوں پاگلوں کی طرح ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔ بندوق میں گولی تھی یہ توہمیں معلوم نہ تھا ۔ ٹریگر تو بے اختیار دب گیا ۔ اب کیا ہو گا ۔ وہ سب تتر ّ بترّ ہوگئے ،نیناں تڑپتے تڑپتے اس چوراہے میں دم توڑ گیا ، جہاں شمع سے نکلا تازہ دھواں اس پر ماتم کناں تھا ۔ چند لو گ باہر نکلے ضرور لیکن اندھیری رات میں کچھ نہ سمجھتے ہوئے پھر سوگئے ۔ کئی ایک نے محض یہ سوچا کہ شاید سر حد پر متعین چوکی کے کسی رکھوالے نے کِسی اسمگلر کو وطنِ عزیز کی سرزمین پر اسمگلنگ کرنے سے روکا ہو گا۔
کولاں خواب دیکھتی رہی ۔ بڑے سہانے خواب ۔ نیناں کے سربندھے سہرے میں وہ جھانکنا چاہتی تھی ۔ نیناں گنجان لڑیوں کو اٹھا نہیں رہا تھا ۔ گھوڑے پہ بیٹھا وہ سفید لباس تن زیب کئے کتنا وجیہہ او ر خوبصورت لگ رہا تھا ۔ شہنائی کی گونج دور و نزدیک پھیلتی گئی ۔ کولاں سُرخی لبادہ اوڑھے ہاتھوں میں حِنا کی رنگت اُجاگر کئے چھوئی موئی ہوتی جارہی تھی۔ اچانک گھوڑا رُک گیا ۔ پیچھے رہنے والے باراتی آہستہ آہستہ جمع ہوتے گئے ۔ شہنائی کے گیت رُخ بدلنے لگے ۔ڈھولک پہ پڑنے والی تھاپ مدھم ہوتی گئی ۔ پھر تیز ہوا چلی اور نیناں کا گھوڑا اچانک آسمان کی جانب اڑنے لگا ۔ کولاں ہڑبڑا کے اُٹھ بیٹھی ۔
یہ اندھیرا کیوں ہواجاتاہے ؟شاید دیئے میں تیل ختم ہوگیا ۔ ماچس میں پڑی آخری دو تیلیاں اس نے جلائیں لیکن وہ بھی ہواکے جھونکوں سے چراغ روشن نہ کر سکیں ۔ اسے کوفت ہونے لگی ۔ معاًاس کی نظر چوراہے کی جانب اُٹھ گئی ۔ وہ شمع بھی بجھ چکی تھی ۔ اس کا دل اور بے زار ہو گیا ۔ نیند کو سوں دُور بھاگ گئی ۔ اس نے کان کھڑے کر لیئے ۔ رات قریب قریب ختم ہونے کو تھی ۔ وہ نیناں کی آواز نہ سن سکی ۔ نہ جانے وہ کہاں ہوگا۔ میں جلدازجلد شادی کر کے اسے اپنی اور بچوں کی رکھوالی پر مامور کر دوں گی ، ہم سے نہیں ہوتی سب کی رکھوالی ۔ کوئی اور کام ڈھونڈھ لیں گے ۔ مولوی فضل کریم نے فجر کی اذان دی اور چوراہے میں ایک شور برپا ہو گیا ۔ کولاں کے قدم بڑھتے گئے ۔ وہاں اوندھی پڑی نیناں کی لا ش لاٹھی ہاتھ میں تھامے بہت کچھ کہہ گئی ۔
کولاں کی نگاہیں لاش پر مرکوز ہو گئیں ۔ مُنہ سے ایک لفظ نہ نکلا ۔ آنکھیں جیسے خشک ہو کے برسنا بھول گئیں ۔ کاٹو تو خوں نہیں ۔ جسم بُت بن کے رَہ گیا ۔ لوگ اسے پکارتے رہے وہ کِسی کا جواب نہ دے پائی ۔ پولیس آئی تفتیش ہوئی اور تینوں پر مقدمہ چلایا گیا ۔ لا ش پوسٹ مارٹم کے بعد دفنا دی گئی ۔ نیناں کی یاد دل سے نکا لنا مشکل مرحلہ تھا ۔ وہ بے ریا امنگوں کا پرستارتھا ۔ کِسی کو گزند پہنچانا اس کے زمرے میں شامل نہ تھا ۔ پھر اسے کیوں مارا گیا ؟ کولاں ہر روز دیوار پر ایک لکیر کا اضافہ کرتی گئی ، پھر لاشعوری طور پر گھنٹوں نیناں سے باتیں کرتی رہتی ، دل کے تار تھے جو بج اُٹھتے ۔ ہونٹوں پہ مصائب کے قفل لگ چکے تھے ۔ و ہ اگر زندگی کے دن گھسیٹ رہی تھی تو کِس لیے ؟ ہاں ابھی نیناں کی آواز عدالت میں لگائی جاتی تھی ۔ اس کی روح وہاں پر بھی اشاروں کنائیوں میں اپنی بے گناہی کا ثبوت پیش کرتی ہوگی ۔ آج سال کے بعد آخری کڑی مقدمے کا اختتام کرنے والی تھی ۔ تانگہ چوراہے میں رُکا اور اچھو ساتھیوں سمیت بری ہو کر آگیا ۔ اس واردات کو حادثاتی واقعہ قرار دیا گیا ، دیوار پر کوئلے سے کھینچے جانے والی لکیر پوری نہ ہوسکی ۔ ہاں نیناں جاگو اور آنکھیں کھولو۔۔دیکھو ۔۔ میں آگئی ہوں ۔ میں نے کہاتھا ناں، ” جب تمہاری آواز نہیں آئے گی تو میری آنکھیں بند پاﺅ گے “۔

اپنا تبصرہ بھیجیں