،، چند لمحے ،، محمد خان

نمبر17
عنوان : چند لمحے
محمد خان
عصر کی آذان ابھی نہی ہوئ تھی، گیٹ کھلا تھا ، وہ بغل میں پلی اور ہاتھ میں درانتی پکڑے اندر آیا، یہ حرکت پسند تو بلکل نہی آئ تھی لیکن اس نے سلام کیا تو جواب دینا پڑا، اس سے پہلے کہ ہم اس پے غصہ کرتے وہ بولا،
صاحب، اجازت ہو تو میں وضو کر کے نماز یہاں پڑھ لوں،
ہم نے سر ہلا کے اجازت دے دی
موٹر چل رہی تھی اور پانی حوض میں بھر رہا تھا،
اس نے حوض کی تین فٹ اونچی دیوار پے چڑھ کے وضو کیا جو کسی بھی فقہ کے مطابق ٹھیک نہی تھا،
لان میں گھاس پے پلی بچھائ اور نماز پڑھنے کھڑا ہو گیا نہ آذان دی نہ اقامت کہی، اور نیت کرنے کی آواز بھی ہم نے نہی سنی، اس کا منہ بھی صحیح طور پے قبلہ کی طرف نہی تھا، ہم اسے غور سے دیکھتے رہے، اس نے نہ توقف قیام کیا، رقوع میں بھی بس تھوڑا سا جھکا اور سیدھا ہو کے کھٹک سجدے میں،
تھوڑا سا سر اٹھایا اور دوسرا سجدہ ٹھوک دیا، تشہد میں شہادت کی انگلی بھی نہ اٹھائ، یہ سب ریکھتے ہوۓ ہمارے اندر کا مولوی نہ صرف بیدار ہوا بلکہ
پھنکارنے لگا، ہم اس کو لکچر جھاڑنے پے مکمل تیار تھے،
اس نے سر کے ہلکے سے اشارے سے سلام پھیرا، پلی اٹھائ، درانتی پکڑ کے کہنے لگا کہ صاحب اجازت ہو تو میں تھوڑا سا گاۓ کے چارہ کاٹ کے لے جاؤں
ہم غصے میں کپکپا اٹھے، کہ اس شخص نے نہ وضو صحیح کیا اور نہ نماز ٹھیک طریقے سے پڑھی بس پٹھے مانگنے کے لۓ ساری ایکٹنگ کی ہے
ہمیں دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے،
وہ ہماری پیشانی پے آے بل اور آنکھوں سے چھلکتا ہوا غصہ دیکھ کے بولا
صاحب ٹھیک ہے میں باہر سڑک سے گھاس کاٹ کے لے جاؤں گا،
سڑک پے ذرا گندگی ہے، آپ کے فارم کے اندر جگہ صاف ہے اس لۓ میں نے نماز یہاں پڑھی ہے اور دعا ہے کہ اس نماز سے میرا فرض ادا ہو اور ثواب آپ کو ملے
اللہ آپ کی اس زمین میں خیر میں برکت دے اور شر کو دور کر دے،
ہمیں جھٹکا سا لگا، دل سے آواز آئ کہ ہم کس کھاتے میں اس کی عبادت کے جج بن بیٹھے تھے جو معاملہ اس بندے اور اللہ کے درمیان ہے اس میں ہمارا عمل دخل، اس نے چند لمحوں کے لۓ، اللہ کی ہمیں بخشی ہوئ نعمت استعمال کی، اس کے بدلے میں دعا دے دی،
اور اپنے مولوی پن پے قابو پا کے، ہم نے اس سے مصاحفہ کیا تو بدن میں کرنٹ لگا، ہم نے اسے پکڑ کے اپنے پاس بٹھایا، نوکر کو بلا کے کہا کے اس کی پلی کاٹے اور کترے ہوۓ چارے سے بھر لاۓ،
جب وہ بندہ جانے لگا تو ہم نے نوکر سے کہا کہ یہ جب بھی دوبارہ آۓ تو اسے اسی طرح پٹھے دے دیا کرے،
لیکن اس دن کے بعد وہ شخص نہ فارم پے آیا اور نہ ہی مجھے یا نوکر کو کہیں نظر آیا، پتہ نہی وہ کوئ بندہ تھا یا۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں