،، پیراہن ،، ماورا سید

38″ندائے وقت (سلسلہ مکالمات)
تحریر ۔۔ ماورا سید ۔۔ (کراچی ۔ پاکستان)
عنوان ۔۔پیراہن
بینر ۔۔ فاطمہ عمران
جنم لیتے ہی مجھے پیرہن میں لپیٹ دیا گیاوقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھے نت نۓ پیرہن پہناۓ گۓ پیرہن اگر شوخ ہوتا تو میں شوخ بن جاتی ملائم ہوتا تو ملائمیت میں ڈھل جاتی گرم ہوتا تو گرمجوشی سے گلے لگاتی کچھ پیراہنوں کی کھردراہٹ بہت تکلیف بھی دیتی مگر میں اس کی کھردراہٹ کو نظر انداز کرکے اس کی پا ئیداری اور مضبوطی میں مگن ہوجاتی یوں مجھے نت نئے پیراہنوں سے سجایا جاتا رہا اور ان میں سج سج کر میں ایسے ہی فنا ہوتی رہی جیسے جنم لیتے ہی میری فطرت کو پیراہن میں لپیٹ کر فنا کردیا گیا تھا پھر یہ پیراہن اتنے بڑھتے گئے کہ مجھے لگنے لگا میں ایک گٹھری بن گئی ہوں بیشمار پیرہن سے بںی ایک گٹھری جس میں میرا وجود نہ ہونے کے برابر ہے میرا دم گھٹنے لگا میں پیراہن کی مضبوط گرہوں سے نکلنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے لگی
اور پھر تم آگۓ تم نے ستاروں بھرے نقرئ آنچل میں مجھے لپیٹ دیا یہ آ نچل میرے تن کے چاروں اور لپٹا تھا مگر اس کے آر پار میرے من کے سارے رنگ چھلکتے تھے ایسے رنگ بھی جن سے میں خود ناآشنا تھی میں تمہاری انگلی تھامے یقین کی شاہراہ پر بنا آگے پیچھے دیکھے سفر کرنے لگی تم نے مجھ میں میرے ہونے کا احساس جگایا میں بادلوں پہ چلنے لگی ہواؤں سے سرگوشیاں کرنے لگی رنگوں کی بانسری سے نکلتے سروں پر سر دھننے لگی پھر تم نے مستقبل کی کھڑکی کے آگے مجھے کھڑا کر کے ایک ست رنگا خواب میری آنکھوں کی جانب بھیجا”کہ میں اور تم ا سی آنچل میں لپٹے ایک ساتھ ایک ہی رہ گزر پر چل رہے ہیں”
میں سوتے چاگتے یہی خواب دیکھنے لگی پھر ایک دن تمہارا ہاتھ کبھی نہ ٹوٹنے والی مضبوطی سے باندھ کر اس رہگزر پر قدم رکھ دیا جہاں تم میرے ہم قدم تھے اور ایک آنچل تلے رنگوں کی بارش میں نہانے کے لئے آنکھیں موند لیں۔۔۔۔۔۔اچانک میرا دم گھٹنے لگا میں نے گبھرا کر آنکھیں کھول دیں اور تمہں پکارا تم میرے بالکل قریب تھے پر تمہیں میری آواز سنائ نہیں دے رہی تھی میں نے دیکھا میرے سر سے نقرئ آنچل سرک چکا تھا اور میرا وجود تمہارے پہناۓ ہوۓ ایک لمبے اور تنگ پیراہن میں سر سے پا تک جکڑا ہوا تھا۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں