،، پلیٹ فارم ،، عائشہ پروین انڈیا علیگڑھ

عایشہ پروین ۔
انڈیا علیگڑھ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ،، سخنور ،، میں منتخب افسانہ ادبی دوست کی نذر رائے سے نوازیئے گا
افسانچہ نمبر 5 ،،،،،،،،،پلیٹ فارم ۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،۔ ( تخلیقِ نو )
۔
ٹرین ایک جھٹکے سے رکی ۔یکدم میری بھی آنکھ کھل گئی ۔ کھڑکی سے جھانک کر دیکھا علیگڑھ سٹیشن آگیا تھا ۔ ۔ رات کے 2 بج چکے تھے ۔خلاف معمول مجھے سٹیشن پر اترتے ہوئے عجیب سی خاموشی کا احساس ہوا ۔ ۔ ۔یہاں تو ہر وقت بھیڑ بھاڑ اور رونق رہتی ہے رات کو بھی دن کا سماں رہتا ہے ۔۔ اپنے دونوں سوٹ کیس اور دونوں بیگ ٹرین سے اتارتے ہوئے سوچا ۔ ۔ پلیٹ فارم پر دور دور تک کوئی نظر نہیں آرہا تھا ۔ سامنے والی بینچ پر اپنا لگیج رکھ دیا ۔اور خود بھی ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔ کوئی قلی نظر اے تو میں لگیج اٹھوا کر باہر چلوں ۔ غلطی کی صفی کو کہ دینا تھا وہ گاڑی لے آتا ۔۔ ۔ ۔
خلاف معمول ماحول تھا وحشت ہونے لگی لائٹ بھی بہت مدھم اونگتی ہوئی محسوس ہورہی تھی ۔ کوئی ٹرین بھی نہیں گزری ابھی تک ۔ ۔ ۔تبھی دور سے ایک ہیولہ سا نظر آیا ۔ ہاتھ میں ٹارچ اور ڈنڈا تھا ۔ ۔ لگا اس پلیٹ فارم کا چوکیدار ہے ۔۔ ۔۔ قریب آنے پر بھی وہ صاف نظر نہیں آرہا تھا ۔ اورکوٹ اور کنٹوپ سے جسم منہ چھپا ہوا تھا ۔ ۔
سلام صاحب ۔۔
منمناتی سرد سی آواز تھی اسکی ۔ جیسے کوئی بے تاثر سا لہجہ کرختگی لئے ہوئے ۔ہو ۔
سنو آج یہاں اتنی خاموشی اور سنّاٹا سا کیوں ہے ۔۔ایسا کبھی نہیں ہوا ۔ ۔ ۔
صاحب ۔ آپ غلط سٹیشن پر اتر گئے ۔ ۔یہ آخری منزل ہے ۔ ۔ہر انسان کی ۔ آپ کو زیادہ ہی جلدی تھی شاید ۔وہ عجیب سے لہجے میں بولا ۔۔میں نہیں سمجھ سکا وہ کہنا کیا چاہتا تھا ۔ میں نے ایک بار پھر چاروں جانب نظر دوڑا ئ ۔ دور تک واقعی کوئی نہیں لیکن اس مقام کو جانتا ہوں تمام عمر گزاری ہے آنے جانے میں اب بھلا میں غلط جگہ کیسے اتر سکتا ہوں ۔
دیکھو وہ بورڈ علیگڑھ لکھا ہر جگہ لکھا ہے ۔۔کیوں فضول سی بات کرتے ہو ۔۔
یہ کہتے ہوئے ، میں ، نے اپنے گھر بیوی کو کال کی ۔
لیکن وہ خدا کی بندی کال ہی نہیں اٹھا رہی ۔۔جبکہ اسے علم تھا 6 مہینے بعد میں گھر لوٹ رہا ہوں ۔صفی کو کرتا ہوں کال ۔
صاحب ۔” کوئی نہیں اٹھاے گا کال ،،
یہ کہ کر کچھ اداس سا ہو گیا وہ ۔ اور
واپس ڈنڈا مارتا جیسے خاموشی کو ہانک رہا ہو دھیرے دھیرے اندھیرے میں گم ہو گیا ۔
میں اب صبح کا منتظر تھا ۔۔آج کی رات اور سرد سنّاٹا اس کے بارے میں سوچتا سوچتا سو گیا ۔
اچانک لگا صور اسرافیل نے کان میں صور پھونک دی ہو ۔ میں نے ایک چیخ مار ی اور اچھل کر آنکھ کھول دی ۔۔زبردست بھیڑ تھی ۔ ٹرین گزر رہی تھی ۔ میرے اطراف بھی ایک بھیڑ جمع تھی ۔۔لوگ مجھ پر جھکے جا رہے تھے ۔ مجھے ایسے دیکھ رہے تھے ۔۔جیسے کبھی انسان نہیں دیکھا ہو ۔۔اے ہٹو میرے اوپر سے ۔ یہ کہتے ہوئے میں اٹھا ۔۔
تبھی میری نظر اپنی بیوی اور چھوٹے بھائی پر پڑی ۔ وہ بے تحاشا رو رہے تھے ۔۔۔میں ٹکٹکی باندھے انھیں حیرت سے دیکھنے لگا” ۔شافیہ ” ۔
میں نے زور سے آواز دی ۔،، لیکن اسنے دیکھا ہی نہیں وہاں پولیس والا ایک رجسٹر لئے کھڑا تھا ۔ ۔ یہ لوگ میری آواز کیوں نہیں سن رہے ۔۔شافیہ ۔۔صفی ۔ ،،
دونوں میرے قریب آگیے تھے ۔۔
میں غصّے میں انہیں ناراضگی سے دیکھنے لگا ۔۔کیا ۔ تماشا لگایا ہوا ۔۔ لیکن یہ کیا ؟ ۔،
احمد ،،وہ چیخی ۔۔کیوں چلے گئے مجھے چھوڑ کر ۔،،، بلک بلک کر رونے لگی ۔ ۔ میں اب چاہ کر بھی بول نہیں پایا ۔۔یہ میرے ہی ساتھ کیوں ہو رہا ہے ۔۔
جانی مانی ووہی سرد آواز آی ۔
صاحب جب یہ یہاں آکر بیٹھے تو بولے ہی نہیں بس مجھے تکتے رہے اور ایک طرف لڑھک گئے ۔ ۔
کتنا جھوٹ بول رہا یہ ۔ ۔ شفو ۔۔میری جان دیکھو میں ٹھیک ہوں ۔۔ ۔ لیکن آج سب بہرے ہو گئے تھے شاید ۔۔ ۔ ۔ کوئی نہیں سن رہا تھا مجھے ۔ ۔ جیسے میں ہوکر بھی کہیں نہیں ہوں ۔۔۔
آخر کیوں ۔۔؟؟؟؟۔۔۔

2 تبصرے “،، پلیٹ فارم ،، عائشہ پروین انڈیا علیگڑھ

  1. Adv sajjad bangulzai نے کہا:

    Very nice dear allah bless u

  2. سہیل نے کہا:

    ایک بے حد تاثر انگیز تحریر..
    جب پڑها.نئے زاویے سامنے آئے

اپنا تبصرہ بھیجیں