،، پتلا ،، ساجد ہدایت

حقائق افسانوی سلسلہ ” جیم نون افسانے”
افسانہ نمبر : 18 (خصوصی افسانہ)
عنوان : پتلا
تحریر : ساجد ہدایت (لاہور)
بینر : فاطمہ عمران
ارشد اپنے کسرتی بدن اور لمبے قد کی وجہ سے کالج کے خوبرو ترین لڑکوں میں شمار ہوتا تھا. اسکی مردانہ وجاہت میں خوبصورتی کا جو اجتماع تھا اس میں اس کے دیو مالائی خط وخال کا بھی بڑا ہاتھ تھا….. یہ بڑی بڑی روشن آنکھیں جن پر گھنی مگر پتلی بھنویں، ستواں ناک اور سفا چٹ چہرے کا چوکھٹہ ایسے، جیسے اسے قدرت نے ،کمال توازن سے دنیاوی مصوروں کی تربیت کے لئیے بنایا ہو…. اسکی جلد جب دھوپ یا اندرونی جزبات کی تماذت کی چمکتی تو ، کالج کی کئی لڑکیوں کے خواب مزید روشن اور اجلے ہو جاتے.. ان میں محبت، ایثار اور حصول بدن کی سب خواہشیں نمو پانے لگتیں… کئی أنکھیں اس کے سراپا کو خود میں سرمے سا بھرنے کو ہمیشہ اس کے طواف میں رہتیں، تو کئی آنکھیں اسکی الوہی وجاہت کی سپاس گزاری کے لئیے اپنے ہی قدموں میں سرنگوں رہتیں…
ارشد کالج کے ہر کھیل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا …. بعض کھیلوں کا وہ ماہر کھلاڑی نہیں تھا مگر اسکے دوست اسے اس کھیل کی ٹیم میں بھی شامل کر لیتے ، کیونکہ اسکی شمولیت سے اس ٹیم کے میچ دیکھنے والوں میں لڑکیوں کی تعداد بہت زیادہ ہو جاتی، جس سے دوسرے لڑکوں کو بھی اپنی آنکھیں سینکنے کے وافر مواقع مل جاتے.،،
یہ بھی نہیں تھا کہ وہ لئیے دئیے رہنے والا وجیح نوجوان تھا اور صرف لڑکیوں میں حسرتیں ہی بانٹتا تھا، بلکہ وہ کالج کی ہر لڑکی نا سہی مگر اپنی ہم جماعت لڑکیوں کو توجہ دیتا اور ان کے ساتھ ہر طرح کی بھرپور گفتگو کیا کرتا…. مزہب، تاریخ، فلسفہ، شاعری، ادب اور محبت و عشق پر خوب خوب بولتا…. مگر جنسیات و بدنی رموز پر تو اسے تمام کالج میں اتھارٹی سمجھا جاتا تھا،.، کاما سوترا، کوک شاستر، اجنتا کی جنسی تعلیم اور جسم گیان کے علاوہ وہ راجہ رنجیت سنگھ کے مشہور “یوگی ” جو راجہ کا جنسی معلم بھی تھا کی چنیدہ و نایاب باتوں سے وہ “عورت و مرد” کے جنسی و نفسیاتی تعلق کو یوں بیان کرتا کہ کیا کوئی اور ماہر جنسیات بیان کرتا ہو گا… اس موضوع پر اس کا مطالعہ بہت وسیع تھا …. لبھاؤ کے وہ وہ پینترے…. حظ کشیدگی کے آسن… نفسی چابکیں “کہاں اور کب “…. ایسے بیان کرتا کہ جیسے وہ ان تمام مراحل سے بذات خود گزرا ہو اور ایک حقیقت بیان کر رہا ہو… اس کے بیان سے پھوٹنے والے نادیدہ تلذذ سے سننے والوں کے زہن و جسم تپنے لگتے… ان کے اندر بڑھتی تپش سے انکی مٹی سوکھ کر تڑخنے لگتی اور نفسی تبخیر سے ایک جنسی گھٹن نما شدید طلب سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی اور “مردوں کے اندر کا مرد اور عورتوں کے اندر کی عورت” …. باہم لباس ہو جانے پر “بدکردار سنجیدگی” کی حد تک غور کرنے لگتے.،، اور کئی تو رحم طلب نظروں سے ایک دوسرے کو بھی تکنے لگتے اورپھر اگلے ہی لمحے ایک شرم نما جھجھک سے اپنی نظریں پھیر لیتے… تب وہ محفل کے کھچاؤ پر مسکرا کر اٹھ کھڑا ہوتا اور وہاں سے چل پڑتا…. اپنے پیچھے ایک گفتگو کا نیا موضوع چھوڑ جاتا جو اس کی ہی ذات ہوتی، اسی کے چند بااخلاق ہم جماعت چہہ مگوئیوں میں اسے بد کردار ، ہوس پرست ، عورت کا رسیا اور جنسی جنونی کہتے… یہ مبہم گفتگو اس کا کچھ دیر تک پیچھا ضرور کرتی مگر وہ کمال ضبط سے سب سے نبھائے ہوئے رہتا…
ایسی ہی ایک گفتگو کے سیشن میں عینی کو انکشاف ہوا کہ وہ ارشد کی محبت میں بری طرح مبتلا ہو چکی ہے… اسے بعد کے چند دنوں کے نفسی ہیجان میں محسوس ہوا کہ اگر ارشد اسے نا مل سکا تو شاید وہ عمر بھر کسی اور مرد کی طلب نہ کر پائے،،، یا شاید یہ شدید طلب اسے مار ہی ڈالے…
ایک دن موقع پا کر اس نے ارشد سے اپنے دل کی بات کہہ دی ….. ارشد بات سن کر عینی کو کچھ دیر دیکھتا رہا اور مسکراتے ہوئے کرسی سے اٹھا اور عینی سے کچھ کہے بغیر کینٹین سے باہر نکل گیا…
عینی ارشد کی ہم جماعت تو نہ تھی،مگر اسکی کالج فیلو تھی اور وہ بزات خود کالج کی خوبصورت ترین اور کھلے زہن کی لڑکیوں میں سے ایک تھی… جس کی چاہ میں کئی لڑکے گھل رہے تھے.،، وہ اپنی محبت کی یوں بے توقیری پر حیران نظروں سے ارشد کو دور جاتا دیکھتی رہی… ارشد اسکی نظروں سے اوجھل ہوا تو یکدم عینی کے اندر کی انا پرست لڑکی جاگ گئی… اس کے زہن میں اپنی محبت کی توہین سے غصہ و نفرت کے جھکڑ چلنے لگے… ارشد کی مسکراہٹ اسے کبھی طنزیہ قہقہہ لگتی اور کبھی ٹھکرا دینے کا استہزاء … کبھی ارشد کی مسکراہٹ اسے اپنی خوبصورتی پر “تھوکا جانا” لگتی ، تو کبھی اسے وہ اپنی نسوانیت پر “طمانچہ” سی لگتی… شدت احساس نے اس کے اندر کڑوا دھواں بھر دیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے… اس غم و غصہ اور توہین کی کیفیت میں اس نے خود سے عہد کیا کہ وہ ارشد کو ہر حال میں حاصل کرے گی یا پھر اس سے اپنی توہین کا بدلہ …. اور ایسا بدلہ لے گی جسے ارشد جیسے کٹھور، مغرور، بد کردار، جنسی مریض مردوں کی سات پشتیں تک یاد رکھیں گی… وہ تھی بھی ایسی ہی گھمنڈی اور ضدی لڑکی ….. جو پسند آجانے والی چیز کو اپنا حق سمجھ لیتی اور اسے ہر حال میں حاصل کرنے میں جت جاتی…
ارشد عینی سے ملنے کے بعد کالج میں رکا نہیں… وہ سیدھا اپنے گھر پہنچا اور اپنے وجود کو بستر پر ڈھیر کر کے عینی کے بارے میں سوچنے لگا….
عینی کوئی پہلی لڑکی نہیی تھی جس نے اس سے اظہار محبت اور جسمانی لگاؤ کا اظہار کیا ہو… اسکی الوہی مردانہ وجاہت اور طاقت ور جسم پر کئی لڑکیاں فریفتہ ہوئیں مگر وہ..، وہ بھی تو عینی کو چاہتا تھا تب سے جب سے وہ کالج میں آئی تھی… اپنی انہی سوچوں میں گھلتا وہ بے اختیار بستر سے اٹھا اور اپنے تمام کپڑے اتار کر کمرے میی موجود قد آدم آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر، اپنے خوبصورت ، مظبوط کسرتی بدن کو دیکھنے لگا…. اور ایک دم پلٹ کر فرش پر زور زور سے ڈنڈ لگانے لگا… اس کے ڈنڈ لگانے میں شدت آتی گئی… اس کا سنہری مائل گلابی بدن پسینے سے تر ہونے لگا… اس کی زبان سے ہر ڈنڈ کے ساتھ نہیں…. نہیں… نہیں…. نکل رہا تھا.،. اس کی آنکھوں سے بہتے آنسو فرش کو بھگو رہے تھے .،، وہ یکدم دکھ اور تھکاوٹ سے نڈھال ہو کر فرش پر گر پڑا اور اپنے چہرے کو اپنے گھٹنوں میں چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا…
اس دن کے بعد ارشد اور عینی کی کالج میں ملاقاتیں ہوتی رہیں مگر نا ارشد نے اس کو کوئی جواب دیا اور نہ ہی عینی نے اپنا سوال دوبارہ دہرایا.،.وہی گفتگو، وہی بیٹھکیں وہی محفلیں ویسے ہی جاری رہیں… ہاں دونوں کی آنکھوں میں اب ایک الجھن سی تیرتی رہتی کہ جیسے وہ کچھ کہنا چاہتے ہوں… مگر … دونوں خاموش رہتے…
ایک دن عینی نے کالج سے چھٹی کے بعد ارشد سے کہا کہ
“آج مجھے گھر سے کوئی لینے نہیں آئے گا”،
“تم مجھے گھر چھوڑ دو”
… ارشد نے حسب عادت مسکراتے ہوئے اسے اپنی موٹر سائیکل پر بٹھایا اور عینی کے گھر کی طرف روانہ ہوگیا… سارے راستے عینی اس کی پشت سے چپکی اس کے مضبوط جسم کے لمس کو اپنی پور پور میں انڈیلتی، مدہوش سی، جیسے ہواؤں میں اڑتی رہی اور اسے تب ہوش آیا جب ارشد نے موٹر سائیکل اس کے گھر کے عین سامنے لا کر روک دی… عینی نے ارشد سے پو چھا ” تمھیں میرے گھر کا راستہ معلوم تھا تو کبھی ملنے کیوں نہیں آئے؟؟ ” ارشد نے اس سے نظریں ملاتے ہوئے کہا…
“بس میری کچھ مجبوریاں تھیں”….
تبھی عینی نے لجاجت سے ارشد کو چائے پینے کی دعوت دی …. ارشد تذبذب میں کچھ لمحے سوچتا رہا اور پھر جیسے کسی نتیجہ پر پہنچ کر اس نے مسکرا کر اقرار میں سر ہلایا اور عینی کے ساتھ اسکے گھر میں داخل ہو گیا.. عینی نے اسے بتایا کہ اس کے گھر والے کسی عزیز کی فوتیدگی میں گئے ہوئے ہیں اور رات ہی کو واپس آئیں گے… اس نے ارشد کو ڈرائنگ روم میں بٹھایا…. گھر میں صرف ایک ادھیڑ عمر ملازمہ تھی، جسے عینی نے کچھ رقم دے کر بازار سے چائے کے ساتھ کے لوازمات لانے کے بہانے بازار بھیج دیا.،، بازار گھر سے کافی دور تھا جہاں سے لوٹنے میں ملازمہ کو کافی دیر لگتی…. اور خود عینی اپنے کمرے میں چلی گئی…
ارشد صوفے پر بیٹھا ڈرائنگ روم کی سجاوٹ دیکھ رہا تھا کہ عینی اندر داخل ہوئی… ارشد اس کے مختصر لباس میں عریاں خوبصورت جسم کو دیکھا.. اور دیکھتا چلا گیا…. ابھی وہ اس منظر سے سنبھلنے نہ پایا تھا کہ عینی نے یکدم آگے بڑھ کر اپنی بانہیں ارشد کے گلے میں ڈال کر اس پر بوسوں کی بوچھاڑ کر دی… عینی کے منہ سے سسسکاریوں کی صورت الفاظ نکل رہے تھے..، جیسے وہ خواب میں بول رہی ہو…. ” ارشد مجھے تم سے شدید محبت ہے “…. ” تم مجھے نا ملے تو میں مر جاؤں گی”.،، ارشد میرے ہو جاؤ آج…. ” …. ” ان مردوں کی طرح جو تمہارے قصوں میں تھے”.. بھرپور، جوان،، زندگی سے لبریز….” .. ارشد نے اسے نرمی سے دھکیل کر خود سے جدا کرنے کی کوشش کی تو عینی تلملا کر اس سے چند قدم دور ہو گئی اور شدید ہیجان بھرے غصے اور بے بسی سے بولی…. “ارشد … کیوں ٹھکرا رہے ہو مجھے… کیا کمی ہے مجھ میں؟؟؟ ”
ارشد ایک دم صوفے سے اٹھا … اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، وہ دکھ اور بے بسی سے رندھی ہوئی آواز میں بولا..، “عینی میں تم سے شدید محبت کرتا ہوں “… “مجھ سے زیادہ شاید ہی کسی اور مرد کو تم جیسی حسین لڑکی کی خواہش ہو گی”… “شاید ہی کسی مرد نے کسی عورت کے جسم کو مجھ سے زیادہ سوچا ہو اور اسکی طلب رکھتا ہو”… مگر…..مگر،،، وہ ایسے خاموش ہوگیا جیسے اس کے پاس لفظ ختم ہو گئے ہوں …. جیسے وہ بے بسی کے انتہائی کنارے کھڑا ، لمحہ موجود کے پنجوں میں نحیف وجود سا جکڑا ، اپنے اندر یا باہر جست لگانے کی صلاحیت کھو چکا ہو …تبھی ایک کرب…. ایک خود آگاہی کے سنگین وار نے اسے یکلخت مسمار کردیا اور اگلے پل اس نے اپنی پینٹ کی بیلٹ کھول دی، جس سے اس کی پینٹ اسکے قدموں میں گر گئی… کمرے میں عینی کی ایک زور دار چیخ گونجی …… وہ ارشد سے لپٹ گئی اور ڈرائینگ روم دونوں کی سسکیوں سے بھر گیا…
کہیں دور کوئی ہنسا..، اور اپنے تماشے کے لئیے نئے پتلے بنانے لگا… شاید اب کچھ بھولے بغیر…
——-

اپنا تبصرہ بھیجیں