،، وہ اک لمحہ ،، شمسہ نجم

حقائق افسانوی سلسلہ سیزن-05 “عسق و محبت”
افسانہ نمبر 50
عنوان : وہ اک لمحہ
تحریر : شمسہ نجم (امریکہ)
کہنے کو میری عمر چار سال تھی۔ چھوٹا سا بچہ۔ دنیا کے سردو گرم سے نا آشنا ۔ اس عمر میں تو اتنی عقل بھی نہیں ہوتی کہ ہم اندازہ کر سکیں کہ ہمیں پالنے والے ہمارے ماں باپ کی اتنی بساط بھی ہے کہ ہمیں اچھے طریقے سے پرورش کر سکیں گے یا نہیں۔
اس دن میری ماں سب بہن بھائیوں کو اسکول بھیجنے کے بعد میرا ہاتھ پکڑ کے بازار کی طرف چل دی۔ ہمیں گھر کا کچھ سامان خریدنا تھا اور ماں کو اپنے لیے دوا بھی لینی تھی۔ میری تین بہنیں اور ایک بھائی بہت اچھے اسکولوں میں پڑھ رہے تھے ۔ میں بہن بھائیوں میں پانچویں نمبر پہ تھا۔ مجھ سے بس ایک بہن چھوٹی تھی جو صرف دو ماہ کی تھی۔ میری ماں نے میری بہن کو اپنی پشت پر باندھا۔ میرا تعلق جنوبی کوریا (south Korea) سے ہے۔ کوریا میں چھوٹے بچے کو اٹھانے کا یہی رواج ہے۔ بچے کو کمر پر کپڑے کا جھولا بنا کے اس میں ڈال لیتے ہیں اس طرح ماں کے دونوں ہاتھ آزاد ہوتے ہیں دنیا داری کے لیے ۔
میں ماں کا ہاتھ پکڑ کر چل رہا تھا۔ دو سو گز کے بعد گلی کا پہلا موڑ تھا۔ وہاں سے ہم دائیں طرف مڑ گئے۔ کونے پر ایک آدمی ٹھیلا لگائے ہوئے بھنے ہوئے کیلے بیچ رہا تھا۔اس کی ایک خاص میٹھی مہک ہوتی ہے لیکن مجھے ہمیشہ سے یہ مہک پسند نہیں تھی۔ ماں نے میرا دایاں ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ میں نے بائیں ہاتھ کی چاروں انگلیاں ناک پہ رکھ لیں تاکہ مجھے یہ مہک نہ آئے۔ لیکن مہک بہت تیز تھی اور میرے نتھنوں میں گھسی چلی آ رہی تھی۔ماں کو وہاں پڑوسن مل گئی اور وہ وہیں کھڑے ہو کر پڑوسن سے سلام دعا کرنے لگی۔بھنے کیلوں کی مہک مجھے پریشان کر رہی تھی۔اب مجھے خیال آتا ہے لیکن اس وقت مجھے اتنی عقل نہیں تھی اگر شہادت کی انگلی اور انگوٹھے کی مدد سے ناک بند کرتا تو شاید یہ مہک اتنا پریشان نہ کرتی۔ میں نے ماں کا ہاتھ ہلایا۔ ماں سمجھ گئی اس نے پڑوسن کو خدا حافظ کہا اور ہم آگے چل پڑے۔ دو اور گلیاں پار کرنے کے بعد ہم بازار پہنچ گئے۔ بازار میں چھوٹی موٹی بہت سی دکانیں تھیں۔ ماں نے دوکان سے چینی، ڈبل روٹی اور انڈے خریدے۔ میں نے اچھے بچے کی طرح ماں کی مدد کی اور بارہ انڈوں کا اچھی سی پیکنگ والا ڈبہ ہاتھ میں پکڑ لیا۔ فٹ پاتھ پر ایک عورت نے بیچنے کے لیے سیب سجائے ہوئے تھے۔ سیب سرخی مائل زرد خوبصورت بڑے بڑے اور رس دار لگ رہے تھے۔میرا دل چاہا کہ میں سیب کھاوں۔ میں نے ماں سے کہا ” مجھے سیب چاہیئے”۔ ماں نے کہا ” چلو آگے چلو جینگ سو (Jaeng Su) ، بعد میں لے لیں گے ابھی مجھے اور سامان بھی لینا ہے اور اپنی دوا بھی لینی ہے”۔
میں نے کہا ” نہیں مجھے یہ سیب ابھی چاہیئے”۔ ماں نے پھر چلنے کو کہا لیکن میں ضدی بچے کی طرح وہیں جم کر کھڑا ہو گیا۔ “نہیں مجھے سیب چاہیئےاگر تم مجھے سیب لے کے نہیں دو گی میں یہ انڈوں کا ڈبہ زمین پہ پھینک کے انڈے توڑ دوں گا”۔
میں نے محسوس کیا میری ماں ایک دم سیدھی ہو کے کھڑی ہو گئی اور میری آنکھوں میں غور سے دیکھنے لگی۔
میں نے پھر کہا ” میں انڈے توڑ دوں گا”۔
میری ماں نے کہا ” اچھا توڑ دو انڈے اگر تم توڑ سکتے ہو”۔
میں نے ڈبہ زور سے زمین پہ پھینک دیا۔ ڈبہ گتے کا تھا۔ سارا ڈبہ گیلا ہو گیا۔ جو اس بات کا ثبوت تھا کہ سارے انڈے ٹوٹ چکے ہیں۔ میری ماں میری آنکھوں میں غور سے دیکھتی رہی۔ اس نے مجھے ایک لفظ نہیں کہا۔ اور پھر اس نے سیب بیچنے والی عورت سے ایک سیب خریدا اور میرے ہاتھ میں دے دیا۔ ماں نے باقی خریداری مکمل کی ساتھ ساتھ انڈے بھی دوبارہ خریدے۔ جب ہم میڈیکل اسٹور کے سامنے سے گزرے تو میں نے ماں سے کہا” ماں تمہاری دوا”۔
ماں نے میری طرف غور سے دیکھا۔ میں نے محسوس کیا میری ماں کی آنکھوں میں پانی تھا لیکن آنسو باہر نہیں آئے اور فورا ہی وہ آنسو غائب بھی ہو گئے۔ ماں نے ان آنسووں کو پی لیا تھا یہ بات مجھے بہت عرصے کے بعد سمجھ میں آئی۔ ماں خاموش رہی۔ ہم نے دوا نہیں لی اور ہم واپس آ گئے۔
پھر تین ماہ بعد میرا داخلہ اسکول میں ہو گیا۔ اور دوسرے بچوں کی طرح روزانہ اسکول جانا میرا بھی معمول ہو گیا۔ میری ماں مجھے اسکول چھوڑتی اور واپس لینے بھی وہی آتی اور ہمیشہ اپنی کمر پہ میری بہن کو اٹھائے ہوئے ہوتی۔ میں ماں کا ہاتھ پکڑ کے ساتھ چلتا تھا۔
میری ماں میرے سب بہن بھائیوں کو اچھے اسکولوں میں پڑھا رہی تھی ۔میرا باپ آرمی میں تھا ۔ وہ بہت کم سال میں ایک یا دو بار گھر آتا۔ جنوبی کوریا میں ہر مرد کوکم از کم تین سال تک آرمی جوائن کرنا لازم ہے۔ لیکن میرا باپ ہمیشہ کے لیے اس سے منسلک ہو گیا تھا۔ میری ایک بہن کالج میں اور ایک یونیورسٹی میں تھی۔ باقی بہن بھائی اسکول میں مختلف گریڈز میں تھے۔ ساوتھ کوریا میں اسکول کے لیے کچھ نہ کچھ فیس بھرنا ہوتی ہے۔جیسا کہ سارے ترقی پذیر ملکوں کا طریقہء تعلیم ہے۔ اب تو میں امریکہ میں ہوں یہاں بچوں کی اسکول کی فیس نہیں دینا پڑتی۔ صرف اسی صورت میں فیس دینا پڑتی ہے اگر پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھائیں۔ میری ماں سب بچوں کی فیس بھی دیتی تھی پھر سارے بچوں کو روز خرچ کے پیسے بھی دیتی تھی۔ سارے بہن بھائیوں کو صبح اسکول بھیجنے کے بعد مجھے اندازہ تھا کہ میری ماں کے پاس اب پیسے نہیں بچے ہیں۔ اس لیے میں اپنی ماں سے خرچ کے لیے پیسے نہیں مانگتا تھا۔ بعض اوقات بنیادی ضرورت کے خرچ کے لیے بھی مجھے ماں سے پیسوں کے لیے کہتے ہوئے جھجھک آتی تھی۔ میری آنکھوں کے سامنے زمین پر گرا ہوا انڈوں کا ڈبہ اور ماں کی بھیگی آنکھیں آجاتی تھیں ۔اس نے مجھے انڈے توڑنے کے لیے کچھ بھی نہیں کہا تھا بلکہ دوائی کے پیسوں سے سیب اور انڈے دوبارہ خرید لیے تھے۔ جب مجھے وہ سب یاد آتا تھا تو ہر بار میں خود سے عہد کرتا تھا کہ میں بہت اچھا بچہ بن کے دکھاوں گا۔ اپنی ماں کو دکھ نہیں دوں گا۔اور کبھی بھی اس کے دکھوں میں اضافہ نہیں کروں گا۔
میں بہت محنت سے پڑھتا تاکہ میری ماں کو میرے دل لگا کر پڑھنے سے اور میری اسکول کی اچھی رپورٹ دیکھ کر خوشی ہو۔ ساوتھ کوریا میں چھٹی جماعت میں ایک مقابلے کا امتحان ہوتا ہے۔ جس میں جیتنے والے پہلے دس بچوں کو وظیفہ دیا جاتا ہے۔ تین سو پچاس بچوں نے وظیفے کا امتحان دیا۔ نتیجہ آیا تو میں ان پہلے دس بچوں میں تھا جنہوں نے وظیفہ یعنی اسکالر شپ حاصل کیا تھا۔
جس دن ایوارڈ دیا جانا تھا سب بچوں کے والدین اسکول میں موجود تھے۔ بچوں کے گزرنے کے راستے کے دونوں طرف کرسیوں کی کئی رویہ قطاریں لگائی گئی تھیں اور بچوں کے والدین کو ان کرسیوں پر بٹھایا گیا تھا تاکہ والدین انعام حاصل کرنے والے بچوں کو با آسانی دیکھ سکیں۔ جب میں وہاں سے گزر رہا تھا میرے کانوں میں بہت سے بچوں کے والدین کی آوازیں آ رہی تھیں۔ “اس بچے نے انعام جیتا ہے۔ یہ “جینگ سو” ہے میرے بچے کا دوست”۔ مجھے بہت فخر محسوس ہوا۔ میری ننھی سی گردن تن گئی۔ لیکن مجھے اس سے زیادہ اپنی ماں کا چہرہ دیکھنے کی فکر تھی۔ پھر میں نے دیکھا میری ماں میری دائیں طرف والی پہلی قطار میں گلابی شرٹ میں اپنے سیاہ بالوں کا جوڑا بنائے بیٹھی تھی۔ میری ماں کے گورے رنگ پر خوشی سے سرخ ہوتے گال بہت نمایاں تھے اور چھوٹی لیکن چمکدار آنکھوں میں جھلکتی خوشی میں صاف دیکھ سکتا تھا ۔ وہ مسکرا رہی تھی۔ اس کے موتیوں جیسے دانت چمک رہے تھے، اس کی آنکھیں بھی مسکرا رہی تھیں۔وہ آنکھیں جو اس دن نمی لیے تھیں۔ دکھ بھری نمی۔ گو آج بھی ان آنکھوں میں پانی تھا لیکن یہ خوشی کے آنسو تھے۔ نمی کے باوجود مسکراتی ہوئی آنکھیں جیسا کہ میں دیکھنا چاہتا تھا۔ میں ماں کے پاس گیا تو اس نے ہمارے ملک کے رواج اور قومی کلچر کے مطابق میرا کندھا تھپتھپایا۔ مجھے یک گونہ سکون محسوس ہوا۔
جب میں نویں جماعت میں پہنچا۔ میری دو بہنیں یونیورسٹی میں اور بھائی اور ایک بہن کالج میں تھے۔ ان کی فیسوں کا خرچ کافی تھا۔پھر یونیورسٹی اور کالج کے لیے کرائے کے پیسے اور ساتھ ہی ساتھ دوپہر کے کھانے ( لنچ) کے پیسے بھی دینا ضروری تھے۔ سب کو صبح جاتے ہوئے پیسے دینے کے بعد میں سمجھ جاتا تھا کہ ماں کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ کیونکہ ہمیشہ کی طرح مجھے دینے سے پہلے ہی ماں کے پاس پیسے ختم ہو جاتے تھے۔ میں نے ماں سے کہا
“مجھے فیس کے لیے پیسے چاہئیں”۔
ماں کے پاس پیسے نہیں تھے۔ ماں نے کہا ” اگلے ہفتے میں تمہیں پیسے دے دوں گی”۔
اگلے ہفتے پیسے دوبارہ مانگے تو ماں نے کہا ” رک جاو، تنخواہ آئے گی تو دے دوں گی”۔
پھر میں نے پیسے نہیں مانگے۔ اسکول میں فیس جمع کروانے کے دن اوپر ہو گئے تو ٹیچر نے بار بار جماعت کے دوسرے بچوں کے سامنے کہنا شروع کر دیا۔” سو ( Su) تم فیس کیوں نہیں لائے”۔ دوسرا مہینہ شروع ہو گیا۔ دوسرے مہینے کے تیسرے ہفتے میں ٹیچر ( استانی) نے کہا “اب جب تک تم پیسے لے کر نہیں آو گے تم روزانہ اسکول کا واش روم صاف کیا کرو گے”۔
میں ایک ہفتے تک اسکول کا غسل خانہ صاف کرتا رہا۔لیکن مجھے پتہ تھا میری ماں کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ میں نے ماں سے پھر بھی ذکر نہیں کیا ۔آخر تنگ آ کر استانی صاحبہ نے کہا “اب تم کلاس روم میں نہیں بیٹھ سکتے”۔ میں نے اپنا بستہ اٹھایا اور جماعت سے اور پھر اسکول سے باہر آ گیا۔لیکن میں گھر نہیں گیا۔ کیونکہ میری ماں کو دکھ ہوتا۔جو مجھے کسی قیمت پر گوارا نہیں تھا۔ میں سمندر کے کنارے چلا گیا۔ ساحلِ سمندر پر گھومتا رہا۔ چھٹی کا وقت ہونے پر میں نے گھر کا رُخ کیا۔ پورے چھٹی کے وقت کے حساب سے میں گھر پہنچا۔ ماں کو ذرا شک نہیں ہوا۔ ایک ہفتے تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ روزانہ کلاس سے استانی صاحبہ بھگا دیتیں اور میں ساحلِ سمندر کا رخ کرتا۔ ایک ہفتے کی اس ڈھٹائی کو میری استانی نے کافی سنجیدگی سے لیا۔ انہوں نے مجھے کہا “کل اگر فیس لے کر نہ آو تو اسکول بالکل نہیں آنا۔ تمہارا نام اسکول سے کاٹ دیا جائے گا”۔
یہ سن کر میں ساحلِ سمندر پر نہیں گیا۔ سیدھا گھر چلا گیا۔ ماں کے پاس جا کے ماں کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ اور میں نے ماں کو بتایا ” اگر میں نے اب فیس جمع نہ کروائی تو کل اسکول سے مجھے نکال دیا جائے گا اور میرا نام کاٹ دیا جائے گا”۔ پھر میں نے ایک ایک بات ماں کے گوش گزار کر دی۔ ماں نے کہا ” تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا”۔
ماں میرے ساتھ اسکول گئی ۔ فیس جمع کروائی اور مسئلہ حل ہو گیا۔ لیکن انڈے توڑنے کے واقعے نے ہمیشہ مجھے ایک ایسے مقام پر کھڑا رکھا جو میری ماں اور میرے درمیان تعلق اور احساس کا سنگِ میل تھا۔ بعد میں میں امریکہ چلا آیا اور یہیں نوکری کر لی۔ لیکن ایک چھوٹے سے واقعے نے ساری عمر مجھے اور میری ماں کو ایک مضبوط رسی سے باندھے رکھا۔میں ماں کی ساری مجبوریاں سمجھنے لگا۔چھوٹی عمر میں ہی بہن بھائیوں کی نسبت زیادہ ذمہ دار ہو گیا۔لیکن اپنے اسی احساس ندامت کی وجہ سے میں نے بہت سی تکلیفیں بھی سہیں۔ لیکن اس کا سب سے زیادہ مثبت نتیجہ یہ نکلا میری ماں آج میرے پاس رہتی ہے۔ دوران ملازمت مجھے اپنی ایک کولیگ خوبصورت اور سمجھ دار کورین لڑکی سے محبت ہو گئی۔ ہمارے ایشین کلچر کے مطابق اسے میری ماں کو ساتھ رکھنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ میری بیوی کی رضا سے ہم دونوں میاں بیوی ساری تنخواہ اپنی ماں کو دے دیتے ہیں تاکہ وہ جیسے مرضی گھر چلائے اور اسے چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے کبھی ترسنا نہ پڑے۔ اب میں خرچ کے لیے پیسے ماں سے بڑے اعتماد سے مانگ لیتا ہوں کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ اس کے پاس پیسے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں