،، لازوال ،، حیا غزل

نمبر12
عنوان : لازوال
حیا غزل
ہر انسان کی زندگی میں کچھ واقعات ایسے ضرور ہوتے ہیں جھنیں فراموش کرنا ممکن نہیں ہوتا.انکی یاد کبھی دل میں چھبن کا باعث بنتی ہے تو کبھی آنکھوں کے بھیگے گوشوں کی زینت بن جاتی ہے ایک ایسا ہی واقعہ لکھتے ہوئے میںاور کبھی ایک سیکھ بن جاتے ہیں. آج پھر سے ماضی کے دھندلکوں میں کھو سی گئ…یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں ایک پرائیوٹ اسکول میں
آٹھ سو روپے جیسی معمولی ماہوار تنخواہ پر پڑھایا کرتی تھی..
وہ دن بھی دوسرے بہت سے عام دنوں کی طرح عام پر میرے لیئے شاید بہت خاص تھا .عید قریب تھی اور.پرس میں موجود تنخواہ کا پھولے ہوئے لفافے کی موجودگی نے میرے چہرے پر آسودگی کے رنگ قوس قزح کی طرح بکھیردیئے تھے گھر واپسی تک میں ان پیسوں سے نہ جانے کتنی خواہشات کی تکمیل کے ڈھیروں منصوبے بنا چکی تھی..گھر پہنچتے ہی میں نے جلدی سے پرس کھول کر لفافہ ہاتھ میں لیا اور کچن میں مصروف اپنی امی کو زبردستی کھینچتے ہوئے بیٹھک میں لے آئ…امی یہ دیکھیں ..سیلری مل گئ..آپ جلدی سے برقع پہنیں ہم ابھی کے ابھی مارکیٹ جارہے ہیں…ارے بیٹا سانس تو لے لو …اچھا کچھ کھالو تھکی ہوئ آئ ہو آج گرمی بھی کتنی شدید ہے..
بالکل نہیں….میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے انکی بات کاٹی…ہم چل رہے ہیں ابھی بس اور کوئ بات نہیں…آپ کو نہیں پتہ ..میں کب سے آج کے دن کے انتظار میں تھی..میں آپ کو کچھ دلانا چاہتی ہوں اپنی سیلری سے پلیز منع نہیں کرناامی پلیز ….
میری التجا رنگ لائ اور وہ مارکیٹ جانے کے لیئے رضامند ہوگئیں…پھوپھو کے گھر حوالے کرکے ہم رکشہ میں مارکیٹ روانہ ہوگئے.ایسا لگتا تھا جیسے اس دن پورا شہر بازار میں امڈ آیا ہو ..مارکیٹ میں ایک دکان سے دوسری تک پہنچنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا بار بار انتظامیہ کی طرف سے اعلان ہورہا تھا برائے مہربانی اپنے بچوں اور سامان کی خود حفاظت کیجیئے …میں نے امی کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما ہوا تھا ایسے ہی ہم ایک پٹھان کی دکان پر پہنچے امی کپڑے نکلوا کر دیکھنے لگیں تو میں نے آس پاس سجی دوکانوں کو اشتیاق بھری نظروں سے دیکھنا شروع کردیا… تبھی ایک برقع پوش عورت ہم سے زور سے آکے ٹکرائ.معاف کرنا رش کی وجہ سے..
کوئ بات نہیں اٹس اوکے میری زبان سے ابھی یہ لفظ ادا ہی ہوئے تھے کہ امی نے آواز دی غزل یہ دیکھو یہ سوٹ تم پر بہت اچھا لگے گا..بالکل نہین یہ ہم آپ کے لیئے لے رہے ہیں. ہماری تکرار پر دوکان والے نے کہا بہن جی آپ کو لینا ہے کہ نہیں….
ارے نہیں نہیں آپ ایک سوٹ پیک کردیں…اور پیسے پوچھ کر امی نے جیسے ہی پرس کھولا تو وہ خالی تھا پیسے کہاں گئے یہیں تو رکھے تھے افففف انھوں نے شاپ پر ہی پورا پرس الٹ دیا …امی ٹھیک سے دیکھیں..پر نوٹوں کا لفافہ غائب ہوچکا تھا.دوکاندار نے سوٹ واپس رکھتے ہوئے کہا بہن جی لگتا ہے کوئ کام دکھاگیا آپ کو دھیان رکھنا چاہیئے تھا تبھی ہمارا خیال اس عورت کی طرف گیا ..امی چکرا گئیں بیٹا ہم گھر کیسے جائیں گے اس نے تو کرائے کے پیسے تک نہیں چھوڑے…جیسے تیسے کرکے ہم مین روڈ تک آئے میرے لیئے تنخواہ سے زیادہ امی کی بگڑتی طبیعت زیادہ پریشان کن تھی.وہ دمے کی مریض تھیں.پھر انھیں یہ احساس مارے ڈال رہا تھا کہ میری مہینے بھر کی محنت پر پانی پھر گیا تھا.اس دن ہم نے خاصا طویل سفر پیدل ساتھ طے کیا وہ رو تی جارہیں تھیں چہرہ سرخ ہوچکا تھا اور سانس بھی بے حد پھول رہی تھی.وہ بار بار ایک ہی بات دھراتیں میری لاپرواہی کا بھگتان میری بچی کو بھگتنا پڑا
میری نظریں مسلسل ان پر ٹکی ہوئیں تھیں مجھے انکی بہت فکر ہورہی تھی یا خدایا کسی طرح ہم جلد گھر پہنچ جائیں….کہیں امی کی طبیعت خراب ہوگئ تو…..نہیں نہیں. مین جلدی سے دل ہی دل مین دردوشریف کا ورد کرنے لگی.وہ رستہ ہم نے کس کیفیت کے ساتھ طے کیا شاید لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہو گھر پہنچنے کے بعد بھی وہ دیر تک روتی رہیں…انکو دوا دے کر اس وقت تو ہم نے سلادیا پر کافی دن تک انھین اس بات کا ملال رہا.شاید میں بھی اس واقعہ کو اپنے ذہن سے جھٹک نہیں پارہی تھی میرے سامنے بار بار امی کا آنسوؤں سے تر چہرہ آجاتا تبھی میں نے خود سے عہد کیا کہ کسی بھی طرح مین دوبارہ پیسے جمع کرکے امی کے ہاتھ پر رکھوں گی.مجھے سلائ اور ایمبرائیڈری آتی تھی.سو اس دوران میں نے ٹیوشنز کے ساتھ ساتھ سلائ بھی کافی کی اور تنخواہ سے بھی کچھ زیادہ پیسے جوڑ کے امی کے ہاتھ پر رکھے مجھے یاد ہے وہ خاموشی سے دیر تک ان پیسوں کو دیکھتی رہیں.پھر دھیرے سے بے آواز آنسوؤں کے ساتھ انھوں نے مجھے اپنے سینے سے لگایا اور کہا
.کون کہتا ہے کہ بیٹیاں بیٹوں سے کسی بھی طرح کم ہوتیں ہیں.مجھے فخر ہے اپنی بیٹی پراور پھر انھوں نے میرا ماتھا چوم لیا. آج بھی جب کہ وہ ہمارے بیچ نہیں جب بھی حوصلہ ہارنے لگتی ہوں تو
ہوں تو انکے الفاظ میرے ذہن میں گونجنے لگتے ہیں..اور وہ لازوال محبت پھر سے میرے دل میں امیدوں کے نئے دیپ جلادیتی ہے.میری طاقت بن کر…اور میرے ماتھے پر انکا لمس بندیا بن کر چمکنے لگتا ہے_

،، لازوال ،، حیا غزل” ایک تبصرہ

  1. Haya Ghazal نے کہا:

    شکریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں