،، فکر و فن ،، سدرہ افضل / ساجد ہدایت

39″ندائے وقت (سلسلہ مکالمات)
مکالمہ: فکر و فن
تحریر : سدرہ افضل / ساجد ہدایت
بینر۔۔۔ فاطمہ عمران
شام! آپ کے خیال میں فکروفن کیا ہے؟؟
جی! کسی بھی فن پارے کو سمجھنے اور پرکھنے کے لئیے دو بنیادی طریقے ہیں.
1- فکر
2- فن
فکر اپنے دور اور مصنف کی شخصیت کی عکاس ہوتی ہے، جبکہ فن اسکے عصری اور صنفی تقاضوں سے منسلک ہوتا ہے. عصری تقاضوں سے مراد سوشو پولیٹیکل اپروچ ہے یا کسی نظریے کا اثر.
فکر تب تک بے تکی معلوم ہوتی ہے جب تک اس میں سیاسی، سماجی شعور کے ساتھ فن کی گرہ نہ لگائی جائے. یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ
“فکر فلسفہ ہے اور فن پیشکش ہے”
شام! شکریہ.. مگر یہاں نثرو نظم میں تفریق کرنا ہو گی اور فلسفی اور شاعر کے فرق کو بھی سمجھنا ہو گا..
جی! بالکل بات آگے چلنی چاہئیے کیونکہ ایک فلسفی اور شاعر دونوں ہی معاشرے کو متاثر کرتے ھیں اور ان میں فرق صرف ایک بنیاد پر ہوتا ہے.
شام! آپ کی نظر میں
وہ فرق کیا ہے؟؟
جی! آپ اس پر روشنی ڈالیں.
شام! ایک فلسفی کے ہاں نظریہ ہی حتمی ہوتا ہے، جو اسکی فکر کا غماز ہوتا ہے جبکہ شاعر فلسفہ سے رو گردانی ، انحراف یا مکمل اجتناب کرتے ہوئے اس میں سے نئی فکر کی راہیں نکالتا ہے، اور بعض دفع شاعر کسی ایک ہی فلسفہ کے مبلغ کا بھی فریضہ سر انجام دیتا ہے.
جی! ایک حد تک یہ بات درست ہے مگر ضروری نہیں کہ یہ سب ایسا ہی ہو. فلسفی کے ہاں نظریہ حتمی نہیں ہوتا، شاعر فلسفہ سے روگردانی نہیں کر سکتا جبکہ وہ خود فلسفہ کا حامل و پر چارک ہوتا ہے. ان دونوں میں فرق “تخیل اور تفکر کا ہوتا ہے ” .. شاعر کے ہاں تخیل مئوثر ہوتا ہے جبکہ فلسفی کے ہاں تفکر”….
اسی لئیے شاعری کے لئیے “واہ” سب سے پہلا ری ایکشن ہوتا ہے. اور فلسفے کے لئیے غوروفکر اور خاموشی.. اور ایک “مغز متفکر” کبھی حتمی راخے پیش نہیں کرتا کیونکہ وہ جستجو کو اہم سمجھتا ہے. اور فلسفہ تو عین سائنس بھی ہے، کیونکہ “جستجو دور کو قریب کرتی ہے اور پرستش دور کو دور رکھتی ہے.”
شام! مگر، جب فلسفہ تفکر کے بعد بھی کسی حتمی نتیجہ کا حامل نہیں ہوتا تو اسکا وجود تو پھر فی زمانہ تک محدود ہونا چاہئیے، یعنی پھر تو فلسفہ بس اسی سماجی، سیاسی نظام کے لئیے مفید ہو گا جس میں کہ وہ وجود میں آیا؟؟
جی؛- فلسفہ بنیادی طور پر ایک نظام فکر ہے جس میں پہلے استقرا ہوتا ہے یعنی ” اخذ ” کرنا، پھر اس اخذ شدہ کو دماغ میں موجود قوتیں جوڑ کر کوئی نتیجہ مرتب کرتی ہیں. یہ نتیجہ نظریہ کہلاتا ہے. مگر چونکہ اس میں زمانوی بدلاؤ کے ساتھ ترمیم کی گنجائش ہوتی ہے اسلئیے اس میں “حتمیت ” نہیں پائی جاتی. اور اس نظریہ کو بیان و شائع کرنے کے لئیے جو وسائل ہم استعمال کریں گے بلاشبہ وہ ہمارے سماج و معاشرے میں رائج و دریافت شدہ ہوں گے اور ضروری نہیں کہ وہ بعد کے زمانے تک اسی افادیت کے ساتھ رائج رہیں. سو وہ فلسفہ (نظریہ) محدود بھی ہو سکتا ہے اور آفاقی بھی. پس فلسفہ رد ہو سکتا ہے اور فلسفہ باہم مدغم ہو کر بھی نئی شکل میں ظہور پزیر ہو سکتا ہے، اسکی کئی مثالیں افلاطون تا ارسطو ہمیں ملتی ہیں.
یوں کہہ سکتے ہیں کہ تخیل کا تعلق استخراج سے ہے ، یعنی گمان پر یقین کر لینے پر اور تفکر کا تعلق استقرا سے ہے.. اسی لئیے شاعر و نثر نگار تخیل سے کام لیتے ہیں جبکہ فلسفی تحقگق و جستجو سے.
شام؛- اس طرح تو فلسفیانہ نتائج ہر ایک کے معروضی ماحول کے مطابق اور مختلف نکلیں گے…
جی؛- ہاں.. کیونکہ حقیقت جو میرے لئیے ہے وہ کسی اور کے لئیے ویسی نہیں بھی ہو سکتی اور اسکا ثابت کرنا اسی صورت میں ممکن ہے جب اسے حواس خمسہ کے تحت درک کیا جاسکے یعنی تحقیق. سو تفکر کی راہیں ہمیشہ کھلی رہتی ہیں. زیشان مضطر نے کیا خوب شعر کہا ہے کہ
آجکل ہے جو عالم موجود….
عالم غیب تھا وہی کل تک
شام؛- فلسفہ سائنس ہے تو پھر اس کی مادی شکل کیا ہو گی؟؟
جی؛- زبان ، الفاظ، فنون لطیفہ وغیرہ وغیرہ فلسفہ کی مادی اشکال ہی تو ہیں..
شام؛- اس طرح تو ہم تمام سائنسی ایجادات کو بھی فلسفہ کی پیداوار کہہ سکتے ہیں؟؟
جی؛- بالکل کہہ سکتے ہیں کیونکہ “فلسفہ ماں ہے تمام مضامین کی” کیونکہ اس کی بنیاد تفکر ہے.. قرآن کہتا ہے کہ
“سخرلنافی الارض السماوات”
شام؛- شاعر کیا اپنے تخیل کے زریعے فلسفہ کی راہ ہموار نہیں کرتا؟؟ جبکہ معلوم انسانی تہزیب ہمیں واضح طور پر بتاتی ہے کہ شاعری فلسفہ سے پہلے سماج میں موجود تھی، اسی کی اثاث پر یعنی تخیل پر اٹھنے والے سوالات سے ہی جستجو کی فضا قائم پیدا ہوئی اور فلسفہ کے بنیادی عناصر “غوروفکر” کا جنم ہوا اور انسان تخیل کی انگلی تھام کر ہی غوروفکر اور سائنسی موجودات و ایجادات تک پہنچا..
جی؛- ہاں بعض صورتوں میں ایسا ہوا ہے ، جبھی تو فلسفی شاعر کی اصطلاح استعمال ہوئی..
حصہ دوئم
——
شام؛- فلسفی شاعر کی اصطلاح تو عام ہے، کیا فلسفی فلسفی افسانہ / نثر نگار کا بھی کوئی وجود ہے؟ اگر ہے تو وہ کس سطح پر کھڑا ہے؟؟
جی؛- علامتیت اور کیا ہے؟؟
شام؛- علامت کا فلسفہ سے تعلق کیسے بنتا ہے؟؟ علامت تو فن یعنی پیشکش کا ایک حربہ انداز ہے..
جی؛- ہے تعلق، علامت متعین و تراشیدہ معنی سے ہٹ کر بہت سی جہتوں / سمتوں میں ہوتی ہے. جس تک تفکر سے ہی پہنچا جا سکتا ہے.
شام؛- تو کیا علامتیہ کہانی/افسانہ/ نثر نگار صرف علامت کے استعمال کرنے کی وجہ سے فلسفی افسانہ/ نثر نگار کہلائے گا؟؟
جی؛- یہ تو اس کی برتی گئی علامت اور اس کا استقرا طے کرے گا..
شام؛- میرے نزدیک تو علامت سوچ و تخیل کا نیا جہان نہیں بلکہ اسکا بامعنی اظہاریہ ہے. اس لئیے کہ علامت اپنے تعیں لا محدود معنی نہیں رکھتی، وہ صرف کسی فعل، عمل، رویہ، یا جسمانی احساس کے بیانیہ تک محدود ہوتی ہے. یہ اقتباس دیکھئیے..
” سرخ میدان میں اگی لالی نے اس کے اندر کے موسم کو مزید نیلا کر دیا”
جی؛- میں متفق ہوں آپ کی بات سے..
شام ؛- پر چند الوہی علامتیں ایسی بھی ہیں جو اپنے معنی میں لامحدود ہوتی ہیں مگر ان کی تعداد بہت کم ہے.. اس اقتباس میں دیکھئیے
“وہ نور میں نہا کر بھی تیرہ بخت رہا اور مکڑیوں کو پھانکتا رہا کہ اس کا اندروں کہنہ ہو جائے”..
جی؛- جی بالکل درست کہا.. تو اب فلسفی افسانہ/ نثر نگار کی ٹرم کا کیا کیا جائے؟؟؟
شام؛- میں خود اس کے وجود کی تلاش میں ہوں .
جی؛- یہ تو اچھا خاصہ تحقیقی موضوع ہے. اس پر کام ہونا چاہئیے..
شام؛- ہاں تحقیقی کام ہونا چاہئیے کیونکہ فلسفی افسانہ / نثر نگار کا بھی وجود ہے میں اسے ثابت کرنے کی ابتدائی کوشش کر سکتا ہوں.
جی؛- کوشش کریں اور وضاحت کریں..
شام؛- اس کے لئیے ہمیں آغاز ارسطو کے ڈراموں میں موجود المیہ سے کرنا ہو گا، پھر اس کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ارسطو فلسفی ہی نہیں بلکہ ایک فلسفی ڈرامہ نگار بھی تھا..
جی؛- درست
شام;- اور پھر نطشے نظر ڈالیں تو “تکرار مسلسل ” اور “سمے کے چکر” کے فلسفہ کے بعد وہ اس فہرست میں جگہ پا لیتا ہے،، اور پھر کنفیوشش اور شیخ سعدی کی اخلاقی و سماجی منطق و حکمت پر نظر ڈالیں تو وہ بھی اس فہرست میں شامل ہوں گے..
اور رامائن و مہابھارت پر نظر ڈالیں جو کہ نظم و نثر کا مجموعہ ہیں اور پھر اردو ادب میں اشفاق حسین، قدرت اللہ شہاب، بانو قدسیہ، واصف علی واصف اور دیگر بہت سے اس لسٹ میں اپنی جگہ بناتے چلے جائیں گے..
جی؛- متفق.. تو گویا یہ سوال جواب طلب تو ہے مگر اس کی بنیاد مہیا ہو گئی ہے.،
شام؛- ہاں اس کے صحیح جواب تک ہم تبھی پہنچ پائیں گے اگر ہم فلسفی اور صنفی فلسفی کے درمیان فرق کو اجاگر کریں تو.، یہ وہی صنفی تفریق کا اصول ہے جس کو بناد بنا کر ہم فلسفی شاعر کے وجود کو مان چکے ہیں. لہذا اس کو بنیاد بنا کر ہم شاعر کی طرح کہانی/افسانہ/ نثر نگار کو بھی فلسفی کہانی/ افسانہ/ نثر نگار کہہ سکتے ہیں. مگر کسی فلسفی کو صرف فلسفی اس کے فن سے متعلقہ تمام جہتوں میں استقرا کے اجتماع کی بنیاد پر ہی کہہ سکتے ہیں. یوں میری رائے میں جس نے فلسفہ میں جس جہت کو اپنایا اسے صرف اسی صنف کے لاحقہ کے ساتھ ہی پکارنا چاہئیے. جیسا کہ ہم علامہ اقبال (رح) کو صرف فلسفی کہیں تو اس سے ان کی فنی شناخت کا مسئلہ در آئے گا، یوں اس مسئلہ کے حل کے لئگے ہم انہیں فلسفی شاعر کہتے ہیں. اسی طرح سعدی (رح) کو بھی ہم صرف فلسفی نہیں کہہ سکتے حالانکہ انہوں نے شعر و نثر دونوں میں فلاسفی کی. یوں فلسفی صرف وہ کہلائے گا جو بیک وقت کئی جہتوں، اصناف اور موضوعات پر فلسفیانہ کام کرے. ایسا نہیں تو پھر وہ اپنی قبول عام صنف کے لاحقہ سے پکارا جائے گا یعنی فلسفی شاعر/کہانی/ ڈرامہ/افسانہ/ نثر نگار یا صرف سائنسدان.
جی؛- صحیح کہا.، یوں فلسفی شاعر کے ساتھ ساتھ فلسفی افسانہ نگار کا وجود بھی موجود نظر آ رہا ہے..
شام؛- ہاں کیونکہ صرف فلسفی وہ ہو گا جو فلاسفی کی کسی ایک جہت میں قبول عام یا مشہور نہ ہو، دیکھیں کہ جدید فلاسفہ کے بانیان ” سقراط، افلاطون اور ارسطو” جنہوں نے سیاسیات، معاشیات، سماجیات، عمرانیات، الوہیات، مزہبیات، نفسیات، موجودات و نباتات پر فلسفیانہ کام کیا. انہوں نے ہر ایک جہت و صنف میں فلسفہ کا کثیر سرمایہ چھوڑا ، جن کی بنیادوں پر مابعدالجدید فلسفہ کی بنیادیں استوار ہیں.
جی؛- یقیننا” قابل قبول دلائل دئے آپ نے،،
شام؛- تو یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ فلسفی شاعر / نثر نگار وہی ہو گا جس میں “فکر و فن” کی تمام لوازمات کا اجتماع ہو گا..
جی؛- یقیننا” اور اس پر مزید بات کی بھی بہت گنجائش ہے،،
————-

اپنا تبصرہ بھیجیں