،، عورت ،،اسرار احمد لکوی

حقائق افسانوی سلسلہ ” جیم نون افسانے ”
افسانہ نمبر 16
(افسانچہ)
عنوان : عورت
تحریر : اسرار احمد لکوی (لکی مروت – پاکستان)
بینر : فاطمہ عمران
۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نہیں مجھے اب اور نہیں رہنا تمہارے ساتھ……..اب کے تم نے حد کردی…تمہاری یہ ہمت, کہ تم اپنے یہ گٹھیا خیالات,وسوسے اور شکوک اپنی ماں کیساتھ شئیر کرتی……جاؤ دفع ہوجاؤ…
ی
اس کا نام نہاد مہﺫب شوہر وقفے وقفے سے دھاڑ رہا تھا……..اپنی ﺫات کی جھوٹی وکالت میں نہ جانے وہ کیاکیا کہہ گیا… …اور وہ خاموشی سے سنتی جارہی تھی……..آنسوؤں نے آنکھوں کے کاجل کو انکے دونوں رخساروں پر پھیلا دیا تھا……
اگلے لمحےکمرے میں سناٹا چھا گیا…..
وہ نیچے بیٹھی دیوار سے ٹیک لگاۓ مسلسل بیﮈ پر دراز اس شخص کو دیکھ کر ناجانے کیا سوچ رہی تھی جو ابھی ایک لمحہ پہلے اس کے چہرے کے سامنے منہ کرکے بولتا کم اور تھوکتا زیادہ رہا……
وہ اٹھ کر کمرے کے دروازے کے پاس جاکر کھڑی ہوگئی …..
اسکے شوہر نے یکایک سر اٹھا کر پیچھے دیکھا اور پھر کمبل جیسے پھینک کر اٹھ آۓ ……اسکے پاس جاکر اک ہاتھ سے دروازہ کھولا اور دوسرے ہاتھ سے اس کمزور سی بیوی کا بازو پکڑ کر اسے دروازے سے باہر حسب توفیق پھینک دیا….
وہ لڑکھڑاتی ہوئی حال کے احاطے میں آگئی…اور آگے صوفے پر ہاتھ رکھ کر نہایت ضعیفی کی حالت میں سرجھکاۓ دوزانوں بیٹھ گئی…..
یہ نظارہ دیکھ کر…….. اسکی ساس, جو ابھی تک باہر دروازے کیساتھ کان لگاۓ درون کمرہ کے حالات سے واقفیت حاصل کر رہی تھی,
اسکی طرف آئی اور جھک کر کان میں کہنے لگی,
تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئیے تھا ….. …امجد کے اگر کسی کیساتھ تعلقات ہیں بھی تو بھی کوئی عیب نہیں……اگر نقص ہے بھی تو اس “عورت” کیلئے ہے جو میرے بیٹے سے تعلق میں ہے….اس “عورت” کا ہی منہ کالا ہوگا…..میرا بیٹا مرد ہے مرد……!!
اور مرد کی عزت نہیں لٹتی…………!!!!!!
یہ کہہ کر ساس کمرے میں جاکے دھڑام سے دروازہ بند کر گئی
وہ جو ابھی تک ضبط کا پہاڑ کھڑی شوہر کی سن رہی تھی…اب جو ساس کے منہ سے صرف اتنا سنا…… تو وہ ہار گئی ……. منہ پر ہاتھ رکھ کے بے اختیار رونے لگی…..
اور اس بار شائد وہ خود کو نہیں “عورت ” کا درد رو رہی تھی ……

اپنا تبصرہ بھیجیں