،، عشق آتش ،، شازیہ رانا

حقائق افسانوی سلسلہ سیزن – 05 “عشق و محبت ”
افسانہ نمبر 45
عنوان : عشق آتش
تحریر : شازیہ رانا ( لاہور )
اِناَ للِہ وَاِنَ عَلیہِ رَاجِعُون۔
ایقان سعید ولد محمد سعید
تاریخ وفات ۱۲ جنوری ۲۰۱۳
اس نے پہلے قبر سے مرجھائے ہوئے پھولوں کی تہہ ہٹائی جن میں سے کچھ پتیاں دوسری پتیوں کے نیچے دب جانے کی وجہ سے ابھی بھی تازہ تھیں۔
اہتمام سے پانی چھڑکا تو مٹی سے سوندھی سوندھی خوشبو آنے لگی پھر جھاڑو اٹھایا اور ارد گرد کی مختصر سی زمین پہ دینا شروع کر دیا آخر میں تازہ پھولوں کی پتیوں اور برستی آنکھوں کے ساتھ قبر پہ ڈالنا شروع کر دیا اور تب تک بس نہیں کی جب تک قبر کا ایک کونہ بھی نظر آنا بنا نہیں ہوا۔
اس تمام عرصے میں وہ دور کھڑا رشک و حسد سے دیکھتا رہا کہ نجانے یہ اس کا کون ہے جس کے لئے یہ نازنین بری طرح رو رہی ہے تو اس کے دل میں عجیب سی خواہش جاگی کہ کاش اس قبر میں وہ ہوتا تو یہ پری وش اس کے لئے بھی ایسے ہی رو رہی ہوتی!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’اب اٹھ بھی جاؤ تم آج بھی ہمیشہ کی طرح لیٹ ہو گئے ہو‘‘
اینڈی نے چوتھی بار کینڈی کو جھنجھوڑ کے اٹھانے کے ساتھ ایک مکا بھی جڑ دیا تو وہ کرنٹ کھا کے اٹھ گیا۔
’’مجھے پتہ ہوتا کہ تم یہ زبان سمجھتے ہو تو چوتھی بار اٹھانے نا آ رہی ہوتی‘‘
اسے مارنے کے بعد وہ اپنا مکا سہلاتے ہوئے بڑبڑائی۔
’’اوہو آج تو بہت ضروری جانا تھا‘‘
وہ اسے نظرانداز کر کے ٹائم دیکھ کے بڑبڑایا۔
’’ارے واہ یہ میں کیا دیکھ رہی ہوں،میرا بھائی اتنا ذمہ دار ہو گیا اور وہ بھی اپنی پڑھائی کے لئے‘‘
اس نے حیران ہونے کی بھرپور ایکٹنگ کی پر وہ ہنوز اسی اجلت میں جانے کی تیاریوں میں تھا۔
’’لگتا ہے آج کوئی ضروری لیکچر ہے‘‘
جب اس نے کوئی جواب نا دیا تو اینڈی نے ایک اور اندازہ لگایا۔
’’بس یہی سمجھ لو‘‘
وہ رک کے معنی خیزی سے مسکرایا اور پھر گنگناتا ہوا باتھ روم میں گھس گیا۔
’’سمجھ لو کیا مطلب ۔۔۔کینڈی کے بچے اگر اس بار تمہارے کالج سے کوئی شکایتی فون آیا تو میں ہر گز ماما بن کے بات نہیں کروں گی‘‘
اس نے اتنی زور سے چیخ مار کے کہا کہ وہ باتھ روم سے سر نکال کے بولا،
(۲)
’’اتنا چیخ کے اوور ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں،میں نے ایک اور ماما کا انتظام کرلیا ہے‘‘
اس نے جب یہ کہا تو وہ اس کی طوطا چشم حرکت پہ کلس کے رہ گئی۔
’’یاد رکھو وہ دن جب تم محض چند لمحوں کے جونک جیسے بچے تھے تب سے تمہاری ماں نے تمہیں کیسے پالا۔۔۔دسمبر کی ٹھٹھرتی راتوں میں خود تمہارے گیلے کئے ہوئے بستر پہ لیٹ کے تمہیں سوکھی جگہ پہ ڈالتیں ارے او بے کردار انسان تم تو اس ماں کا دیا نہیں دے سکتے۔۔۔جب تم آدھی رات کو صور پھونکنے جیسی آواز میں چلاتے تو وہ اپنی نیند حرام کر کے فرش پہ پٹخنے کے لائق بچے کو سینے سے لگا کر تب تک تھپکتی رہتیں جب تک نیند کی پریاں تمہیں زدوکوب کر کے سلا نا دیتیں۔۔۔اے نسیان زدہ انسان یاد کرو وہ وقت جب تم نے ابھی پاؤں پاؤں چلنا سیکھا تھا اور فرلانگ بھر چلنے کے لئے بھی تم دس بار گرتے تو وہ تمہیں یوں بھاگ کے پکڑتیں جیسے ہمارے ملک کے سیاستدان غیر ملکی ایڈ کو پڑتے ہیں۔۔۔اف کیا کیا یاد دلاؤں اس نافرمان اولاد کو‘‘
ناشتے کی ٹیبل پہ ماما،پاپا اور اینڈی بیٹھے ہوئے تھے کہ کینڈی کے آتے ہی اینڈی نے بآواز بلند اتنی لمبی تقریر جھاڑ دی تو سب حیران ہونے کے بجائے اپنا اپنا ناشتہ کرنے میں پہاڑ کھودنے کی حد تک مصروف رہے کیونکہ سب اس کی رائی کو پہاڑ اور پھر اس پہاڑ کو سر کر کے اس پہ رہائش اختیار کرنے کی عادت سے واقف تھے ۔
’’کاش تم مجھ سے چند ثانئیے ہی چھوٹے ہوتے تو دھلائی کر کر کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دینو جیسا بنا دیتی‘‘
جب ماما پاپا چلے گئے تو اس نے براہ راست اپنے جڑواں بھائی پہ جملہ اچھالا اور آخر میں کوئی مناسب تشبیح نا ملنے پہ برتن اٹھاتے ہوئے دینو کا نام لے دیا تو وہ بیچارہ مخمصے میں پڑ گیا کہ اس بات پہ کیسا ردعمل ظاہر کرے۔
’’کتنے میں خریدا تم نے ماں جیسی ہستی کو انسانیت کے نام پہ دھبے‘‘
آخر میں اینڈی نے دھاڑنے والے اندازمیں میز پہ مکا مارا۔
’’اوہ تو اس وجہ سے آپ اس وقت سے فرما فرما کے ہلکان و فوت ہوئی جا رہی ہیں؟؟‘‘
جوس کا سپ لیتے ہوئے وہ ایک دم رکا۔
’’تو اس کا مطلب تم شرافت سے نہیں بتاؤ گے‘‘
وہ ابرو اچکا کے بولی۔
’’ماہی کی ڈبیٹ یا مشاعرہ میں مس نہیں کرتا،اب تم نے ڈاکٹر عبدالقدیر کے ساتھ جو غوری ٹو شروع کیا ہوا ہے وہ کمپلیٹ کر لو اور یہ لو فون پاپا کو بھی بتا دو تا کہ وہ کلاس بنک کرنے پہ میری کلاس لے لیں‘‘
ساری بات بتا کے اس نے لاپرواہی سے فون آگے بڑھا دیا۔
’’وہی ماہی جس کے عشق میں میرا چاند سا بھائی ماہی بے آب بن کے رہ گیا ہے؟؟آئے ہائے کیا بنے گا تمہارا یک طرفہ مجنوں‘‘
(۳)
وہ تعسف سے سر ہلاتے ہوئے بولی تو وہ اس سارے عرصے میں پہلی بار سنجیدہ ہوا۔
’’میں اس کا فین ہوں بس‘‘
وہ کچھ بھی مزید کہے ٹیبل سے چابیاں اٹھا کے باہر نکل گیا۔
’’ارے والٹ تو لیتے جاؤ‘‘
اینڈی اس کا والٹ اٹھائے ہوئے پیچھے بھاگی پر وہ جا چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’میں زیادہ لیٹ تو نہیں ہوا؟؟‘‘
کینڈی بھاگم بھاگ جب آڈیٹوریم میں پہنچا تو اس کے دوستوں نے اس کے لئے جو سیٹ رکھی تھی اس پہ کھینچ کے ڈھیر کر دیا۔
’’نہیں محترم آپ زیادہ نہیں صرف ایک گھنٹہ لیٹ ہوئے ہیں،ولی اور عمر جا چکے ہیں‘‘
حادی نے سڑے ہوئے انداز میں اسے آگاہ کیا۔
’’کیا ماہی بھی چلی گئی؟‘‘
اس نے خشک ہونٹوں پہ زبان پھیری۔
’’اوہ معاف کیجئیے گا رانجھا صاحب ہم تو بھول ہی گئے تھے کہ آپ یاروں کے یار ہونے کے ساتھ ایک عدد عاشق نامراد بھی ہیں‘‘
’’جو پوچھا جائے اس کا سیدھا جواب نہیں دے سکتے؟؟فین ہوں اس کا بس‘‘
کینڈی نے گھور کے اسے دیکھا۔
’’ٹھیک کہہ رہا ہے یہ،سیدھی طرح جواب دیا کر بانسری کے منہ والے۔۔۔نہیں آئی وہ ابھی‘‘
اصامہ نے حادی کو جھاڑتے ہوئے کینڈی کو تسلی دی۔
کچھ دیر بعد حال میں سناٹا چھا گیا جب ماہین زوار کا نام اناؤنس ہوا اور وہ تمکنت کے ساتھ ڈائس تک چلتی ہوئی آئی اور اپنی سحر انگیز آواز اور پر اعتماد انداز کے ساتھ بولنا شروع کر دیا پھر ایسے ایسے دلائل دئیے کہ اپنے مخالفین کو چاروں شانے چت کر دیا۔۔۔اس کی صرف زبان ہی نہیں ہر ہر انداز بولتا تھا کہ اس کا مخالف ایسا زیر عتاب آتا کہ اپنے دلائل ہی بھول جاتا۔
کچھ دیر بعد اناؤنس ہوا کہ ٹرافی کی حقدار ماہین زوار ٹھہری ہیں۔
’’ہائے‘‘
کینڈی ہال سے نکلتے ہی بھاگتے ہوئے ماہی تک آیا وہ بھی اس کے جواب میں دلکشی سے مسکرائی۔
’’بہت شکریہ لیکن کیا آپ کو الحام ہو جاتا ہے کہ میں ہی جیتوں گی؟‘‘
(۴)
اس نے مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھ سے پھول اور کارڈ لے لئے۔
’’اسے الحام نہیں یقین کہتے ہیں‘‘
کینڈی بھی ویسے ہی مسکرایا۔
’’لیکن کبھی کبھی یقین بھی دھوکہ دے جاتا ہے‘‘
ماہی نے قدم آگے بڑھا دئیے۔
’’دے تو جاتا ہے پر جب یقین کے ساتھ دعا بھی شامل ہو تو ایسا کم ہی ہوتا ہے‘‘
جب اس نے یہ کہا تو وہ رکنے پہ مجبور ہوگئی اور ایک خوشگوار حیرت سے اس کاچہرہ دیکھنے لگی پر اس کی دوستیں آ گئیں تو اسے جانا پڑا۔
’’ویسے یار اتنے down to earthلوگ بہت کم دیکھے ہیں‘‘
اس کے جانے کے بعد کینڈی ولی سے کہنے لگا۔
’’خاکdown to earthہے نئی شرٹ بھی پہن لے تو بندے کو بندہ نہیں سمجھتا‘‘
حادی نے دور کھڑے کوکی کو دیکھ کے ناگواری سے کہا جو کلاس کا چھچھورا ترین لڑکا تھا۔
’’میں ماہین کی بات کر رہا ہوں‘‘
اس نے دانت پیس کے وضاحت دی تو وہ کھسیا کے دانت نکالنے لگا۔
’’ٹھیک کہہ رہا ہے تو ،میں نے بھی اس لڑکی میں غرور نام کی چیزنہیں دیکھی‘‘
عمر کے اکثر اس سے مباحثے ہوتے رہتے تھے اور چند ایک میں وہ اس سے ہارا بھی تھا اس کے باوجود وہ اس کی تعریف کر رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہر خموشاں میں قدم رکھتے ہی اسے اپنی ہچکیوں پہ قابو نہیں رہا تھا اور وہ کسی بچے کی طرح بلک بلک کے رو رہی تھی،آج وہ ایک جملہ بھی منتر کی طرح دوہرا رہی تھی جو کوشش کے باوجود نہیں سنا جا رہا تھا جب وہ کھسک کے نزدیک آیا اور کان لگا کے سنا تو اسے بار بار کہتے سنا کہ’’ کاش مجھے معافی مانگنے کا ایک موقع تو دیتے‘‘ تو وہ حیران رہ گیا کہ کیا اس فرشتہ صفت لڑکی سے بھی کبھی گناہ ہو سکتا ہے؟کچھ دیر بعد وہ خاموش ہو گئی جیسے واقعی اسے معافی مل گئی ہو۔
تھوڑی سی ہمت کر کے وہ اس کے قریب آیا اور اس کی پسندیدہ نظم سنانے بیٹھ گیا جو وہ اکثر کسی مشاعرے کے اختتام پہ گنگناتی تھی۔
’’اے شمع کوئے جاناں
ہے تیز ہوا مانا
لو اپنی بچا رکھنا،رستوں پہ نگاہ رکھنا
(۵)
ایسی ہی کسی شب میں آئے گا یہاں کوئی
اک زخم دکھانے کو
ٹوٹا ہوا اک تارا مٹی سے اٹھانے کو
آنکھوں میں نمی ہو گی
چہرے پہ دھواں ہو گا
چہرے کی لکیروں میں،گزرے ہوئے سالوں کا
اک ایک نشاں ہو گا
بولے گا نا کچھ لیکن
فریاد کناں ہو گا
اے شمع کوئے جاناں
وہ خاک بسر راہی
وہ سوختہ پروانہ
جب آئے یہاں اس کو مایوس نا لوٹانا
ہو تیز ہوا کتنی لو اپنی بچا رکھنا
رستے پہ نگاہ رکھنا راہی کا پتہ رکھنا‘‘
وہ اسے غور سے سن رہی تھی کچھ دیر بعد وہ اچانک چونک کے اٹھی تو اسے لگا کہ وہ تو کسی اور ہی سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی اسے سن کب رہی تھی!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’اگر کبھی میری یاد آئے تو
چاند راتوں کی دلگیر روشنی میں
کسی ستارے کو دیکھ لینا
اگر وہ نخل فلک سے اڑ کر
تمہارے قدموں میں آ گرے تو
یہ جان لینا کہ وہ استعارہ تھا میرے دل کا
(۶)
اگر نہ آئے!!
مگر یہ ممکن ہی کب ہے
کہ تم کسی پہ نگاہ ڈالو
تو اس کی دیوار جاں نا ہلے
وہ اپنی ہستی نا بھول جائے
گریز کرتی ہوا کی لہروں پہ ہاتھ رکھنا
میں اوس قطروں
میں تمہیں ملوں گا
مجھے گلابوں کی پتیوں میں تلاش کرنا
میں خوشبوؤں میں تمہیں ملوں گا‘‘
رات کے نجانے کونسے پہر اس کی آنکھ کھلی تھی اور اس نے محسوس کیا تھا کہ اس کا تکیہ بھیگا ہوا ہے تو اس نے سوچاشاید اے سی بند ہو گیا ہے اور وہ پسینے سے بھیگی ہوئی ہے مگر جب پسینہ صاف کرنے کو ہاتھ بڑھایا تو پسینے کانام و نشان نہیں تھا تو گھبرا کے آنکھیں کھول دیں تو آنکھیں کھولنے پہ سب کچھ دھندھلا سا دکھائی دیا تو دماغ نے کام کیاکہ وہ نجانے کب سے رو رہی ہے۔
اب جیسے ذہن بکھرے ٹکڑے جوڑنے لگا تھا اور اس یادسے ایک کرب انگیز ٹیس اٹھی تھی جو ایک پیراسائٹ بن کے دماغ سے چپک کے رہ گئی تھی،اب ذہن کے دریچے وا ہونے لگے تھے کہ یہ کون کہہ رہا تھا ایک بار پھر آنسو ضبط کے تمام بندھ توڑ چکے تھے اور وہ پھر زار زار رو رہی تھی۔
جب روتے روتے کافی دیر ہو گئی اور کسی طور قرار نا آیا تو وہ بیڈ سے اتری اورننگے پاؤں باہر نکل گئی۔۔۔رات کے اس پہر وہ اسے شہر خموشاں میں دیکھ کے حیران رہ گیا وہ سفید نائٹی میں کمر تک آتے کھلے بالوں کے ساتھ فالن اینجل لگ رہی تھی کہ وہ مسحور سا اس کے سوگوار معصوم حسن کو دیکھتا رہ گیا،اس نے کبھی اسے ننگے سر نہیں دیکھا تھامگر آج وہ دوپٹے سے بالکل بے نیاز تھی۔
وہ حیران تھا کہ یہ رات کے اس پہر یہاں کیا لینے آئی ہے؟؟کیااسے ڈر نہیں لگ رہا؟ خراماں خراماں وہ اسی قبر کے پاس آئی اور گھٹ گھٹ کے رونے لگی۔
’’کاش مجھے بھی یہیں بلا لیتے اب میں زندوں میں ہوں نا مردوں میں‘‘
اس نے یہ کہا اور دھاڑیں مار مار کے رونے لگی تو اسے اس پہ بڑا ترس آیا اور دل کیا کہ اس کا ہاتھ پکڑ کہے کہ تمہارے سارے آنسو میں لے لوں گا پر روؤ مت لیکن ہر دفعہ کی طرح وہ پھر یہ سوچ کر ہی رہ گیا اور کچھ دیر بعد خوب سارا رو چکنے کے بعد وہ دھیرے سے اٹھی اور ایک
(۷)
ٹرانس کی سی کیفیت میں چلنے لگی۔وہ اسے گیٹ پار کرنے تک جاتا دیکھتا رہا!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ہمیشہ کی طرح آپ نے آج بھی کمال کر دیا‘‘
کینڈی نے یہ کہہ کے پھول اور کارڈ ماہی کے آگے بڑھائے جنہیں لئے بغیر وہ تیز تیز آگے چلدی۔
’’آج آپ اتنی جلدی باہر آگئیں کہ مجھے بھاگ کے آپ کے پیچھے آنا پڑا‘‘
وہ اسی معصومیت سے بولتا جا رہا تھا۔
’’مجھے نہیں پتہ آپ کے عزائم کیا ہیں،میں تو اس لئے ہنس کے آپ سے بات کر لیتی تھی کہ آپ میرے کلاس فیلو ہیں لیکن آپ نے سبکو کیاکہاکہ میرااور آپ کاچکر ہے؟؟‘‘
وہ ایک دم مڑی اور اس پہ ایک زخمی نگاہ ڈالی۔
’’بکواس کرتے ہیں وہ،میں فین ہوں آپ کا بس‘‘
ہر دفعہ کہا جانے والا جملہ کینڈی نے خشک ہوتے حلق کے ساتھ دوہریا۔
’’پلیز میرے راستے سے ہٹ جائیں اور مجھے مزید تماشہ نابنائیں‘‘
وہ اب دھواں دھار رو رہی تھی اور اسے بھی پتہ نہیں چلا کہ وہ اس کے پیچھے پیچھے سڑک تک آ گیاتھا کہ اچانک ایک موٹر سائیکل پہ سوار دو لڑکے آئے اور ماہی کابیگ اس کے کندھے سے اس بری طرح کھینچاکہ سٹریپ ٹوٹ کے دو ٹکڑے ہو گیا مگر خو ش قسمتی سے کینڈی نے اچھل کر ایک سرا پکڑ لیا اور زور سے جھٹکا دیا کہ دونوں لڑکے بے قابو ہو کر گر گئے ان میں سے ایک نے بوکھلاہٹ میں فائرنگ کر دی اور کینڈی کے سینے میں تین چار گولیاں اتار دیں،ماہی ہذیانی انداز میں چیخ رہی تھی وہ دونوں بھاگ گئے اور ارد گرد لوگ جمع ہو گئے اور اسے ہسپتال لے گئے جہاں وہ زخموں کی تاب نالاتے ہوئے جانبر نا ہوسکا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’کیامیں اندر آ سکتی ہوں؟‘‘
ماہی نے دروازہ کھلنے پہ اجازت طلب کی۔
’’پر آپ کون؟؟‘‘
اینڈی نے متوقع سوال کیا۔
’’میں کینڈی کی دوست ماہین زوار‘‘
اس نے جان بوجھ کے اپنا وہ نام چھپایا جو وہ جانتی تھی ورنہ یہ لڑکی اسے دھکے دے کے نکال دیتی،جب اس نے کینڈی کا نام لیا تھا تو اس (۸)
۲۰،۲۲ سال کی لڑکی کی آنکھیں یکدم پانیوں سے بھر گئی تھیں اور اس نے دروازے کا ہینڈل ایسے مضبوطی سے پکڑ لیا تھا جیسے ابھی گر جائے گی اور رستہ چھوڑے چپ چاپ سائیڈ پہ ہو گئی۔
’’کیا مجھے کینڈی کا کمرہ دکھا سکتی ہیں؟پرسوں میری شادی ہے اس کے بعد سکاٹ لینڈ چلی جاؤں گی،آخری بار اس کی ہر شے کو جی بھر کے دیکھنا چاہتی ہوں‘‘
ماہی کی آنکھیں جھر جھر برس رہی تھیں تو اینڈی کو اس پہ ترس سا آ گیا سو بغیر کچھ بولے اسے کینڈی کے کمرے میں چھوڑ کے چلی گئی۔
کچھ دیر بعد وہ اس کے کمرے میں تھی،ہر شے جوں کی توں تھی جیسے یہاں کا مکین ابھی ابھی باہر گیا ہے وہ چیزوں کو ہاتھ لگا لگا کے دیکھ رہی تھی کیسے کسی غیر مرئی چیز کو دیکھ رہی ہے۔
کچھ دیر بعد وہ ریک میں رکھی اس کی ڈائریاں کھول کھول دیکھنے لگی ان میں سے ایک میں وہ شاعری تھی جو اس نے مختلف مشاعروں میں پڑھی تھی تو اس نے لرزتے وجود اور خشک ہونٹوں پہ زبان پھیر کے پڑھنا شروع کر دیا اور جب تقریباً آدھی پڑھ لی تو اپنے پیچھے کھٹکا محسوس ہونے پہ غیر ارادی طور پہ اسے چھپا لیا اور اینڈی سے اجازت لے کے واپس آ گئی۔
گھر آتے ہی جلدی سے وہ ڈائری نکالی اور پڑھنا شروع کر دی اور جوں جوں وہ پڑھتی جا رہی تھی اس کا اضطراب بڑھتا جا رہا تھا حالانکہ نیا تو اس میں کچھ نا تھا پھر اس نے دھندلی آنکھوں کے ساتھ پوری ڈائری پڑھ ڈالی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد انسان کے ساتھ صرف اس کے اعمال جاتے ہیں تو یہ سب سے بہتر ہے کہ کسی کو پڑھ کے کچھ بخشا جائے‘‘
ناشتے کی ٹیبل پہ ڈیڈی سب کو بتا رہے تھے اور ماہی سوتی جاگتی آنکھوں کے ساتھ ان کی باتیں سن رہی تھی کیونکہ گزشتہ رات اس نے جاگ کے کاٹی تھی۔
’’اور اگر آپ اپنے دل کے سکون کے لئے مرنے والے کی پسندیدہ چیزبھی دفنا دیں تو؟؟‘‘
ماہی نے نجانے کس خیال کے زیر اثر پوچھ لیا تھا۔
’’یہ ایک ہندووانہ رسم ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے‘‘
وہ یہ کہہ کر اٹھ گئے لیکن اسے شاید اپنے سوال کا جواب مل گیا تھا جو معنی خیزی سے سامنے دیکھ رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج اس نے پیلا جوڑا پہنا ہوا تھا اور پیلے مرجھائے ہوئے پھولوں کے ساتھ خود بھی مرجھائی سی لگ رہی تھی۔۔۔وہ آہستہ سے قبر کے بائیں جانب بیٹھ گئی اور پھر اپنے گجروں سے پھول نوچ نوچ کے قبر پہ سجانا شروع کر دئیے مگر آج خلاف توقع اس کی آنکھیں خشک تھیں،اس نے پتیوں کو یوں ترتیب دیا جیسے کچھ لکھ رہی ہو پھر ان پہ ہاتھ کے پتیاں یوں بکھیر دیں جیسے کچھ لکھ کے مٹایا ہو۔
(۹)
’’کاش ایسے ہم نصیب کا لکھامٹاسکتے پر بد قسمتی سے ہم سب انسان قسمت کے ہاتھوں کٹھ پتلیاں ہیں جن کی کوئی مرضی نہیں ہوتی بس یہ کم بخت نصیب ہوا میں اڑتے ہوئے مٹی کے ذروں کی طرح جدھر اڑا لے جاتا ہے ہم ادھر ہی چل پڑتے ہیں‘‘
وہ اس کی تمہید پہ جی بھر کے حیران ہو رہا تھا کہ آخر وہ کیا کہنا چاہتی ہے اچانک کچھ یاد آنے پہ اس نے اپنے بیگ میں سے ایک ڈائری نکالی تو وہ لمحے کے ہزارویں حصے میں پہچان گیا کہ یہ تو اس کی ڈائری ہے۔
’’آج میری شادی ہے اور شادی کے بعد سکوٹلینڈ چلی جاؤں گی اور پھر شاید یہاں کبھی واپس نا آ سکوں،بد قسمتی سے مجھے ماضی سے پیچھا چھڑانے کی کوئی تدبیر نہیں سمجھ آ رہی اسلئے یہ حقیر سی کوشش کر رہی ہوں ہو سکے تو مجھے معاف کر کے زندگی کو میرے لئے جینے کے قابل بنا دینا۔۔۔کینڈی اب ماہی اور نہیں سہہ سکتی‘‘
اس نے قبر کے سرہانے سے تھوڑی سی مٹی کھودی اور ڈائری کو دفنا دیا مگر جب دور کھڑے ہوئے اس نے اپنا نام سنا تو سن ہوتے ہوئے دماغ کے ساتھ وہیں بیٹھ گیا اس کا وجود آندھیوں کی زد میں تھا وہ رونا چاہتا تھا چیخنا اور چلانا چاہتاتھا لیکن آواز گلے کے نہاں خانوں میں کہیں گم ہو گئی تھی اور سارا وجود برف کی سل بن گیا تھا ایک بھی عضو کام کرنے سے قاصر تھا۔۔۔وہ رو رہاتھا پر ایک بھی آنسو نا ٹپکا تھا۔
پھر اچانک طوفان تھم گیا تھا جب اسے یاد آیا کہ اس کی شادی ہو رہی ہے اور وہ یہاں دوبارہ نہیں آئے گی تو اس کا مطلب وہ خوش رہے گی یہ سوچ ذہن میں آتے ہی اسے جیسے قرار آ گیا۔کچھ دیر بعد وہ ہاتھ جھاڑتے ہوئے اٹھ گئی اور مرے مرے قدموں سے چل پڑی۔
ڈائری کا ایک صفحہ نجانے کیسے اکھڑ کے باہر رہ گیا تھا جسے ہوا کے ظالم جھونکے ادھر ادھر اڑا رہے تھے جس پہ کینڈی کے ہاتھ کی لکھی ایک نظم تحریر تھی جو ماہی نے ایک مشاعرے میں پڑھی تھی،
یہ جو سانپ سیڑھی کا کھیل ہے
ابھی ساتھ تھے دونوں ہمنوا
وہ بھی ایک پہ میں بھی ایک پہ
اسے سیڑھی ملی وہ چڑھ گیا
مجھے راستے میں ہی ڈس لیا
میرے بخت کے کسی سانپ نے
بڑی دور سے پڑا لوٹنا
زخم کھا کے اپنے نصیب کا
وہ نناوے پہ پہنچ گیا
میں دس کے پھیر میں گر گیا
(۱۰)
اسے ایک نمبر تھا چاہیئے
جو نہیں ملا تو نہیں ملا
میں بڑھا تو بڑھتا چلا گیا
بس ایک چوکے کی بات تھی
پر اس سے جیتنامیری مات تھی
میں نے جان کے گوٹی غلط چلی
اور سانپ کے منہ میں ڈال دی
یہ جو پیار ہے کبھی سوچنا
یہ بھی سانپ سیڑھی کا کھیل ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں