،، عزم ،، ارشد نیاز

نمبر15
عنوان : عزم
ارشد نیاز
میرے سامنے بہت سارے خدا ہاتھ جوڑے کھڑے ہیں۔میں انہیں کبھی پوجا کرتا تھا۔ان کے سامنے گڑگڑاتا تھا کہ وہ میری مدد کریں مگر وہ خاموشی میں خاموشی سے مجھے اور کُچل دیا کرتے تھے۔
میں ہاتھ ملتے ہی رہ جاتا تھا۔
میری ماں کہتی تھی۔
“بٰیٹے ،جھکو مت جھکانا سیکھو۔”
میں ماں کی نصیحتوں کے باوجود بھی ان خداؤں کی پرستش میں جُٹا رہا۔انہوں نے مجھےقائر بنادیا۔اب میں ایک اک شخص سے ڈرنے لگا تھا۔
“اے اندھے خداؤں! میں تمہیں پہچان چُکا ہوں۔اب تم میرے وجود کے کعبے میں مزید نہیں رہ سکتے ہو۔مجھے اور رولانے کے جواز پیدا نہیں کرسکتے ہو۔دیکھو اب میرے ہاتھ میں کلہاڑی ہے اور میں تمہیں نیست و نابود کرنے والا ہوں۔”
اور پھر وہ سارے جاگ اُٹھے۔
” نہیں،ہمیں مت متاؤ۔ہم تمہاری آرزؤں کی تکمیل کرنے کا واعدہ کرتے ہیں۔تمہاری خواہشوں کو پورا کرنے کی قسم کھاتے ہیں۔تمہارے خوابوں کو سچ ثابت کردینے کا یقین دلاتے ہیں۔:”
“نہیں اب نہیں،اب میں دھوکے میں نہیں آنے والا۔”
وہ چیختے رہے اور میں اُنہیں مٹاتا رہا۔
ایک نئی صبح کا آغاز ہوتا رہا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں