،، صحافی رنگ چہرہ ،، ڈاکٹر عشرت ناہید

40″نداے وقت (سلسلہ مکالمات)
تحریر ۔۔۔۔ ڈاکٹر عشرت ناہید (انڈیا)
عنوان۔۔۔صحافی رنگ چہرہ
بینر ۔۔۔ فاطمہ عمران
آج بڑے دنوں کے بعد زندگی نے جیسے ہی تھوڑی سی فرصت دی میں نے قلم اٹھایااور کچھ لکھنے کا من بنایا ۔ معمول کے مطابق موبائل پاس ہی تھا ابھی کسی موضوع پر دو جملے بھی مکمل نہ ہوئے تھے کہ ایک دوستی کی درخواست نے اپنی جانب متوجہ کر لیا۔ جسے حسب عادت پروفائل چھان پھٹک کر قبول کر لیا فوراً پیغام موصول ہوا ۔
” محترمہ ۔۔آپ کہاں سے ؟“
” میں بھی کچھ اچھے موڈ میں ہی تھی کہا
” یہی سوال گر میں دہرا دوں ؟“
” میں ایک صحافی ، ناولسٹ اور فکشن رائٹر “
لیجیے سوال کیا تھا اور جواب کیا آیا میرے ہونٹوں پرمسکراہٹ در آئی
” جی یہ میں جانتی ہوں آپ کی پروفائل سے آشکارہ ہے “
” آپ کی عمر ؟ “دوسرا دلچسپ سوال
” اعتراض شدید ۔خواتین سے عمر کے متعلق استفسار غیر اخلاقی حرکت “
” اندازاً ہی بتا دیں “
عجیب انسان تھا
” آپ کی مذکورہ بالا صفات کے پیش نظر حیران ہوں کہ آپ نے ایسا سوال کیوں کیا جس کا جواب آسان تر “
چونکہ میری میری پروفائل سے ہر بات ظاہر تھی
” جی ۔۔۔۔کیونکہ میں ایک صحافی ہوں اور اخبار میں کام کرتا ہوں ۔۔۔اس لیے سوال کرنا میری عادت سمجھ لیں“
جانے کس اخبار کا بیڑا غرق ہوتا ہوگامیں نے مسکراتے ہوئے سوچا
” ایک ایسا شخص جو صحافی ہونے کا دعوٰی توکر ے مگر اس کے بنیادی اصولوں سے بھی ناواقف ہو تو اسے بھلا میں کیوں جواب دوں ؟“
میری بھی رگ ظرافت پھڑکی
” چھوڑیں ۔۔۔دفع کریں صحافت کو ۔۔۔۔آپ اپنی سنائیں “
” اتنا کم اعتماد شخص جو ایک جملے کے عوض اپنا پیشہ ہی چھوڑ دے ۔۔دفع کر بیٹھے اس سے باتیں کر کیا حاصل ؟
مجھے پر اعتماد شخصئتیں متاثر کرتی ہیں ۔۔۔۔معذرت“
” آپ بہت شرارتی لڑکی ہیں “
خواہ مخواہ فری ہونے کی کوشش مجھے تیز غصہ آیا۔
” آپ ایک عمر دراز خاتون سے ہمکلام ہیں خیال رہے ۔ “
انداز تنبیہہ کا تھا مگر وہ بھی اپنی قسم کا ایک ہی تھا
” مجھے پسند ہیں عمر دراز “
” دیکھیے اسی بہانے ہم نے آپ کی عمر بھی معلوم کر لی “ لہجے میں تفاخر تھا
ہم بھی کم نہ تھے
” ذیادہ خوش نہ ہوں یہ صرف خوش گمانی ہے آپ کی
“جو آپ کے پیشے کے لیے خطرناک ہے کیونکہ
” مفروضوں پر صحافت نہیں چلتی “
اس پر کوئی اثر نہ تھا پھر سوال
” آپ ہاﺅس وائف ہیں ؟ “
” ایک مشورہ صحافی
صحافت کے بنیادی اصول پڑھیے جس کا پہلا اصول صحافی کو ہوشمند ہونا چاہیے پھر مجھ سے بات کیجیے ۔ “
” ٹھیک ۔۔۔۵۱ سال میڈیا میں لگانے کے بعد ایک بار پھر پڑھ لونگا ۔۔۔۔رویژن ہو جائے گا۔ “
” جی ضروری ہے ۔۔۔۔۵۱ سال پہلے تو شاید باوا کے تعلقات کام آگئے ہونگے ورنہ تو ۔۔۔۔“ میں نے دانستہ جملہ ادھورا چھو ڑدیا
” آپ شادی شدہ ہیں ؟ “
یا خدا اسے پروفائل میں میرے بچے بھی نظر نہ آئے
” محترم مزید سوال کرنے سے پہلے پلیزآپ میری پروفائل پر نظر ڈال نے کی زحمت کریں بلا شبہ آپ کے علم میں اضافہ کا باعث ہوگی
دیکھ چکا ہوں ۔۔۔۔مجھے سمجھنے میں آپ کو تھوڑا وقت لگے گا۔“
” جو کہ اتفاقاً میرے پاس نہیں ہے “
” اللہ حافظ “ میں نے اب جان چھڑانا چاہی
” لیکن ۔۔۔۔نہ جانے کیوں مجھے یہ کچھ پل کی ملاقات اچھی کیوں لگی “ ورغلانے کی ناکام کوشش
” تو تم جارہی ہو ؟ “ لہجے میں اداسی
مجھے پھر غصہ آنے لگا
” بات کرتے وقت حد ادب کا لحاظ ضروری ہے میرے پیش نظر“ میں نے غصہ سے کہا
” یہ بھی میرا ایک طریقہ ہے ۔۔۔۔۔کہا نا ۔۔۔سمجھوگی ۔۔تنہائی میں “
تب ہی اچانک ایک چھپکلی کا عکس میرے لیپ ٹاپ پر نظر آنے لگا ۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں